افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی، پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی

ہر گزرتے دن کے ساتھ افغانستان میں بد امنی کے سائے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں جس کے اثرات اب پاکستان پر صاف نظر آنے لگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے ایک بار پھر عالمی سطح پر پرانے پاکستان کے تصور کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جہاں دھماکے اور دہشت گردی روز کا معمول تھا۔ اتنی قربانیوں اور مشقت کے بعد پاکستان کا جو پر امن چہرہ ابھر کر سامنے آیا ہے اس کے ایک بار پھر بدنما ہونے کے خطرات پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔ چینی ورکرز پر حملہ، لاہور دھماکہ اور بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق مئی کے مہینے سے لے کر اب تک ڈیڑھ سو سے زائد مختلف کارروائیاں پاکستان میں ہو چکی ہیں۔
اس بحث میں پڑے بغیر کہ حملے کون کر رہا ہے یا کون کروا رہا ہے۔ ماضی کی طرح اب بھی افغانستان میں بڑھتی بد امنی اور طالبان کا بڑھتے اثر و رسوخ کا براہ راست نہیں تو بالواسطہ تعلق ان کارروائیوں سے ضرور ہے۔
حال ہی میں ملک کے معروف تجزیہ کار مشرف زیدی اور اعجاز حیدر نے افغان مسئلہ پر انتہائی اہمیت کے حامل کالم تحریر کیے جس میں وضاحت کے ساتھ یہ نکتہ بیان کیا گیا کہ افغانستان کا مسئلہ جتنا ہماری خارجہ پالیسی کا مسئلہ ہے اتنا ہی ہماری داخلہ پالیسی کا مسئلہ بھی ہے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ خارجہ محاذ پر موثر پالیسی اپنانے والا پاکستان ماضی کی طرح داخلہ محاذ کو نظر انداز کر رہا ہے جس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
افغانستان میں عالمی دہشت گرد گروہوں کی موجودگی
سلامتی کونسل کی پچھلے ماہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کا نیٹ ورک افغانستان کے پندرہ صوبوں میں پھیل چکا ہے جبکہ کالعدم داعش خراسان صوبہ کنڑ اور ننگرہار میں نقصان اٹھانے کے بعد صوبہ نورستان، بادغیس، بغلان، بدخشان اور کابل میں پھیل چکی ہے جہاں ان دہشت گرد تنظیموں کے نہ صرف سلیپر سیل ہیں بلکہ یہ طاقتور کارروائیاں کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ افغان طالبان کی قیادت نے داعش اور القاعدہ کے خلاف واضح موقف اپنایا ہوا ہے مگر اس کے باوجود ان دہشت گرد جماعتوں کو محدود کرنا ان کے بس سے باہر نظر آتا ہے۔
ایرانی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران سینئر طالبان رہنما ملا خیر اللہ خیرخواہ سے سوال پوچھا گیا کہ طالبان اشرف غنی حکومت سے تو لڑ رہے ہیں مگر داعش سے کیوں نہیں لڑتے؟ طالبان رہنما کا جواب یہ تھا کہ داعش ہے کہاں؟ داعش کا کوئی واضح ہیڈ کوارٹر ہوتا تو ہم اسے ختم کرتے۔ ملا خیر خواہ کا جواب افغانستان کی گمبھیر صورت کی عکاسی کر رہا ہے جہاں داعش اور القاعدہ کا نیٹ ورک طالبان سے پوشیدہ ہے۔ سلامتی کونسل نے رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ داعش خراسان، طالبان کی صفوں سے ان ناراض اور باغی افراد کو بھرتی کر رہی ہے جو امریکا کے ساتھ معاہدے کرنے پر طالبان قیادت سے ناراض ہوچکے ہیں۔
افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان تعلق
لیکن پاکستان کے لئے مزید پریشانی کی بات نہ صرف داعش اور القاعدہ کا پھیلتا نیٹ ورک ہے بلکہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سے متعلق موقف ہے۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے سینئر اینکر سلیم صافی سمیت پاکستانی میڈیا کو کئی انٹرویوز دے چکے ہیں۔ تحریک طالبان سے متعلق ہر بار کیے گئے سوال پر ان کا جواب صرف ایک تھا کہ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ افغان طالبان کی قیادت کھل کر داعش اور القاعدہ کے خلاف بیان دے رہی ہے مگر تحریک طالبان پاکستان سے متعلق مذمتی بیان دینے سے گریز کر رہی ہے۔
