پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: پہلے ٹیسٹ میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف ایک وکٹ سے جیت، 'لوگوں کے غم آور ہوتے ہیں، ادھر غم جنم ہیں'


کرکٹ

Getty Images
کیمار روچ (بائیں جانب) اور جیڈن سیلز نے آخری وکٹ کے لیے 17 رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کو ایک وکٹ سے جیت دلوا دی

جمیکا میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو ایک وکٹ سے شکست دے دی۔

محض 168 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے ہیرو ان کا فاسٹ بولر کیمار روچ رہے جنھوں نے انتہائی شاندار اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 30 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرا کر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی۔

پاکستان کی جانب سے ان کے چاروں فاسٹ بولرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن وہ کھیل کے آخری سیشن میں پاکستانی فیلڈرز کی جانب سے کئی اہم کیچ ڈراپ ہونے کے باعث جیت سے دور رہے۔

ان ڈراپ کیچز میں کیمار روچ کے بھی کم از کم دو کیچ شامل تھے جن میں سے ایک تو شاہین آفریدی کی گیند پر حسن علی نے چھوڑا تھا جب وہ 16 رنز پر کھیل رہے تھے اور انتہائی آسان کیچ تھا۔

ویسٹ انڈیز کی طرف سے کیمار روچ کے علاوہ جرمائین بلیک ووڈ نے سب سے عمدہ بیٹنگ کی اور 55 رنز بنائے۔

میچ کا سکور کارڈ

پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی نے چار وکٹیں جبکہ حسن علی نے تین اور فہیم اشرف نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

اپنا دوسرا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے 19 سالہ جیڈن سیلز کو دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں اور میچ میں آٹھ وکٹیں لینے پر مین آف دا میچ کا اعزاز ملا۔

واضح رہے کہ گذشتہ دس سالوں میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں صرف دو بار کسی ٹیم نے 170 سے کم کے ہدف کا کامیابی سے دفاع کیا جس میں سری لنکا نے 2017 میں پاکستان کو 135 رنز حاصل کرنے سے روکا اور اس اس سے قبل 2012 میں پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف 144 کا دفاع کیا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں یہ 15واں موقع تھا جب کسی ٹیم نے ایک وکٹ سے جیت حاصل کی ہو۔ ویسٹ انڈیز نے یہ کارنامہ تین بار انجام دیا ہے اور ان میں سے دو بار ان کے مدمقابل پاکستان کی ٹیم تھی۔

کرکٹ

Getty Images
پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی نے میچ میں آٹھ وکٹیں حاصل کیں

میچ کے دیگر دنوں کے مقابلے میں آخری دن رات گئے پاکستانی سوشل میڈیا پر شائقین نے اپنے تبصروں سے ٹوئٹر ٹائم لائن کو گرمائے رکھا۔

کچھ صارفین نے پاکستان فیلڈنگ پر تنقید کی بوچھاڑ کی تو کہیں پر دیگر نے ماضی میں پاکستان کی ایسی ہی مختلف شکست کو یاد کیا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ سے منسلک حسن چیمہ میچ میں شکست کے بعد پاکستان کی چند مشہور شکست کی تاریخیں لکھ کر تبصرہ کرتے ہیں کہ ‘لوگوں کے غم آور ہوتے ہیں، ادھر غم جنم ہیں۔’

دوسری جانب کئی صارفین نے بابر اعظم کی کپتانی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صارف سرخیل کہتے ہیں کہ بہت ہی بری فیلڈ پلیسنگ تھی، اور پھر ڈراپ کیچز اور کمزور کپتانی۔

ایک اور صارف عمیر اسلم لکھتے ہیں کہ ‘آپ کے پاس 15 رنز تھے دفاع کرنے کے لیے۔ کھلاڑیوں کو اندر لانا تھا۔ ٹیل اینڈرز کو اونچا کھیلنا پر مجبور کرنا تھا تاکہ وہ خطرات مول لیں۔ لیکن نہیں، بابر اعظم سب کو باؤنڈری پر رکھا۔’

صارف دانیال نے البتہ ٹیم کی ہمت بڑھاتے ہوئے لکھا کہ بولرز نے شیر دلی کا مظاہرہ کیا اور روچ کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے دباؤ کا بھرپور طریقے سے سامنا کیا۔

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر بھی میچ دیکھ رہے تھے اور جیسے ہی پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات ڈھائی بجے کیمار روچ نے وننگ شاٹ کھیلا، شعیب اختر نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ‘چلو، سو جاؤ۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words