اشرافیہ کا کمال ملک بدحال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے جمہوری نظام نے ملکی اداروں کی ترقی میں مثبت کردار ادا نہیں کیا، روس نے پاکستان کو دوستی کے تناظر میں سٹیل مل لگا کردی اور وہ بھی اس وقت جب آپ کے مہربان دوست کو ہماری معاشی مشکلات کا حل یو ایس ایڈ بتا کر جان نثاروں کی مدد کر رہے تھے، مگر ہم مشکور ہونے والے نہیں، اس طرح کچھ شخصیات نے ادارے بنا دیے اور ان کی ساکھ بھی بنا دی۔ ہماری اشرافیہ اور اعلیٰ ملکی نوکر شاہی نے ان اداروں میں بھی نقب لگائی۔

پاکستان ائیرلائین (پی آئی آئے ) جو پاکستان کا جھنڈا ساری دنیا میں لہراتا تھا ایک زمانہ میں ائر مارشل اصغر خان مرحوم اس کے بھی کمان دار تھے۔ ان کو معیار کا بہت خیال رہتا تھا، اس زمانہ میں ابھی تارکین وطن کی اتنی اہمیت نہ تھی، فضائی سفر بھی محدود تھا۔ مگر انہوں نے فضائی سفر کے لئے عملہ کی اعلیٰ ترین تربیت کا انتظام کیا اور لوگ پی آئی اے پر سفر کو محفوظ اور بہترین سمجھتے تھے۔ پھر ائر مارشل نور خان کو پی آئی اے کے معاملات دیکھنے کا مشن ملا، جناب نور خان نے بھی نیک نامی کمائی اور فضائی بیڑے میں اضافہ کیا۔

اتنے سالوں میں مارشل بھی لگا اور جمہوریت کا نام جاپنے والے سیاسی اشرافیہ کے لوگ بھی سرکار میں براجمان رہے اور ملکی اداروں کی زبوں حالی میں اضافہ ہی ہوا۔ اس وقت بھی سرکاری اداروں میں سے کسی ادارے پر آپ فخر نہیں کر سکتے اور عوام کے لئے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ سٹیل مل بند ہو چکی ہے، گزشتہ کئی سالوں سے اس کے ملازموں کو تن آسانی کی تنخواہ دی جا رہی ہے اور یہ کام سیاسی اشرافیہ اپنے مفادات کے تناظر میں کرتی رہی ہے۔

پھر یہ معاملہ اعلیٰ عدالتی حلقوں میں زیربحث رہا، مگر کوئی بھی حتمی فیصلہ نہ ہوسکا۔ ترقی کے ادھورے سفر کو جمہوریت کی نظر جو لگ گئی اور کچھ ایسا حال پاکستان کی فضائی کمپنی کے ساتھ ہوا۔ ایک زمانہ میں یہ کمپنی ایشیا کی پہلی ائر لائن تھی جو اپنے وقت کے جدید جہاز بوہنگ استعمال کرتی تھی، بوہنگ کمپنی امریکہ کے دفاعی معاملات میں اہم کردار ادا کرتی ہے، امریکہ نے بوہنگ جہاز دیے جو پاکستان سے یورپ، مشرقی وسطی، شمالی امریکہ اور جاپان تک پرواز کرتے تھے اور پی آئی اے نے خطہ میں دوسری فضائی کمپنیوں کو بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ہمارے قدردان دوست امریکہ نے پاکستان کو اکثر اپنے مفادات کے لئے استعمال بھی کیا۔ چین کے ساتھ دوستی کے سفر کے لئے براستہ پاکستان راستہ ہموار کیا گیا اور دوسری طرف چین کی جاسوسی کے لئے پی آئی اے کے جہاز استعمال کیے گئے اور اپنے اس فعل پر کبھی بھی شرمندگی کا اظہار بھی نہیں کیا۔ چین کی اعلیٰ ظرفی اس نے پاکستان کو موردالزام نہیں ٹھہرایا اور دوستی کا سفر ابھی تک تو خوش اسلوبی سے جاری ہے۔ چین کا اپنا نظام ہے اور جس پر اس کو فخر ہے اور چین نے دنیا کو باور کرایا کہ اچھا نظام محنت اور دیانت کے کارن ہی کامیاب و کامران ہوتا ہے اور کم وقت میں اتنی ترقی امریکہ کے لئے باعث حیرت اور باعث تشویش ہے۔ جب افغانستان میں روس کا غلبہ ہوا تو امریکہ کو خطرہ لگا کہ وہ دنیا میں اپنی حیثیت کھو سکتا ہے اور اس نے ایک ایسی جنگ کا آغاز کیا جو بھارتی اور اسرائیلی مفادات کے تناظر میں اہم تھی اس نے عربوں کو خوب استعمال کیا اور نتیجہ امریکہ پر اس کے اپنے ہی دوستوں نے حملہ بھی کیا اور الزام پاکستان پر لگا دیا۔

بات اداروں کی ہو رہی تھی ملک کا اہم ادارہ سٹیٹ بنک آف پاکستان ملک کے اندر دفاعی اور معاشی معاملات میں سرکار کی مشاورت کرتا تھا پھر امریکی برانڈ کا ادارہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں آئی ایم ایف کی شکل میں بنایا گیا اور جواز یہ تھا کہ غریب اور حقیر ملکوں کو ترقی کے تناظر میں امداد دی جائے اور ان پر مارکیٹ کا اپنا نظام بنایا جائے۔ پاکستان بھی آئی ایم ایف سے مستفید ہو رہا ہے مگر پاکستان آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی وجہ سے ترقی کے سفر میں زیادہ کامیاب نظر نہیں آ رہا۔

مگر ملکی نظام اور نوکر شاہی کا نظام اور اختیار ملکی مفادات کے لئے خطرہ نظر آ رہا ہے۔ اب سٹیٹ بنک کا گورنر بھی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق ان کی مرضی سے مقرر ہوتا ہے، اب سٹیٹ بنک ملکی مفادات کو نہیں دیکھتا بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ کے مفادات کی نگرانی کرتا ہے اور پاکستان کی سرکار ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور عمران خان کی بے بسی اس کی سوچ پر ایک سوال بھی ہے۔

ایک زمانہ میں پی آئی اے پاکستان کے لئے باعث فخر تھی، پاکستان کے تارکین وطن سب سے زیادہ پی آئی اے استعمال کرتے تھے پھر ملٹری کے دور میں پابندیوں کا آغاز ہوا، بظاہر تو پی آئی اے کو اور اچھا بنانے کا بتایا گیا اور ضابطہ مارشل لاء 52 کے زیر سایہ پی آئی اے اچھے اور برے لوگوں سے پاک صاف کرنے کا آغاز ہوا مگر نتیجہ کیا نکلا پی آئی اے کی بربادی شروع ہو گئی۔

ایک زمانہ میں پی آئی اے میں جماعت اسلامی کی متاثرہ یونین کا زور تھا پھر بھٹو صاحب کی مداخلت سے پیپلز پارٹی کی یونین بھی میدان میں آ گئی، یونین کے نظام نے ریلوے، سٹیل مل، نیشنل بنک اور نہ جانے کتنے اداروں کو برباد کیا اور پی آئی اے کی بربادی میں یونین کے لوگوں نے بہت کردار ادا کیا اور یہ یونین کا نظام عوامی مفادات کے لئے بنایا گیا تھا، خیر جو لوگ بھی پی آئی اے کو چلانے کے لئے مقرر کیے گئے وہ یونین کے سامنے بے بس ہی رہے پھر وہ سیاسی اشرافیہ جو آج کل قابل گرفت ہو رہی ہے اس کے نواز شریف اور آصف علی زرداری کے مفادات نے پی آئی اے مکمل طور پر مقروض ادارہ بنا دیا۔

کچھ سال پہلے عارف علی عباسی کو پی آئی اے کا اعلیٰ ترین افسر بنایا گیا، عارف علی عباسی ایک زمانہ میں پی آئی اے کی ملازمت بھی کرتے رہے تھے پھر کرکٹ کنٹرول بورڈ میں ان کی کارکردگی سامنے آئی اور کرکٹ کی دنیا میں عارف علی عباسی نے نام بنایا اور ٹیم کی پہچان ہوئی، عارف علی عباسی نے پی آئی اے کو درست کرنے کے لئے جدید جہازوں کو پی آئی اے میں شامل کرنے کے لئے خریدنے کا آغاز کیا۔ وہ یونین سے بہت ہی تنگ رہے مگر ان کی کوششوں کی وجہ سے نئے جہاز اور نئے روٹ پی آئی اے کی ترقی میں اہم کردار نظر آنے لگے۔

مگر سیاسی اشرافیہ ان کے اقدامات کو نظرانداز کرنے لگی تو انہوں نے خاموشی سے فراغت حاصل کرلی اور پھر میاں نواز شریف اور ان کے والد کے پسندیدہ نوجوان خاقان عباسی کو پی آئی اے کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ خاقان عباسی کے والد جنرل ضیاء کے پسندیدہ تھے، خاقان عباسی نے پی آئی اے پر غیر ملکی مسلط کر دیے اور پی آئی اے کی منزل مشکل کردی اور اپنی منزل آسان کرلی اور اپنی ائرلائن کو میدان میں لے آئے اور ائر پالیسی کے ذریعے پی آئی اے کو محدود کر دیا۔

ہماری سیاسی اشرافیہ ایسے ڈراموں کے ذریعہ اپنا روزگار بہتر بناتی رہی ہے، پاکستان کی اس وقت کی سرکار کو پی آئی اے کے قرضوں کی فکر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس ادارہ کو دوبارہ مضبوط بنایا جائے، سابقہ لوگوں نے کامیاب روٹوں کو بند کر دیا، امریکہ کے روٹ کو بند کرنا ایک سازش سی لگتی ہے، خیر اب کی بار دوبارہ سوچا گیا کہ پی آئی اے کو کون بہتر دیکھ سکتا ہے، اس زمانہ میں ائرفورس کے چیف کی حیثیت سے دو افراد بہت اہم تھے اور برابر کی قابلیت رکھتے تھے ائر مارشل مجاہد چیف بن گئے پھر سرکار نے ائرمارشل ارشد سے پوچھا کہ وہ ان کی مدد کریں اور پی آئی اے کو چلانے میں مدد کریں۔ انہوں نے ائر فورس میں رہتے ہوئے حامی بھر لی، پھر یونین اور کچھ لوگ اعلیٰ عدالت میں چلے گئے اور ائر مارشل کو کام سے روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ عدالت نے بہت وقت ضائع کیا مگر وہ ائر مارشل کے خلاف کچھ بھی نہ ملا، اب ائر مارشل ارشد ملک پی آئی اے کے سی ہی او ہیں

وبا کے زمانہ میں بھی پی آئی اے پرواز کرتی رہی ہے اور بہت کچھ تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے ان کی نیت نیک اور ان کا تجربہ کامیاب جا رہا ہے، ان شاء اللہ اس ادارہ کا نظام اور قسمت بدلنے جا رہی ہے، شرط ان کو آزمایا نہ جائے۔

کوئی بھی آزمائش مسئلہ ٔ کا حل نہیں بتاتی، مسائل کا حل محنت، توجہ اور یقین میں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے اگر سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی قاعدے، اصول اور قانون نظرانداز نہ کریں، اب وقت ہے اس خراب نظام میں کسی ایک ادارے کو درست کر کے مثبت فکر کو جلا بخشی جا سکتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments