سپریم کورٹ میں ججز تقرری بحران

سال 2021 ہے، اصولاً 2023 میں عام انتخابات ہونے چاہیے، یعنی انتخابات میں محض دو سال کا عرصہ باقی ہے۔ حکومت کے لئے الٹی گنتی شروع ہے۔ ملکی سیاست میں اونٹوں کے کروٹیں بدلنے کے دن شروع ہوچکے ہیں۔ بین الا اقوامی سیاست نے بھی شدید گرم مزاج اختیار کر رکھا ہے۔ ملکی سیاست میں مجموعی طور پر گہما گہمی ہے۔ اب ملک کے عدالتی معاملات میں بھی شدید نوعیت کی گرم مزاجی دکھائی دے رہی ہے، اس کا سبب بنی ہے حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرریاں۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں ججز کی 17 خالی نشستوں کو پر کرنے کے لئے ملک کے مختلف ہائی کورٹس سے ججز کو چنا۔ اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ سے لئے گئے جج جسٹس محمد مظہر کی تقرری پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ جسٹس محمد مظہر سندھ ہائی کورٹ میں سینئرٹی کے حساب سے پانچویں نمبر پر ہیں، جس کے مطابق جسٹس محمد مظہر کی تقرری باقی چار ججز بشمول چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ کو بائی پاس کر کے کی گئی ہے۔

اس پر مختلف بار کونسل کا رد عمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ 28 جولائی کو جوڈیشل کمیشن نے جسٹس محمد مظہر کی عدالت عظمیٰ میں تقرری کا حکم دیا جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے بھی سنیارٹی اصولوں کے خلاف چوتھے نمبر والی ایک خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کو بھی سپریم کورٹ کے لئے منتخب کیا، اس تقرری کی بھی پاکستان بار کونسل نے شدید مخالفت کی ہے۔ جسٹس عائشہ ملک کی تقرر کے ساتھ ہی سترہ ججز کا کوٹا پورا ہوا۔

خصوصاً سندھ سے جسٹس محمد مظہر کے انتخاب پر اور سینئر ترین جج جو کہ چیف جسٹس بھی ہیں جسٹس احمد علی شیخ کی نظر اندازی نے ملکی عدالتی نظام میں ایک حرکت سی پیدا کر لی ہے۔ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جوڈیشل کمیشن نے جسٹس احمد علی شیخ کی سپریم کورٹ میں بطور ایڈ ہاک جج مقرری کا حکم دیا جسے وہ یکسر مسترد کر چکے ہیں۔ چہ مگوئیاں یہ بھی ہیں کہ اس سے پہلے جسٹس احمد علی شیخ کو وفاقی شریعت کورٹ کا چیف جسٹس بننے کی پیشکش بھی کی گئی تھی جس کو قبول کرنے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔

پہلے جسٹس احمد علی شیخ کی نظر اندازی، پانچویں نمبر کے سینئر جج جسٹس محمد مظہر کی تقرری، پھر جسٹس احمد علی شیخ کو ایڈ ہاک جج مقرر کرنے کے فیصلے کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ اس فیصلے کو سندھ بار کونسل، کراچی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل مسترد کرچکی ہیں، اور اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی نے 21 اگست کو آل پاکستان بار ریپریزینٹیٹو کونسل بلانے کا بھی اعلان کر لیا ہے۔

سنیارٹی اصولوں کے مطابق جسٹس احمد علی شیخ کی 2018 میں ہی سپریم کورٹ میں تقرری ہو جانی چاہیے تھی، لیکن اس وقت بھی جسٹس احمد علی شیخ اور دو مزید سینئر ججز کو چھوڑ کر چوتھے نمبر پر سینئر جج جسٹس منیب اختر کی سپریم کورٹ میں تقرری کی گئی۔

اس بار جسٹس احمد علی شیخ کے علاوہ، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس عقیل عباسی اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی کو چھوڑ کر جسٹس محمد مظہر کی تقرری کی گئی ہے۔

جوڈیشل کمیشن کے کل نو میمبران ہوتے ہیں، جن میں پانچ حاضر سروس سپریم کورٹ کے جج ہوتے ہیں بشمول چیف جسٹس، ایک پاکستان بار کونسل کا نمائندہ، ایک سابق جج، اٹارنی جنرل اور وفاقی وزیر قانون شامل ہوتے ہیں۔ پانچ حاضر سروس ججز میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس مقبول باقر، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس عمر عطا بندیال شامل ہیں، جبکہ پاکستان بار کونسل کی نمائندگی اختر حسین کر رہے ہیں، سابق جج دوست محمد خان بھی اس کمیشن کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد حسین خان اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم بھی شامل ہیں۔

جوڈیشل کمیشن نے 4۔ 5 کی اکثریتی رائے سے چیف جسٹس سندھ جسٹس احمد علی شیخ کو بطور ایڈ ہاک جج کے طور پر ایک سال کے عرصے کے لئے سپریم کورٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا جو کہ بظاہر آرٹیکل 182 کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 182 کے مطابق کسی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس سپریم کورٹ میں ایڈ ہاک جج نہیں لگ سکتا۔ صرف سپریم کورٹ کا ریٹائر جج یا ہائی کورٹ کا جج ایڈ ہاک جج کے طور پر مقرر ہو سکتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 260 میں جج کی تعریف کے مطابق چیف جسٹس بھی جج ہی ہے، لیکن پھر بھی آئین کے آرٹیکل 182۔ B کے مطابق جج کی اپنی رضامندی درکار ہوگی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی کے مطابق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایڈ ہاک جج مقرر کرنا ہائی کورٹ سے ہٹانے کے مترادف ہے اور یہ آرٹیکل 209 کی خلاف ورزی ہے۔ کیونکہ کسی بھی اعلیٰ عدالت کے جج کو اس شق کے نافد کیے بغیر اور سپریم جوڈیشل کونسل کے انعقاد کے بغیر نہیں ہٹایا جانا چاہیے۔

پاکستان کے آئین میں ججز کی سنیارٹی پر تقرری کا کوئی واضح قانون تو نہیں البتہ سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری کے متعلق چند رولنگ ضرور موجود ہیں۔

1994 میں، صدر فاروق لغاری نے، وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے، لاہور ہائی کورٹ میں 20 ججوں کے ساتھ ساتھ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیے۔ حکومت کے حامی ججوں کی ان تقرریوں پر ملک بھر کی بار کونسلوں سمیت تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے ناراضگی ظاہر کی۔ اسی تناظر میں درخواستیں دائر کی گئیں اور بالآخر اس مسئلے کو حل کیا گیا جسے ہم 1996 کا مشہور زمانہ ”ججز کیس“ کے نام سے جانتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 177 میں کہا گیا ہے کہ: ”چیف جسٹس آف پاکستان صدر کی طرف سے مقرر کیا جائے گا، اور دوسرے ججوں میں سے ہر ایک چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کے بعد صدر کی طرف سے مقرر کیا جائے گا۔“ ججز کیس میں سپریم کورٹ نے اس دفعہ کی تشریح کی ہے کہ جب کہ صدر برائے نام سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کا اختیار رکھتے ہیں، ان کے پاس اس معاملے میں کوئی صوابدید نہیں ہے اور وہ اس عہدے پر سپریم کورٹ میں سینئر ترین جج مقرر کرنے کے پابند ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ آئینی شق میں بیان کیا گیا ہے کہ صدر چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کرنے کے پابند ہیں۔

اس مخصوص مسئلے کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن صدر حامد خان بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان ( 2002 ) میں ایک بار پھر زیر بحث لایا گیا، جہاں ایک بار پھر، پانچ رکنی بنچ نے سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری ایسی تقرریوں کے لیے ہائی کورٹس میں سنیارٹی جیسے معاملات کا جائزہ کیا گیا۔ ججز کیس اور اس کے بعد کی مثالوں کی روح کی وضاحت کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے کہا کہ ججز کیس کے حوالے سے یہ دعویٰ کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو سنیارٹی کی وجہ سے سپریم کورٹ میں ترقی دینی چاہیے ’غلط فہمی کا شکار ہے۔ ہمارے خیال میں، ان مقدمات میں بیان کردہ سنیارٹی کا دائرہ کسی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرریوں تک محدود ہے، اور یہ دائرہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری پر نہ ہی لاگو ہوتا ہے اور نہ ہی بڑھایا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ”سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے آرٹیکل 177 میں ’سب سے سینئر‘ الفاظ کی عدم موجودگی اس بات کو ظاہر کرے گی کہ ہائی کورٹ میں جج کی سنیارٹی سپریم کورٹ میں اس جج کی تقرری کے لیے ضروری نہیں ہے۔“

2002 میں فقیر کھوکھر کیس میں عدالت عظمیٰ کی رولنگ کے مطابق ”سپریم کورٹ میں تقرری کو ہمیشہ ایک نئی تقرری سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے کسی بھی ہائی کورٹ کے ایک جونیئر جج کو بھی سپریم کورٹ کا جج بننے کے لئے ترقی دی جا سکتی ہے“ ۔

کچھ وکلاء کا یہ بھی موقف ہے کہ بجائے سنیارٹی پر زور دینے کے ججز کی تقرری ان کی اہلیت کی بنیاد پر کی جائے۔ لیکن، ججز کی اہلیت کا کوئی واضح معیار مقرر نہیں۔ اس کا ایک رد موقف یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کے وقت سنیارٹی کے معیار کو نظرانداز کر کیا جاتا ہے تو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مقرری کے وقت بھی بجائے سنیارٹی کے اہلیت کو خاطر میں لایا جانا چاہیے۔ دوسرا یہ بھی موقف سامنے آتا ہے کہ کیا جسٹس محمد مظہر کے علاوہ ہائی کورٹ کے باقی جج نااہل ہیں۔ اگر جسٹس احمد علی شیخ اہل نہیں تو انہیں ایڈہاک جج بنانے کے جتن کیوں کئی جا رہے ہیں۔

کچھ وکلا کے مطابق جسٹس احمد علی شیخ نسلی تعصب کا شکار ہوئے ہیں۔

ایسا نہیں کہ یہ سینئر جج پر جونیئر کو ترجیح دینے کی یہ پہلی مثال ہے یا ایسا صرف سندھ ہائی کورٹ کے ساتھ ہی ہوتا آیا ہے۔ بلکہ پاکستان کے دو سابق چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کو لاہور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف خواجہ شریف کو نظرانداز کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ترقی دی گئی تھی۔

اگر چیف جسٹس سندھ جسٹس احمد علی شیخ ایڈ ہاک جج بننے پر راضی نہیں ہوتے تو وہ مزید 2023 تک چیف جسٹس سندھ کے عہدہ پر فائز رہیں گے۔ کچھ قانونی ماہرین کا یہ خدشہ ہے کہ اگر چیف جسٹس سندھ جسٹس احمد علی شیخ بطور ایڈ ہاک جج بننے پر راضی نہ ہوئے تو صدر پاکستان انہیں عہدے سے برخاست بھی کر سکتے ہیں اور پھر شاید عدالتی کشیدگی میں اضافہ ہو جائے۔

کچھ ماہرین کے مطابق اگر جسٹس احمد علی شیخ ایڈ ہاک جج بن جاتے ہیں تو پھر بھی وہ چیف جسٹس سندھ برقرار رہیں گے اور ان کو بعد سندھ ہائی کورٹ کے دوسرے نمبر پر سینئر جج جسٹس عرفان خان سعادت قائم مقام چیف جسٹس سندھ بن جائیں گے اور جیسے ہی ان کی بطور ایڈ ہاک جج ایک سال کی مدت ختم ہوئی (اگر مستقل نہ کیا گیا) تو وہ پھر سے چیف جسٹس سندھ بن جائیں گے۔

جبکہ کچھ ماہرین اس سے اختلاف کرتے ہیں، ان کے مطابق جسٹس احمد علی شیخ کی بطور ایڈ ہاک جج مدت ختم ہونے کے بعد وہ پھر سے چیف جسٹس سندھ نہیں بن سکیں گے۔

بہرحال، اگر ان معاملات کو سنجیدگی، شائستگی اور خوش اسلوبی سے حل نہیں کیا گیا تو عین ممکن ہے کہ ملک کو آنے والے وقت میں شدید عدالتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک بار پھر سے عدالتی بحران کا سامنا کرنے کا ہرگز متحمل نہیں۔

یہ ضروری ہے کہ آئین پاکستان میں سپریم کورٹ میں ججوں کے تقرری کے متعلق کوئی واضح قانون سازی کی جائے، تاکہ آنے والے وقت میں ایسی کشیدگی سے اجتناب برتا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words