رنگوں میں الجھتا ہوا اسلام اور باپا جی کی جے!


اسلام دنیا کے ان مذاہب میں شمار ہوتا ہے جو ظاہری رنگ کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ زیادہ زور تقویٰ اور خدا خوفی پر دیتے ہیں۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں رنگ کی اہمیت تب ہی ختم کر دی گئی جب یہ فرمایا گیا کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے اس کے جو اللہ سے زیادہ ڈرتا ہو۔ مگر یاد رہے کہ یہ بات اصل اسلامی تعلیمات کی ہے، جن میں انسانی رنگ و نسل کو موضوع ہی نہیں سمجھا گیا بلکہ اصل موضوع تقویٰ کا معیار رکھا گیا۔

رنگوں کی اپنی پہچان ہوتی ہے، سفید، سبز، نیلا، نارنجی، سرخ، کالا اور کئی دوسرے، رنگ مختلف جذبوں کے عکاس بھی ہوتے ہیں سادہ کپڑے کو ایک خاص رنگ میں رنگ دینے سے اس کپڑے کی بنیادی خاصیت تو تبدیل نہیں ہوتی، ہاں اس کی ظاہری رنگت ضرور بدل جاتی ہے۔ دنیا میں مختلف رنگوں کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں (میری مراد ظاہری رنگ سے ہے ) ۔ کوئی کالا ہے، کوئی سانولا ہے، کسی کا رنگ سفید ہے، کوئی آتشی گلابی رنگت کا حامل ہے اور کوئی بھورا ہے، لیکن اصل رنگ تو انسان کے اندر کا رنگ ہوتا ہے جس کو پیدا کرنے والا سب سے بہتر جانتا ہے۔

اب آتے ہیں مولویانہ اسلام پر جس میں نہ صرف بے شمار رنگ ہیں بلکہ ان کی عجیب و غریب فضیلتیں بھی گنوائی گئی ہیں۔ جبے اور عمامے سے ہی اگر شروع کر لیا جائے تو کئی رنگوں کے عمامے ( سفید، کالا، بھورا، نیلا اور آج کا سب سے مشہور رنگ ’سبز‘ ) مارکیٹ میں مختلف فرقوں کی نشاندہی کر رہے ہیں اور ہر رنگ کی منفرد کہانی ہے۔ کوئی سفید کو اپنی پہچان بنائے ہوئے ہے تو کوئی کالے کو۔ کسی کو بھور جبہ عمامہ پسند ہے تو کوئی سبز رنگ کو نجات کا باعث سمجھتا ہے۔ لیکن جیسا پہلے عرض کیا گیا کہ کپڑوں کو رنگ لینے سے جیسے کپڑے کی خاصیت نہیں بلکہ ظاہری وضع تبدیل ہوتی ہے اسی طرح عماموں کو رنگ دینے سے وہ عمامہ یا جبہ بذات خود کسی کو متقی و پرہیز گار نہیں بناتا، بلکہ محنت تو انسان کو خود ہی پڑتی ہے اپنے آپ کو بدلنے کے لیے۔

کہانیاں تو سب کی ہی نرالی ہیں لیکن سبز رنگ کے عمامے والوں کی کہانیاں تو بہت ہی عجیب و غریب ہیں۔ سبز تکیہ، سبز پگڑی، سبز مسواک، سبز پنسل اور سبز تسبیح سے مذین ہمارے اسلامی بھائی ظاہری طور پر بڑے ہی بھلے دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی فطرت کیسی ہے اور ان میں خدا خوفی کتنی ہے اصل سوال تو یہ ہے۔ کیا ایک فرقے والے (اور ایک خاص رنگ والے ) بتا سکتے ہیں کہ دوسرے رنگ والے اور فرقے والے کتنے گنہگار ہیں؟ وہ یہ تو نہیں بتا سکتے لیکن ہر فرقہ دوسرے فرقے کو کافر ضرور قرار دے سکتا ہے اور حسب توفیق دیتا بھی ہے۔

بہرحال بات ہو رہی تھی رنگوں کی تو کیا اسلام سے اس شخص کا واسطہ نہیں جو کالا عمامہ پہنتا ہو یا سفید، یا سرے سے سر پر عمامہ رکھتا ہی نہ ہو۔ کیا اسلام نے لازم کر دیا ہے کوئی مخصوص رنگ اپنے لیے؟ اگر اسلام میں ایسا ہونا ہوتا تو چودہ سو سال پہلے ہی ہو جاتا۔ ساری بات اس دکانداری کی ہے جو ہر فرقہ چلا رہا ہے، سبز، سفید، بھورے اور کالے رنگ کی دکانیں ہیں جو چل رہی ہیں، اصل اسلام کا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔ اگر کچھ حضرات نے کالے رنگ کو باعث نجات سمجھتے ہوئے کالا سامان رکھ لیا اور صرف اسی پر مخصوص کر دیا کہ کالا جبہ عمامہ ٹھیک ہے باقی سب غلط ہے تو کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے؟ اسی طرح کچھ سفید رنگ کے سامان کے ساتھ دکان کھول کر بیٹھ گئے۔

لیکن سب سے اہم تو ہمارے اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں ہیں جنہوں نے کاپیوں کے کور سے لے کر پانی پینے کے گلاسوں تک سبز رنگ کو استعمال کیا اور خوب دکانداری کی۔ مدنی منوں کے سکول کی کتابیں، بستے اور لکھنے والی پنسلیں تک سبز بنتی ہیں تا کہ کمائی کا کوئی ذریعہ جانے نہ پائے۔ اور بات تو رنگ سے بھی آگے نکل گئی کہ سبز رنگ کے پھلوں میں اگر کیڑے نکل آئیں تو ان کو مارا نہ جائے بلکہ قبلہ رو کر کر چھوڑ دیا جائے۔

کمال ہے بھائی ویسے۔ صرف اسی پر بس نہیں ہوا، علوم کو بھی اسلام اور کفار کے ساتھ منسوب کر دیا جاتا ہے، مدنی سکولوں اور اسلامی بھائیوں کی طرف سے، کیونکہ اعلی حضرت کا حکم ہی یہ ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کو بیالوجی پڑھنے سے منع کر دیا جاتا ہے کیونکہ ان میں انسانی جسم کے بارے میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔ فزکس کو اچھوت سمجھا جاتا ہے اور کیمسٹری تو ویسے ہی بقول اعلیٰ حضرت کے کفار کی لکھی ہوئی ہے تو ہوئی نہ حرام! لیکن ٹھہریئے!

کفار کی بنائی ہوئی سوشل میڈیائی اپیس ہم سب مدنی مسلمان (بشمول اعلیٰ حضرت) استعمال کرتے ہیں، فیس بک (کافر مارک ذکربرگ کی بنائی ہوئی) پے استخارے کر سکتے ہیں، لوگوں کی شادیوں کے لیے پیسے لے کر دم کر سکتے ہیں، انسٹاگرام (کیون سسٹروم، اللہ پوچھے اس کافر سے ) پے حنائی داڑھی کی سلفیاں اپ لوڈ کر سکتے ہیں، (حرام) ٹیلی ویژن پر 24 گھنٹے نشریات چلا سکتے ہیں، کافر (بقول اعلیٰ حضرت) سٹیوچین، چیڈ میریڈیتھ ہرلے اور جاوید کریم (اب پتہ نہیں یہ کافر ہے کہ مسلمان، کوئی اسلامی بھائی تصحیح فرما دیں ) کے یوٹیوب چینل پر اپنی حرکات و سکنات کی لائیو نشریات دکھا سکتے ہیں۔

کفار کے تیار کردہ (کافر فزکس کے اصولوں پر تیار شدہ) جہازوں میں اپنے سبز رنگ کے مدنی بیگز کے ساتھ ورلڈ ٹور پر جا سکتے ہیں لیکن وطن عزیز کے طلباء و طالبات خبردار! آپ بائیو، کیمسٹری اور فزکس نہیں پڑھ سکتے کیونکہ و کفار کے علوم و فنون ہیں۔ ایک بات سمجھ نہیں آئی ’اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں، کیونکہ اسلامی بھائی تو ماریں گے بھی سبز لاٹھیوں سے۔‘ اگر اعلیٰ حضرت (االلہ ان کو صحت کاملہ عطا فرمائے ) کسی دن طبیعت کی خرابی، بلند فشار خون یا ذیابیطس کے باعث (خدانخواستہ) کسی ہسپتال لے جائے گئے تو ان کو اپنے اسلامی نوکروں کو منع کر دینا چاہیے کہ وہ وہاں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ فزکس کے اصولوں پر بنائی ہوئی مشینوں، کیمسٹری کے علم سے اخذ شدہ دوائیوں اور بائیولوجی جیسے حرام (اور فحاشی سے بھرپور) علم سے پڑھ کر بنے ہوئے ڈاکٹروں سے وہ کیسے علاج کروا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS