ردی (افسانہ)۔


اس کا نام دانش تھا۔ کہنے کو وہ سب کچھ رد کرتا تھا مگر کچھ رد نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے ایسی ردی ہو کر رہ گیا تھا جسے نہ تو ری سائکل کیا جا سکتا تھا، نہ ہی مکمل طور پر نیست و نابود کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے آلودگی کے مسئلے کی طرح جوں کا توں زمانے کی ٹھوکروں میں پڑا تھا۔

زندگی کو تماشا سمجھنے والا، خود تماشا ہو کر رہ گیا تھا۔ ایسا تماشا جسے بغیر ڈگڈگی بجائے ہر وقت دیکھا جا سکتا ہے۔

اپنے اس تماشے سے وہ اکثر خود تنگ آ جاتا۔ جب کبھی یاسیت کا دورہ اس پر حملہ آور ہوتا وہ نیٹی جیٹی کے پل کا رخ کرتا اور پل پر کھڑے ہو کر پہروں پر شور لہروں کو محبت سے دیکھا کرتا، یوں محسوس ہو تا کہ وہ بس اب کسی بھی لمحے چھلانگ لگانے کے ارادے سے قدم اٹھانے ہی والا ہے وہ اسی قدم کو سڑک کی جانب موڑ کر دوسرا قدم بڑھا دیتا۔ اس کے چہرے سے معلوم ہوتا گویا وہ خود کشی کے ارادے کو عملی جامہ پہنا چکا ہے۔ یوں لگتا جیسے زندہ رہنے کا فیصلہ ہی اس کے لیے موت ہے۔ اور موت کے لیے موت ضروری نہیں ہوتی۔ یوں اسے زندگی ہی میں کئی بار موت آئی۔

پہلی بار اس وقت جب اسے ایک لڑکی کے اغوا کے الزام میں پولس پکڑ کر لے گئی۔ اس کا قصور اتنا تھا کہ لڑکی کی ڈائری میں اس کا ذکر تھا، جب کہ وہ لڑکی کو جانتا تک نہیں تھا۔ یا اگر شناسائی رہی بھی ہو گی تو اب وہ اس کی یاد سے محو ہو چکی تھی، ماں باپ بھی اسے مجرم سمجھ رہے تھے۔ ایک بار اس کے چچا نے اسے اعتماد میں لے کر پوچھا بھی تھا، کہ وہ سچ بتا دے، سب کچھ وہ خود سنبھال لیں گے، مگر اسے کچھ معلوم نہیں تھا۔

پولس اس پر چار دن تک تشدد کرتی رہی پانچویں دن پولس نے اسے معذرت کر کے آزاد کر دیا کہ انہیں اوپر بھی جواب دینا ہوتا ہے۔ لڑکی کسی اور کے ساتھ بھاگی تھی اب گھر واپس آ گئی ہے۔

کسی کو سب کے سامنے ہتھکڑی پہنانے والے اس کی بے گناہی کا اعتراف سب کے سامنے نہیں کیا کرتے۔ قانون کی نظر میں وہ بھی خاموشی سے بے قصور قرار پایا تھا، لیکن لوگوں کی نظر میں وہ اب بھی مجرم تھا ان کی نگا ہیں اسے بے کل رکھتیں۔

وہ نیٹی جیٹی کے پل پر چلا آیا مگر زندگی ہارنے کے بجائے ایک بار پھر وہ مرنے کے لیے تیار ہو گیا اور واپس چلا آیا۔

نوکری کے حصول کے لیے علم کی نہیں ڈگریوں کی ضرورت ہوتی ہے اس نے بھی زندگی کرنے کے لیے ایم اے کی سند حاصل کر لی تھی اور ایک اسکول میں معلم کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ بچوں کے ذہن سے اٹھنے والے سوالات اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتے وہ ان سے بڑی بڑی عقل و دانش کی باتیں کیا کرتا، بچے اسے اور اس کی باتوں کو پسند کیا کرتے۔ بڑوں سے گفتگو میں وہ خاص احتیاط کیا کرتا، کیوں کہ بڑوں کو پورا یقین تھا کہ ان کے پاس عقل بھی ہے اور فہم بھی اس لیے اسے ان بڑوں سے چھوٹی باتیں کرنی پڑتیں۔

