آخر سیکولرازم ہے کیا؟
”کیا کہا آپ نے؟ آپ سیکولر ہیں؟ خدا کی پناہ، یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کو پتہ بھی ہے کہ سیکولر کیا ہوتا ہے؟ سیکولر کا مطلب بد مذہب، لادین اور ملحد ہوتا ہے۔ آپ نام نہاد لبرل دانشور بننے کے چکر میں کیوں اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں؟ کیا آپ کو موت کا خوف نہیں ہے؟“ وغیرہ وغیرہ۔ یہ اور اس سے ملتی جلتی آراء روایت پسند، قدامت پرست معاشروں میں عام ہیں۔ کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ سیکولر کیا ہوتا ہے۔ سیکولر ہونے کا مطلب ہرگز بد مذہب، لادین یا ملحد ہونا نہیں ہے۔ سیکولر کا مطلب غیرجانبدار ہونا ہے۔ سیکولر بالعموم شخصی اور بالخصوص ایک سیاسی و سماجی اصطلاح ہے۔
سیکولر ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست یا سماج کو بحیثیت مجموعی، مذہبی طور پر غیرجانبدار رہنا ہو گا۔ سماجی ضابطے اور ریاستی قوانین کسی بھی مذہب کی حمایت یا مخالفت نا کرتے ہوں۔ جہاں مذہب ایک ذاتی معاملہ ہو اور اسے موضوع بحث نا بنایا جائے اور جہاں کسی کا کوئی عبادت کرنا یا نا کرنا اس کی ذاتی صوابدید ہو۔ ایسا بالکل ممکن ہے کہ کوئی شخص، خان عبدالغفار خان یا مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح، ذاتی طور پر چاہے جتنا بھی مذہبی ہو لیکن سیاسی و سماجی طور پر وہ سیکولر ہو۔ مثلاً ذاتی طور پر آپ حجاب کے حامی ہوں لیکن ریاستی یا سماجی سطح پر اس کے نفاذ کے مخالف ہوں۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ہم میں سے زیادہ تر لوگ پہلے ہی سیکولر ہیں لیکن وہ اس سے واقف نہیں ہیں۔ اگر کسی کو مذہبی قوانین کے نفاذ والے ملک اور سیکولر قوانین والے ملک میں جانے کی آزادی دی جائے تو زیادہ تر لوگ سیکولر ممالک میں ہی جانا چاہیں گے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال نے زیادہ تر یورپی شہریوں کو بھی پریشان رکھا۔ جب انہوں نے مشرق وسطٰی میں خانہ جنگی کے دوران مہاجرین کا سیلاب یورپ کی طرف امڈتے دیکھا تو وہ حیران تھے کہ یہ لوگ اپنے مذہبی مقامات کے حامل، برادر عرب ملک کی طرف ہجرت کیوں نہیں کرتے؟
یقیناً ہم میں سے کسی کو بھی بیماری میں ڈاکٹر سے مدد لیتے وقت اس کا مذہب یا عقیدہ پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑتی یا موبائل فون استعمال کرتے ہوئے ہم شاید ہی کبھی متردد ہوئے ہوں کہ یہ کس مذہب کے ماننے والوں نے بنایا ہوگا۔ زیادہ تر ایجادات بھی سیکولرازم ہی کی مرہون منت ہیں کیونکہ ان کے مؤجدین نے شاید ہی کبھی کسی مخصوص مذہب کو ذہن میں رکھ کے کوئی ایجاد کی ہو گی۔
تحقیق کی اصطلاح میں اسے کرسی کے نیچے موجود سانپ سے آگاہ کرنا کہتے ہیں۔ کرسی پہ بیٹھا شخص اس وقت تک پرسکون بیٹھا رہے گا جب تک کہ اسے اس کی کرسی کے نیچے سانپ کی موجودگی سے آگاہ نا کر دیا جائے۔ مسئلہ تب ہوتا ہے جب کسی کو اس کے سیکولر ہونے سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ پسماندہ معاشرے ابھی انتقال شعور کے دور سے گزر رہے ہیں۔ مادی طور پر وہ سیکولرازم کو اپنا چکے ہیں مگر ذہنی طور پر ابھی اپنے قدیم خیالات کے ساتھ جڑے رہنا چاہتے ہیں اور کسی بھی جدید سوچ کو اپنانے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ معاشرے روشن خیالی، جدیدیت، انقلاب اور نشاۃ ثانیہ وغیرہ سے نہیں گزرے۔
یورپی نوآبادیاتی دور نے ان پر جدید سائنس اور اس کی ایجادات کے دروازے تو کھول دیے ہیں مگر ان کے ذہن ابھی محکومیت سے آزاد نہیں ہوئے۔ مثلاً برصغیر پاک و ہند کے لوگ نسل در نسل بادشاہتوں کے زیرسایہ رہے ہیں اور اس کے، بلا توقف، بعد یورپی حکمرانوں کے زیر اثر آ گئے جس کے بعد موروثی جمہوریت ان کا مقدر ٹھہری چنانچہ یہ معاشرے جمہوریت، اور نتیجتاً سیکولرازم، کے لوازمات سے ہنوز محروم ہیں۔
منطق کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال نے جہاں ایک طرف القاء اور مذہبی قطعیت کی مخالفت کی وہیں دوسری طرف سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانوں کے دنیا کو سمجھنے کے طریقہ ہائے کار میں انقلاب برپا کر دیا۔ شاید یہیں سے عقیدے اور جدیدیت کی راہیں جدا ہوئیں کیونکہ عقیدہ ہر شخص کا ذاتی ہو سکتا تھا مگر سائنس کسی کی بھی ذاتی نہیں ہو سکتی۔ اس نئی دریافت کو قبول کرنا خاصا مشکل ثابت ہوا کیونکہ اگر عقل کے استعمال کو درست مان لیا جاتا تو لامحالہ طور پر کئی روایتی توہمات کا خاتمہ ہو جاتا اور اس طرح سے ایک سلسلہ چل نکلتا۔ چنانچہ نوع انسانی دو متحارب گروہوں میں بٹ گئی جن میں ایک روشن خیال اور دوسرے قدامت پسند کہلائے۔
روشن خیالی، سیکولرائزیشن کی طرف ایک سنگ میل کے طور پر ابھری۔ انسانی ذہن پر تصورات کا تسلط ٹوٹنے لگا۔ سائنس سوچ کے پرانے زاویے تبدیل کرنے لگی اور، بتدریج، دنیا کو سمجھنے کا ایک غالب طریقہ بنتی چلی گئی۔ اس پیش رفت کے لیے زمین سائنسدانوں اور فلسفیوں نے اپنے خون سے سینچی۔ مقبول شعور پر سائنس کا اثر اس کے ارتقاء کے مرکزی موضوعات میں سے ایک بن گیا۔ سائنس نے صدیوں سے یرغمال انسانی شعور کو آزادی دی اور انسان دنیاوی معاملات میں اپنے کردار سے روشناس ہوا، مثلاً انسانوں کو یہ معلوم پڑا کہ سیلاب یا جنگلاتی آگ گناہوں کی سزا نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی مرہون ہیں۔
روشن خیالی صنعت کاری کی بھی وجہ بنی جس نے سیکولریٹی کو مزید پروان چڑھایا۔ اس نے دانشورانہ دائرے کے بجائے سماجی ماحول میں سیکولرائزیشن کو نمایاں کیا۔ صنعتی کاری کے نتیجے میں دیہی سے شہری/ صنعتی ماحول میں آبادی کی آمد ہوتی ہے۔ یہ دیہی شہری تبادلہ لوگوں کو نہ صرف کمائی کے نئے راستوں، محنت کے نئے اصولوں اور کام کی نئی اخلاقیات بلکہ ایک نئی انفرادیت اور نئی شناخت بھی ودیعت کرتا ہے۔ انسانوں کے بڑے گروہوں کے آپس میں رابطوں سے انسانی تیقن میں وسعت آتی ہے اور نئے خیالات راہ پاتے ہیں۔