29 جنوری کو ٹی سی ایم نامی یوٹیوب چینل پر طالبان کے ایک اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا مختصر آڈیو انٹرویو نشر ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان نامی تنظیمیں پاکستانی باشندوں پر مشتمل ہیں پاکستان کو چاہیے کہ ان کے ساتھ مل بیٹھ کر حل نکالے تاکہ خون خرابہ نہ ہو۔ سی این این کو حالیہ انٹرویو میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نے واضح طور پر کہا کہ افغان طالبان ہمارے بھائی ہیں اور پاکستان کے خلاف ہماری لڑائی جاری رہے گی۔ اوپر سے یہ خبر کہ تحریک طالبان پاکستان کے باغی دھڑوں نے نئے سرے سے ٹی ٹی پی کے ساتھ الحاق کر لیا ہے، نے پاکستان کے لئے چیلنجز میں اضافہ کر دیا ہے۔
اس صورتحال میں طالبان کی اس بات پر اعتماد کر لینا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوگی ناکافی ہے کیونکہ تاریخ نے ہمیں کچھ اور ہی رخ دکھایا ہے۔ اوپر سے ریڈیو فری یورپ سے تعلق رکھنے والے تاجک صحافیوں نے بڑی خبر بریک کی جس میں انکشاف کیا کہ طالبان نے صوبہ بدخشان سمیت تاجکستان کی سرحد کے قریب والے علاقوں کا نظام انصاراللہ نامی اس دہشت گرد جماعت کے حوالے کر دیا ہے جو تاجکستان میں دہشت گرد کاروائیاں کرتی ہے۔ ان سب واقعات نے ٹی ٹی پی سے متعلق افغان طالبان کی پالیسی سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کر دئے ہیں۔ پھر بھی اگر یہ بات درست ہو کہ افغان طالبان ماضی کے تجربات سے سیکھ کر خود کو عسکری جماعت سے ایک سیاسی جماعت بنانا چاہتے ہیں تب بھی پاکستان کے لئے داخلی چیلنج کم نہیں ہوگا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تاریخی منظر
نوے کی دہائی کے آغاز سے ہی افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین عالمی طاقت کی شکست کے بعد ایک دوسرے کا خون بہانے لگے۔ ان خونخوار جنگی سرداروں سے نجات دلانے اور افغانستان میں قیام امن کا نعرہ لے کر افغانستان کے مشرقی اور جنوبی علاقوں کے مدارس سے منسلک پشتون طبقہ اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان میں اقتدار حاصل کر لیا اور اسلامی حکومت کے عنوان سے مخصوص حکومت قائم کرلی۔ القاعدہ کے ساتھ دوستی اور رابطوں میں اضافے نے افغان طالبان نامی مذہبی گروہ کو بھی عالمی جہاد اور بین الاقوامی اسلامی حکومت کے قیام کا داعی بنا دیا۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے اور عالمی حالات کی محدود معلومات رکھنے والے طالبان کو اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری جیسے افراد نے وسیع تر نظریاتی بنیادیں عطا کیں۔
افغانستان میں 80 اور 90 کی دہائی میں فعال کردار ادا کرنے والا پاکستان اس دوران اپنے ملک میں ہونے والی تبدیلیوں سے غافل رہا۔ نائن الیون کے بعد جب اسلام آباد امریکا کی جنگ میں حصے دار بنا تب معلوم ہوا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں متعدد مسلح گروہ نہ صرف مضبوط نیٹ ورک بنا چکے ہیں بلکہ گزشتہ ایک دہائی میں انتہا پسندانہ سوچ کے حامی افراد اسلام آباد سمیت پنجاب اور سندھ میں کلینڈ سٹائن نیٹ ورک یا سلیپر سیلز بھی بنا چکے تھے۔
عسکری گروپس کا نیٹ ورک صرف یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ اہم اور حساس اداروں میں کام کرنے والے بعض افراد بھی ایسے نیٹ ورک کا حصہ بن چکے تھے جن میں جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والا آرمی میڈیکل کور کا ڈاکٹر عثمان یا مشرف پر حملہ کرنے والا پاک فضائیہ کا سابق اہلکار عدنان رشید جیسے لوگ شامل تھے۔ پھر یہ ہوا کہ ان حساس مقامات پر بھی حملے ہوئے جہاں کوئی پرندہ پر نہیں مار سکتا تھا۔ جی ایچ کیو، پی این ایس مہران، ایف آئی اے لاہور، مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر، میریٹ ہوٹل جیسی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بے نظیر بھٹو سمیت اہم سیاسی اور سماجی شخصیات کی ٹارگٹڈ کلنگ ہوئی۔ ہزاروں نہیں تو سینکڑوں پاکستانی نوجوانوں کو دہشت گردی کے لئے تیار کیا گیا، ان کے جسموں پر بم باندھ کر انہیں مذہبی، سیاسی، سماجی اجتماعات میں دھماکوں کے لئے بھیجا گیا۔ ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے۔ اکثر مرنے والوں کی باقیات تک نہ ملتیں۔ مرنے والوں کے چیتھڑے اڑ جاتے۔
پاکستانی فوج کو اپنے ہی ملک میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتے لڑتے جب تقریباً 8 سال گزر گئے اور جب 2014 کو آرمی پبلک اس کول پشاور میں دہشت گردی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا تب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نیا باب کھلا۔ نہ صرف بندوق تھامے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہا بلکہ نیشنل ایکشن پلان قائم کر کے اس ذہنیت کے خلاف بھی اعلان جنگ کر دیا گیا جو مذہب کی آڑ میں پاکستانیوں میں انتہا پسندی اور نفرت کا بیج بو کر دہشت گردوں کے لئے زرخیز میدان فراہم کر رہی تھی۔
حقیقت ماننا پڑے گی کہ نیشنل ایکشن پلان کبھی بھی اپنے صحیح معنی میں نافذ نہیں ہوسکا مگر جو تھوڑا بہت اس کا نفاذ ہوا اس کا کم از کم یہ نتیجہ نکلا کہ دہشت گردانہ اور انتہا پسندانہ سوچ وقتی طور پر کچھ سالوں کے لئے دب گئی۔ کالعدم تنظیموں نے اپنے نام بدل کر محب وطن ہونے کا ڈرامہ شروع کر دیا۔ کھلم کھلا نفرت کا پرچار کم ہوا۔ تعصب پر مبنی لٹریچر کی ترویج کم ہو گئی۔ سٹی ٹی ڈی، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان بھر کے مدارس کے دورے معمول بن گئے۔ نفرتوں کا تبادلہ سست روی کا شکار ہوا تو نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں دہشت گرد گروپس کو بھرتی کے لئے کیڈر کی کمی ہو گئی۔ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فعالیت نے رہے سہے دہشت گردی کے نیٹ ورک کی کمر توڑ دی۔
پانامہ، عام انتخابات اور کورونا نے سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو مصروف کر دیا
مگر پانامہ مقدمہ کے آغاز اور پھر 2018 کے عام انتخابات کے بعد سے جہاں ملک کی فضا میں نئی سیاسی کشمکش کا آغاز ہوا وہیں سیکورٹی اداروں پر سیاسی جانبداری کے الزامات لگنے لگے۔ ایک طرف پی ٹی ایم تحریک چل پڑی تو دوسری طرف پی ڈی ایم کی موومنٹ نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانئے کو فروغ دیا۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ نیشنل ایکشن پلان پس منظر میں کہیں چلا گیا۔ اوپر سے کورونا کی وبا نے حکومت اور ریاست کی مکمل توجہ اپنی جانب مبذول کروائے رکھی۔ جبکہ دوسری طرف ہمسایہ ملک افغانستان کے حالات میں آنے والی تیز ترین تبدیلی نے پاکستانی معاشرے کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔
افغان بد امنی کے پشتون عوام اور مذہبی طبقے پر اثرات
افغانستان میں جاری جنگ سے پاکستان کے دو معاشرتی طبقات پر سب سے زیادہ اثرات متاثر ہوئے ہیں۔ پہلا اثر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بسنے والی پاکستان کی پشتون آبادی پر پڑا ہے۔ یہ اثر طبعی ہے، افغانستان کے ساتھ زبان اور ثقافت قریب ہونے کے ناتے کابل میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات ہمیشہ یہاں نظر آئے ہیں۔ اس وقت افغان طالبان اور افغان حکومت کے بیانئے کی لڑائی پاکستان کی پشتون قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے درمیان دیکھی جا سکتی ہے۔