دوسری بار وہ نیٹی جیٹی کے پل پر اس وقت آیا جب اس کی منگیتر نے یہ کہہ کر منگنی کی انگوٹھی واپس کر دی کہ محض علم کی روشنی سے گھر کے اندھیروں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ بجلی کے بل سمیت دگر بلوں کے لیے استاد کا بل سے باہر آنا ضروری ہے اس بار بھی خود اذیتی کے طور پر اس نے موت ہار دی۔

تیسری بار آنکھوں میں وحشت لیے وہ اس وقت پل پر آ کھڑا ہوا جب اسے بچوں کے اذہان کو منجمد کرنے، انہیں سلیبس سے ہٹ کر پڑھانے اور بچوں کے سالانہ نتائج خراب کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا کر برطرف کر دیا گیا۔ اس بار بھی وہ وہ صرف موت کو دیکھ کر رہ گیا اور زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حجرے میں چلا آیا۔

وہ ایک بار پھر نوکری کی تلاش میں اٹھ کھڑا ہوا اس کھوج میں اسے ایک کثیر الاشاعت ماہ نامے میں سب ایڈیٹر کی نوکری مل گئی۔ اس رسالے میں سچی کہانیاں شائع ہوتی تھیں۔ ایک دن رسالے کے ایڈیٹر نے اس سے بھی سچی کہانیاں لکھنے کو کہا۔

مگر جناب ابھی میری کہانی تو شروع بھی نہیں ہوئی۔ اس نے ایڈیٹر کو سمجھانے کی کوشش کی۔
تمہاری نہیں دوسروں کی۔ ایڈیٹر نے اسے سمجھایا۔
ٹھیک ہے سر مجھے کچھ دن کی مہلت دیں
مہلت مگر کس لیے؟ ایڈیٹر حیران ہو کر بولا۔

سر سچی کہانیوں کی تلاش میں، مجھے تگ و دو کرنا ہو گی اخباری سطور کی حقیقت جاننا ہو گی، کہانی بن چکے بزرگوں سے ملنا ہو گا، اور۔

میاں اس کی ضرورت نہیں کیوں دفتر بند کرواؤ گے۔ اسی میز پر بیٹھ کر کہانی گھسیٹ دو۔ ایڈیٹر اس کی بات کاٹ کر بولا

اور وہ ایڈیٹر صاحب کے حکم کے مطابق کہانی گھسیٹنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے ایک کہانی ایڈیٹر صاحب کی میز پر رکھ دی۔

میاں فلسفہ نہیں، لوگ فلسفہ نہیں سمجھتے کوئی پھڑکتی، سلگتی تحریر لکھو۔

اس کا قلم زہر اگلنے لگا مگر ایڈیٹر صاحب سے یہ تلخی بھی ہضم نہ ہو سکی۔ پانچ روز میں اس نے دس کہانیاں ایڈیٹر صاحب کو تھمائیں

آخری کہانی پر ایڈیٹر صاحب نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے

تمہاری یہ کہانیاں ان رسالوں میں تو چھپ سکتی ہیں جو اپنے خرچے پر چلتے ہیں مگر وہ تمہیں کوئی خرچے کے بجائے رسالے کی اعزازی کاپی ہی دے سکیں گے۔ یہ ردی ہمارے کسی کام کی نہیں۔

اور وہ اپنی میز کے اوپر اور درازوں کے اندر سے ساری ردی نکال کر گھر لے آیا۔

یہ دن اس کے لیے بڑے کار آمد رہے، کہنے کو وہ فارغ تھا لیکن اس کا ذہن اس کے ہاتھوں کو چین نہ لینے دیتا۔ حقیقت جاننے کے جستجو نے اسے خود سے، دنیا و مافیا سے بے خبر کر دیا تھا۔ وہ صفحے کالے کرتا رہا۔ اس کے کچھ سر پھرے دوست اس کی تحریر کی کاٹ سے بہت متاثر تھے، انہوں نے اس کی نگارشات کو مختلف ادبی رسائل میں بھیجنا شروع کر دیا اور رسائل اسے اجرت کے طور پر اعزازی کاپیاں بھیجنے لگے اس کے کمرے میں اعزازی کا پیوں سمیت ردی کا ایک انبار جمع ہو تھا۔

ماں باپ اس کے لیے لڑکیاں دیکھ رہے تھے لیکن پہلی بار ہی ہر جگہ سے صاف انکار ہوا۔ کاغذ پر سیاہی بکھیرے والے سے رشتہ جوڑ کر کون اپنی بیٹی کا مقدر سیاہ کرتا۔

