بھارت میں پاکستانی ایجنٹس


آج سے صرف چوہتر برس قبل جب ہندوستان متحد تھا اور پاکستان کا وجود عمل میں نہیں آیا تھا، ہم سب کے بڑے بوڑھے اپنے آپ کو فخر کے ساتھ ہندوستانی کہلواتے تھے، یہی ان کی پہچان تھی اور یہی ان کے جان سے پیارے وطن کا نام تھا، آج کی تاریخ میں شاید ہمیں یہ بات عجیب سی لگے لیکن یہ ایک حقیقت ہے جس کی گواہی نہ صرف ہمارے بزرگ دیتے رہے بلکہ ہمارے ”عظیم“ شاعر، ”شاعر مشرق“ علامہ اقبال کی نظم ”ترانہ ہندی“ بھی اس کی ایک مثال ہے :

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
” علامہ اقبال“

پھر مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوئی، ( پاکستان کا قیام عمل میں آیا، جو کہ اب ایک حقیقت ہے، ) کچھ لوگ ہندوستان میں بیٹھے بٹھائے پاکستان میں آ گئے اور کچھ اپنے جہان و گلستان کو خیر آباد کہہ کر پاکستان کی طرف ہجرت کر گئے، اس سارے عمل میں کیا کیا پاگل پن (دونوں طرف) دیکھنے کو ملا یہ ایک الگ بحث ہے ‏ لیکن یہ پاگل پن کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہا، اس کی تازہ مثال رحیم یار خان کے ایک مندر پر ہونے والے حالیہ حملے کی ہے، جہاں لوگوں کے مشتعل ہجوم نے نواحی گاؤں ”بھو نگ“ میں ”گنیش ٹیمپل“ پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

چوہتر سالوں میں ہماری ہر آنے والی نسل کی آبیاری کچھ اس طرح سے کی گئی ہے کہ مذہب کی تفریق اور بھارت دشمن بیانیے کو لے کر پڑھے لکھے اور ان پڑھ پاکستانی میں فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے،

پائلٹ ہو یا سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر یا گدھا گاڑی چلانے والا، ان کو ایک بات تو ضرور معلوم ہے کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور ہندو گائے کا پیشاب پیتا ہے،

یہ کہتے اور بولتے ہوئے یہ سب بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ہندو ہے جو آج بھی پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں، ان کے اجداد نے جس دھرتی کو اپنا گلستاں مانا ان کی سب نسلوں نے بھی اسی کو اپنا گلستان سمجھا اور ہجرت کی بجائے پاکستان کے ترانے گانے شروع کر دیے،

لیکن مجال ہے کہ ہم اکثر ”اکثریتی“ بولتے اور لکھتے ہوئے تھوڑی شرم کے ساتھ کچھ حقائق بھی سامنے رکھیں۔

وقت کے ساتھ یہ پاگل پن ترقی کر کے ناسور بن چکا ہے۔

اس میں ان کا بھی کیا قصور ہے؟ ٹیکسٹ بکس، اخبارات، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا، مسجدوں کے منبر، سیاستدانوں کی تقریریں اور جرنیلوں کی بھڑکیں انہی چند نعروں سے لبالب بھری ہوتی ہیں (کہیں ڈائریکٹ اور کہیں ان ڈائریکٹ) ، جبکہ کردار سازی، سیاسی بلوغت اور کارکردگی صفر۔

جہاں یہ پاگل پن دونوں اطراف بدرجہ اتم موجود ہے وہیں ہمیشہ ایسی آوازیں بھی بلند ہوتی رہی ہیں جنہوں نے جہالت کی اس آندھی کے مخالف سمت چلنے کو اپنا شعار بنایا، یقیناً یہ پرخطر اور کٹھن راستہ ہے، آپ اپنے ہی معاشرے میں غدار، ایجنٹ،

مذہب مخالف اور نا جانے کیا کیا کہلائے جا سکتے ہیں۔

ہر وہ شخص جو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک، دوسروں کی سوچ اور عقیدوں کے احترام اور ملکی تاریخ میں کی جانے والی سیاسی اور فکری غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے اس پر پہلا ٹھپا مخالف ملک کی ایجنٹی کا ہی لگتا ہے۔

ایک دفعہ لاہور کی ایک محفل میں ہماری ملاقات مشہور بھارتی صحافی کلدیپ نئیر سے ہوئی جو ان دنوں پاکستان کے دورے پر تھے، جن کی وفات پر ان کی وصیت کے مطابق ان کی استھیوں کے کچھ حصے کو لاہور کے قریب راوی میں بہایا گیا، ان کی ساری زندگی پاکستان اور بھارت کے درمیان فاصلے کم کرنے اور بھائی چارے کے پیغام کو پھیلانے میں گزری۔

گفتگو کے دوران جب یہ مسئلہ زیر بحث آیا تو ہنستے ہوئے بولے کہ بھائی تم لوگ اپنا رونا روتے ہو میرا مسئلہ تم سب سے بڑا ہے، جب میں ہندوستان میں ہوتا ہوں تو مجھے پاکستان اور آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہا جاتا ہے اور جب پاکستان آتا ہوں تو را کا ایجنٹ۔

اگر مجھے بھارت میں پاکستان کا ایجنٹ کہا جاتا ہے تو کیا ہوا، ہمیں صرف یہ یقین ہونا چاہیے کہ ہم صحیح راستے پر چل رہے ہیں،

میرے جیسے پاکستانی ایجنٹس بھارت میں بہت ہیں اور ایسے ہی ایجنٹس پاکستان میں، جو عقل، محبت، بھائی چارے، مذہبی بنیادوں پر تفریق کے مخالف اور دنیا کے ساتھ آگے بڑھنے کی بات کرتے ہیں، ان چیزوں سے کبھی مت گھبرائیں اور اپنے حصے کا کردار ادا کرتے رہیں۔

Facebook Comments HS