عورتوں کی جنسی ہراسانی پر رد عمل

آج فیس بک پر جمشید اقبال صاحب عورتوں پر تشدد، جنسی ہراسانی اور استحصال کے حوالے سے فکرمندی کا مضمون پڑھا جس میں انہوں نے ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ڈاکٹر خالد سہیل کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بھی اس موضوع پر کچھ لکھیں۔

جمشید اقبال صاحب کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے ایک کالم لکھ کر مجھے بھیجا۔ اسے پڑھ کر مجھے بھی کچھ لکھنے کی تحریک ہوئی سو حاضر ہے۔

اتفاق سے آج ہی میرے کلینک میں ایک تیس سالہ جوان مریضہ سنتھیا، جو اپنی ڈپریشن کا علاج کروانے کئی مہینوں سے آتی رہتی ہیں، تشریف لائیں۔ انٹرویو کے دوران بتانے لگیں کہ انہیں دو دن پہلے زندگی میں پہلی بار جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

میں نے جب انہیں تفصیل بتانے کو کہا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ایک نرسنگ ہوم میں نرس کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اس دن جب وہ علی الصبح بس میں بیٹھ کر نرسنگ ہوم جا رہی تھیں تو بہت پرسکون تھیں۔ وہ گرمیوں کے موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھیں اور سوچ رہی تھیں کہ وہ خوش قسمت انسان ہیں کہ کرونا وبا کے دوران بھی ان کی ملازمت برقرار ہے اور قوم کے سینئر سیٹیزنز کا خیال رکھ کر انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں۔

سنتھیا نے یہ ضرور محسوس کیا کہ چونکہ ابھی دن پوری طرح نہیں چڑھا تھا اس لیے بس میں زیادہ مسافر نہیں تھے۔

جب نرسنگ ہوم کے قریب بس رکی اور سنتھیا اکیلے بس سے اتریں تو اچانک ایک اجنبی مرد نے ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ پہلے تو سنتھیا نے انہیں نظر انداز کیا لیکن پھر وہ بہت قریب آ گیا۔ اب سنتھیا کچھ پریشان ہونے لگیں۔

جب سنتھیا نرسنگ ہوم کے دروازے پر پہنچیں اور انہوں نے دروازہ کھلوانے کے لیے گھنٹی بجائی تو وہ مرد ان کے اتنا قریب آ گیا کہ اس نے ان کے کولھوں کا چھوا۔

سنتھیا نے سخت لہجے میں کہا
، میں تمہیں نہیں جانتی۔ مجھ سے دور ہو جاؤ،

اس مرد نے آگے بڑھ کر جب سنتھیا کے پستان چھونے چاہے تو سنتھیا نے اسے زور کا دھکا دے کر بہت دور کر دیا۔

اتنی دیر میں ایک اور نرس نے آ کر دروازہ کھولا اور جب سنتھیا نے اس نرس کو بتایا کہ ایک اجنبی مرد نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا ہے تو اس نرس نے فوراً پولیس کو فون کیا۔

دس منٹ بعد پولیس آ گئی۔ پولیس نے اس نرسنگ ہوم کے کیمرے کی فلم دیکھی جس میں وہ شخص دکھائی دے رہا تھا۔

دس منٹ بعد پولیس نے اس اجنبی مرد کو نرسنگ ہوم کے قریب سڑک پر چلتے ہوئے گرفتار کر لیا اور ہتھکڑیاں لگا کر اسے حوالات میں بند کر دیا تا کہ اگلے دن اسے عدالت میں جج کے سامنے پیش کیا جائے۔

پولیس نے سنتھیا سے فون نمبر لے کر بتایا کہ وہ
sexual assault victim services
کو مطلع کریں گے تا کہ وہ سنتھیا کی نفسیاتی مدد کر سکیں۔

سنتھیا نے مجھے بتایا کہ چونکہ وہ مجھ سے پہلے سے ہی نفسیاتی مدد لے رہی ہے اور مجھ پر اعتبار اور اعتماد کرتی ہے اس لیے اسے وکٹم سروسز کی خدمات کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

(میری نگاہ میں قانونی طور پر یہ بھی اہم کہ جب کوئی مرد عورت پر تشدد کرتا ہے یا اسے ہراساں کرتا ہے تو یہ جرم ریاست کے خلاف سمجھا جاتا ہے اور عدالت میں عورت بھی گواہ کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ کینیڈا میں بھی ایک وہ دور تھا جب وہ جرم عورت یا بیوی کے خلاف سمجھا جاتا تھا اور کئی بیویاں اپنے شوہر کی محبت میں یا اس سے خوفزدہ ہو کر اسے معاف کر دیتی تھیں۔ اب عورت کو جج بلاتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے خلاف بیان دے۔ )

سنتھیا کے نرسنگ ہوم کے سٹاف کا رویہ نہایت ہمدردانہ تھا اور انہوں نے سنتھیا سے پوچھا کہ اس دن وہ کام کرنا چاہتی ہیں یا چھٹی لینا چاہتی ہیں۔ سنتھیا نے اس دن کام کیا لیکن جلد ہی گھر چلی گئیں۔

سنتھیا نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس نے اس صبح سیلف ڈیفنس کے کورس میں بھی داخلہ لے لیا ہے تا کہ اس سے اس کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔

میں نے سنتھیا کو دو اور انٹرویوز کی دعوت دی تا کہ انہیں بروقت نفسیاتی مدد مہیا کی جا سکے۔
میں سمجھتا ہوں کہ سنتھیا کی اس جنسی ہراسانی کی واردات میں یہ اہم ہے کہ

نرسنگ ہوم کے دروازے پر کیمرہ موجود تھا
پولیس اس جگہ بہت جلد پہنچ گئی
مجرم کو جرم کے چند منٹوں بعد گرفتار کر لیا گیا
پولیس کا رویہ عورت کے بارے میں ہمدردانہ تھا
نرسنگ ہوم کے سٹاف نے سنتھیا کی مدد اور حوصلہ افزائی کی

اور سب سے اہم بات یہ کہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ سنتھیا کے سر پر دوپٹہ نہیں تھا یا اس کا رویہ ایسا تھا جس سے وہ جنسی استحصال کی دعوت دے رہی ہو۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words