جستجو
اردو زبان کا لفظ تعلیم عربی زبان کے لفظ علم سے ماخوذ ہے علم کے معنی کسی چیز کو جاننا ہے انگریزی زبان میں تعلیم کا متبادل لفظ ایجوکیشن ہے جو کے لاطینی زبان سے ماخوذ ہے اس کا مطلب رہنمائی کرنا یا پرورش کرنا ہے اسی طرح ایجوکیشن کا لغوی مطلب معلومات کو جمع کرنا، رہنمائی کرنا اور پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔ اصلاحی معنوں میں تعلیم اس معاشرتی عمل کا نام ہے جو نئی نسل کو تجربات، مہارتوں اعتقادات، رویوں اور معاشرتی مقاصد سے آراستہ کرتا ہے معروف مفکر اور مشہور زمانہ کتاب پیرا ڈائز لوسٹ کے مصنف جان ملٹن کے مطابق ”تعلیم وہ جوہر ہے جو انسان کو ہر کام کا اہل بنا دیتا ہے خواہ وہ کسی بھی نوعیت کا کیوں نہ ہو۔ یہ تعلیم ہی ہے جو انسان کی طبیعت“ میں گہرائی، سوجھ بوجھ اور مہارت پیدا کرتی ہے۔ جبکہ معروف انگریزی مضمون نگار برٹ رینڈ رسل کی رائے کے مطابق ”تعلیم زندگی کے مسائل کو حل کرنے کا ذریعہ ہے۔
تعلیم ایک مسلسل عمل جس کے ذریعے تجربے کی مسلسل تعمیر اور تنظیم نو ہوتی ہے۔ انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاتا ہے اس کی اخلاقی تربیت کر کے اور اسے ہنر مند بنا کر معاشرے کا مفید شہری بنایا جاتا ہے۔ تعلیمی عمل کے ذریعے معاشرے کے علم اور ثقافت کو اگلی نسلوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ موجودہ دور سائنسی ترقی اور ایجادات کا دور ہے ترقی یافتہ مغربی ممالک نے سائنس کے تمام شعبوں میں ترقی کی ہے۔ انہوں نے جدید صنعتوں اور کارخانوں کی مدد سے زرعی، صنعتی اور فوجی ضروریات کے لحاظ سے اپنے آپ کو نہ صرف خود کفیل بنا لیا ہے بلکہ اپنی مصنوعات کو برآمد کر کے قیمتی زر مبادلہ بھی کما رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ تعلیم کا کمال ہے کے وہ معاشی طور پر خوشحال ہو گئے ہیں
تعلیم معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تجربات سے یہ ثابت ہوتا ہے کے تعلیم یافتہ افراد بہتر شہری ثابت ہوتے ہیں تعلیم افراد میں مثبت معاشرتی رویے پیدا کرتی ہے جس سے وہ نہ صرف ملکی قوانین کا احترام کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کرتے ہیں اشتراک عمل سے معاشرے میں صحت مند رجحانات فروغ پاتے ہیں چھوٹے بڑوں کا ادب کرتے ہیں اور بڑے چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں۔
کسی بھی ملک کی قومی سیاست، وہاں کا سیاسی ڈھانچہ، سیاسی اداروں اور افراد کے سیاسی رویوں کو، تعلیم براہ راست متاثر کرتی ہے، گزشتہ چند دہائیوں میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کے تعلیم یافتہ ممالک کے سیاسی ڈھانچے ہمیشہ مستحکم رہے ہیں ان ممالک کے سیاسی نظام کم و بیش وہی رہے ہیں جو کے ان کے معرض وجود میں آتے وقت قائم ہوئے تھے۔ سیاسی عوامل کا ارتقاء اور ان میں بہتری ایک مسلسل عمل ہے۔ اس کے برعکس آزاد ہونے والے ترقی پذیر ممالک کی اکثریت گزشتہ نصف صدی سے سیاسی عدم استحکام کا شکار رہی ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، عراق، شام، یمن، اور انڈونیشیا اس کی چند مثالیں ہیں تعلیم یافتہ ممالک کے سیاسی اداروں کو استحکام حاصل ہوتا ہے خاص طور پر سیاسی جماعتیں ملکی ترقی میں مثبت اور موثر کردار ادا کرتی ہیں
کم شرح خواندگی والے ممالک میں کثیر جماعتی نظام رائج ہو جاتا ہے جو کے اکثر اوقات سیاسی عدم استحکام کو فروغ دیتا ہے۔ مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے کے تعلیم یافتہ افراد کا سیاسی رویہ مثبت اور تعمیری ہوتا ہے اور وہ ملکی قوانین پر بہتر انداز سے عمل کرتے ہیں۔ اگر تعلیم کا قوم کے نظریاتی پہلو پر مشاہدہ کیا جائے تو ہم یہ کہ سکتے ہیں تعلیم معاشرے کے افراد کو ان کے قومی ورثے اور سیاسی نظریات سے روشناس کراتی ہے۔ تعلیم یافتہ افراد اپنے ملک کے قومی مقاصد سے آگاہ ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان میں نہ صرف قومی تشخص اجاگر ہوتا ہے بلکہ مختلف ثقافتی اور لسانی گروہ اپنے علاقائی مفادات کو یکسر فراموش کر کے قومی وحدت کو فروغ دیتے ہیں اس طرح قومی نظریے کو تقویت ملتی ہے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو تحریک پاکستان کے ایام میں علی گڑھ یونیورسٹی، اسلامیہ کالج لاہور اور اسلامیہ کالج پشاور کے تعلیم یافتہ طلباء نے دو قومی نظریے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تعلیم نہ صرف اجتماعی بلکہ انفرادی طور پر بھی اشخاص کی سیرت و کردار کی تعمیر کرتی ہے۔
علامہ اقبال کے مطابق
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر شخص ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
تعلیم اور شعور قومی وحدت و یکجہتی کو ثقافت، زبان، مذہب اور روایات کی بنیاد پر استحکام فراہم کرتے ہیں اس سے قومی اتحاد کو فروغ ملتا ہے یہ عناصر کسی بھی قوم کو اس کی انفرادیت سے روشناس کراتے ہیں اور اس بات کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں کے بحیثیت قوم نظریہ کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ قومی نظریہ کی بقاء سے ملکی سلامتی ہے اور یہ احساس تعلیم ہی افراد میں اجتماعی اور انفرادی طور پر بیدار کرتی ہے۔ امریکہ قومی وحدت کی ایک حیران کن مثال ہے جس کی موجودہ آبادی اس کے ابتدائی باشندوں یعنی ریڈ انڈین کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ امریکی آبادی زیادہ تر برطانیہ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ اور دیگر ایفرو و ایشیائی ممالک کے تارکین وطن پر مشتمل ہے۔ ہر سال لاکھوں تارکین وطن امریکہ میں آباد ہوتے ہیں ان کے مذاہب، ان کی زبانیں، ان کی روایات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں مگر باوجود اس کے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ معاشرتی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں قومی وحدت کے مضبوط رشتے سے منسلک ہو جاتے ہیں۔

