آزادی سے عہد تک
صبح سویرے گھر سے نکلتے ہی محلے میں ایک بندے کو وطن عزیز کے یوم پیدائش کے حوالے سے فلیگز، بیجز و دیگر 14 اگست آزادی سلوگن کے اسٹیکرز فروخت کرتے دیکھا۔ بچپن میں محلہ کے بچوں کی طرح واقعی عید کی اس دن کی بھی یکساں خوشی ہوتی تھی ابھی عمر کے آدھے حصے میں لمحہ بھر کے لیے ملی نغموں کی گونج سن کر دل میں ایک عجیب سی کیفیت طاری تو ہوتی ہے یعنی آزاد نہ ہوتے ہوئے بھی اس دن میں ایک خاصیت نمایاں ہیں یا پھر عید کے دونوں کی طرح یہ دن بھی ملکی حالات دیکھ کر گزارنے کے حد تک عارضی تسکین کا نام ہو جیسے۔ بالکل انسان جب بڑا ہوتا جاتا ہے خوشیاں چھوٹی ہونے لگتی ہیں اور اس عمل میں حالات واقعات، انسان کی اپنی مصروفیات، حقیقت پر مبنی معاملات، سوچ اور رویوں کا بڑا تعلق ہوتا ہے کیونکہ کسی عمل کا محسوس ہونا لازمی ہے بالخصوص آزادی کا۔
دوستوں یوم آزادی پاکستان یا یوم استقلال ہر سال 14 اگست کو پاکستان میں آزادی کے دن کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان 1947 ء میں انگلستان سے آزاد ہو کر معرض وجود میں آیا خیر اس کی اندرون وجہ کیا تھی کیا حاصل ہوا آزادی کہاں تک محدود رہ گئی اس پر بات کرنا آج کے دن مناسب نہیں ہے۔ 14 اگست کا دن پاکستان میں سرکاری سطح پر قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے پاکستانی عوام اس روز اپنا قومی پرچم فضاء میں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ملک بھر کی اہم سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے۔ پہلے یہ جنون کی حد تک تھا اب یہ ایسی روایت بن گئی ہے جو گزارنے کے لیے بھی کئی خوف تو کئی ریاست کے حکم ماننے سے منسلک ادارے ہیں جس کے تحت یہ دن ماننا واجب ہو جاتا ہے جس میں خود سے کوئی اقدام اس دن کے حوالے سے محدود عمل ہو گیا ہے۔ خیر مجھ جیسے اور بھی بہت ہوں گے جو ہر سال اس دن عہد کرتے ہیں اگلے جشن آزادی تک ہم کوئی ایسا کام کریں جو بطور بے غرض شہری کم از کم ہمارے لیے مثالی ہو جس میں عوامی فلاح و بہبود شامل ہو۔
بدقسمتی سے اس دن منشیات فروشوں، حرام خوروں، بڑے بڑے اسمگلروں، مفاد پرست سیاسی دانوں کو زور و شور سے مناتے دیکھتے ہوں گے جس میں ہر طبقہ فکر کے لوگ شامل ہوتے ہیں ایسے سارے لوگ سلام دعا بھی بغیر غرض کے نہیں کرتے پھر کیسے ممکن ہے یہ وطن سے محبت میں بھی کوئی بڑا غرض یا جاری اپنے کام کو شفاف اور ایمان اتحاد کا نام نہ دے رہے ہوں۔ میری گہری دلچسپی اس موضوع اور دن پر رہی ہے اس میں کئی بڑے لوگ اپنے پاپوں کا پراسچت کرواتے ہیں اور مجھ جیسے لوگ یہ تماشا دیکھتے ہوئے جیوے جیوے پاکستان کہتے دن گزارتے ہیں۔
میں دعویٰ سے کہتا ہوں بہت سارے ایسے اداکار جس کو نہ آزادی کا مفہوم پتا ہے اور نا ہی اس کی اہمیت کا اندازہ ہے ان سے آپ اگر اس دن کیا ہوا تھا یہ پوچھ لیں بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔ ان کو صرف ایک آزادی سے غرض ہوتا ہے وہ ہے ملک میں تمام غیر قانونی دھندوں کی ریاستی سطح پر تعاون جو ان کو ملتا ہے اور بس اسی پر فوکس رکھتے ہوئے اس دن یہ فرنٹ لائن پر پاکستان کے عام شہریوں کو نظر آئیں گے۔
جہاں تک میں نے پڑھا ہے آزادی کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ قوم کے افراد اپنے افکار، نظریات اور فلسفے کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ قوموں کے افکار اور نظریات صدیوں کے سفر کے بعد متعین ہوتے ہیں۔ یہی افکار ان کے تہذیبی ورثے کی بھی آئینہ داری کرتے ہیں۔ آزادی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ افراد اپنے اس تہذیبی ورثے کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اس کے ارتقاء میں معاون ہوں اور ان مزاحم قوتوں کا بھی قلع قمع کریں جو اس ورثے کو تباہ کرنے پر آمادہ ہوں۔ آزادی بالعموم تاریخی، سماجی، معاشی اور تہذیبی عوامل کے تحفظ اور بقا کا نام ہوتی ہے۔ اگر ایسی آزادی آپ لوگوں کو اپنے ارد گرد نظر آئے تو بیشک یہ دن محسوس ہوگا۔ اگر ایسا منظر دیکھنے کو نہ ملے تو آپ سمجھ جائیں ہمیں حقیقی معنوں میں آزاد ہونے اور وطن عزیز میں اس جدوجہد کا حصہ بننے کی ضرورت ہے۔
میرے وطن کے نوجوانوں آزادی حاصل کرنے سے اپنی آزادی کی حفاظت کرنا اور اسے برقرار رکھنا زیادہ مشکل اور اہم بھی ہوتا ہے۔ جو قومیں اپنے ماضی کا احتساب کرنا جانتی ہوں وہ اپنی آزادی کی حفاظت بھی خوب کر سکتی ہیں لیکن ہمارے ہاں پاکستان میں احتساب اور انصاف کا حصول ابھی تک نظر نہیں آ رہا جس کی وجہ سے حقیقی اور ذاتی مفاد آزادی کے گرد یہ جشن محدود طبقہ تک محدود ہے۔ جو قوم مڑ کر اپنی تاریخ کی طرف نہیں دیکھتی وہ اپنے مستقبل کے خواب بھی نہیں دیکھ سکتی۔
تاریخ کو کوڑے دان میں نہیں پھینکا جا سکتا۔ جب تک ماضی میں سر زد ہونے والے تحسامات کا ازالہ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک عمارت میں موجود نقص دور نہیں ہوگا۔ احتساب اسی کا نام ہے۔ آزادی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنے نصب العین اور مقاصد کا ازسر نو تعین کریں۔ پاکستان میں آزادی کا دن منانے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم جہاں سامراج سے آزادی ملنے کی خوشی منائیں وہاں یہ بھی دیکھا جائے کہ ہم اپنی منزل سے کتنے دور ہیں اور راستے میں کٹھنائیاں کیا ہیں اور ان کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہمیں ایک سامراج سے آزادی کے بعد موجودہ سامراجی نظام کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ وطن عزیز میں ہر شہری کو حقیقی آزادی محسوس ہو سکے۔
میرے وطن تم کو لوٹنے والے، تیرے نام پر زر کمانے والے، تیرے نوجوانوں کو منشیات میں دھکیلنے والے، سیاسی گروہ کے خادم بنانے والے، قانون کا پاس نہ رکھنے والے، لاقانونیت اور امتیازی سلوک کو فروغ دینے والے، نسلی، مسلکی مذہبی، خاندانی تعصب پر سیاست کرنے والے ہر اداکار کو چھوڑ کر تجھ میں بسنے والے ہر سچے ایماندار دیانت دار مخلص شہری کو تیرا 74 یوم آزادی مبارک ہو۔


