اس کو جشن منانا نہیں، ایذا رسانی کہتے ہیں!

پاکستانی قوم بڑی منفرد قوم ہے اور ان کی انداز جداگانہ دیکھنا ہے تو مشکلات کے وقت ان کی تفریح کا انداز دیکھ لیں۔ قوم پاکستان کا ہر مشکل اور آسان موقع پر اظہار کا انداز بہت مختلف اور عجب ہوتا ہے۔ چاہے موقع خوشی کاہو یا پھر غم کا، یہ قوم اس سے الگ ہی انداز میں نبرد آزما ہوتی ہے۔

قوم کا انداز جشن بھی بڑا نرالا ہے اتنا کہ وہ جب جشن مناتے ہیں تو بہت سے لوگوں کے لئے وہ انداز جشن سکون کش اوٹارچر ثابت ہوتا ہے۔ پاکستان کے لوگوں کے انداز جشن منفرد ضرور ہے مگر یہ بہت سے لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ جانیے کون سے انداز کب اپنائے جاتے ہیں جو دوسروں کو تکلیف پہنچانے کا باعث بن جاتے ہیں۔

بڑے بڑے چائنہ کے باجے :

14 اگست کو گھروں میں جھنڈیاں لگانا اور جھنڈے لہرانا خوبصورت ترین عمل تھا جو ابھی بھی جاری ہے۔ مگر نہ جانے کون وہ شخص ہے جس نے بڑے بڑے کان پھاڑ باجے جشن کے نام پر مارکیٹ میں متعارف کرا دیے جو باجے میچ کے دوران تماشائی بجاتے تھے وہ 13، 14 اگست کو ہر گلی محلے میں بجنے لگا اور ایسا بجا کہ سننے والے کے کان سن ہو گئے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جشن منانے کے لئے کیا بے ہنگم شور شرابا کرنا واجب ہے؟

خوشی کے موقع پر ہوائی فائرنگ :

پاکستانی قوم جتنی منھ سے فائرنگ کرتی ہے اتنی ہی اکثر موقعوں پر اصلی والی فائرنگ بھی کر دیتی ہے۔ میچ جیتے تو ہوائی فائرنگ، نیو ائر پر ہوائی فائرنگ، 14 اگست میں ہوائی فائرنگ، دولہا بارات لے کر آیا تو ہوائی فائرنگ، مطلب بس موقع چاہیے اور پھر اسلحہ بردار کی گن کی صفائی کے نام پر فائرنگ شروع ہوجاتی ہے۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو گولی ہوا میں چلائی جاتی ہے وہ واپس زمین کی طرف بھی رفتار کے ساتھ آتی ہے جو انسانی جان کے لئے خطرناک ہوجاتی ہے۔ اگر کسی کی خوشی میں کسی انسان کی جان چلی جائے تو یہ کیسی خوشی ہے بھلا؟

سائلنسر نکال کر شور کرنا:

یہ انداز جشن ویسے تو کراچی میں بہت عام ہے جو چاند رات، شب 14 اگست اور نیو ائر نائٹ پر اپنایا جاتا ہے۔ یہ انداز سے زیادہ واردات لگتی ہے مجھے سمجھ نہیں آتا کہ جشن کے لئے کیا ضروری ہے کہ شور شرابا کیا جائے؟ پھر بائیک کا سائلنسر نکال کر کان پھاڑ جشن منانے کا بھلا کیا تک ہے جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچے۔ اس جشن یا خوشی کی کیا حیثیت جو کسی کو تکلیف میں مبتلا کردیں اور جشن منانے والے کسی کی بد دعا میں شامل ہو جائے۔

ون ویلنگ :

پاکستان کے کچھ نوجوانوں کو ون ویلنگ کا خوفناک شوق ہے اور اکثر یہ شوق جشن کے موقع پر بجا لایا جاتا ہے۔ اس انداز جشن کو دیکھنے والوں کا کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے مگر کرنے والے اپنی مستی مین مگن ہوتے ہیں۔ یہ عمل کرتے ہوئے اپنے ماں باپ کے بارے میں بھی نہیں سوچتے جس نے ان کو پال پوس کے بڑا کیا ہوتا ہے۔ یہ عمل انتہائی خوفناک ہے اور اب تک یہ عمل کرتے ہوئے سینکڑوں نوجوان یا تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا پھر معذوری کا شکار ہو گئے ہیں۔

جشن کے نام پر خواتین سے بد تمیزی :

جشن کے کسی موقع پر خواتین کو چھیڑنا، ان کو ہاتھ لگانا اور ان پر نعرہ کسنا بھی کچھ لوگوں کی تفریح میں شامل ہے۔ اس طرح کے کم ظرف لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے مگر یہ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں اور یہ حرکتیں کرنے والے اس حرکت پر پشیماں بھی نہیں ہوتے ہیں۔ یہ کیسا جشن ہے کہ آپ خواتین پر حملہ آور ہوں اور وہ آپ کے لئے تفریح کا سامان ہو گیا۔ جشن منانے کے انداز الگ ہوتے ہیں اور کسی کے ساتھ اس طرح کا عمل جرم بھی ہے اور گناہ بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words