پیٹوں جگر کو میں

روز کچھ نا کچھ ہوتا ہے۔ روز یہ دل روتا ہے۔ اس قوم کا نصیبا سوتا ہے اور سوتا چلا جاتا ہے۔ اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ جب کچھ ہوتا ہے۔ سوچتی ہوں۔ اس پر لکھوں اس پر بولوں اس پر احتجاج کروں۔ پھر خیال آتا ہے اتنا کچھ تو لکھا جا رہا ہے۔ کالم چھپ رہے ہیں۔ عقل و دانش کی باتیں سکھائی جا رہی ہیں۔ تمیز تہذیب اور توازن کے درس دیے جا رہے ہیں۔ ۔ تو فرق کہاں۔ نظر آیا ہے۔ اخیر اثر کیوں نہیں ہو رہا۔

بہاولپور کے شریف ان نفس قابل صد احترام پروفسسر حمید کے قتل نا حق نے میرے دل و دماغ پر ہیبت اور حیرانی کے پہاڑ توڑ دیے ہیں۔ یہ کون سا ملک اور معاشرہ ہے جہاں رسم چلی ہے کہ چھٹانک بھر کے کند ذہن احمق اور تنگ نظر لونڈے اٹھیں اور جس کو چاہیں زندگی سے محروم کر دیں۔ ۔ قاتل کی شکل اور جسامت دیکھیں۔ دیوانگی صاف نمایاں ہے۔

Read more

قلا باز دل

شنید ہے کہ معاشرے کو راست باز اور پاکیزہ تر بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جارہا ہے۔ خبر آئی ہے کہ آنے والے یوم محبت یعنی بد نام زمانہ ویلنٹائن ڈے کو جائز اور حلال بنانے کے لئے ایک یونیورسٹی کے طلبا، اپنی ہم جماعت لڑکیوں کو سرخ گلاب کی جگہ تحفے میں عبائے، برقعے اور دوپٹے عطا کریں گے اور اس کے بعد انہیں بہن کہہ کر پکاریں گے۔ یوں مائل بہ نظارہ بدن شریف ان کی کھوجی نگاہوں سے اوجھل رہ کر انہیں ڈگمگا جانے سے روک لیں گے۔

Read more

ٹپر واسنی پروین عاطف کا اگلا پڑاؤ

لیجیے، پروین عاطف بھی رخصت ہو گئیں۔ میری اور میری بہنوں کی شخصیت اورہستی کی تعمیر کرنے والی قیمتی ہستیاں دھیرے دھیرے زندگی کے سٹیج سے غائب ہو رہی ہیں۔ دنیا کا نگار خانہ ایسا ہی ہے، یہاں لوگ آتے اور وقت پورا ہو جانے کے بعدنیستی کے دھندلکوں میں غائب ہو جاتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے بغیر آپ کی زندگی، ادھوری، تشنہ اور خالی خالی رہ جاتی ہے۔ میرے لئے میری پھوپھی پروین عاطف بھی اک ایسی ہی خاص شخصیت تھیں جن کے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔

آج میں جب ان کی چھتر چھایا سے محروم ہو گئی ہوں تو احساس ہو رہا ہے کہ وہ کتنی مختلف، جی دار، دبنگ اور انوکھی عورت تھیں۔ اپنے بھائی احمد بشیر کی طرح پاکستان کی سچی عاشق، ہمیشہ کچھ انوکھا کر گزرنے کی آرزو سے چور، فائٹر اور فعال۔ ان کی زندگی کا کوئی بھی مقصد، کوئی بھی دور، کسی قسم کی جدوجہد سے خالی نہیں رہا۔

Read more

بائیسکوپ کا تماشا

آج کل پاکستانی سیاست پر ایک دلچسپ تماشا چل رہا ہے پردہ کبھی اٹھتا ہے تو کبھی گرتا ہے مناظر تبدیل ہوتے اور ہوتے چلے ہیں۔ گلی گلی میں پھیری لگانے والے آوازہ لگاتے گھوم رہے ہیں۔ پرانے برتن دے کر خوابوں سے بھرے ہوے ہوئے جادو کے ڈبے لے جاؤ۔ اور ہم بچارے ووٹرز…

Read more

لال بی بی جان، سبز پوش ٹھیکے دار اور کاغذ کے پرزے

"ںامنظور! ںامنظور ! پرانے الیکشن نامنظور! نئے الیکشن کروائے جائیں ۔ ہمیں پرانی نئی کی جگہ سچ مچ نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ ہمارا مطالبہ! الیکشن،الیکشن!" الیکشن میں جیتنے کے امیدواروں نے عوام' نام کا ماسک پہنا اور ایک ہجوم پیچھے لگائے' سڑکوں پر نعرے لگوانے کے لئے خود ہی نکل پڑے۔ یہ ہجوم بھولی…

Read more