ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی اپنے دفتر سے نجی مارکیٹنگ کی تشہیر: ’سوری صاحب تشہیر کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ملی‘


ایک طرف پاکستان کا جھنڈا اور پیچھے دیوار پر لگی محمد علی جناح کی تصویر، اور ساتھ کرسی پر براجمان ہیں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم علی سوری۔

یقیناً یہ کسی سرکاری دفتر کا کمرہ ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے اس منظر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ پاکستانی عوام سے کسی اہم موضوع پر بات کرنے لگے ہیں یا کوئی اہم بیان دینے والے ہیں۔

لیکن ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ انھوں نے جو کہا وہ پاکستانی عوام یا سیاست سے متعلقہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک نجی کمپنی کی تشہیر سے متعلق ہے۔

جی ہاں! قومی اسملبی کے سپیکر قاسم خان سوری نے سنیچر کے روز اپنے دفتر سے ایک ایسا بیان جاری کیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر وہ شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

اپنی اس ویڈیو میں دیے گئے بیان میں قاسم خان سوری نے مارکیٹنگ کی نجی کمپنی ’فئیر ڈیل‘ پرائیویٹ لمیٹڈ کو اسلام آباد اور متحدہ عرب امارات کے بعد لاہور میں اپنا نیا دفتر کھولنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

قاسم سوری

کیا سرکاری عہدے پر فائز شخص کے لیے نجی کمپنی کی تشہیر کرنا مناسب ہے؟

قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما ایاز صادق کہتے ہیں کہ اگر ڈپٹی سپیکر نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر کسی نجی کمپنی کی تشہیر یا تعریف کی ہے تو یہ غیر مناسب ہے۔

انھوں نے کہا ’حکومت کا کوئی دفتر سنبھالنے پر ہم پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ڈپٹی سپیکر کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر کا عہدہ ہوتا ہے۔‘

ایاز صادق نے مزید کہا ’اگر وہ(قاسم سوری) اس کمپنی کے دفتر جاتے یا جہاں وہ پروجیکٹ بن رہا ہے اور وہاں جا کر ایسی بات کرتے تو اس میں کچھ غلط نہیں کیونکہ ہمارے حلقوں میں اکثر لوگ ہمیں دکانوں، سکول اور ہسپتال کے افتتاح کے لیے بلاتے ہیں اور ہم جاتے رہتے ہیں۔ اگر ہم وہاں جا کر ان کی تعریف کریں تو یہ ایک مختلف چیز ہے کیونکہ ہمیں عوامی رابطے رکھنا ہوتے ہیں اور ووٹ لینا ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’لیکن اگر میں سپیکر، ڈپٹی سپیکر ہوں اور اپنے دفتر میں بیٹھ کر ایسی بات کرتا ہوں تو یہ مناسب نہیں کیونکہ حلقے میں جا کر یا کسی کے دفتر میں جا کر، جو آپ کے حلقے میں ہو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہں لیکن سرکاری دفتر سے ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل: ’اگر آپ اپنے کاروبار کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو قاسم سوری سے رابطہ کریں‘

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد صارفین میں سے کسی نے قاسم علی سوری کو ’سرکاری پراپڑٹی ڈیلر‘ کہا تو کسی نے یہ سوال کیا کہ کیا سرکاری عہدے پر ہونے اور پھر اپنے دفتر میں بیٹھ کر کسی نجی کمپنی کی ایسی تشہیر کی جا سکتی ہے۔

ٹویٹ

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر مہرین بھٹو نے لکھا: ’ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری قومی اسمبلی کے سپیکر ہیں یا کوئی سٹیٹ ایجنٹ؟

انھوں نے مزید لکھا: ’آخر پبلک آفس کو کیسے یہ کاروباری مقاصد کے لیے اور دوسروں کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟‘

پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرخت اللہ بابر نے لکھا: ’جب ادارے رئیل سٹیٹ کے کاروبار میں مصروف ہو جائیں تو پھر اداروں سے منسلک افراد کو نجی پراپرٹی ڈیلز میں مصروف ہونے پر الزام نہیں لگایا جا سکتا۔‘

صحافی مطیع اللہ جان نے قاسم سوری کی یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’سرکاری وسائل اور اختیار کا غلط اور ناجائز استعمال۔‘

ٹویٹ

علی آفتاب نے سوالیہ انداز میں ٹویٹ کیا کہ ’ریاستی عہدے داران کو برینڈ انڈورسمنٹ کی اجازت ہوتی؟‘

گوہر خان نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا: ’اگر آپ اپنے کاروبار کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو قاسم سوری سے رابطہ کریں۔ ان کا ایڈریس قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کا دفتر ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’خدا کا خوف کریں۔ ایک سرکاری دفتر سے کسی کسی نجی سٹیٹ ایجنسی کی حمایت۔‘

ٹویٹ

صفدر علی نے لکھا: ’سوری صاحب تشہیر کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ملی۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’ایسے لوگ جنھیں پارلیمان کے تقدس کا علم نہیں، انھیں اس ملک میں انسٹال کر دیا گیا ہے۔‘

منصور چوہان نامی صارف نے لکھا: ’پاکستان کوئی رئیل سٹیٹ نہیں، ان تمام لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو اپنے سرکاری عہدوں کو منافع کمانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘

فواد احمد نے اس کمپنی کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے لکھا: ’یہ ایک ریئل سٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی ہے جو علیم خان کی پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی مارکیٹنگ کرتی ہے۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp