پاکستانی مرد: حریم شاہ کی نظر میں
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا عورت انسان ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ عورت تخلیق نسل کا منبع ہے اور کائنات کے اندر انسانی چہکار اسی کے وجود کی بدولت ہے مگر پھر ایسا کیوں ہے کہ اسے آدھی انسان کا درجہ دیا جاتا ہے اور اس کے پیدا ہوتے ہی اسے باقاعدہ طور پر عورت ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے اور اسے زندگی گزارنے کا ایک طے شدہ لائحہ عمل تھما دیا جاتا ہے۔ قدم قدم پر فیملی کے داروغوں کے علاوہ معاشرتی داروغہ بھی اس کی ہر حرکت پر نظریں گاڑے بیٹھے رہتے ہیں اور تھوڑا سا بھی ادھر ادھر ہونے پر الزامات کے نام پر اس کے دامن میں ہزاروں چھید کر دیے جاتے ہیں۔
جس عورت پر کوئی الزام لگ جاتا ہے تو پھر وہ عزت کے ساتھ معاشرے میں جی نہیں سکتی یا تو غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے یا معاشرہ اسے طوائف یا رنڈی کہنا شروع کر دیتا ہے۔ ہمارا معاشرہ کتنا بدبودار ہے اس کا اندازہ ہم قندیل بلوچ کے قتل سے لگا سکتے ہیں، اسے اپنے غریب والدین کی دوائی کے پیسے افورڈ کرنے کے لئے کیا کیا اللے تللے کرنے پڑے، وہ اپنے والدین کے علاوہ اپنے نشئی بھائی کا بھی سہارا تھی مگر اسی ظالم بھائی نے غیرت کے نام پر اسے مار ڈالا، وہ بھائی جو کاروبار کے نام پر اپنی بہن سے پیسے بٹور رہا تھا یک دم آخر اسے کیا ہو گیا؟
جب قندیل بلوچ جیسی عورتوں کو معاشرہ باعزت روزگار کمانے کی اجازت نہیں دے گا تو پھر وہ اپنے والدین اور نکمے بھائیوں کی دیکھ بھال کے لئے کیا کریں گی؟ قندیل پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے جسم کو بیچ کر گزر بسر کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی تھی؟ مگر معاشرتی داروغہ پس منظر کو دیکھنے کی بجائے عورت کو ہی لتاڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ بے بسی تو دیکھئے ذرا کہ کوئی اتنا مجبور ہو جائے کہ اسے اپنے سروائیول کے لیے جسم بیچنا پڑ جائے؟
ہمارے معاشرتی رویے عورت کو بے بس اور لاچار بنا دیتے ہیں، بیٹے ننگے سر بیٹھ کر کھانا کھاتے رہیں گے مگر جیسے ہی بیٹی کے سر سے دوپٹہ سرکا تو ماں باپ فوراً گھورنا شروع کر دیتے ہیں، منافقت دیکھیے اذان کی آواز پر بیٹے کو سر ڈھانپنے کی ضرورت نہیں بلکہ بیٹی کو سر ڈھانپنا پڑتا ہے، بیٹی کو گھر سے نکلنے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے جب کہ بیٹا منہ اٹھا کر جہاں مرضی آوارہ گردی کرتا پھرے کوئی فرق نہیں پڑتا، بیٹی کو اپنی سہیلیوں کے ساتھ گپ شپ کرنے میں تھوڑی سی بھی دیر ہو جائے تو ماں باپ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں جبکہ دوسری طرف بیٹا چاہے رات کے ایک بجے گھر آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
گزشتہ دنوں حریم شاہ کا ایک کلپ نظر سے گزرا جس میں وہ کہہ رہی تھی کہ پاکستانی مردوں کو بیوقوف بنانا منٹوں کا کام ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیسے؟ حریم نے جواب دیا کہ مردوں کی حد سے زیادہ خواہش پرستی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے، اس کا کہنا تھا کہ اپنی گھٹیا خواہش کو پورا کرنے کے لیے یہ جانوروں، لڑکوں، بیواؤں اور کھسروں تک کو نہیں چھوڑتے اور اپنے گھر سے باہر اخلاقی مبلغ بن جاتے ہیں۔ یہ بھاشن باز عورت کو ملازمت کی اجازت دینے کی بجائے ایک عورت کو طوائف بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
میرے خیال میں تو حریم نے ہمارے بدبودار معاشرے کی بالکل صحیح عکاسی کی ہے، بیٹیوں کو منافقانہ رویوں کی بھینٹ چڑھا کر ان کی مرضی جانے بغیر ایک نہ چاہے رشتے میں باندھ دیا جاتا ہے۔ والدین بیٹوں کو یونیورسٹی کی تعلیم بڑے فخر سے دلواتے ہیں جبکہ بیٹیوں کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کھاتے میں ڈال کر جان چھڑائی کی جاتی ہے، بیٹیوں کو اپنے ماں باپ کے اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے یقین مانیے بیٹیاں اپنے ماں باپ کے پیسوں کو بے دردی سے نہیں لٹاتیں اگر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تو وہ کچھ بن کر دکھاتی ہیں اور معاشرے پر ثابت کر دیتی ہیں کہ وہ مردوں سے کم نہیں ہیں۔
اعتماد کی دولت سے مالا مال بیٹیاں ہزاروں مشکلات کا مقابلہ کر کے خود کو اہل ثابت کرتیں ہیں۔ ہمارے اس گھٹن زدہ سماج میں ہزاروں بچیوں کو مردانہ برتری کے ہزاروں روپ دیکھنے کو ملتے ہیں اور کئی طرح سے ان کا استحصال ہوتا ہے مثلاً اسائنمنٹ کے نمبر لگوانے سے لے کر یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے تک ہزاروں شہوانی و شیطانی نظروں سے بچ بچا کر اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرنے تک اسے جن پریشانیوں سے گزرنا پڑتا ہے ان کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے، معاشرتی درندوں سے بچ بچانے میں اگر اسے کوئی ٹھیس پہنچ جائے یا کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو وہ ہمیشہ کے لئے معاشرتی نظروں میں گندی بن جاتی ہے جبکہ زیادتی کرنے والے مرد کی مردانہ حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔


