وکیل صاحب کی دوسری شادی

کامران صاحب میرے اچھے دوست ہیں۔ ان سے ہماری دوستی سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی۔ پہلے پہلے ہماری ملاقات ورچوئل ہوا کرتی تھی۔ ان کے سوالات بڑے مختلف قسم کے ہوتے تھے، جیسے کوئی واقعہ ہوا تو انہوں نے ہم سے شیئر کیا اور پھر ہماری رائے اس کے بارے پوچھی۔ ہم ان کو یہی کہتے تھے کہ ہر قسم کا بندہ ہوتا ہے اور رائے بھی مختلف ہوتی ہے لیکن وہ باز نہیں آتے تھے۔ ایک دن باتوں باتوں میں ہم سے پوچھنے لگے کہ وہ کسی افسر سے شادی کرنا چاہتے ہیں، چاہے کوئی بھی ہو۔

ہم نے کہا آپ خود ڈھونڈ لیں۔ لیکن اصرار کرتے رہے کہ آپ ڈھونڈ کر دیں۔ تو ہم نے تنگ آ کر کہا کہ بھائی ہم کوئی رشتہ کروانے والے نہیں ہیں، آپ خود تلاش کر لیں۔ تو وہ ناراض ہو گئے۔ ہم نے کہا کہ ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔ پھر کچھ دن بعد انہوں نے بتایا کہ ان کو ایک جج صاحبہ چاہتی ہیں تو ہم نے ان کو کہا تو آپ افسر کی تلاش کر رہے تھے تو آپ کو مل گئی ہے، وقت ضائع کیے بغیر فوراً ان سے شادی کر لیں۔ وہ ہنستے رہے اور باتیں ٹالتے رہے۔

کبھی وہ اپنے معاشقے ہم سے ڈسکس کرتے کبھی معاشرے کے مختلف مسائل۔ ہمیں بھی ان کی صورت میں ایک اچھا ٹائم پاس دوست مل گیا تھا۔ کچھ اپنی سناتا تھا کچھ ہماری سنتا تھا۔ کامران صاحب کا کیونکہ تعلق شعبہ وکالت سے تھا اس لیے زیادہ تر ان کا موضوع گفتگو وکلاء کا رویہ ہوا کرتا تھا۔ جب بھی وکیلوں نے ادھم مچایا اس کی ویڈیو وائرل ہوئی اور آپ آن لائن ہو کر ان کو برا بھلا کہنے لگے کہ ان کی وجہ سے وکالت بدنام ہو رہی ہے۔

اک دفعہ بڑے مایوس ہو کر کہنے لگے کہ کاش انہوں نے وکالت جوائن کرتے ہی ایسے پیشہ ور وکلا کے پیچھے چلنا شروع کر دیا ہوتا جو اپنے فیصلے لینے کے لیے ججز کو کچھ نہیں سمجھتے تو آج وہ بھی کافی امیر ہوتے۔ لیکن انہوں نے غلطی کی اور ایسے وکلا سے دوستی قائم کی جو قانون کی کتابوں سے عشق کرتے ہیں اور کیس تیار کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا آج وہ پچھتا رہے ہیں کہ وہ غلطی کر بیٹھے ہیں لیکن اب کیا ہو سکتا ہے جب ”چڑیاں چگ گئی کھیت“ ۔ اور وہ شریف انسان کے طور پر شہرت پا چکے ہیں۔

پھر ہمارا تبادلہ لاہور ہو گیا اور ان سے ہماری ملاقاتیں ہونے لگیں۔ وہ عدالت جاتے ہوئے کچھ دیر کے لیے ہمارے دفتر میں رونق افروز ہوتے، چائے پیتے، گپ لگاتے اور کوٹ سنبھالے عدالت کو چل پڑتے۔ ایک دن انہوں نے بتایا کہ وہ شادی شدہ بھی ہیں اور ان کا ایک بیٹا ہے۔ ہم نے ان کو مبارک باد دی اور کہا کہ آپ تو ایک اچھے رشتے کی تلاش میں تھے تو وہ شرمندہ ہوئے بغیر کہنے لگے کہ وہ تو اب بھی ہیں۔ اور ہم ان کی بات سن کر گم صم ہو گئے اور سوچا یہ بندہ ضرور ایک دن گل کھلائے گا۔