اے این پی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی جیسی بڑی جماعتیں طالبان کے بیانئے کے خلاف قوم پرست بیانئے کو اپنائے ہوئی ہیں۔ جبکہ پشتون مذہبی طبقہ افغان طالبان کے بیانئے کی کھلم کھلا حمایت کر رہا ہے۔ پشاور اور کوئٹہ میں طالبان کے حق میں ریلیاں نکلنا اس بات کا کھلم کھلا ثبوت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنے انٹرویو میں پشتون عوام کے متاثر ہونے کا تذکرہ کیا۔
افغان طالبان کا دوسرا بڑا اثر پاکستان کے مخصوص مذہبی طبقے پر ہوا ہے جو بڑی تعداد میں سندھ اور پنجاب میں بھی موجود ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جو ماضی میں افغان جہاد میں بھرپور کردار ادا کرتا رہا ہے، اپنے مدارس کے نیٹ ورک، حامیوں اور تنظیمی ڈھانچے کے ذریعہ عسکریت پسندی کی حمایت کرتا رہا۔ مگر نیشنل ایکشن پلان کے بعد اس مخصوص طبقے کی سرگرمیاں محدود ہو گئیں۔ ”لال مسجد“ بھی اسی طبقہ کا حصہ ہے جہاں سے کالعدم داعش کی حمایت میں ویڈیو تک منظر عام آ چکی ہے مگر ریاست نا گزیر مصلحت کی بنیاد پر خاموش ہے۔ افغان طالبان کے حالیہ حملوں کے بعد سے یہ طبقہ پھر متحرک نظر آ رہا ہے اور طالبان کے ساتھ ”عالیشان“ جیسے الفاظ استعمال کر کے اور افغان فوج کے خلاف مصلحانہ کارروائیوں کو گلوریفائی کیا جا رہا ہے۔ ایسے لوگ پاکستان میں ٹھنڈی پڑنے والی دہشت گردی کی راکھ میں نیا شعلہ بھڑکانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
روس کے خلاف تیار کروایا گیا نصاب امریکا کے گلے پڑ گیا
سوویت یونین کے آنے کے بعد جب امریکا نے افغانستان کا رخ کیا تو کمیونسٹ روس کے خلاف جہاد کے لئے افغانستان کی ایک نئی نسل کو تیار کیا گیا۔ یونیورسٹی آف نیبراسکا کے ساؤتھ ایشیا سینٹر کو اسکول کا ایسا نصاب تیار کرنے کا ٹاسک سونپا گیا جسے پڑھنے کے بعد افغان بچہ روس کے ساتھ جہاد کو فرض سمجھے۔ یونیورسٹی آف نیبراسکا نے کامیابی کے ساتھ ایسا نصاب تیار تو کر لیا مگر بعد میں یہ نصاب خود امریکا کے ہی گلے پڑ گیا کیونکہ 2001 میں جب امریکا افغانستان پر حملہ آور ہوا تو وہی افغان اسکولوں میں پڑھنے والے لڑکے اب امریکا سے لڑنے لگے۔
جس کے بعد واشنگٹن نے پھر یونیورسٹی اور نیبراسکا کو ٹاسک سونپ کر ایسا نصاب بنوایا جس سے افغانیوں کے دل میں مغربی اقدار اور ثقافت کی محبت اجاگر ہو۔ مجھے لگتا ہے کہ بدقسمتی سے ایسا کچھ پاکستان کے ساتھ بھی ہوا۔ پاکستانی مدارس سے پڑھنے والی نسل جو اس وقت مجاہدین کے روپ میں سوویت یونین سے لڑنے گئی تھی امریکا کے افغانستان پر حملے بعد پاکستانی فوج سے لڑنے پر تیار ہو گئی۔ کیونکہ جس دلیل سے افغان طالبان کا امریکا، افغان حکومت اور شمالی اتحاد کے خلاف لڑنا جائز تھا اسی دلیل پر پاکستانی طالبان نے ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔
اور 2007 کے دسمبر میں چالیس عسکریت پسند کمانڈرز چالیس ہزار مسلح کارکنان کے ساتھ جنوبی وزیر ستان میں جمع ہوئے اور تحریک طالبان پاکستان کے قیام کا اعلان کر دیا۔ ٹی ٹی پی کی اعلیٰ شوریٰ نے آٹھ نکاتی چارٹر جاری کر کے پاکستان میں اپنی خواہش کے مطابق شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا اور افغانستان میں امریکی جنگ کے خاتمہ تک پاکستان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
پاکستان دوبارہ نائن الیون کے بعد والے حالات کی طرف جا رہا ہے