کسی نے والدین کو دارلامان جانے کا مشورہ دیا۔ مگر وہاں کے منتظمین نے بھی رشتے کی نوعیت جانتے ہوئے اپنے ادارے کی لڑکی کے لیے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ کاغذ پر الفاظ انڈیلنے سے چائے کی خالی پیالی کو فرق نہیں پڑتا۔ اتفاق سے اس وقت فراست موجود تھی جو کہ دارلامان میں ہی پلی بڑھی تھی اور وہاں تدریسی فرائض انجام دیتی تھی۔ اس نے از خود اپنے آپ کو دانش کے رشتے کے لیے پیش کر دیا۔ منتظمین کے لیے یہ بہت بڑا مسئلہ تھا اتنی اچھی ٹیچر ان کے ہاتھ سے نکل رہی تھی، مگر وہ اسے اس کے شرعی حق سے بھی محروم نہیں کر سکتے تھے۔

یوں فراست دانش کی زندگی میں داخل ہو گئی۔ وہ دانش کی علمیت کی دل سے قائل تھی، اس نے دانش کی پیٹھ کیا تھپکی کہ اسے کسی کی پروا نہ رہی وہ دیوانہ وار اپنے کام میں جت گیا۔ زندگی کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وہ شام کو ٹیوشن پڑھاتے۔ کسی بڑی ضرورت کی ضرورت انہوں نے کبھی محسوس نہ کی تھی۔

ان کی شادی کو آٹھ برس ہو چکے تھے۔ ماں باپ دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ اور ایک ایک سال کے وقفے سے دو بچے دنیا میں آچکے تھے۔ یہ دونوں بچے کاوش اور زیست تھے۔

زندگی ان بچوں کو ایسے گھر میں بڑا کر رہی تھی، جس کے بڑے بھی ابھی تک بڑے نہ ہو پائے تھے پھر وہ محض اپنے قامت کے بل پر کیسے بڑے ہو سکتے تھے۔ بڑے ہونے کے لیے جن حدود ہو قیود کو پھلانگنا ضروری ہے، وہ اس کی پٹی تک بھی نہ پہنچ سکتے تھے کیوں کہ ان کے والدین نے وہ پٹی سرے سے بچھائی ہی نہ تھی۔

دانش اور فراست کے قول و فعل کی یکسانیت نے کاوش اور زیست پر آگہی کے سارے در کھول دیے تھے۔ وہ والدین تھے یا آٹھواں عجوبہ، زندگی کے تھپیڑوں سے پینگیں بڑھا کر مطمئن تھے۔

دانش کاوش اور زیست کو اکثر نیٹی جیٹی کے پل پر لے کر جایا کرتا، اس نے انہیں اپنی زندگی کے اس دور کے بارے میں بھی بتا دیا تھا جب وہ زندگی ہارنے کی خواہش لے کر پل پر آتا اور موت کا انعام لے کر واپس جاتا تھا۔ اپنے تئیں وہ اس واقعے سے بچوں میں جینے کی لگن اور ہمت نہ ہارنے کا درس دینے کی کوشش کرہاً تھا۔

گھر میں بچے دانش اور فراست کی باتوں سے خوشبو محسوس کرتے۔ آگہی کے اجالے سے فیض یاب ہوتے اور جب کبھی ان کا بچپن انہیں گھر سے باہر کی راہ دکھاتا، وہ چلے تو جاتے، مگر کھلی فضا میں انہیں شدید گھٹن محسوس ہوتی، وہ گھر میں گھس کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگتے۔

بچے خاصے بڑے ہو گئے تھے لیکن اسکول جانا نہیں چاہتے تھے۔ دانش اور فراست جانتے تھے کہ بچوں کا گھر سے باہر نکلنا اور اسکول جانا کتنا ضروری ہے۔ لہذا انہیں سمجھا بجھا کر اسکول میں داخل کر دیا گیا۔ دو محلے چھوڑ کر ہی بچوں کا اسکول تھا بچے ایک دوسرے ہاتھ پکڑ کر اکیلے ہی اسکول جایا کرتے تھے۔ گھر اور اسکول سے ملنے والی تعلیم اور دوستوں کی صحبت سے ان بچوں کو ایسا کیا ملا، ان کے ننھے ذہنوں نے ایسا کیا سمجھ لیا کہ وہ گم سم رہنے لگے زندگی کی دلچسپیوں میں انہوں نے حصہ لینا ہی چھوڑ دیا، وہ کسی قسم کی شرارت کرتے نہ، ہی انہیں بھوک لگتی۔ دانش اور فراست اپنے بچوں کی اس ذہنی کیفیت سے پریشان تھے۔

