ظاہر جعفر کو سر درد کیوں ہوتا ہے؟
آج جب یہ خبر پڑھی کہ قاتل ظاہر جعفر کو سر میں درد ہوا تو اسے پمز ہسپتال لے جایا گیا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ ماشاللہ کیا لاڈلا قاتل ہے۔ ذرا سا درد برداشت نہ ہوا۔ دل چاہا اسے پوچھوں اے منشیات کی دنیا کے باسی! کیا تم کو پتہ ہے کہ اس زندہ وجود کے جسم پر جب تم چھریاں چلا رہے تھے۔ اس کے سر کو آری سے کاٹ رہے تھے تو اسے بھی بہت درد ہوا ہو گا۔ اور سردرد کی یہ وجہ بھی شاید یہ ہو کہ تم کو حوا لات میں ائس اور میتھ جیسی سائیکی ڈیلک ڈرگز نہ مل رہی ہوں اور تمہارے نشے ٹوٹ رہے ہوں۔
دراصل نشہ تو تمہیں اپنے پیسے اور مردانگی کا ہے۔ تم مرد ہو جو خود کو ہر لحاظ سے برتر اور بہتر سمجھتا ہے۔ پاکستانی معاشرے کا مرد ہوتا ہے بے درد اور حاکم طبیعت۔ وہ جیسے چاہے عورت کو روند سکتا ہے۔ کیونکہ اسے ہمیشہ احساس برتری کا تاج جو پہنایا جاتا ہے۔ ریلیشن شپ بنانے کا مطلب عورت پر حاکمیت سمجھ لیا جاتا ہے ۔ نہ عورت کی کوئی مرضی ہوتی ہے نہ اختیار۔ نہ عزت نہ وقار۔ اگر نور اس درندے کو چھوڑنا چاہ رہی تھی تو کیا غلط کر رہی تھی۔
ایسے زہریلے رشتے ڈنک مارنے کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ میں روز اس قاتل کی پولیس گاڑی میں آمد و رفت کو غور سے دیکھتی ہوں۔ وہ صاف ستھرا نہایا دھویا۔ ایک سے ایک ڈیزائنر شرٹ پہنے ہوتا ہے۔ بال ہیرو سٹائل میں ادھر سے ادھر یوں جھولتے نظر آتے ہیں جیسے ابھی ہیر سیلون سے نکلا ہو۔ کیا اسے گرم شاور صاف بیڈ شیٹ شیمپو تولیے بھی ملتے ہیں۔ کیا وہ کسی فائیوسٹار حوالات میں بند ہے۔ کیا اس کو سیل فون اور نیٹ فلکس بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
محبوبہ کے تو ٹکڑے کر دیے۔ بوریت ختم کرنے کے لیے اب کیا کرتا ہو گا بے۔ اگر جسمانی ریمانڈ کا مطلب ہے مار پیٹ تو اس کا حال دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ کسی نے اسے سوئی بھی چبھوئی ہو۔ تو کیا مار صرف غریب مجرموں کو پڑتی ہے۔ اس کے جسم پر تو خراش تک دکھائی نہیں دیتی۔ کیا اسے اے سی میں سلایا جا رہا ہے۔ میری خواہش ہے کہ اسے مچھروں مکھیوں کاکروچوں اور چوہوں والے کمرے میں رکھا جائے۔ کچھ تو اس کی طبع نازک پر گراں گزرے۔
اسے برگر پیزا چائنیز فوڈ کی کوئی سہولت نہ ملے۔ وہ تڑپے۔ وہ گڑگڑائے۔ وہ قرار کو ترسے۔ اس کیس نے ہم سب کا انسانیت پر سے اعتماد ختم کر دیا ہے۔
نور کے لئے ایک نظم۔
Dancing with your murderer
And sleeping with your enemy
Can push you into a black hole
Of nothingness and sorrow
Point of no return
Destination unknown
Hold your head high in love
Adorn it with sweet fragrant flowers
From the garden of Eden
Swirl and twirl
Laugh with no fear in your heart
Let the music play
Set your soul free
Heavens above await you
Dance like you never danced before


آپ کا تو انسانیت پر سے اعتماد ختم ہؤا ہے اپنا تو مکافات عمل پر سے ہی اعتبار اٹھ گیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بہت مقبول ہے کہ مکافات عمل کی چکی چلتی آہستہ ہے مگر پیستی بہت باریک ہے ۔ مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ یہ پیستی کسے ہے اور اس نے اب تک کس کس کو پیسا ہے؟ بیوہ ماں کے اکلوتے لخت جگر کا قاتل سی سی ٹی وی کیمروں کے سامنے غریب ٹریفک کانسٹیبل پر گاڑی چڑھا دینے والا فرعون بہن کی عزت بچانے والے بھائی کو گولیوں سے بھون دینے والا مسٹنڈا ، محسود جیسے جوان رعنا کو موت کے گھاٹ اتار دینے والا اور چار سو چالیس مقتولوں کا سفاک قاتل اور ان جیسے اور کتنے ہی بیگناہوں کے بےرحم قاتل کسی مکافات و مؤاخذے کا شکار ہوئے بغیر دھرتی پر دندناتے پھرتے ہیں ۔ کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑتا ان پر کبھی بجلی نہیں گرتی ان ناسوروں پر ۔ یہ ٹھاٹ کی زندگی بسر کرتے ہیں اور باٹ کی موت مر جاتے ہیں ۔ قدرت انہیں عبرت کا نشان نہیں بناتی جو باقی کے بےغیرتوں کو کچھ سبق حاصل ہو ۔ بس بیگناہ اور مظلوم ہی پسپا ہوتے رہیں گے اور انسانیت یونہی نادم و شرمسار رہے گی ۔
(رعنا تبسم پاشا)