جمہوری قدریں اور ہم
کیا ہم جمہوری قدروں کی بدترین سطح پر نہیں پہنچے؟ کیا جمہوری گراوٹ کا سامنا نہیں کر رہے؟ کیا 40 سال کے جمہوری ارتقاء نے جمہوریت کو مضبوطی کی بجائے پستی کی طرف نہیں دھکیلا ہے؟
درست کہ غیر جمہوری قوتوں نے جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ مانا کہ جمہوری زوال میں 3 ڈکٹیٹروں کا برابر کا ہاتھ ہے۔ لیکن کیا سیاستدان جمہوریت کی تنزلی کی بربادیوں میں برابر کے شریک نہیں۔ کیا غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں پر ہمارے نام نہاد سیاستدانوں نے بیعت نہیں کیا؟ کیا غیر جمہوری قوتوں کے پس پردہ لوگ ہر پارٹی کا اثاثہ نہیں ہے؟ کیا الیکٹیبلز کی سیاست نے جمہوریت کو داغدار نہیں کیا ہے؟
میڈیا کی آزادی پر قدغن، گالی گلوچ کی بکی بھرمار، الزام تراشیاں، احتساب کا نام پر سیاسی انتقام، پارلیمنٹ کی بے توقیری، بد انتظامی، اپوزیشن کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے سے انکار، حکومت وقت کی سر عام غیر جمہوری قوتوں کی طرف اپنی نظریں جھکی کرنا، اپوزیشن کا اقتدار کے حصول کے لیے اسی طاقتوں کی طرف دیکھنا جس کو وہ خود مسائل کا ذمہ دار گردانتے ہیں، سیاسی عدم استحکام، ملک کے اندرونی اور بیرونی مسائل پر قومی پالیسی کی قلت، قومی یکجہتی کا فقدان، موروثیت، پارٹیوں پر فیوڈلز کا کا قبضہ، بنیادی حقوق کی پامالی، ۔ ان تمام عوامل نے ہماری جمہوری اقتدار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے تماشا بنا دیا ہے۔
ان گنت مسائل دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ افغانستان کی اگ، دنیا میں بننے والے نئے اتحاد، بھارت کی شیطانی چالیں، امریکی تحفظات، مسلمانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج، کرونا کی چوتھی لہر کی مچاتی ہوئی تباہی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، دہشت گردی کی دوبارہ اٹھتی ہوئی لہر، ایف اے ٹی ایف کی تلوار اور یورپی یونین کی جی ایس پی پلس کا سٹیٹس ختم کرنے کی دھمکی اور معیشت کی زبوں حالی کیا کم تھی کم جمہوری قدریں بھی زوال پذیر ہونے لگی۔
عقل دانش کا تقاضا ہے کہ سب ہوش کے ناخن لے۔ حقیقت کہ جمہوریت اور جمہوری قدریں ہی ترقی کی ضامن اور مسائل میں گھیرا ہوا ملک کی کشتی کو گرداب سے نکالنے کا واحد راستہ ہے۔ کیا اہل اقتدار تمام ادارے، اور سیاستدان ہوش کے ناخن لے گے؟ کاش کہ انہیں اپنی انفرادی مفادات سے فرصت ملے اور مملکت خداداد کی بہتری کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ جائے۔ اور ملک کو جمہوری قدروں کے مطابق چلائے۔



Comments are closed.