بیدار عورت

(صوفیہ بیدار کی کتاب ’رنگریز‘ کی تقریب رونمائی پر پڑھا گیا۔) بہت خوشی کا عالم ہے کہ آج ہم اپنی دوست منجھی ہوئی ادیبہ صوفیہ بیدار صاحبہ کی اولین کتاب کی تقریب پذیرائی کے بہانے یہاں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ کتاب کا نام ہی بہت منفرد ہے۔ رنگریز۔ اور اس میں بیان کردہ کہانیاں دلچسپ۔ پرمغز۔ رنگ رنگ کی۔ ایسی کہ انسان کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کر دیں۔ طاہرہ اقبال جیسی مہان ادیبہ صاحبہ صدر ہوں۔ دنیائے

Read more

شعیب بن عزیز بیا بیا

(شعیب بن عزیز صاحب کے اعزاز میں واشنگٹن میں منعقدہ ایک تقریب میں پڑھا گیا) عزیز دوستو، ساتھیو، مہربانو، قدر دانو، آپ سب کی خدمت میں ہمارا محبت بھرا سلام پہنچے۔ کیا عجب موقع ہے کہ آج یہاں، ایک شاعر، یعنی شعیب بن عزیز اور منکہ ’من آنم کہ من دانم‘ امریکہ میں ایک ہی سٹیج پر اکٹھے بیٹھے ہیں اور اپنے پاکستانی دوستوں کی محبتیں سمیٹ رہے ہیں۔ اے فلک صد رنگ و صبا رفتار، تو نے یہ کیا

Read more

کون سمجھے گا میرا درد یہاں

(گزشتہ دنوں لندن میں ایک مختصر اردو تمثیلچہ پیش کیا گیا جس میں مرکزی کردار ارم طور صاحبہ نے ادا کیا۔ اس کھیل کا سکرین پلے نیلم احمد بشیر نے لکھا۔) (سٹیج پر اندھیرا ہے۔ دھیرے دھیرے روشنی پڑتی ہے تو ایک لڑکی بُت بنی دکھائی دیتی ہے، اسکے چہرے پر ایک گھونگھٹ ہے۔ وہ رقص کے لباس میں ہے، بیک گراؤنڈ میں ایک گانا بجتا ہے، دو لائنز ہی بجائیں۔) گھونگھٹ کے پٹ کھول رے تجھے پیا ملیں گے

Read more

ازل اک تیرگی ہے

نہ جانے مجھے یہ شوق کب سے تھا۔ شاید ہمیشہ سے ہی تھا۔ پتہ نہیں؟ ابا جان کی سرکاری نوکریوں کے نتیجے میں ہونے والی آئے روز کے تبادلوں نے ہی غالباً میرے اندر کے متجسس سیاح کو جنم دیا تھا۔ پتہ نہیں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ہماری فیملی اکثر شہر شہر نگر نگر گھومتی رہتی، کبھی کبھار تو ہمیں وطن عزیز کے ایسے دور دراز کے پسماندہ اور گمشدہ علاقوں میں بھی رہائش اختیار کرنا پڑی ہے جن کا

Read more

محبت، جنگ اور واپسی

بڑھتی ہوئی عمر کے تقاضے میں جب میرے دونوں گھٹنے حد سے زیادہ تکلیف دینے لگے تو میں نے اور میرے بچوں نے متفقہ طور پر یہی فیصلہ کیا کہ انہیں تبدیل کروا لیا جائے۔ پہلے گھٹنے کی دفعہ میں امریکہ کے شہر بالٹی مور میں تھی لہذا وہیں کے مشہور و معروف ہڈیوں کے سرجن سے اپائنٹمنٹ لی اور دل ہی دل میں ہمت باندھی۔ کیونکہ ڈر تو لگ ہی رہا تھا۔ یہ ڈاکٹر سود انڈین تھے۔ بات چیت

Read more

ظاہر جعفر کو سر درد کیوں ہوتا ہے؟

آج جب یہ خبر پڑھی کہ قاتل ظاہر جعفر کو سر میں درد ہوا تو اسے پمز ہسپتال لے جایا گیا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ ماشاللہ کیا لاڈلا قاتل ہے۔ ذرا سا درد برداشت نہ ہوا۔ دل چاہا اسے پوچھوں اے منشیات کی دنیا کے باسی! کیا تم کو پتہ ہے کہ اس زندہ وجود کے جسم پر جب تم چھریاں چلا رہے تھے۔ اس کے سر کو آری سے کاٹ رہے تھے تو اسے بھی بہت درد ہوا

