سامراجی وبائیں


تا دم تحریر دنیا کرونا وائرس کی طبی، سماجی، نفسیاتی اور سب سے بڑھ کر کے معاشی غارت گری کو جھیل رہی ہے۔ دنیا میں اس بارے ردعمل مختلف ہے کچھ کے نزدیک یہ ویسے ہی ایک مجسم حقیقت ہے جیسے عالمی ادارہ صحت ہمیں اس کی ہولناکی بیان کرتا ہے۔ کچھ کے نزدیک یہ بس ایک بیماری ہے جس کا خوف اور دہشت بہت بڑھا دیا گیا جس کے پیچھے بہت سے شاطر اذہان کار فرما ہیں۔ اور کچھ کے نزدیک یہ سرے سے ایک عالمی سازش ہے اور بیماری کا وجود ہی نہیں۔ میری طب سے شدھ بد واجبی بھی نہیں سو ہر جانب کی دلیلیں مجھے متاثر کرتی ہیں۔ حقائق کیا ہیں یہ شاید کبھی نہ کھل پائیں یا کم از کم ہماری حیات عزیز میں تو ممکن کم ہی لگتا ہے۔ لیکن اس وبا کے دنوں میں کچھ ماضی اور حال کے سوال تو سلامت ہیں جن کے جواب چیختے چنگھاڑتے اپنی تمام تر سچائی کے ساتھ موجود ہیں۔

میرے دادی مرحومہ کی عمر اس وقت چھ ماہ تھی جب جنگ عظیم اول سے تھکے ماندے ہندوستان کے بیٹے کٹے پھٹے جسموں کو گھسیٹتے وطنوں کو لوٹ رہے تھے۔ بڑے بڑے ادب کے شہسوار جن کا نام ہم آج بھی عقیدتوں سے لیتے ہیں ملکہ معظمہ کے قصیدے اور سرکار انگلیسیہ کی فتح کے ترانے گا رہے تھے۔ لیکن ہندوستان بالخصوص پنجاب میں موت پھوٹ پڑی تھی۔ میری دادی مرحومہ بھی ایسا ہی کردار تھیں جن کے گھر کا رستہ موت نے یوں دیکھا کہ چھ ماہ کی بچی کی کفالت کو پوری دنیا میں کوئی خونی رشتہ دار زندہ نہ رہا۔ آج ہمیں بتایا جاتا ہے کہ تب ایک وبا پھیلی تھی جس کا نام سپینش فلو تھا جس نے ہندوستان کے کم از کم ڈیڑھ کروڑ انسانوں کا خاتمہ کر دیا۔ ہندوستان کی پانچ فیصد آبادی لقمہ اجل بن گئی۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ گلی گلی لاشیں بکھری تھیں دفنانے کفنانے کو کوئی دستیاب نہ تھا بس موت کا مہیب سناٹا تھا۔

لیکن ٹھہریئے! کیا بات ایسے ہی ہے؟ کیا دنیا بھر کی سپینش فلو کی آج کی دستیاب یہ داستان اتنی ہی سچ ہے؟ اگر ایسا کوئی فلو ایسی شدت سے پھیلا تھا تو ہمارے اجتماعی حافظے سے اتنا بڑا سانحہ کیسے محو ہو گیا۔ کسی ادب کسی داستان میں اس کا تذکرہ تک نہیں۔ قحط کے تذکرے، طاعون کے تذکرے، اسہال پھیلنے کے تذکرے سب موجود ہیضے سے مرنے کی داستان ہر گھر کی دادیوں نانیوں سے ہم سب نے سن رکھی ہے لیکن سپینش فلو کہاں چلا گیا؟

کہیں تو تاریخ میں کچھ گڑبڑ ہے۔ جو کچھ بغیر کسی دستاویز کے میں بزرگوں سے اکٹھا کر پایا وہ یوں تھا کہ لام میں ہندوستان بالخصوص پنجاب اور مغربی پختون علاقوں کے نوجوانوں کے بھربھرے سڈول گوشت اور کٹیل تن و توش کو دیہاتوں سے جنگ کے تنور میں جھونکا گیا۔ کتنے ہی دیہات تھے ایسے تھے کہ پورے دیہات میں کوئی نوجوان نہ بچا تھا۔ کھیتوں کو سینچنے کو بیلوں کی جوڑی کو ہل کی ڈوری سے قابو رکھنے کو ہاتھ بھی موجود نہ تھا۔

کھیتوں میں جھاڑ کیا نکلتا سرکار نے حکم لگایا کہ کھیتوں سے اگتا گیہوں ان کے محاذ کے ایندھن کو گرم رکھنے کو لازم ہے۔ کھیتوں سے پچاس فیصد پیداوار تک جنگی لگان میں جاتی رہی۔ چکوال سے لدھیانہ تک شاید ہی کوئی گھر ہو جس کا کم از کم ایک نوجوان جنگ کا ایندھن بننے نہ بھیجا گیا ہو۔ پنجاب کے میدانوں میں کھیت سینچنے اور ہل چلانے کے لیے ورک فورس ہی دستیاب نہ تھی اور یہ ایک سیزن نہیں قریب ایک دہائی تک ہوا۔ گھروں میں اناج کی قلت ہو گئی۔

