میر انیس کے مرثیوں میں ہندوستانی ماحول کیوں ہوتا تھا؟

کبھی ایسا ہوا ہے کہ ایکشن فلم دیکھتے ہوئے بیچ میں ہارر سین آ جائے؟
آپ رومانٹک ناول پڑھ رہے ہوں اور بیچ میں اچانک سائنس فکشن شروع ہو جائے؟ اخباری کالم پڑھیں اور پتہ لگے یہ تو ایک افسانہ تھا؟
ایسا نہیں ہو سکتا، ہر فن پارے کا ژانرا (کیٹیگری) پہلے سے طے ہوتا ہے۔ یہی معاملہ مرثیے کے ساتھ ہے۔

جب کسی باہر والے ادیب کا ناول یا کہانی ہماری زبان میں ترجمہ ہوتا ہے تو اس میں ایک چیز کا خیال بہت زیادہ رکھا جاتا ہے، پڑھنے والا خود کو اجنبی محسوس نہ کرے۔ نام اجنبی ہو سکتے ہیں لیکن کردار اور ان کی زبان، وہ اردو ہو گی۔ پھر اگر کوئی ایسا سین ہے جس میں تفصیلات ایسی ہیں کہ جن کو پڑھنے والا سمجھ نہیں سکتا تو اسے قریب ترین مثالوں کے ساتھ سمجھایا جاتا ہے۔

میر انیس پہ جو اعتراض اٹھائے جاتے ہیں ان میں سب سے عام یہ ہیں کہ اول تو کربلا والوں کے رسم و رواج وہ نہ تھے جو ادھر ہم لوگوں کے ہیں، پھر یہ کہ بھلا وہ ہماری طرح رو کیسے سکتے تھے، ان کی خواتین ہماری گھریلو عورتوں والی زبان کیسے بول سکتی تھیں؟ ان کے یہاں مہندی کی وہ رسم کیسے ہوئی جو خالصتاً ہندوستانی شادیوں کا فنکشن ہے، ان کا لباس، اٹھنا بیٹھنا، سب کچھ میر انیس نے خالص ہندوستانی ماحول میں کر دیا جب کہ وہ سب تو عرب تھے۔

ایک مزید قصہ یہ اٹھایا جاتا ہے کہ میر صاحب نے بعض مقامات پہ غلو (جھوٹ بولنے ) کی حد کر دی۔ گھوڑے کی بات ہو رہی ہے تو اس کی صفتیں آسمانی ہیں، تلوار ہے تو اس کا مقابل کوئی نہیں، موسم کی شدت کا بیان ہے تو اس میں سوا نیزے والا معاملہ ہے اور جو بند گریے کے ہیں ان میں بھی ایسی کیفیت پیدا کر دی کہ جیسے میر انیس خود وہاں موجود تھے۔

مرثیے کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہوئی کہ اسے مذہب سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھا گیا۔

اٹھارہویں صدی، محرم کا ایک منظر (چیسٹر بیئٹی لائبریری ڈبلن)

میر صاحب کے زمانے کو دماغ میں رکھیں۔ غور کریں کہ ایک منبر ہے کہ جس پہ مرثیہ خواں بیٹھتا ہے، وہ جب پڑھ کے اٹھتا ہے تو لوگ اس کے ہاتھ پیر چومتے ہیں، گھٹنے چھوتے ہیں، اسے زور بیان بھی دکھانا ہے، اسے لوگوں کے سامنے مکمل منظر بھی پیش کر کے دکھانا ہے اور ایک مقام پہ آ کر وہ سامعین کو رلائے گا بھی۔

اب مرثیہ خواں جو ہے وہ ایک تھیٹر پرفارمر کے جیسا ہے۔ یہ سب چیزیں طے ہیں جو میں نے عرض کیں۔ جو اسے سننے آئے گا اس کے دماغ میں یہ سب لوازمات موجود ہوں گے۔

پھر کیا ہو گا، مارکیٹ میں کمپیٹیشن بھی ہے۔ دبیر بلاشک و شبہ انیس سے زیادہ برداشت رکھتے تھے، نرم طبیعت تھی، لیکن انیس کے یہاں معاملہ تھوڑا بڑھا ہوا تھا۔ دونوں طرف کے ہمنوا تھے کہ جن میں باقاعدہ گالم گلوچ اور سر پھاڑنے کی نوبت آ جاتی تھی۔ ایک گروپ کہتا کہ ہمارے انیس سے بڑا کوئی مرثیہ خواں نہیں اور دوسرا دبیر کو سر آنکھوں پہ بٹھاتا تھا۔

تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ اگر ایک پارٹی کے سننے والے دوسرے کی مجلس میں گئے تو گریے (رونے ) کے مقامات پر بھی خاموش رہے حالانکہ اس میں بہرحال مذہبی طور پہ ثواب کا عنصر بھی شامل خیال کیا جاتا ہے۔ میر انیس اور میرزا دبیر کے سننے والوں میں اس حد تک معاملہ پہنچ گیا کہ انیسیے جو تھے وہ سرعام کسی دبیریے سے ملنا یا سلام دعا تک پسند نہیں کرتے تھے، وائس ورسا بھی یہی تھا۔ لاگ بازی ایسی بڑھی کہ دونوں کی زندگی میں انیس کے شعر پہ ایک فتویٰ بھی کسی باہر کے مولانا سے لیا گیا۔

تو کل ملا کے اس صورتحال میں پہلے تو یہ سوچیے کہ مرثیہ کہتے وقت کیا دبیر یا انیس کا دماغ مسلسل مقابلے بازی والے پیٹرن پہ نہیں ہو گا؟

جو بھی مرثیہ کہنے بیٹھتا ہو گا اس کی سوچ یہی ہو گی کہ منظر ہو تو ایسا کہ سامنے والوں کو لگے جیسے صاف آنکھوں کے آگے سب کچھ ہو رہا ہے، ڈائیلاگ ہوں تو وہ سینے میں ترازو ہو جائیں اور عربی گھوڑے یا موسم کی صفت اگر بیان ہو تو اس طرح کہ مقامی اسے سنتے وقت اجنبیت محسوس نہ کریں۔ پھر سب سے بڑھ کے گریے کا معاملہ۔ کہ یہ فیصلہ کن مرحلہ ہوتا تھا، اب بھی ہے۔

مرثیہ آرٹ سمجھ کر پڑھا جائے تو آپ اس کی رمز پا سکتے ہیں اگر دماغ اس طرف الجھا رہے کہ یار ایسے کیسے ہو گیا، یہ تو وہاں تھا ہی نہیں، ادھر زور بیان بہت زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ، تو پھر نظم، غزل سے شوق فرمائیں، مرثیہ چیزے دیگر است۔

دیکھیے جب ہم الف لیلہٰ پڑھتے ہوئے سوال نہیں کرتے، حمزہ نامہ ہمیں پریشان نہیں کرتا، ہارر فلمیں ہم سکون سے ہضم کر لیتے ہیں، محیر العقول اساطیری واقعات آرام سے تسلیم کرتے ہیں تو مرثیہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ فن کے دائرے میں رہتے ہوئے اس پہ غور کرنا۔

مرثیہ کیا تھا؟ شاعرانہ پرفارمنس تھی۔ خود میر صاحب کے دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں صاحب نے کہیں تلوار کا ذکر کرتے ہوئے بجلی چمکنے کا نام لیا اور انہیں باقاعدہ محسوس ہوا کہ جیسے بجلی ان کے سروں پہ چمکی ہے۔ ایسے بے شمار واقعات نئیر مسعود کی ’انیس‘ نام کتاب میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

یہاں میر انیس کا ذکر اس لیے زیادہ ہے چونکہ وہ پرفارمنس پہ یا ’بتانے‘ پہ زیادہ دھیان دیتے تھے، دبیر کے یہاں ٹھہراؤ کی الگ کیفیت تھی۔

اب کیا ہے کہ اگر میر صاحب سیدھے سبھاؤ عرب ماحول کا ایک مرثیہ لکھتے جس میں نہ کوئی سبزہ ہوتا آپ کا، نہ پانی کی روانی آپ کے دریاؤں جیسی، نہ دھوپ کا عالم میدانی علاقوں والا، نہ بول چال اردو جیسی، نہ خواتین کے محاورے آپ جیسے، نہ رسمیں آپ والی تو آپ اس میں کس حد تک انٹرسٹ لے سکتے تھے؟

محرم، اینا مولکا احمد کی پینٹنگ (لاہور میوزیم)

برائے ثواب ایک الگ معاملہ ہے، انگریزی بولنے والا ذاکر بھی آئے گا تو لوگ اسی طرح احترام سے بیٹھیں گے، سنیں گے لیکن جہاں علم ہے کہ بھئی یہ ایک پوری کیفیت میں بیٹھنے اور سننے والا کام ہے تو ادھر کیسے سب کچھ لوگوں کو سمجھایا جائے؟

آپ دیکھیے، ایک مقام ہے، حضرت علی اکبر ہیں، بڑے بھائی ہیں، بہنوں کو کیا کیا ارمان اور دلار نہیں ہوتے بھائیوں کے لیے؟ بی بی صغریٰ ہیں، بیمار ہیں، حضرت سفر پہ روانہ ہونے لگے ہیں، پہلے وہ آ کر اہل خانہ سے نہیں ملے کہ آخر کس دل سے رخصت ہوں گے، اب جو دیر سے آئے ہیں تو بیمار بہن کیا کہتی ہیں ؛

چلائی بہن بھائی کی چھاتی سے لپٹ کر
اس سینے کے، ان ہاتھوں کے قربان یہ خواہر
فریاد ہے بے موت بہن مرتی ہے بھیا
تقدیر ہمیں تم سے جدا کرتی ہے بھیا
عرصہ ہو تو خط لکھ کے طلب کیجیو بھائی
اب بیاہ میں مجھ کو نہ بھلا دیجیو بھائی
وہ دن ہو کہ بوٹا سی تمہاری دلہن آئے
تم جیسے ہو بس ویسے ہی پیاری دلہن آئے
ہمشیر کو تربت میں نہ تڑپائیو بھائی
بھابھی کو مری قبر پہ لے آئیو بھائی
کیا گزرے گی جب گھر سے چلے جاؤ گے بھائی
کی دیر تو جیتا نہ ہمیں پاؤ گے بھائی
سانس اکھڑے گی جس وقت تو فریاد کروں گی
میں ہچکیاں لے لے کے تمہیں یاد کروں گی
اب ماں سنتی ہیں تو وہ کیا کہتی ہیں ؛
کیا بھائی جدا بہنوں سے ہوتے نہیں بیٹا؟
کنبے کے لیے جان کو کھوتے نہیں بیٹا؟

پھر اس سے آگے پورا منظر ہے کہ بی بی صغریٰ علی اصغر سے کیسے مخاطب ہوتی ہیں (وہ بھی واپس نہ آنے والے سفر پہ روانہ ہونے کو ہیں ) اور بخار میں ان کی طبیعت کا عالم کیا ہے۔

تو میں پورا کلام انیس اٹھا لوں، ایک ایک شعر سناتا جاؤں، ایک ایک پس منظر بتاتا جاؤں، ایک ایک کیفیت مجسم ہوتی جائے لیکن۔ لیکن جہاں دماغ معروضی طور پہ سوچنا شروع کرے گا ادھر سب کچھ ہوا ہو جائے گا۔

دیکھیے دنیا میں کوئی بھی چیز ہم عقیدت کے نام پر سن تو سکتے ہیں لیکن اس میں انسانی ہم آہنگی تبھی پیدا ہو گی جب زبان اور ماحول آپ کے اردگرد کا ہو گا، وہ نہیں ہے تو عزت ہے، احترام ہے، تمیز ہے، برداشت ہے لیکن والہانہ پن نہیں پیدا ہو سکتا۔

گریہ کدھر سے آتا ہے؟ شدت جذبات سے، شدت کہاں سے پیدا ہوتی ہے؟ والہانہ پن سے، والہانہ پن کب پیدا ہو گا، جب خود کو انسان اس منظر میں کھڑا محسوس کرے گا۔ اب جہاں فن کی معراج یہ ہے کہ جب مرثیہ ختم ہو تو لوگ بکا سے بے حال ہوں ادھر کیسے مرثیہ کسی دوسرے کلچر کو رپریزنٹ کر سکتا ہے؟

یہ عین جنگ کا منظر ہے، کچھ وضاحت نہیں کروں گا بس چند لائنیں اور بات ختم:
وہ دبدبہ وہ سطوت شاہانہ وہ شباب
تھرا رہا تھا جس کی جلالت سے آفتاب
وہ رعب حق کہ شیر کا زہرہ ہو آب آب
صولت میں فرد دفتر جرات میں انتخاب
تیور میں سارے طور خدا کے ولی کے ہیں
شوکت پکارتی ہے کہ بیٹے علی کے ہیں
پہونچے جو دشت کیں میں اڑاتے ہوئے فرس
گھوڑے کو ہاتھ اٹھا کے یہ آواز دی کہ بس
دیکھیں صفیں جمی جو چپ و راس و پیش و پس
نعرہ کیا کہ نہر پہ جانے کی ہے ہوس
روکے گا جو وہ موت کے پنجے میں آئے گا
ہٹ جاؤ سب کہ شیر ترائی میں جائے گا
روکے ہمیں نکل کے جو طاقت کسی میں ہو
لے تیغ میان سے جو شجاعت کسی میں ہو
گرمائے رخش کو جو حرارت کسی میں ہو
آئے جو حرب ضرب کی قدرت کسی میں ہو
دو ہاتھ میں علی کے پسر آر پار ہیں
دریا نہیں کہ رک گیا ہم ذوالفقار ہیں
کیا سمجھ میں آیا؟ جوش؟ تیز ردھم؟

مکمل موومنٹ؟ تو بس یہ کمال ہے۔ ابھی یہی دو تین بند آپ اونچی آواز میں پڑھیں تو کیفیت واضح ہو جائے گی، نہ سیکھنے کی ضرورت نہ سکھانے کی!

ہاں، آخری بات، مرثیے کا بہرحال سب سے زیادہ استادانہ گر یہ ہے کہ اسے اونچی آواز میں پڑھا جائے۔ دل میں پڑھتے ہوئے جو چیز سمجھ نہیں آتی وہ بلند آواز میں ادا کرتے ہوئے خود پانی ہو جاتی ہے۔ بالخصوص یہ خوبی میر صاحب کے مرثیوں میں بہت زیادہ ہے۔
یہ تحریر سب سے پہلے انڈی پینڈنٹ اردو پر شائع ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words