دیہات میں بطور کسان وہ مکمل طور پر قدرتی مظاہر پر منحصر تھے۔ فصل کے لیے پورے موسم کی سخت محنت کے بعد بھی کسان کو متوقع پیداوار کا یقین نہیں تھا۔ انہیں دیوتاؤں سے دعا کرنا پڑتی کہ وہ موسم کو سازگار رکھیں اور ان کی محنت کا مناسب معاوضہ یقینی رہے۔ شہری مراکز میں آتے ہوئے اور ملوں میں روزگار حاصل کرتے ہوئے، ان کی قدرت پرستی، حقیقت پسندانہ اقتصادیات میں بدل جاتی ہے۔ اب انہیں اپنی اجرت حاصل کرنے کے لیے خدا کی مداخلت کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔
ایک اور پہلو کے طور پر، حیاتیات، انسانیت کو دیکھنے کے یکسر نئے طریقے کی بنیاد رکھتی ہے اور یہ اعلان کرتی ہے کہ نسل انسانی یک دم تخلیق ہونے کے بجائے جسمانی اور تاریخی عوامل کی پیداوار ہے اور بعینہٖ باقی قوانین کے تابع ہے۔ جو لوگ انسانوں کی ارتقائی سوچ کے نمونوں کی وضاحت کرتے ہیں وہ اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ انسانی سوچ کا پیمانہ ارتقائی ترقی ہے یعنی کہ قدیم انسان اتنا باشعور اور عقلمند نہیں تھا جتنا حالیہ انسان ہے اور یہ بھی کہ کوئی بھی انسان پیدا ہوتے ہی قدرتی طور پر اتنا عقل مند نہیں ہوتا جتنا وہ دہائیوں کے تجربے کے بعد ہو سکتا ہے۔
سیاسی سطح پر اس کا مظہر ریاست ہے۔ ریاست کو طاقت کے استعمال پر اجارہ داری حاصل ہے۔ معاشرے میں اس اجارہ داری کا کوئی مقابلہ یا مسابقت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ بطور سرکاری افسر، ریاستی طاقت کے کارندے بننے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ پولیس تشدد کرتی ہے، انتظامیہ پروٹوکول لیتی ہے، فوج یرغمال بنا لیتی ہے اور سرکاری اہلکار کرپشن کرتے ہیں۔ ریاست کی اس بے محابا طاقت کو صرف ایک ہی شکنجے سے قابو کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے قانون۔ لیکن اگر قانون کو مذہب کے ماتحت کر دیا جائے تو قانون بجائے خود مقتدر اعلیٰ بننے کے، محکوم ہو جائے گا جس سے ریاستی طاقت بے لگام ہو جائے گی۔
ایسا نہیں ہے کہ سیکولر ازم میں کچھ غلط نہیں ہوتا یا ہو نہیں سکتا۔ مثلاً جب سیکولر شامی صدر، الاسد نے شام میں نسل کشی کی تو انہوں نے اپنی مقدس مذہبی کتاب کا حوالہ نہیں دیا، اسی طرح سیکولر عراقی صدر صدام حسین کو بھی عراقی کردوں اور شیعوں پر مظالم ڈھاتے ہوئے مذہب کی ضرورت نہیں پڑی۔ جب سیکولر اسرائیلی وزیراعظم ایرل شیرون نے فلسطینیوں کا قتل عام کروایا تو انہیں بھی تورات حکیم سے مدد لینا مناسب نہیں لگا۔ سیکولر روسی ریاست، چینی حکومت، شمالی کوریا کے رہنما یا برما کی آمریت ہو، سیکولر ازم بھی مسائل کا شکار رہا ہے۔
لیکن دوسری طرف مذہب کی دعوے دار ازمنہ وسطٰی کی یورپی ریاستیں، طالبان، پاکستان، موجودہ افریقی ریاستیں یا ترکی کی صورت حال فکر انگیز ہے۔ مذہب کے نام پر یورپی ریاستوں کی لڑائیوں میں تقریباً دو کروڑ افراد کے قتل کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ریاست ’اسلامی‘ جمہوریہ پاکستان میں مذہب کے نام پہ تشدد کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ طالبان نے دین کے نام پہ جو قتل و غارت گری کی ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ افریقی ریاستوں میں الشباب اور بوکو حرام وغیرہ کے پاس اپنی تمام تر خونریزی کا مذہبی جواز موجود ہے۔ ترکی کا ’برادر اسلامی ممالک‘ ، شام، عراق، لیبیا، صومالیہ اور قطر وغیرہ میں مذہب محافظ کردار کس سے ڈھکا چھپا ہے؟
تو پھر اس سب کا حل کیا ہے؟ دنیا میں کچھ بھی اچھا نہیں ہوتا، ہمیں ہمیشہ کم برا منتخب کرنا ہوتا ہے۔ کوئی انتخاب بھی ایسا نہیں ہے جس کے کوئی مضرات نا ہوں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ دونوں پہلوؤں میں سے کون سا کم نقصان دہ ہے؟ کیا ریاست کو مذہب کا سرپرست بن جانا چاہیے جس سے کہ معکوسی طور پر مذہب ریاستی اقدامات کا جواز بن جائے گا یا پھر ریاست کو سیکولر ہو جانا چاہیے اور عوام کے مذہبی معاملات میں غیرجانبدار رہنا چاہیے؟ سیکولرازم کی صورت میں ریاست صرف جمہوریہ رہ جائے گی اور قوانین گناہ کی بجائے صرف جرم سے متعلق ہو کر رہ جائیں گے۔
ملک پاکستان میں، اس سب کے لیے، سب سے پہلے، تاریخی غلطیوں کی اصلاح ضروری ہے۔ دو قومی نظریے کو تاریخی حقائق کی روشنی میں درست زاویے سے دیکھنا ہو گا۔ قیام پاکستان کی حقیقی توجیحات کی کھوج لازم ہے۔ اس کے بعد تحریک پاکستان میں مذہب پسندوں کے کردار کا جائزہ لینا ہو گا کہ کیسے قیام پاکستان کی مخالفت کے باوجود وہ لوگ پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے میں کامیاب ہو گئے؟ اور آخیر میں آئین پاکستان کی تصحیح بہت ضروری ہے کہ آئین پاکستان کو تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام کا حامل بناتے ہوئے غیر جانبداری پہ مبنی سیکولر آئین میں ڈھالنا ہو گا۔
یقینی طور پر یہ ایک خوش آئند تصویر محسوس ہوتی ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ قدامت پرستوں کے لیے صدمے کا باعث ہو تو ایسا ہر گز نہیں ہے کہ ریاست اور سماج کے سیکولر ہو جانے سے مذہب ختم ہو جائے گا۔ یہ عین ممکن ہے کہ ذاتی سطح پر مذہبی ترجیحات برقرار رہیں جیسا کہ لوگ اپنے بچوں کے نام مذہبی بنیادوں پر رکھتے رہیں گے، ان کی پیدائش کی مذہبی رسمیں بھی مستقبل قریب تک چلتی رہیں گی، ہو سکتا ہے کہ لوگ شادی کے لیے مذہبی روایات کو جوں کا توں رکھنا چاہیں اور موت کی رسومات تو ایک لمبے عرصے تک ایسی ہی رہیں گی۔
حالانکہ کسی کی داڑھی کی لمبائی یا دوپٹے کی چوڑائی سے ان کے ایمان کی پیمائش پوری پڑنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا اور تصویر نگاری، شاعری اور موسیقی جیسی لغویات بھی جلد ہی مذہبی جواز پا جائیں گی لیکن تب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ سب دیکھنے کے لیے قارئین میں سے شاید ہی کوئی موجود ہو گا۔ لہذا یہ تحریر قبل از زمانہ سمجھ کر نظر انداز کی جا سکتی ہے۔ لیکن جلد یا بدیر، مذہبی معاشروں کو سیکولر ہونا ہی پڑے گا، سعودی عرب جیسوں نے تو آغاز کر بھی دیا ہے، کیونکہ جدیدیت کے امڈتے سیلاب کا کوئی مقابلہ نہیں۔