لیکن برطانوی راج کو اس پر ترس نہ آیا جنگی ضروریات پوری کرنے کے لیے لوگوں سے پیداوار کا پچاس فیصد تک جبری اناج وصول کیا گیا۔ کیونکہ تاج برطانیہ کے قصیدہ خوانوں کے گھر بھی دانے وقت پر پہنچانے لازم تھے۔ قصیدہ خوانوں کے نام لکھنے کی جرات مجھ میں بھی نہیں۔ کبھی مراۃالعروس ہی پڑھ لیں۔ موت کا برہنہ رقص لازم تھا جسے آج صرف اسپینش فلو کا قصور بتایا جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سپینش فلو کی وبا بھی پھیلی۔ لیکن اس کا موجب بھی یوں سامراجی برطانیہ بنا۔ جب یہ وبا پھیلی تو جنگ عظیم اول سے تھکے ہارے زخموں سے چور برصغیر کے بیٹے واپس ساتھ لائے تب برصغیر میں قحط کا راج تھا تیز برسات کے بعد ہیضہ عام تھا۔ اگست تک گندم صاف نہ ہو پائی تھی کیونکہ پھلوں (دانے صاف کرنے ) کے لیے بیل دستیاب نہ تھے۔

وبا پھوٹنے کے وقت گنتی کے ہسپتالوں میں جنگ سے پلٹے سپاہیوں کا علاج جاری تھا اور ملیریا اور ہیضہ اپنے جوبن پر تھا۔ وبا کے اولین دنوں میں معلوم ہوا کہ اسپرین لیتے ہی مریض کو سکون آ جاتا ہے۔ حکومت نے جہاں تک ممکن ہوا وبا پھوٹتے ہی حکیموں پر علاج کرنے پر پابندی عائد کر دی اور اسپرین کے علاج کو ہی مستند علاج ٹھہرا دیا۔ صورتحال یہ ہو گئی کہ اسپرین کی ایک شیشی سات آنے یعنی دو جیتل بکریوں کے عوض ملنے لگی۔

تباہ حال فاقہ زدہ زراعت پیشہ کسان یہ کہاں سے لاتا لوگوں نے زیور جانور بیچ کر اپنے پیاروں کو بچانے کے لیے اسپرین خریدی۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ موت خرید رہے ہیں۔ ہوتا یوں کہ اسپرین اول تو مریض کو سکون دیتی لیکن چار دن بعد وہ جسم کو زہر آلود کر دیتی اور مریض تڑپ تڑپ کر مر جاتا۔ یہاں یہ خوفناک سچائی بتانا بھی لازم ہے کہ اسپرین جرمنی کی کمپنی بائیر تیار کر رہی تھی جو برطانیہ کا دشمن تھا لیکن برطانوی تاجروں نے جرمنی سے دوا خریدی تو حکومت برطانیہ نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ ٹیکسوں کے عوض سہولیات مہیا کیں۔

کہا جاتا ہے کہ برطانیہ اور جرمنی نے اپنے بہت سے جنگی خرچے اسی اسپرین سے پورے کیے۔ حیرت انگیز طور پر دنیا میں سب سے کم اموات چین میں ہوئیں جس نے اسپرین لینے سے انکار کر دیا اور روایتی طریقہ علاج سے مریضوں کی دیکھ بھال کی۔

یہ حقائق کبھی ہی کھل سکیں کہ اصل اموات ہیضے سے ہوئی بھوک سے یا پھر اسپینش فلو سے لیکن اس سچ کو کوئی نہیں جھٹلا سکے گا کہ یہ ہندوستان کے باسیوں کا برطانوی سامراج کے ہاتھوں قتل عام تھا۔

کرونا وائرس حقیقت ہے یا جھوٹ سازش ہے یا فطری وبا ہمیں نہیں معلوم لیکن تا دم تحریر عالمی اعداد و شمار کے مطابق اس سے ہلاکتوں کی کل تعداد تینتالیس لاکھ کے قریب پہنچی ہیں لیکن اسی دورانیے میں بھوک سے مرنے والوں کی عالمی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے۔ دنیا کی بھوک کرونا وائرس کی طرح لا علاج نہیں۔ اس کی ویکسین روٹی دنیا کی ضرورت سے کہیں زیادہ موجود ہے۔ کسی ایٹم بم کسی جنگی طیارے کسی گڑ گڑ کرتے ٹینک اور دنیا کے لا تعداد خالی اسکائی اسکریپرز سے کہیں زیادہ بھوک کی ویکسین لازم ہے۔

دنیا کی ہر سامراجی وبا کا انکار ممکن ہے لیکن بھوک سے بڑی کون سی حقیقت ہے؟

Facebook Comments HS