انجینئر علی مرزا اور مفتی مسعود احمد آمنے سامنے


برصغیر کی مذہبی تاریخ میں برداشت، تحمل اور بردباری کا بہت زیادہ فقدان پایا جاتا ہے۔ تقسیم سے پہلے ہندوستان میں مختلف فرقوں کے درمیان مناظرے چلتے رہتے تھے پھر تقسیم کے بعد پاکستان میں بھی یہ مناظرہ بازی کچھ وقت پہلے بہت عروج پر رہی مگر اب کچھ رجحان کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ آج کل دو وقت کی روٹی پوری کرنا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ پہلے صرف تین بڑے فرقوں کے نام سننے میں آتے تھے دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث مگر اب تو نہ جانے ان تین بڑے فرقوں کے اندر بے شمار قسم کی مزید برانچز بھی معرض وجود میں آ چکی ہیں اور المیہ کی بات یہ ہے کہ یہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے متفق نہیں ہیں۔

اب تو ربیع الاول کے جلوس بھی الگ الگ نکالے جانے لگے ہیں باقی علاقوں کا تو پتا نہیں مگر ہمارے شہر میاں چنوں میں ایک ہی مسلک سے تعلق رکھنے والے دو گروہ ایک صبح کے وقت جلوس نکالتے ہیں اور دوسرے شام کے وقت جلوس نکالتے ہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب سب کچھ ایک ہے تو پھر یہ تقسیم کی کیا کہانی ہے؟ کیا اس کی وجہ علم اختلاف ہے؟ یا معیشت کا مسئلہ؟ علمی اختلاف کا ہونا تو باعث رحمت ہوتا ہے کیونکہ یہ اصول فطرت ہے، خیالات کی رنگارنگی ہی تصویر کو پرکشش بناتی ہے یکسانیت تو بوریت کا سبب بنتی ہے مگر اختلاف کے نام پر ایک دوسرے پر فتویٰ بازی کرنا، ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کرنا اور اسی اختلاف کے نام پر اپنی الگ الگ دکان سجا کر چندہ اکٹھا کرنا، یہ کہاں کی انسانیت ہے؟

کائنات میں ارتقاء کا عمل صدیوں سے چلتا آ رہا ہے اسی طرح انسانی سوچ بھی ارتقائی عمل سے گزرتی رہتی ہے۔ ہماری مذہبی روایت جہاں تنگ نظری کی داستان بیان کرتی ہے وہیں کچھ ایسے علما بھی ہمیں نظر آتے ہیں جو مذہبی روایت کو موجودہ وقت کے ساتھ جوڑنے کی سعی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ روشن خیال قسم کے علماء دینی تشریحات کو آج کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اب وہ اس کوشش میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں وہ ایک الگ بحث ہے مگر یہ بات طے ہے کہ ان کے نقطہ نظر میں نرمی اور وسعت قلبی پائی جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ لوگ سر تن سے جدا کرنے کی باتیں نہیں کرتے۔

یہ ایک اچھی پیش رفت ہے اور ایسے لوگ قابل تحسین ہوتے ہیں۔ پہلے وقتوں میں علامہ پرویز احمد ہوا کرتے تھے اور اب انجینئر علی مرزا اور جاوید غامدی جیسے لوگ موجود ہیں جو مختلف خیالات رکھنے والے لوگوں سے بڑے تحمل سے گفتگو کرتے ہیں اور ایسے لوگوں پر بلاوجہ کا ٹیگ بھی نہیں لگاتے۔ یہ علماء لوجیکل ریزننگ کرتے ہیں اور جو کچھ روایتی کتابوں میں درج ہے اس پر ہونے والے اعتراضات کا علمی جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مبلغین میں مولانا طارق جمیل ہیں جو اپنا پیغام بڑی محبت سے شیئر کرتے ہیں، ہمیں ایسے لوگوں کو داد دینے میں کنجوسی کا مظاہرہ بالکل بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ انہی لوگوں کی وجہ سے پر تشدد رویے کم ہوں گے اور مختلف خیالات رکھنے والے لوگوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوگا۔

کچھ دنوں سے انجنیئرمحمد علی مرزا اور مفتی مسعود کے مابین مناظرہ کرنے کی ہلکی پھلکی موسیقی چل رہی ہے اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کو بات چیت کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور دونوں ہی اپنے یوٹیوب چینل پر اس کی خوب تشہیر بھی کر رہے ہیں۔ مفتی مسعود چونکہ روایتی عالم ہیں اور بغیر سوچے سمجھے انجینئر صاحب کی دعوت قبول کر بیٹھے اور اب وہ سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں۔ انجنیئر محمد علی مرزا کیونکہ کتابی آدمی ہیں اور صاحب مطالعہ ہیں اور سب سے بڑھ کر گھر کے بھیدی ہیں، بے تکی باتوں کا دفاع کرنا ان کے مزاج کا حصہ ہی نہیں ہے۔

انہیں جو اپنے مذہبی قبیلے میں برائی نظر آتی ہے وہ اس کا دفاع کرنے کی بجائے کھول کر سامنے رکھ دیتے ہیں اور فیصلہ عوام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ مفتی مسعود جذباتی آدمی ہیں اور دفاعی پوزیشن پر جاکر بے پر کی اڑاتے رہتے ہیں اور آئے دن سوشل میڈیا پر ان کی باتوں کے میم بنتے رہتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ یہ معاملہ کہاں پر جا کے رکتا ہے۔ مگر ایک حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان ریشنل قسم کے علماء کی وجہ سے عوام میں غور و فکر کا ایک رجحان پروان چڑھا ہے اور لوگوں نے سوچنا شروع کر دیا ہے۔

یہ ایک الگ بحث ہے کہ سوچ بچار کی ریاضت کے بعد کوئی ایتھیسٹ، اگناسٹک، اسکیپٹیک یا ایک سچا مذہبی آدمی رہے ان انسانی دائروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر ہمیں پیار و محبت کی شمع کو بجھنے نہیں دینا چاہیے بلکہ مختلف خیالات کے الاؤ سے اسے روشن رکھنا چاہیے۔ یہی اصل انسانیت ہے اور ہم سب انسانی فیملی کا حصہ ہیں۔

Facebook Comments HS