ایک دن کاوش اور زیست جب اسکول سے گھر نہ پہنچے اور اسکول کا فون بھی مسلسل مصروف ملا تو دانش سیدھا اسکول پہنچا، معلوم ہوا کہ بچے ایک گھنٹہ پہلے ہی گھر کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ دانش بھاگم بھاگ گھر پہنچا کہ شاید بچے رستہ بدل کر گھر آ گئے ہوں، فراست پریشان حال بیٹھی تھی۔ آہٹ سن کر وہ بے تابی سے اس کی جانب بڑھی لیکن اس کے پیچھے بچوں کو نہ پا کر اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اس نے لڑکھڑا کر دیوار کا سہارا لیا۔

دانش کے لیے تسلی کے تمام الفاظ اپنی معنویت کھو چکے تھے۔ فراست کو تسلی دینا اسے ڈھکوسلا لگ رہا تھا۔ وہ بچوں کے دوستوں کو فون کرنے کی غرض سے ٹیلی فون کے قریب آ گیا اس سے پہلے کہ وہ ریسیور اٹھاتا گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے بے دلی سے ریسیور اپنے کان سے لگا لیا، فراست بھی دانش کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی فون سنتے ہوئے اس کے چہرے کے تاثرات نے فراست کو بہت کچھ سمجھا دیا تھا۔ دانش نے فون پر کہی جا نے والی کچھ باتیں دہرائیں، اور ریسیور پٹک کر دروازے کی جانب دوڑا۔ ٹیکسی ڈرائیور کو جب دانش نے ایک اسپتال کا نام لے کر چلنے کو کہا تو فراست کا دل بیٹھ گیا۔

دونوں بچے ایمرجنسی وارڈ میں بے ہوش تھے۔

آپ کے بچوں کے بیگ سے یہ پر چہ ملا ہے۔ دانش کے استفسار پر ڈاکٹر نے اسے ایک کاغذ تھما دیا۔ بچوں نے لکھا تھا۔

وہ اپنے ماں باپ کی طرح شہادت کی انگلی اٹھائے اپنی باری کے منتظر نہیں رہنا چاہتے، چنانچہ اس تماشے کو ختم کر رہے ہیں۔

بچوں میں سانس تھی مگر آس مر چکی تھی۔ اور دانش کے لیے یہ ہی بات اذیت کا باعث تھی۔

وہ سمجھتا تھا بچے اس کا عکس ہیں، اس کا پرتو ہیں، مگر اس نے انہیں زندگی کی سچائیاں دکھا کر ان کا بچپنا چھین لیا تھا آگہی کے در ان پر کھول کر ان کی معصومیت ختم کر دی تھی۔ سچائی کی آگ نے ان بچوں کو سرد کر دیا تھا۔

حقائق کے ادراک نے ان بچوں کو گمراہ کر دیا تھا یا صحیح راہ دکھائی تھی۔ اپنے والدین کے ہر فعل کو اپنے دماغ کے کمپیوٹر میں فٹ کر کے وہ یہ ہی کر سکتے تھے۔ بچے بچ گئے تھے، مگر وہ ختم ہو رہا تھا۔ ماں کو بچوں کے پاس چھوڑ کر گھر چلا آیا۔ اپنے لکھے ہوئے تمام کاغذات کا پلندا ایک جگہ جمع کیا، موت کی راہ دکھانے والے ان کاغذات کو وہ ماچس کی آگ دکھا نا چاہتا تھا یکا یک اسے ایک خیال آیا۔

فراست اور بچے گھر میں داخل ہوئے تو حیران رہ گئے۔ اس گھر میں آج تک کوئی کھلونا نہیں آیا تھا مگر آج دانش کھلونوں میں گھرا بیٹھا تھا،

کاغذ کے جہاز، کاغذ کی گیندیں، کاغذ کی کشتیاں، کاغذ کے پھول، یہ سارے کھلونے گھر میں تیر رہے تھے اور دانش قہقہے لگا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد فراست، کاوش اور زیست کی ہنسی کی آوازیں بھی ان قہقہوں میں شامل ہو گئیں۔

Facebook Comments HS