فیض کے دو عشق اور روشنی کا استعارہ



کارل مارکس نے کہا تھا
”فلسفیوں نے اب تک بس دنیا کی تشریح کی ہے اصل نکتہ تو اس کو بدلنے کا ہے“

فیض احمد فیض ایک ترقی پسند ذہن تھے انھوں نے گھسے پٹے، مفلوج زدہ، غلیظ اور بوسیدہ نظام کو بدلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ وہ ایک بے قرار روح کی مانند تھے۔ وہ تہلکہ مچانے والے شاعر تھے۔ ادب میں جن ناموں کی گونج سب سے نمایاں رہی ان میں ایک نمایاں نام فیض احمد فیض کا بھی ہے۔ فیض کی شاعری آفاقی ہے۔ ان کی شاعری نے اردو ادب کو ایک نیا لہجہ دیا۔ اس نے زندگی کے پیچیدہ راستوں کو چنا۔ انھوں نے شاعری کا قلم اٹھایا، شاعری کے کینوس پر ایسے ایسے رنگ بھرے کہ ہر سو ہنگامہ برپا ہو گیا۔

وہ پورے تپاک سے اپنی وحشتوں کے ساتھ شاعری کے آنگن میں داخل ہوئے۔ خود فیض نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ لکھو وہ جو دل پہ گزرتی ہے۔ ء جو دل پر گزرتی ہے رقم کرتے رہے گئے۔ شروع شروع میں وہ جان کیٹس، براؤنینگ، ورڈز روتھ اور شیلے سے متاثر ہوئے۔ بعد میں فیض کی شاعری غالب اور اقبال کے کلام کی توسیع بنی۔ پھر اس کے بعد فیض نے اپنا لہجہ متعارف کروایا۔ وہ لہجہ بڑا دھیما اور متاثرکن تھا۔ فیض کی ابتدائی شاعری رومانوی شاعری ہے بالا الفاظ دیگر رومانوی شاعری کے کوچے میں داخل ہو کر عشق و حسن اور ہجر وصال سے انکھیں دو چار کرتے رہے۔

خصوصاً نقش فریادی کا پہلا حصہ، آغاز میں روایتی شاعری کو ترجیح دی۔ محبوب سے ہم کلام، عشق و حسن کے کوچے میں دستک دینا، محبت کی بے قرار الجھنوں کو چھیڑنا، ہجر وصال کے ستم پرونا، یادوں کے غم بانٹنا، افسردہ نغمے اور اداسی کا لباس پہننا یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو فیض کے ابتدائی کلام میں ابھر کر سامنے آتی ہیں یہاں سے فیض کا پہلا عشق ابھر کر سامنے آتا ہے، چند اشعار ملاحظہ کیجیئے۔

خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے
وہ دل کہ تیرے لیے بیقرار اب بھی ہے
وہ انکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے

فیض کی شاعری پڑھ کر قاری حیرت کی وادیوں میں داخل ہو جاتا ہے اور محبت کے نئے گونچوں سے متعارف ہوتا ہے۔ ان کا ہر شعر حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ نقش فریادی کا پہلا قطعہ ملاحظہ کیجیئے

رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے

لفظوں میں کیا نغمگی ہے اور کتنی حیرت ہے کتنا حسین رومان ہے، آپ تصور کر سکتے ہیں اگر ویرانے میں بہار آ جائے تو وہ پھر ویرانہ کس کام کا، صحراؤں میں باد نسیم چلے پڑے تو وہ صحرا پھر صحرا نہیں رہتا۔ اگر غور کریں تو اس قطعہ میں حیرت ہے، اور کتنی غنائیت اور کتنی نغمگیت ہے۔ فیض کا یہ فن ہے کہ وہ پرانے ساگروں میں نئی شراب بھر کر پیش کرتے ہیں فیض کے قوافی اور ردیف بڑے انوکھے اور نادر ہوتے ہیں۔ ان کی تشبیہات و تلمیحات بڑی نکھر کر سامنی آتی ہیں۔ سو فیض کی ابتدائی شاعری رومانوی شاعری ہے۔ ، فیض کے اول عشق کی ترجمان ہے۔ عشقیہ جذبات کا حسین امتزاج ہے چند اشعار دیکھیے

فریب آرزو کی سہل انگاری نہیں جاتی
ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تری آواز پا سمجھے
تمھاری ہر نظر سے منسلک ہے رشتۂ ہستی
مگر یہ دور کی باتیں کوئی نادان کیا سمجھے
نہ پوچھو عہد الفت کی، بس اک خواب پریشاں تھا
نہ دل کی راہ پر لائے نہ دل کا مدعا سمجھے