گزشتہ 20 سال میں پاکستان میں جہاں ہر طرف ٹیررازم کا لفظ گونج رہا تھا وہیں ایک اور لفظ ریڈیکلائزیشن کا کثرت سے تذکرہ ہو رہا تھا۔ جگہ جگہ ریڈیکلائزیشن اور ڈی ریڈیکلائزیشن پر کانفرسز، سیمینار اور ورکشاپس ہونے لگیں، مقالے چھپنے لگے، کتابیں اور رپورٹس شائع ہونے لگیں، یونیورسٹیز میں تھیسز لکھے جانے لگے اور نہ جانے کیا کچھ ہونے لگا۔ اس سب کا مقصد یہ جاننا تھا کہ پاکستانی عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو کس طرح نفرت انگیزی، تعصب، بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس عمل کو روکنے کے لئے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔
کیونکہ یہی شدت پسندانہ نظریات رکھنے والے افراد اور خصوصاً نوجوان نہ صرف دہشت گرد تنظیموں کی بھرتیوں کے لئے کیڈر فراہم کرتے بلکہ ان کو فعالیت کے لئے سازگار ماحول بھی مہیا کرتے ہیں۔ پاکستان میں شایع ہونے والی متعدد تحقیقاتی رپورٹس یہ انکشاف کر چکی ہیں کہ انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے افراد دہشت گردوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں بات دہشت گردوں کی سہولت کاری تک جا پہنچتی ہے جبکہ آخری مرحلے میں ایسے افراد دہشت گردوں کے ساتھ شامل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک کے مزید پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔
سن 2011 میں چھپنے والی ملیحہ لودھی کی مشہور کتاب Pakistan Beyond the Crisis State میں معروف تجزیہ نگار اور دانشور زاہد حسین کا اہم اور نئے زاویے فراہم کرنے والا مقالہ چھپا جس میں انہوں نے لکھا کہ 2007 کے بعد پاکستان میں القاعدہ سے متاثر ایک نئی نسل نے جنم لیا جس کا تعلق مڈل کلاس اور پڑھے لکھے طبقے سے تھا۔ انہوں نے القاعدہ کے نام نہاد عالمی جہاد کے بیانئے کو دل سے قبول کیا اور اس کی ترویج کا باعث بنے۔
پروفیشنلز اور اچھے گھرانے کے افراد نے کالعدم تنظمیوں کا حصہ بن کر پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو انتہائی منظم اور زیادہ ہلاکت خیز بنایا۔ نائن الیون کے بعد کراچی میں کورکمانڈر کے قافلے پر حملہ کرنے سے لے کر کئی بڑی دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والا گروہ جنداللہ، کراچی کے ایک لڑکے عطاء الرحمن نے بنایا تھا جس نے شماریات میں ماسٹرز کیا اور یونیورسٹی دور میں اسلامی جمعیت طلبا سے منسلک رہا تھا۔ ایک بزنس مین کا بیٹا عطاءالرحمن ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کی طرح افغانستان میں ٹریننگ لینے گیا تھا جہاں سے واپس آ کر اس نے بیس افراد پر مشتمل دہشت گروپ کی بنیاد رکھی۔ گروپ میں شامل تمام افراد کی عمریں بیس سے چالیس سال کے درمیان تھیں۔ اسی گروپ میں دو بھائی اکمل وحید، نیورو سرجن اور ارشد وحید، آرتھوپیڈک سرجن شامل تھے جو بعد میں امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے۔
کراچی میں سوشل ایکٹیوسٹ سبین مسعود کو قتل کرنے والے سعد مسعود کی گرفتاری نے انسداد دہشت گردی کے ماہرین کو حیران کر دیا تھا۔ کراچی کے پڑھے لکھے، کاروباری اور سیکولر خاندان سے تعلق رکھنے والی سعد مسعود نے انگلش میڈیم اسکول بیکن ہاؤس سے او لیولز کیا تھا۔ پھر لاسیئم اسکول سے اے لیولز پاس کرنے کے بعد ٹاپ کے بزنس انسٹیٹیوٹ آئی بی اے میں داخلہ لیا اور کامیابی سے ڈگری حاصل کی۔ اس دوران سعد مسعود یونیورسٹی کی اقرا سوسائٹی نامی اسٹڈی گروپ سے منسلک ہوا جہاں عام طور پر مذہبی ڈسکشنز ہوتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسی دوران سعد کے اندر انتہا پسندانہ نظریات نے جنم لئے اور پھر کسی ذریعہ سے مسلح تربیت بھی حاصل کر کے آیا۔ گرفتاری کے بعد سعد نے انکشاف کیا کہ سبین مسعود کو پانچ گولیاں مار کر قتل اس لئے کیا کیونکہ وہ سیکولر تھیں اور ویلنٹائن ڈے کو پروموٹ کرتی تھی۔