کچھ دن غائب رہے۔ پھر اچانک ایک دن بوتل کے جن کی طرح نمودار ہوئے۔ بڑے خوش نظر آ رہے تھے جیسے کوئی جنگ جیت لی ہو۔ ہم نے پوچھا، بھائی خیر ہے؟ کہنے لگے کہ ان کو محبت ہو گئی ہے۔ ”ہیں! آپ تو شادی شدہ نہ تھے“ ، ہم نے کہا۔ کہنے لگے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لڑکی خوبصورت ہے، صاحب جائیداد، ایک مکان کی مالکہ ہے، پیسے والی ہے اور جان لٹانے کے لیے مجھ پر تیار ہے۔ ہم نے سوچا کہ آج کل کی لڑکیوں کا ضرور دماغ خراب ہو گیا ہے۔

ہم نے استفسار کیا، کیا ان کو معلوم ہے کہ آپ شادی شدہ ہیں؟ تو کہنے لگے جی ہاں! وہ سب جانتی ہیں لیکن ان کو کوئی اعتراض نہ ہے۔ ہم ان کی بات سن کر خاموش ہو گئے۔ اس بات کے بعد پھر وہ غائب ہو گئے جیسے ”گدھے کے سر سے سینگ“ ۔ پھر ایک دن ان کی کال آئی کہ وہ ملنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کہا آئیں، تشریف لائیں۔ جو آپ آئے تو ہم کو بہت پریشان لگے، ہاتھ کانپ رہے تھے، بار بار اپنی ٹائی درست کرتے دکھائی دیے۔ آتے ہی کہنے لگے کہ وہ بہت پریشان ہیں۔

ہم نے کہا وہ تو شکل ہی بتا رہی ہے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ انہوں نے دوسری شادی کر لی ہے اور اس کے ساتھ یہاں لاہور میں کرائے پر رہ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا جب سے ان کی دوسری شادی ہوئی ہے ان کے ساتھ عجیب واقعات ہو رہے ہیں۔ ایک دن وہ خلع کے کیس میں عدالت میں پیش ہوئے تو سامنے وہی جج صاحبہ بیٹھی ہوئی تھیں جنہوں نے محبت کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے خوب ان کی ”بستی (بے عزتی)“ کی اور آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کو ایسے لگا کہ جیسے ان کی جان بوجھ کر تذلیل کی گئی ہے۔

ہم نے ان سے پوچھا کہ اس کا آپ کی دوسری شادی سے کیا تعلق ہے؟ اگر آپ نے دوسری شادی نہ بھی کی ہوتی پھر بھی جج صاحبہ آپ سے یہی سلوک کرتی کیونکہ آپ ان کو ایک دفعہ رد کر چکے ہیں، کیونکہ وہ جج ہیں اور آپ ”شریف وکیل“ تو بھگتیں ورنہ اور کوئی بات نہیں۔ وہ کہنے لگے کہ دوسری شادی ان کو راس نہیں آئی حالانکہ ان کی زوجہ بہت امیر کبیر خاتون ہیں۔ ہم نے کہا بالکل آپ نے بھی ان کا پیسہ دیکھ کر شادی کی ہے اور یہ نہیں دیکھا کہ آپ شادی شدہ ہیں، صاحب اولاد ہیں۔

آپ کی پہلی بیوی کو معلوم نہیں کہ آپ ایک نئی فلم چلا چکے ہیں۔ اس لیے شاید آپ کے اندر ایک guilt ہو رہا ہے اور آپ سمجھ نہیں پا رہے کہ آنے والے حالات کو کس طرح سنبھال سکیں گے۔ اس لیے اب آپ کو ساری رات نیند نہیں آتی، سر میں درد رہتا ہے، موت سے خوف آنے لگا ہے، دل کی دھڑکن بڑھنے لگی ہے۔ کیونکہ دوسری شادی آپ کو راس نہیں آئی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شریف آدمی کو چوری راس نہیں آئی اور اس کا اندر بول پڑا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words