نقش فریادی کے دوسرے حصہ میں فیض کا دوسرا عشق ابھر کا سامنے آتا ہے کیونکہ وہ اس وقت محمود ظفر اور رشید جہاں سے مل چکے تھے۔ انھوں نے کہا فیض صاحب غم جاناں خوب ہو چکا اب باقی وقت غم دوراں پر خرچ کیجیئے۔ فیض کا دوسرا عشق ان کی دیگر کتابوں میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کا دوسرا عشق سرمایہ داروں، جاگیرداروں، امراؤں کا تعاقب کرتا ہے۔ ظلم، زیادتی، نا انصافی، طبقاتی نظام کو للکارتا ہے لیکن دھیمے لہجے میں، فیض کا اظہار لہو کے درد کا ترجمان بن جاتا ہے، یہ بھی سچ ہے کہ اس نے ایک نظام کو للکارا اور کھل کر آزادی کی بات کی۔ وہ معاشرے کی بندشوں سے آزادی کشید کرتا ہے اور الفاظ کو نیا پیکر دیتا ہے۔ اس نے انسانیت کو پہلے سے زیادہ شرمسار اور لہو میں لتھڑا ہوا دیکھا

چند اشعار دیکھیے
آج تک سرخ و سیاہ صدیوں کے سائے کے تلے
آدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے؟
موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں
ہم پہ کیا گزری گی، اجداد پہ کیا گزری ہے؟
ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق
کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے
یہ حسیں کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا!
کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے
(نقش فریادی)

فیض نے اسی نظم میں برملا کہا کہ میرے یہی افکار ہیں یہی اشعار ہیں کہ ہم پرورش لوح قلم کرتے رہے گے اور وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

فیض شاعری کے جادو سے خوب واقف تھے۔ شاعری میں جو جادو پیدا ہوتا ہے وہ لفظوں سے ہوتا ہے۔ لفظ کی جادوگری کیا کمال دکھاتی ہے۔ فیض اس فن سے آشنا تھے

نقش فریادی میں ایک نظم ہے ”مجھ سے پہلی سی محبت میری محبوب نہ مانگ“ میں عشق اور ترقی پسندی کا متوازی رویہ ملتا ہے۔

نظم کا پہلا حصہ ملاحظہ کیجیئے۔
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے

نظم کا یہ حصہ ان کے پہلے عشق کی عکاسی کرتا ہے اسی نظم کا جب ہم دوسرا حصہ دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ فیض کا دوسرا عشق ہے ملاحظہ کیجیے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے
اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے

اس نظم میں دو فیض نظر آتے ہیں ایک عاشق، رومان پسند فیض اور دوسرا اشتراکی خیالات کا پرچار کرنے والا فیض ملتا ہے۔ شاعر کے رویے میں یہ تبدلی اس کی سماجی ذمہ داری اور مجبوری ہے، ورنہ تو اس کے دل میں اب بھی چراغ محبت روشن ہے۔

فیض کی مشہور نظم ”رقیب سے!“ دیکھتے ہیں تو پہلے چار بندوں پر عشق کی چاشنی ملتی ہے اور آخری تین بند ترقی پسند خیالات کا مظہر ہے۔ نظم میں شاعر رقیب سے مخاطب ہو کر عشق کے کوچے میں داخل ہو کر ترقی پسندی کے کوچے سے نکل آتے ہیں۔ اجتماعی مسائل اور عشقیہ تجربات کی ہم آہنگی نکھرتی ہے۔

نظم کا آخری بند دیکھیے،
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

حکمرانوں، سرمایہ داروں، وڈیروں اور جاگیرداروں نے سیاہ راتوں کا خوفناک سایہ رعایا پر مسلط کیا، فیض نے دھیمے لہجے میں ان کو للکارا اور ان کے خوف اور سیاہ راتوں کو بے نقاب کیا۔ نظم ترانہ کے چند اشعار دیکھیے

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں، سر بھی بہت
چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے
(دست صبا)

فیض کی شاعری کا سفر عشق مجازی سے عشق حقیقی کے طرف ہے۔ ان کے پاس انفرادی نظر نہیں بلکہ اجتماعی نظر ہے۔ وہ زندگی کو عقل اور عملی زاویوں سے پرکھتے ہیں، ۔ فیض کی شاعری تین تکون پر کھڑی ہے، پہلا تکون احساس کی شدت ہے، دوسرا تکون جذبے کا خلوص ہے اور تیسرا تکون عمل کرنے کی کوشش ہے۔ وہ محض باتیں نہیں کرتے بلکہ لوگوں تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں، اسی پاداش میں وہ چار سال جیل کی اذیتیں برداشت کرتا رہا۔ آج بھی سرمایہ دار اور جاگیر دار ہم پر قابض ہیں، آج بھی ہمیں ظلم، زیادتی، لوٹ مار، نا انصافی، طبقاتی نظام کا سامنا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “فیض کے دو عشق اور روشنی کا استعارہ

  • 08/03/2024 at 11:03 شام
    Permalink

    You are the best and the dear one

Comments are closed.