Read more

عورت مارچ

تو تم عورت مارچ میں جاؤ گی قہقہہ گونجا سنا ہے وہاں تو بڑی آزاد عورتیں آتی ہیں اس بار تو سنا ہے انہوں نے سڑک پر رسی لگا کر زنانہ کپڑے بھی لٹکائے ہیں آوازیں اچھا۔۔ یعنی انگیا اور چڈیاں اتنی بے حیائی ۔۔ اُف دیکھنے تو جانا پڑے گا فحاشی کا زہر واقعی معاشرے میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور اس کی ذمہ دار بھی یہی عورتیں ہیں ارے بھئی اسی لیے تو اتنے ریپ ہوتے ہیں

Read more

مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی، ہمارا کیا بنے گا؟

میرا خیال تھا پورے پاکستان میں فقط میں ہی وہ دکھیاری غموں کی ماری ہوں جسے وطن عزیز کی روز بروز بڑھتی ہوئی آبادی کے خیال سے ڈراؤنے خواب آتے رہتے ہیں۔ یہ سوچ کر ڈر لگتا ہے کہ آبادی کا جن تو سچ مچ اب بوتل سے باہر آ چکا ہے اور باہر نکل کر سوچ رہا ہے کہ جاؤں تو جاؤں کہاں۔ اس ملک پاکستان میں تو تل دھرنے کو بھی جگہ نہیں بچی۔ ننھے منے بلا مقصد پیدا کیے گئے کروڑوں بچے کاکروچوں کی طرح کونوں کھدروں سے نکل کر سب کچھ ہڑپ کرتے جا رہے ہیں۔

نہ روٹی ہے نہ پانی ہے، روندی ساڈی نانی ہے۔ بجلی گیس بھی کم کم دستیاب ہے۔ رقبہ سکڑ رہا ہے، سیمنٹ کے جنگل پھل پھول رہے ہیں۔ رہنے کے قابل صرف ڈی ایچ اے رہ گیا ہے۔ لوگ بھوک کے بازار میں ایمان، دھرم، آدرش، فلسفے عقیدے سبھی کچھ بیچ رہے ہیں، آخر میں کھانے کو کچھ نہیں بچے گا اور ڈر ہے کہ کسی دن ایک دوسرے کو ہی نہ چیر پھاڑ کر کھا جائیں۔ یقین جانیے یہ سب اس جن نے مجھ سے ہمکلام ہو کر خود کہا ہے۔ جھوٹ نہیں بول رہی۔

Read more

تتلی کے پنکھ مضبوط ہوتے ہیں

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے منفرد، مضبوط، انوکھے اور ولولہ انگیز کالموں کا مجموعہ آپ کے ہاتھ میں میں ہے۔ مجھے اس بات کی ازحد خوشی ہے کہ طاہرہ نے اپنی دل جمعی اور استقلال سے لکھی ہوئی تحریروں کو ایک سنجیدہ، بامقصد اور بامعنی کام سمجھ کر مجتمع کیا اور یوں اپنے پڑھنے والوں کے لئے آسانی کر دی۔ اب ہم جب جی چاہے، انہیں ہاتھ میں لے کر پڑھ سکتے ہیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے یہ خوبصورت کالم

Read more

میں تمثال ہوں: ایک بری عورت کی کتھا؟

چند ہفتوں سے اس کتاب ”میں تمثال ہوں“ کے بارے میں سن اور پڑھ رہی تھی کہ کوئی ایسی نئی قسم کی تحریر سامنے آئی ہے جس نے دنیائے ادب میں ہلچل مچا کے رکھ دی ہے۔ باوقار اور قابل ماہر تعلیم عارفہ شہزاد کی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد لوگ چونک چونک کر پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ کب ہوا؟ کیوں ہوا؟ کہ ہمارے مشرقی معاشرے میں پدر سری سماج کی پروردہ ایک عورت

Read more

دو پاٹن کے بیچ

میرے بیٹے علی نے ہمیشہ کی طرح اپنا سکول بیگ شاپ کے ایک کونے میں پٹخا اور سٹول کھینچ کر میرے قریب بیٹھ گیا۔ میں نے بھی اپنا معمول کا سوال دہرایا۔  ’’کھانا کھا لیا تھا؟‘‘ حقیقت یہی ہے کہ ہر ماں اپنے بچے کے کھانے پینے کے بارے میں ہمیشہ متجسس اور فکرمند رہتی ہے۔ چاہے بچہ جتنا مرضی صحت مند اور ہٹا کٹا ہی کیوں نہ ہو؟ اب بچہ رہا بھی نہ ہو مگر اسے ہمیشہ یہی لگتا

Read more

پائے لاگوں بانو آپا

یادوں کے دریچے وا ہوتے ہیں تو کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔ ایک ایسی ہی یاد کا ذکر ہے۔ ایک روز ابا گھر آتے ہی بولے :

”آج ہم سب کو کسی کے گھر جانا ہے۔“

امی نے ہم سب بچوں کو اچھے کپڑے پہنائے اور تیار کیا۔ اس وقت ہم کرشن نگر میں رہتے تھے۔ بس میں سوار ہو کر ہم دور کی ایک بستی ماڈل ٹاؤن کے ایک بڑے سے گھر جا پہنچے۔ یہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے نئے نکور گھر ”داستان سرائے“ کی شاید افتتاحی تقریب تھی، جس میں انہوں نے کچھ دوستوں کو مدعو کر رکھا تھا۔ اتنا بڑا خوبصورت اور شاہانہ گھر دیکھ کر میں تو حیرت زدہ رہ گئی۔ پرتکلف کھانا کھانے کے بعد ہم سب کو پورا گھر گھمایا پھرایا گیا۔ اشفاق صاحب نے ہمیں اپنا ریکارڈنگ سٹوڈیو بھی دکھایا جہاں وہ غالباً اپنے ریڈیو پروگرام ”تلقین شاہ“ کی ریکارڈنگ کیا کرتے تھے۔ میں تو اس بات سے بھی بہت متاثر ہوئی کہ گھر میں ہی سٹوڈیو موجود ہے، واہ کیا بات ہے۔

Read more

رکن اسمبلی رخسانہ کوثر کی قرارداد اور زیبائشی داڑھی۔۔۔

آج کل سوشل میڈیا پر ایک نئی پھلجھڑی چھوڑی گئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی رخسانہ کوثر نے حال ہی میں ایک قرارداد جمع کروائی ہے جس میں ارکان اسمبلی سے تائید کی گذارش کی گئی ہے کہ مردوں کو نت نئے ڈیزائن کی داڑھیاں ترشوانے سے روکا جائے۔ اگر وہ اس درخواست میں یہ بھی کہہ دیتیں کہ ان فیشن ایبل داڑھیوں کی وجہ سےمعصوم بیبیوں کے ایمان متزلزل ہو جاتے ہیں تو مجھے ان

Read more

وارث میر…. ایک سچا صحافی

ایک کوتاہ نظر، کم علم اور کم ظرف سرکاری عہدے دارنے نامور صحافی اور دانشور پروفیسر وارث میر پر غدار وطن ہونے کی تہمت تو لگا دی، شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ چاند کا تھو کا اپنے ہی منہ پر آ کر گرتا ہے اور ہوا بھی ایسا ہی. اس بیان کے ردعمل میں سندھ اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں نے وارث میر کے حق میں متفقہ قرار دادیں مںظور کرتے ہوئے انہیں ایک محب وطن قرار دے

Read more

اجمل کمال صاحب کے کالم کے جواب میں

پچھلے دنوں محترم اجمل کمال صاحب کا "ممتاز مفتی” کی الکھ نگری کتاب پر لکھا ہوا ایک تبصرہ نظر سے گزرا۔ الکھ نگری پر ان کے نظریات اپنی جگہ اور نہ مجھے ان پر بات کرنی ہے، مجھے تو بس یہ کہنا ہے کہ انہوں نے قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، ابنِ انشا کے ساتھ ساتھ احمد بشیر اور ان کے متعلقین کو بھی اس کھاتے میں ڈال دیا،جو شہاب صاحب کے اعلیٰ سرکاری عہدے کی وجہ سے مراعات کے

Read more

پیٹوں جگر کو میں

روز کچھ نا کچھ ہوتا ہے۔ روز یہ دل روتا ہے۔ اس قوم کا نصیبا سوتا ہے اور سوتا چلا جاتا ہے۔ اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ جب کچھ ہوتا ہے۔ سوچتی ہوں۔ اس پر لکھوں اس پر بولوں اس پر احتجاج کروں۔ پھر خیال آتا ہے اتنا کچھ تو لکھا جا رہا ہے۔ کالم چھپ رہے ہیں۔ عقل و دانش کی باتیں سکھائی جا رہی ہیں۔ تمیز تہذیب اور توازن کے درس دیے جا رہے ہیں۔ ۔ تو فرق کہاں۔ نظر آیا ہے۔ اخیر اثر کیوں نہیں ہو رہا۔

بہاولپور کے شریف ان نفس قابل صد احترام پروفسسر حمید کے قتل نا حق نے میرے دل و دماغ پر ہیبت اور حیرانی کے پہاڑ توڑ دیے ہیں۔ یہ کون سا ملک اور معاشرہ ہے جہاں رسم چلی ہے کہ چھٹانک بھر کے کند ذہن احمق اور تنگ نظر لونڈے اٹھیں اور جس کو چاہیں زندگی سے محروم کر دیں۔ ۔ قاتل کی شکل اور جسامت دیکھیں۔ دیوانگی صاف نمایاں ہے۔

Read more

قلا باز دل

شنید ہے کہ معاشرے کو راست باز اور پاکیزہ تر بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جارہا ہے۔ خبر آئی ہے کہ آنے والے یوم محبت یعنی بد نام زمانہ ویلنٹائن ڈے کو جائز اور حلال بنانے کے لئے ایک یونیورسٹی کے طلبا، اپنی ہم جماعت لڑکیوں کو سرخ گلاب کی جگہ تحفے میں عبائے، برقعے اور دوپٹے عطا کریں گے اور اس کے بعد انہیں بہن کہہ کر پکاریں گے۔ یوں مائل بہ نظارہ بدن شریف ان کی کھوجی نگاہوں سے اوجھل رہ کر انہیں ڈگمگا جانے سے روک لیں گے۔

Read more

ٹپر واسنی پروین عاطف کا اگلا پڑاؤ

لیجیے، پروین عاطف بھی رخصت ہو گئیں۔ میری اور میری بہنوں کی شخصیت اورہستی کی تعمیر کرنے والی قیمتی ہستیاں دھیرے دھیرے زندگی کے سٹیج سے غائب ہو رہی ہیں۔ دنیا کا نگار خانہ ایسا ہی ہے، یہاں لوگ آتے اور وقت پورا ہو جانے کے بعدنیستی کے دھندلکوں میں غائب ہو جاتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے بغیر آپ کی زندگی، ادھوری، تشنہ اور خالی خالی رہ جاتی ہے۔ میرے لئے میری پھوپھی پروین عاطف بھی اک ایسی ہی خاص شخصیت تھیں جن کے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔

آج میں جب ان کی چھتر چھایا سے محروم ہو گئی ہوں تو احساس ہو رہا ہے کہ وہ کتنی مختلف، جی دار، دبنگ اور انوکھی عورت تھیں۔ اپنے بھائی احمد بشیر کی طرح پاکستان کی سچی عاشق، ہمیشہ کچھ انوکھا کر گزرنے کی آرزو سے چور، فائٹر اور فعال۔ ان کی زندگی کا کوئی بھی مقصد، کوئی بھی دور، کسی قسم کی جدوجہد سے خالی نہیں رہا۔

Read more

بائیسکوپ کا تماشا

آج کل پاکستانی سیاست پر ایک دلچسپ تماشا چل رہا ہے پردہ کبھی اٹھتا ہے تو کبھی گرتا ہے مناظر تبدیل ہوتے اور ہوتے چلے ہیں۔ گلی گلی میں پھیری لگانے والے آوازہ لگاتے گھوم رہے ہیں۔ پرانے برتن دے کر خوابوں سے بھرے ہوے ہوئے جادو کے ڈبے لے جاؤ۔ اور ہم بچارے ووٹرز سر نیہوڑائے ہوئے سوچ رہے ہیں جائیں تو جائیں کہاں۔ آخر ووٹ کس کو دیں۔ ڈگڈگی بج رہی ہے اور ارمانوں کی سیج سج رہی

Read more

لال بی بی جان، سبز پوش ٹھیکے دار اور کاغذ کے پرزے

"ںامنظور! ںامنظور ! پرانے الیکشن نامنظور! نئے الیکشن کروائے جائیں ۔ ہمیں پرانی نئی کی جگہ سچ مچ نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ ہمارا مطالبہ! الیکشن،الیکشن!” الیکشن میں جیتنے کے امیدواروں نے عوام’ نام کا ماسک پہنا اور ایک ہجوم پیچھے لگائے’ سڑکوں پر نعرے لگوانے کے لئے خود ہی نکل پڑے۔ یہ ہجوم بھولی بھالی بھیڑوں کا تھا جن کا ہمیشہ سے ایک ہی مقدر ہوتا ہے کہ وہ آنکھوں پر اندھے اعتماد کی پٹی باندھے’ گلے میں رسی

Read more