سن 2006 میں اس وقت کے صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا ) کے حکمران اتحاد متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں سے منسلک افراد بڑی تعداد میں پاکستانی طالبان کی صفوں میں شامل ہو گئے جس میں جمعیت علمائے اسلام سر فہرست ہے۔ گو کہ جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی جیسی جماعتوں نے تحریک طالبان پاکستان سے اظہار لاتعلقی کر کے خود کو ان سے دور رکھا مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان جماعتوں میں شامل افراد کی نمایاں تعداد ان سے الگ ہو کر مسلح گروپس کا حصہ بنے۔ رہی سہی کسر اس وقت کے جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن نے پوری کردی تھی جب انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو شہید کہہ دیا۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ مذہبی قیادت میں کس حد تک موجود تھا۔
پاکستان کو اس خوفناک دلدل سے نکلے ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے۔ کئی سالوں کے تعطل کے بعد عالمی کرکٹ ٹیمز نے پاکستان کا رخ کیا ہے، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، خطے کے ممالک سے تجارتی معاہدے ہو رہے ہیں ایسے میں اگر پاکستان میں دوبارہ نائن الیون کے بعد والی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ملک ایک بار پھر بحران میں پھنس سکتا ہے۔ تیزی سے بدلتے حالات تقاضا کرتے ہیں کہ نہ صرف نیشنل ایکشن پلان کو بروقت نافذ کیا جائے بلکہ ایک جامع قسم کی داخلہ پالیسی مرتب کی جائے جس کا مقصد ریڈی کلائزیشن کی اس لہر سے نمٹنا ہو۔
پاکستان کے لئے افغان سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں تشویش کا باعث ضرور ہیں۔ مگر یاد رہے پاکستان میں کسی بڑی دہشت گرد کارروائی کے لئے بم، بارود اور اسلحہ باہر سے لانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کیونکہ پاکستان میں دہشت گرد دیسی بم، خود کش جیکٹس تیار کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ لاہور میں ہونے والا حالیہ دھماکہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور پھر پاکستان میں پچھلے چودہ سالوں میں ہونے والی دہشت گردی کے دوران متعدد افراد نے مسلح تربیت کے ساتھ ساتھ بم بنانے کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ایسے افراد انڈر گراؤنڈ ہو گئے تھے۔ 17 جولائی کو معید پیرزادہ کو انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کے فعال ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اور پھر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں اسلحہ کی بہتات معاملے کی سنگینی میں اضافہ کرتی ہے۔
خطے کے ممالک نے طالبان پر ریڈ لائنز واضح کرچکے
اب جب یہ واضح ہو چکا ہے کہ طالبان افغانستان کی مستقبل کی حکومت کا اہم حصہ ہوں گے ، خطے کے ممالک نے طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں مگر ساتھ ہی انہوں نے نہ صرف طالبان پر اپنی ریڈ لائنز واضح کی ہے بلکہ طالبان کو افغان مسئلہ کا اہم فریق سمجھتے ہیں نہ کہ اکیلا فریق۔ حال ہی میں طالبان اور افغان حکومت کے وفود کو تہران میں آمنے سامنے بٹھانے والے ایران نے طالبان کا نام اب تک دہشت گرد گروہ کی فہرست سے نہیں نکالا۔
تہران کا موقف ہے جب تک طالبان اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں ہیں ایران بھی بلیک لسٹ رکھے گا۔ اس کے باوجود طالبان وفد ایران کے کئی دورے کر چکے ہیں۔ دوسری جانب طالبان کی جانب سے ایران کے ساتھ افغانستان کی اہم بارڈر کراسنگ اسلام قلعہ پر قبضے کے بعد تہران نے افغانستان کو تجارتی سامان کی فراہمی بند کردی ہے۔
روس کے دورہ کرنے والے سینئر طالبان رہنما ملا شہاب الدین دلاور نے دلچسپ بیان دیا کہ افغانستان کی سرزمین روس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ جس سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کی بنیاد پڑی آج اسی روس کو طالبان تحفظ کی یقین دہانی کروا رہے ہیں۔ یہ سب تیزی سے بدلتے زمینی حقائق کی عکاسی کر رہے ہیں۔ مگر دوسری جانب روس نے تاجکستان میں اپنے سب سے بڑے فوجی اڈہ میں فعالیت تیز کردی ہے۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں اور اہم راہ داری پر طالبان کے قبضے کے ساتھ ہی تاجک افغان سرحد پر اپنی فوج تعینات کردی ہے۔ افغانستان کے ہمسایہ ملک تاجکستان نے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقیں کیں اور پہلے مرحلے میں بیس ہزار فوجی افغانستان کی سرحد پر تعینات کر دئے ہیں۔
اب ازبکستان بھی روس اور تاجکستان کے ساتھ جنگی مشقوں میں شامل ہو گیا ہے۔ اور افغانستان کی سرحد سے کسی ممکنہ بند امنی کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
طالبان سے حال ہی میں مذاکرات کرنے والا چین سنکھیانگ میں ایغور مسلمانوں کے معاملے میں مداخلت نہ کرنے کا عہد لے چکا ہے۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین بھی کہہ چکے ہیں کہ چین ہمارا دوست ہے۔ بیجنگ کی سرمایہ کاری سے افغانستان میں ترقیاتی کام ہوں گے ۔ طالبان چین کے کسی اندرونی معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔ مگر ساتھ ہی چین دو بار افغانستان سے فوج نکالنے کے معاملے پر امریکا پر تنقید بھی کرچکا ہے کیونکہ بغیر کوئی سیاسی حل تلاش کیے واشنگٹن کے اس طرح سے بھاگنے سے خطے کے ممالک کے لئے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔
پاکستان کو داخلی امن و امان کے لئے نئی پالیسی کی ضرورت
پاکستان کو خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ نئی داخلہ پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا قومی مفاد پر امن افغانستان سے وابستہ ہے اور ایسے نازک مرحلے میں افغان طالبان سے بگاڑنا عقل مندی نہیں ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ماضی میں دوبار افغان پالیسی کے تناظر میں پورے ملک کے امن و امان اور قومی مفادات کو داؤ پر لگا چکا ہے۔ تیسری بار ایسا کرنا تباہ کن ثابت ہوگا۔ لازمی ہے کہ حکومت نئے عزم کے ساتھ اپنا ہاؤس آرڈر میں رکھے اور نیشنل ایکشن پلان کو نئی روح کے ساتھ نافذ کرے۔
فرقہ وارانہ، تعصب پر مبنی لٹریچر اور سوشل میڈیا پوسٹس پر روک تھام کی جائے۔ چینلز کو بارش کی کوریج کے آداب سکھانے والے پیمرا کو چاہیے کہ مین اسٹریم میڈیا کے لئے افغانستان سے متعلق کوریج کی گائڈ لائنز جاری کرے۔ مین اسٹریم میڈیا نہ سمجھی میں یا قصدا طالبان کے قبضے کو فتوحات اور نظریہ کی برتری قرار دے کر دیندار جوانوں کو بندوق کے زور پر پاکستان میں بھی اپنی مرضی کا نظام لانے کی راہ دکھا رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں مسئلہ افغانستان سے متعلق بحث ضرور منعقد ہونی چاہیے تاکہ کنفیوژن کی شکار پاکستانی عوام کے سامنے مضبوط بیانیہ آ سکے ورنہ فرقہ واریت پر مبنی تجزیے اور قوم پرستی پر مبنی نظریات افغانستان میں جاری جنگ کی تشریح کر کے مسلکی اور قوم پرستانہ فالٹ لائنز کو مزید گہرا کردیں گے۔ شعور اور ہم آہنگی پر مبنی قومی بیانیہ اپنانے والی قوم ریاست کا بازو بن کر ہر سطح پر انتہا پسندی کی ترویج کو کاؤنٹر کرے گی۔
امید ہے اس بار ریاست ہوش کے ناخن لینے کے لئے کسی اے پی ایس حملے کا انتظار نہیں کرے گی۔

