لڑکیاں خاموش رہنا اور سب سہنا کیسے سیکھتی ہیں


ایک مکمل اور کامیاب عورت وہ ہوتی ہے جو صبر و برداشت سے سب کچھ سہ لے اپنی زبان پہ حرف شکایت نہ لائے۔ جھوٹی عزت بچاتے بچاتے خود کو وار دے۔ ایک مشرقی معاشرے میں عورت کی کامیابی اور تکمیل کی کسوٹی یہی ہے۔ گھر میں بیٹی کی تربیت شروع سے یہی ہوتی ہے۔ بھاگنا نہیں، اونچی آواز سے نہیں بولنا، چاہے کتنی کی چھوٹی ہو ٹانگیں کھول کے نہیں بیٹھنا کیونکہ آپ لڑکی ہو۔ بھائی نے مار دیا تو رونا نہیں ہے اونچی آواز نہیں نکالنی کیونکہ کوئی بات نہیں بھائی ہے۔ کھلونا چھین لے، توڑ دے احتجاج نہیں کرنا۔ مطلب شروع سے ہی گھٹی میں یہ ڈالا جاتا ہے کہ اپنے حق کو پہلے تو پہچاننا نہیں دوسرا کسی بھی حق تلفی کی صورت میں نہ احتجاج کرنا ہے نہ حق حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

بہت سی لڑکیاں اس تجربے سے گزری ہیں کہ اگر انہیں کوئی لڑکا گلی میں سڑک پہ یا سکول میں تنگ کرے تو وہ گھر آ کے کبھی بات نہیں کرتیں وجہ صرف یہی ہے کہ کہیں ان کے باہر جانے پہ پابندی نہ لگ جائے، سکول جانے سے منع نہ کر دیا جائے وہ آسانی سے ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں کیونکہ ہمارے سماج میں وکٹم بلیمنگ عام ہے۔ کوئی یہ سدھار پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرے گا کہ یہ جو بد تہذیب مرد ہیں انہیں ٹوکا جائے ان کی سماج میں عزت کم کی جائے بلکہ اس بچی کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جائے کا۔ اس میں احساس شرمندگی پیدا کیا جائے گا کہ تم غلطی پہ ہو۔ اور جو یہ سب کمینگی کر رہا ہو گا نہ اس کی عزت کم ہوتی ہے نہ وہ ملزم ٹھہرایا جاتا ہے۔ نہ اسے ذہنی اذیت ہوتی ہے۔ یہ سب ذلت تکلیف، ذہنی اذیت اس عورت کے حصے میں آتی ہے جو اس سب کو جھیل رہی ہوتی ہے۔

بات اتنی نہیں ہے کہ ایسا وہیں ہوتا ہو جہاں عورت ونریبل ہے جہاں وہ طاقت میں ہے وہاں بھی اسے اس معاشرے کے مردوں کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو اپنی گھٹیا سوچ کو باتوں میں، مذاق کی صورت یا فرینکنس کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں خواتین سیاستدانوں کو مثال کے طور پہ دیکھ لیں وہ بے نظیر ہوں، مریم نواز ہوں، فردوس عاشق اعوان ہوں، کشمالہ طارق ہوں یا شیری رحمان جس طرح کی باڈی شیمنگ، طنزیہ باتیں، کردار کشی اور عامیانہ گفتگو ان سے متعلق کی جاتی ہے کسی مرد سیاستدان کے بارے میں ویسی باتیں نہیں کی جاتیں۔

کہیں اچھے اسٹیبلشڈ سسٹم میں دیکھ لیں مرد کولیگز سے اپنی برابری پہ عورت برداشت نہیں ہوتی وہ کسی نہ کسی بہانے سے اسے ذہنی ٹارچر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی نہیں لفظی ہراسانی کو مذاق کہنا ایک عام رواج ہے اور معاشرہ اسے برا نہیں سمجھتا کیونکہ جو عامیانہ گفتگو وہ اس خاتون کے بارے میں کر رہے ہیں یا جو مذاق کے نام پہ اپنی کمینگی کا اظہار کر رہے ہیں وہ اس بدبودار سماج کے لیے قابل قبول ہے کیونکہ اس کی سائیکی بن چکی ہے کہ عورت ہی ظلم کا شکار بنے اور وہی اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرے۔ وہ کمینی مسکراہٹ جو اس انسان کے چہرے پہ ہوتی ہے جو کسی خاتون کو ہراساں کرتا ہے وہ وکٹم کے چہرے پہ نظر نہیں آئے گی اس کے چہرے پہ بے چارگی، تکلیف اور شرمندگی ہو گی۔ جبکہ ہونا الٹ چاہیے۔ مرد کو اتنا شیر اس سماج کے رویے نے بنایا ہے کہ وہ غلط کر کے بھی مطمئن رہ سکتا ہے۔

وہ عورت جو اس ہراسانی کے خلاف بات کرتی ہے اس پہ احتجاج کرتی ہے اس سے اس سماج کی بدبودار سوچ پہ چوٹ پڑتی ہے اسے ہر طرح سے دباو میں لایا جاتا ہے کہ وہ خاموش رہے۔ اگر وہ پھر بھی خاموش نہیں رہتی تو پھر ایک لمبی فہرست ہے کہ وہ حیا باختہ ہے، لبرل ہے، فیمینسٹ ہے، یہودی ایجنٹ ہے، کہ ان خوبصورت مشرقی اقدار کی پاسداری نہیں کر رہی جو یہ بتاتی ہیں کہ مرد ایک کھلا بھیڑیا ہے اور اسے حق حاصل ہے کہ وہ عورتوں کا استحصال کرے۔

کئی عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں جو صرف جسمانی نہیں ذہنی بھی ہوتا ہے۔ وہ جو اسے سہتے سہتے مر جاتی ہیں وہ تو سامنے آجاتی ہیں لیکن وہ جو زندہ لاشیں ہوتی ہیں وہ کسی کو نظر نہیں آتیں۔ جو بڑے فخر سے کہہ رہی ہوتی ہیں بہت اچھی زندگی گزاری ہے شکر ہے ساری زندگی خاوند اور بچوں کی خدمت کی ہے۔ اس خدمت میں آپ خود کہاں گئیں، جنہیں یاد تک نہیں ہوتا کہ ان کا پسندیدہ رنگ کون سا تھا، انہیں کھانے میں کیا اچھا لگتا ہے، پوچھ لیا جائے کون سی جگہ پسندیدہ ہے تو خالی خالی نگاہوں سے گھورنے لگتی ہیں۔ یہ ایک مکمل اور کامیاب عورت ہے جو خود انسان نہیں رہتی روبوٹ بن جاتی ہے۔

سماج کی یہ سوچ اور عملی رویہ کہ ظلم کا شکار ہونے والا ہی اس جرم کا ذمہ دار ہے اس سماج کی جڑیں کھوکھلی کر چکا ہے۔ یہ ایک انتہائی غیر محفوظ معاشرہ ہے جہاں مجرم کو ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے اور وکٹم کے لیے توجیہات ہیں کہ وہ ہی جرم کروانے کا سبب بنا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments