پراکسی جنگوں کا نیا زمانہ اور کتے سے سور کے شکار کی پالیسی


یہ جنوری کا مہینہ تھا ہم نارتھ ویسٹ کی ایک امریکی ریاست کے کسی بڑے جم کی جکوزی میں بیٹھے نیم گرم پانی سے اپنی دن بھر کی تھکن اور سردی دور کر رہے تھے۔ باہر ہلکی ہلکی برفباری کا منظر دیکھنے اور اندر گرم پانی میں بیٹھنے اور جسم کو ٹکورنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ اتنے میں ایک بوڑھا امریکی میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ وہاں کچھ اور لوگ بھی تھے بس میں ہی سب سے مختلف نظر آ رہا تھا، ایسے ہی جیسے مرغابیوں کے غول میں کوئی بطخ بیٹھی ہو۔

اس بوڑھے گورے نے سب سے ہیلو ہائے کی اور پھر میری جانب متوجہ ہوا۔ وہ پوچھنے لگا تم کہاں سے ہو۔ مجھے اس کا یوں ڈائریکٹ سوال پوچھنا اچھا نہ لگا، میں نے بھی سیدھا جواب دینے کی بجائے اس سے کہا، تم اندازہ لگاؤ میں کہاں سے ہوں۔ وہ تھوڑی دیر مجھے دیکھتا رہا اور پھر کہا شکل سے تم عربی لگتے ہو لیکن تمہارا انگلش بولنے کا لہجہ انڈیا والوں جیسا ہے۔ میں نے تھوڑی دیر خاموشی سادھ لی اور پھر کہا تم ٹھیک کہتے ہو۔

وہ بوڑھا امریکی تقریباً پچھتر سال کا تھا لیکن اس کی باڈی فٹنس، بالوں کے سٹائل اور بول چال کے انداز سے اب بھی وہ کوئی جیمز بانڈ معلوم ہوتا تھا۔ وہ کسی حساس امریکی ادارے میں کام کر چکا تھا اور جب ہمارا تعارف ہوا تو ان دنوں وہ مریخ پر سبزیاں اور خوراک اگانے کے اپنے کسی ذاتی پراجیکٹ پر کام کر رہا تھا۔ میں اکثر شام کو تیراکی کرنے کے بعد جکوزی میں بیٹھنے جاتا تووہ مجھے وہیں ملتا۔ مجھ سے اس کی اچھی علیک سلیک ہو گئی۔ وہ مجھے Vertical Agriculture Farming سیکھنے کی ترغیب دیتا اور مجھے ایک انڈین سمجھ کر اپنے انڈیا میں رہنے کے تجربات بھی شیئر کرتا رہا۔ میں اس کی باتوں پر ہوں ہاں کرتا رہتا اور تاریخ کا ایک ادنی طالب علم ہونے کے ناتے، میں اس کی کسی بات پر اپنی رائے کا اظہار بھی کر دیتا۔

ایک دن باتوں ہی باتوں میں، میں نے امریکہ کی داعش کے حوالے سے خارجہ پالیسی پر کچھ تنقید کی تو اس کے کان کھڑے ہو گئے۔ وہ مجھ سے اس موضوع میں دلچسپی کی وجہ پوچھنے لگا۔ میں نے اپنے حساب سے جواب دیا اور کہا۔ ، امریکہ نے حالیہ جنگ دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع کر رکھی ہے لیکن اگر وہ خود داعش جیسی تنظیموں کو کھڑی کرے گا تو پھر نائن الیون جیسے کسی اور حادثے کا خدشہ برقرار رہے گا۔ یاد رہے اس وقت تک صدر ٹرمپ کو حکومت سنبھالے ابھی کچھ ماہ گزرے تھے۔ میرے امریکی دوست نے میری بات سے اختلاف کرتے ہوئے ایک جملہ کسا جو مجھے آج تک یاد ہے۔ پچھلے دنوں جب ٹی ٹی پی نے پاکستان اور چین کے خلاف دوبارہ بر سر پیکار ہونے کا اعلان کیا تو میرے لیے اپنے امریکی دوست کی کہی ہوئی بات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

میرے اس امریکی دوست نے داعش کے حوالے سے امریکی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ کتے سے سور کا شکار کرنا جائز ہے۔ میں نے ازراہ تفنن پو چھا کہ اس سارے کھیل میں سور کون ہے اور کتا کون تو جواب میں وہ اپنی بات گول مول کر گیا۔ میں دیر تک اپنے دوست کی بات پر غور کرتا رہا کہ داعش کے ذریعے شکار کس کو بنایا جا رہا ہے۔ کافی غور و خوض کے بعد میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ کتے سے سور کے شکار کو جائز سمجھنے کی پالیسی بڑی بے رحمانہ ہے اور یہ پراکسی وار کی بدترین صورت ہے۔

اب ذرا ٹی ٹی پی کی پاکستان اور چین کو دھمکی کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات مغربی میڈیا کا پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے ایک پروپیگنڈا معلوم ہوتا ہے لیکن اگر پاکستان میں اس گروہ کی کارروائیوں کی تاریخ دیکھیں تو اس میں کچھ حقیقت بھی نظر آتی ہے۔ حال ہی میں سیاست دانوں کو دی گئی سیکورٹی بریفنگ، پھر جنرل راحیل شریف اور جنرل کیانی کے دور میں یہ اعلان کہ پاکستان کو خطرہ باہر سے نہیں اندر سے ہے تو معلوم ہو گا کہ مغربی میڈیا کی خبریں محض پروپیگنڈا نہیں ہیں۔ چوہے اور بلی کا کھیل پھر سے شروع ہوتا نظر آ رہا ہے۔

پراکسی وار کی نئی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر، پاکستان اور چین کے دشمن ممالک اپنے کثیر الجہتی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جن میں سر فہرست چین کی ترقی کا راستہ روکنا اور اسے جہادی قوتوں سے الجھانا، پاکستان پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنی مغربی سرحدوں پر مصروف رکھنا تاکہ بھارت چین کے ساتھ سرحدی تنازعات پر توجہ مرکوز رکھ سکے، بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں جہادیوں کو داخل ہونے سے روکنا اور ان کا رخ مطلوبہ مخالف سمت موڑنا، اسلامی دنیا میں دوبارہ الجہاد الجہاد کے نعروں سے نوجوانوں کا خون گرم رکھنا تاکہ بوقت ضرورت انہیں ملحد ین کے خلاف کام میں لایا جا سکے۔

سب سے اہم یہ کہ مشرق وسطی پر اپنا شکنجہ اور مضبوط کرنا اور وہاں کے حکمرانوں کو چین، روس اور جہادی قوتوں کا خوف دلا کر اپنے قابو میں رکھنا۔ یورپ جو نئی سرد جنگ کا حصہ بننے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے، اسے سخت گیر نظریات رکھنے والے مذہبی گروہوں سے خوف دلا کر غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کرنے سے باز رکھنا۔ یہ ایک چومکھی جنگ ہو گی، جس کی شکلیں بدلتی رہیں گی، بندوق نظر آئے گی لیکن اس کے پیچھے کون ہے، اس کی شکل و صورت کوئی نہیں دیکھ پائے گا۔ اس سارے کھیل میں ایک تیر سے دو شکار کیے جائیں گے، ایک طرف دہشت گروں کو ہلہ شیری دی جائے تو رد عمل کی صورت میں ان کی طاقت بھی خود بخود کم یا ختم ہوتی جائے گی۔

چین کا ڈریگن ابھی سو رہا ہے۔ ہمیں فکر پاکستان کی کرنی چاہیے جس کی پوزیشن کا فی کمزور نظر آ رہی اور اسے سب سے پہلے شکار بنائے جانے کا ڈر ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا افغانستان میں عدم مداخلت پر بیان بظاہر اچھا اقدام ہے لیکن یہ کا فی نہیں۔ پاکستان کو ہنگامی طور اپنے اندورنی محاذ کو محفوظ بنانے کے لیے متحرک ہونا ہو گا۔ نیا بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں شہریوں کی ذہن سازی کی جائے۔ جس کی مدد سے عام آدمی دنیا میں جاری خانہ جنگی اور جہاد کے فرق کو سمجھ سکے۔ او آئی سی کے نیم مردہ گھوڑے کو دوبارہ کھڑا کرنے کی ضرورت ہے اور تمام مسلم ممالک میں ایک با قاعدہ مہم کا آغاز کیا جائے جس کا مقصد ہمارے نوجوانوں کو کسی نئے عالمی فساد کا حصہ بننے کی بجائے اپنی تعلیم اور نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کی طرف مصروف رکھنا ہو۔

اسی طرح اگر چین، امریکہ اور روس افغان طالبان کے ساتھ بات کر سکتے ہیں تو پاکستان کو بھی کھلے بندوں ان سے بات کرنی چاہیے۔ ان پر اپنی حدود و قیود واضح کی جائیں اور انہیں ریاست پاکستان کی مجبوریوں سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ خارجہ پالیسی کے محاذ پر پاکستان کو نئے اتحاد بنانے یا پرانی تنظیموں کو دوبارہ فعال بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان ایک طرف او آئی سی کو فعال بنانے اپنا اہم کردار ادا کر سکتا ہے تو دوسری طرف ریجنل قوتوں کے ساتھ بہتر روابط استوار کر نے کے لیے سارک اور آر سی ڈی جیسی تنظیموں کے ماڈلز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ پاکستان بلکہ تمام مسلم ممالک کو کسی خاص بلاک کا اگیچو بننے کی بجائے چین اور امریکہ دونوں کے لیے اپنی منڈیاں کھول دینی چاہیے۔ دونوں کے ساتھ میرٹ پر معاملات طے کیے جائیں۔ دونوں سے ٹیکنالوجی کے میدان میں فائدہ اٹھایا جائے اور عوام کو اس کا فائدہ پہنچنا چاہیے۔

بس ہمیں اپنی تیاری کرنا ہوگی، اپنا گھر سنبھالنا ہوگا۔ جس میں سب پہلے پاکستان کے میڈیا پر لگائی جانے والی قدغنیں ہٹانے اور ریاست سے بد دل صحافیوں کی دل جوئی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آنے والے خطرات سے قوم کو بروقت اور ایمان داری کے ساتھ آگاہ کر سکیں۔ ہمارے پرامن معاشرے میں فرقہ ورانہ فسادات کا زہر کھولنے کے بعد ، اب لفٹ اور رائٹ ونگز کی جنگ کروانے کے لیے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ جس کا بروقت تدارک کرنا ضروری ہے۔ خدا کرے ہم اور ہمارا ملک آنے والی فتنوں سے محفوظ رہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں بابائے قوم کے فرمان، ایمان، اتحاد اور تنظیم پر دیانت داری سے عمل کرنا ہوگا۔

Facebook Comments HS