ہیش ٹیگ سینکشن پاکستان

سوشل میڈیا پر ایک دنیا آباد ہے اور اس دنیا کی آبادی بہت سارے ممالک کی آبادی سے زیادہ ہے، پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال موجودہ صدی کے دوسرے عشرے کے آغاز کے ساتھ ہوا، آغاز کیا ہوا کچھ ہی سالوں میں ایک طوفان مچ گیا، پاکستان میں سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیجیے کہ تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی گروپوں، سرکاری اداروں، صحافیوں، حتی کہ دہشت گردوں کے بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف فیس بک صارفین کی تعداد دو کروڑ کے لگ بھگ ہے، سوشل میڈیا کے استعمال میں روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے اضافے کے ساتھ ساتھ جعلی اکاؤنٹس کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جن کے خلاف سوشل میڈیا کمپنیوں نے باقاعدہ کارروائی کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

پاکستان میں ذاتی زندگیوں سے لے کر ملکی معاملات تک سوشل میڈیا پر موضوع گفتگو ہو گئے، سوشل میڈیا نے سیاست سے لے کر قومی سلامتی کے امور تک کو ہلا کر رکھ دیا، پاکستان میں اخبارات اور ٹی وی چینلز تو ہمیشہ ہی سے حکم کے غلام تھے لیکن وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں تو باقاعدہ جبری پابندیوں کا شکار بھی ہی۔

اس صورت حال میں سوشل میڈیا واحد پلیٹ فارم رہ گیا ہے کہ جہاں کسی بھی اٹھنے والی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، بڑی بڑی خبریں اور واقعات سوشل میڈیا کی بدولت ہی بڑی خبریں اور بڑے بڑے واقعات بنے، زینب ریپ کیس سے لے کر نقیب اللہ محسود قتل کیس تک تمام بڑے کیسز سوشل میڈیا کی وجہ سے خبروں میں آئے، فوجی جیل سے احسان اللہ احسان کے فرار ہو جانے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اتنا کچھ لکھا اور بولا گیا کہ آئی ایس پی آر کو احسان اللہ ۔۔احسان کے فرار ہو جانے کے شرمناک واقعے کی تصدیق کرنا ہی پڑی،

افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے حال ہی میں ایک ٹرینڈ ”سینکشن پاکستان“ سوشل میڈیا میں ٹاپ پر آ گیا، یعنی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے کہ افغانستان میں جاری پرتشدد کارروائیوں اور طالبان کو خفیہ سپورٹ فراہم کرنے کے جرم میں پاکستان پر عالمی پابندیاں عائد کی جائیں۔ ”سینکشن پاکستان“ اتنا ٹرینڈ ہو رہا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ایک پریس کانفرنس کر کے سوشل میڈیا پر جاری اس ٹاپ ٹرینڈ کو ہمیشہ کی طرح بھارت اور افغانستان کی سازش کے ساتھ ساتھ پی ٹی ایم، ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار فیئر کے کھاتے میں ڈال کر جان چھڑانا پڑی۔

پاکستان کے خلاف بھارتی و افغانی سازشوں، پی ٹی ایم کی غداریوں اور ففتھ جنریشن وار فیئر کا قومی بیانیہ اپنی جگہ لیکن اگر آپ ٹویٹر پر جا کر اس ٹرینڈ کو سٹڈی کریں تو آپ کو حیرانی ہوگی کہ دنیا بھر سے ایسے ایسے لوگ اس ٹرینڈ کے ہیش ٹیگ بنا رہے ہیں کہ جو ہمارے اس قومی بیانیے کی زد میں بالکل بھی نہیں آتے، سب سے پہلے کینیڈین سیاست دان و سفارت کار کرس الیگزینڈر نے ٹویٹر پر ”سینکشن پاکستان“ ٹرینڈ کو شروع کیا جس کے بعد یہ ٹرینڈ لاکھوں کی تعدد کو پہنچ گیا۔

اب کرس الیگزینڈر کو آپ راء کا ایجنٹ سمجھتے ہیں تو سمجھتے رہیے، بہرحال اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ٹورنٹو میں اپنے کونسل جنرل عبدالحمید کے ذریعے کنزرویٹیو پارٹی آف کینیڈا کے سربراہ و اپوزیشن لیڈر کو کینیڈین سیاستدان و سفارت کار کرس الیگزینڈر کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست دے دی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کرس الیگزینڈر کے خلاف کارروائی کی درخواست تو دے دی لیکن عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور معاشرے کے دیگر افراد کی جانب سے چودہ اگست کی شام کو واشنگٹن میں وائیٹ ہاؤس کے سامنے ”سینکشن پاکستان“ پر عمل درآمد کے لیے جو احتجاجی مظاہرہ اور ریلی نکالی گئی اس کی درخواست کس کے خلاف دیں گے؟ بارہ اگست کو لندن کی سڑکوں پر نکلنے والی ریلیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کسے دیں گے؟

جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنانے، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں لگانے، آوازوں کو دبانے، صحافیوں کی زندگیوں سے کھیلنے، لوگوں کو زبردستی غائب کردینے اور درخواستیں دینے سے دنیا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے نہیں ہوا جا سکتا۔ دنیا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ہے تو پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ دنیا کے ساتھ ”ڈبل گیم“ کھیلنے کی عادت ہے تو پھر ذمہ داری اٹھانے کی بھی ہمت ہونی چاہیے۔ طالبان آپ کی پناہ گاہوں میں محفوظ ہوں، کوئٹہ شوری اور پشاور شوری کے اجلاس آپ کی نگرانی میں منعقد ہوں، اسامہ بن لادن کاکول ملٹری اکیڈمی کی بغل سے برآمد ہو اور آپ توقع کریں کہ دنیا آپ پر اعتماد کرے، ایسی صورت حال میں دنیا آپ پر اعتماد نہیں کرے گی بلکہ دنیا مطالبہ کرے گی کہ سینکشن پاکستان۔

Latest posts by اشتیاق آصف نقیبی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
اشتیاق آصف نقیبی کی دیگر تحریریں