صدر اشرف غنی افغانستان سے روانہ ہو گئے

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان چھوڑ دیا ہے۔ اس طرح طالبان کے لیے ملک پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

اشرف غنی غنی مبینہ طور پر اتوار کے روز افغان دارالحکومت سے فرار ہوئے۔ طالبان ایک زوردار حملے کے بعد کابل کے دروازے تک آ پہنچے جہاں عسکریت پسندوں نے مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ ایسی لڑائی سے بچنا چاہتے ہیں جس سے شہریوں کی جانیں چلی جائیں۔ اس کے بعد صدر اشرف غنی نے اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ ملک چھوڑ دیا۔  افغان نیوز چینل طلوع نے اس معاملے سے واقف دو ذرائع کے حوالے سے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

صدر کے دفتر نے میڈیا کو بتایا کہ وہ سکیورٹی خدشات کے باعث اشرف غنی کے ٹھکانے پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔ مبینہ طور پر طالبان حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اشرف غنی اب بھی دارالحکومت میں موجود ہیں۔

ایک ذریعے نے روس کی آر آئی اے نووستی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ غنی تاجکستان فرار ہو گئے ہیں اور جلد ہی وہاں سے ایک تیسرے ملک کا سفر کریں گے۔

ادھر افغان مصالحتی مجلس کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے تصدیق کی ہے کہ افغان صدر اشرف غنی مستعفی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اشرف غنی افغانستان چھوڑ گئے ہیں، اللہ انہیں اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ انہوں نے کابل کے شہریوں کو پرامن اور پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا مشکل دن اور آنے والی مشکل رات بھی بہت جلد ختم ہوجائے گی اور انشاء اللہ پرامن افغانستان ہمارا مستقبل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی، نائب صدر امر اللہ صالح اور فضل محمد کے ساتھ ملک سے چلے گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words