دھن کی پکی ( افسانہ)۔

”کس قدر قدیم عمارت ہے یہ ہمسائی جامعہ،“ زارا نے سوچا اور اپنی انگلیوں کے پوروں سے اس کے ایک ستون کو چھوا۔ اس ستون کا رنگ اتر کر زارا کی انگلیوں کے پوروں سے لگ گیا۔ زارا خوش تھی، اس کے گال خوشی سے تمتما رہے تھے کہ آج اس ادارے میں آ کر اسے اپنی زندگی کی بہت بڑی خوشی مل گئی، یہ خوشی اس کی منزل سے متصل تھی۔ وہ بے حد پریشان تھی مگر اس عمارت کے فسوں میں خود کو غرق کرنا چاہتی تھی۔ ایک راہداری سے دوسری راہداری کا یہ سفر اسے جنموں کے کسی سفر کا شاخسانہ لگ رہا تھا۔

اس نے خود سے کہا ”میں اس ساری جگہ سے واقف ہوں، یہ سب پہلے بھی دیکھ رکھا ہے، مطلب! ژونگ نگوڑا صحیح کہتا ہے کہ ہمارے آرکی ٹائپس، ہمارے ساتھ ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ مگر یہ تو شاید کچھ روحانی ہے۔ روحانیت بھی منتقل ہوتی ہوگی آرکی ٹائپس میں، ہاں ضرور ہوتی ہو گی۔“ اس نے سوچا اور قدم آگے بڑھا دیے۔ وہ سوچ رہی تھی، پریشان تو وہ ویسے ہی رہنے کی عادی رہی ہے۔ یہ پریشانی اسے وراثت میں ملی تھی؛ بہت سوچنے کے بعد وہ اسی نتیجے پر پہنچی تھی۔ مگر وہ چاہتی تھی کہ لمحہ موجود میں جیئے، ابھی جو ہے وہی زندگی ہے، اس سے حظ اٹھائے مگر اس کا نرچر اس کی نیچر کو کھا جاتا تھا ہمیشہ ہی تو ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ خوش رہنا چاہتی تھی مگر اسے ماضی اور مستقبل کی فکریں ہر وقت گھیرے رکھتیں، وہ ہمیشہ پریشان رہتی۔

”اب ہر بات کو لفظوں میں تو بیان نہیں کیا جاسکتا ناں!“ وہ اکثر خود سے سوال کرتی۔ اسے لگتا ہے کہ شاید وہ جو بھی کہتی ہے اس کا وہ مطلب نہیں ہوتا جو وہ کہنا چاہتی ہے۔ کچھ اس کی زودگوئی بھی اس کا سبب تھی۔ مگر اپنی زبان کو لگام ڈالنے کا خیال اب اس نے چھوڑ دیا تھا۔ اسے بس اب لوگوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، اسے آزادی چاہیے تھی سارے رسم و رواج اور بندھنوں سے، خودساختہ پریشانیوں سے، مستقبل کی فکروں سے۔

ایک چیز میں وہ کامیاب ہو چکی تھی، وہ تھی ماضی کی ہولناکیاں بھلانا۔ اسے یاد کرنے پر بھی ماضی سے کچھ یاد نہیں آتا تھا۔ وہ اس بات پر بہت ہنستی۔ اب تو ہنسنا بھی آسان ہے ماسک جو لگایا ہوتا ہے اور پھر وہ اور ہنسی اور ہنستی ہوئی ایک لان کے کنارے جا کھڑی ہوئی۔ لان کو یا تو وہ ایک کنارے سے باہر کھڑی ہو کر دیکھتی تھی یا پھر اس کے بالکل درمیان میں بیٹھتی تھی، جب بھی گھاس دیکھتی جوتا پہننا اسے کوئی پاپ لگتا اور وہ اپنے پاؤں زمین پر رکھ کر جیسے اس گھاس کی جڑوں کو اوپر سے اگا کر اپنے پیروں کی تلیوں سے اپنی نسوں میں سرایت کرتا ہوا محسوس کرتی۔ مگر آج اس کے پاس وقت نہیں تھا۔ آج اسے کچھ کام تھا اس سرخ عمارت والی جامعہ کی لائبریری میں تو وہ وہاں جا بیٹھی اور لگی کتابوں کی لسٹیں دیکھنے۔

آج سویرے سویرے وہ اپنے شہر سے اپنی یونیورسٹی پہنچ گئی تاکہ اپنی مرضی کی سیٹ پر بیٹھ سکے اور زیادہ وقت مل جائے پڑھنے کے لئے۔ سات آٹھ گھنٹے تو بہت کم لگتے تھے اسے۔ مگر اتنا پڑھا بھی نہیں جاتا تھا کہ سر درد کی شدت سے پھٹنے لگتا۔ مگر وہ وہاں پہنچی اور کتابوں کو جمع کر، اپنا کام شروع کر دیا۔ دو ایک گھنٹے میں اس کے کلاس فیلوز اور جونیئر وہاں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ سینئرز تو اسے کم ہی ملتے تھے جو ملتے تھے وہ رشک کی نظر سے ہی دیکھتے تھے اور بات ذرا کم ہی کیا کرتے تھے اور جو بات کرتے تھے وہ لوگوں کو جا کر بتانے کے لئے کہ آج ہم سے زارا سے یہ بات کی وہ بات کی۔

زارا سب جانتی تھی مگر محبت اور اپنائیت سے، عزت کی بہتات سے بات کرتی کہ شاید ان لوگوں کو کچھ شرم آ جائے اور اس عزت کے بوجھ تلے ہی یہ لوگ کچھ انسانیت کے دائرے میں رہیں مگر یہ سب کہاں ہضم ہوتا ہے ایک خاص پراجاتی کو، وہ تو بس اپنی زبان کا استعمال کرنا جانتے ہیں اور وہ بھی سرانڈ کے ساتھ۔ زارا کا دوست بھی آ گیا جو کے زارا سے بھی زیادہ سڑا ہوا انسان ہے۔ آ کر سیدھا ہی اس کی جمع کی ہوئی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔

زارا نے حسب عادت اس سے کتابیں چھینیں کہ ”خبردار جو میری کتابوں میں سے کوئی کتاب اٹھائی تو خود جا کر اپنی کتابیں ڈھونڈو یہ بس مجھے پڑھنی ہیں۔“ احمد اس سے بھی زیادہ حساس تھا فوراً اٹھ کر چلا گیا، کافی غصہ بھی کیا۔ زارا اسی وقت پریشان ہو گئی کہ ”یار! احمد کو پھر ناراض کر دیا، بیچارہ بس کتابیں دیکھ ہی تو رہا تھا، کون سی میں نے ساری پڑھ لینی تھیں؟“ وہ اسے الماریوں سے کتابیں نکالتے دیکھتی رہی اور اپنی پڑھائی سے بالکل دھیان ہٹ گیا۔

اس کا دل بہت برا ہو رہا تھا۔ پھر ہمت کر کے اٹھی اور جا کر احمد سے کہا کہ وہ مذاق کر رہی تھی، احمد نے غصے سے ایک کتاب الماری میں پھینکی اور بولا میری عزت ہے اور تم ہر وقت سب کے سامنے میری بے عزتی کرتی رہتی ہو۔ جاؤ جا کر پڑھو۔ میں خود دیکھ لوں گا جو بھی پڑھنا ہے مجھے۔ میں پچھلے ڈھائی سال سے اس لائبریری میں آتا ہوں، کتابوں کے صفحوں کے نمبر تک یاد ہیں مجھے۔ وہ بہت غصے میں تھا۔ زارا کو خود پر ہی غصہ آیا کہ جب اس سے کتابیں چھین لی تھیں تو پھر واپس اس کے پاس کیوں گئی اب وہ اور زیادہ شوخا ہو رہا ہے۔

وہ اپنے آنسو روکتی آ کر پھر سے اپنی کرسی پر بیٹھ گئی اور پڑھنے کی کوشش کرنے لگی کہ احمد آ کر سامنے بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ زارا اٹھی اور بالکنی میں جاکر کھڑی ہو گئی اور اپنی یونیورسٹی کی قدیم عمارت کی طرز تعمیر کو دیکھنے لگی۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ گوئتھک طرز تعمیر ہے۔ اس کی یونیورسٹی کی عمارت کا رنگ سرخ نہیں تھا۔ وہ دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ یہ کیا رنگ ہے۔ نہ اسے زرد رنگ کہا جا سکتا ہے تو پھر؟ احمد آ گیا اور بولا کہ ”کیا ہوا؟

یہاں کیوں کھڑی ہو؟ چھلانگ لگا کر خودکشی کرنی ہے کیا؟“ اور زور زور سے ہنسنے لگا۔ زارا کو اور دکھ ہوا کہ پہلے لڑ رہا تھا اب مذاق اڑا رہا ہے۔ وہ بولی ”نہیں، بس رنگ کا تعین کر رہی ہوں، یہ کون سا رنگ ہو سکتا ہے؟ اس کا نام کیا رکھوں؟“ اس پر احمد نے ایک گہری نظر ٹاور پر ڈالی اور بولا کہ ”اس کا رنگ ’بادامی قرمزی‘ ہے، جسے ہم عام زبان میں مارون کہتے ہیں۔ اچھا مجھے بہت بھوک لگی ہے میں ابھی کیفے جا رہا ہوں۔

تم اندر جا کر پڑھو جو تمہارا کام ہے کرنے کا تم رہ گئی کسی ماہر آثار قدیمہ کی اسٹنٹ کے یہاں کھڑی ہو کر لگی ہو رنگ مختص کرنے فضول میں، پیپر میں تم نے رونا ہے جاکر۔ تین دن رہ گئے جا کر پڑھو، پڑھو اور بس پڑھو۔ ایک دن دنیا تمہارا حوالہ دے گی، میرے استاد نے مجھے یہی سکھایا ہے۔“ یہ سب کہہ کر احمد اپ والی سیڑھیوں سے ڈاؤن چلا گیا اور زارا پھر سے تلملا کر رہ گئی کہ یہ ہمیشہ غلط سیڑھیوں سے نیچے کیوں جاتا ہے پھر احمد کے استاد کے بارے میں سوچا کہ ”وہ کتنا زیادہ پڑھے لکھے ہیں، زارا کبھی ان کے جتنا پڑھ بھی پائے گی یا نہیں۔“ کچھ دیر وہیں کھڑی سوچتی رہی پھر وہ لائبریری میں گئی اور پڑھنے بیٹھ گئی۔

اس دن بہت بارش ہوئی تو زارا بار بار لائبریری کے سامنے کی بالکونی سے آ آ کر لانز کو دیکھ رہی تھی وہ بھیگ کر سبز تر ہو گئے تھے، سب کو دیکھتی جو بھی بھیگ کر لائبریری میں داخل ہوتا۔ اس کے اندر کی بے قراری اسے کچھ بھی سمجھنے نہیں دیتی تھی کہ وہ کیسے خود کو ان موسموں اور احساسات سے الگ کرے۔ کبھی اس کا دل کرتا کہ وہ گھنے درختوں کے نیچے جا کر گھومے جہاں سورج کی ایک کرن بھی نہ پہنچتی ہو۔ مصیبت یہ ہوئی کہ اس نے ایک ایسی جگہ دیکھی بھی اور وہاں جانے کی چاہ ابھی اس کے دل میں جاگ اٹھی۔

مگر وہ وہاں کیسے جا سکتی تھی۔ وہ سوچتی رہی، کبھی اسے ان تمام ناقدین، شعراء، مصنفین اور محققین پر بہت پیار آتا کہ یہ لوگ ہمارے لئے کتنا کچھ لکھتے ہیں مگر اسے جیسے ہی پتہ چلتا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں تو زارا بے اختیار اکثر رو پڑتی کہ اب وہ ان سے بھی نہیں مل سکے گی۔ احمد نے اسے کئی بار منع بھی کیا کہ وہ فضول میں جذباتی ہوتی رہتی ہے، وہ بھی بس محنت کرے اور آگے بڑھے۔ پیپر ہوا اور زارا کا پیپر بہت اچھا ہوا۔ لیکن وہ پھر بھی پریشان تھی کہ سیکنڈ سمیسٹر کا سلیبس بہت مشکل ہے اور استاد بھی بہت سخت ہیں وہ زارا کو فیل کردیں گے۔ احمد نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور بولا کہ ”خوش رہا کرو، تب کی تب دیکھیں گے، ابھی دیکھو تمہارا رزلٹ اچھا آ جائے گا، پیپر اچھا ہو گیا ہے۔“ زارا خاموش ہو گئی۔

کچھ دنوں میں اگلا سمیسٹر بھی شروع ہو گیا۔

زارا وہی پریشان کی پریشان، ہر وقت رونی سی شکل بنا کر لائبریری میں بیٹھی رہتی۔ ایک دن اٹھی اور جا کر اپنی یونیورسٹی کے ٹاور کے ساتھ بنی بالکونی سے نظر آنے والے گراؤنڈ کو دیکھنے لگی۔ یہ بیضوی تو نہیں ہے تو پھر اسے بیضوی کیوں کہتے ہیں؟ وہاں کبوتر غٹرغوں غٹرغوں کر رہے تھے۔ زارا سوچ رہی تھی، سوچ رہی تھی، سوچ رہی تھی۔ پھر سوچا کہ یہ سمیسٹر تو بہت مشکل ہے کیسے پاس کروں گی اور وہ بالکنی کی منڈیر سے اور زیادہ نیچے کو جھک گئی اور گہری سوچوں میں غرق ہو گئی۔

نیچے دیکھ ہی رہی تھی کہ اسے پچھلی بالکونیوں میں شور سنائی دیا وہ ہڑبڑا گئی کہ یہ آوازیں کہاں سے آ رہی ہیں یہاں تو کسی کا بھی آنا جانا بہت کم ہے وہ پہلے بھی اکثر یہاں آ کر کھڑی ہوتی ہے کبھی کوئی نہیں آیا تو آج؟ زارا کو لگا کہ شاید کوئی جھگڑا ہو گیا ہے وہ مڑی اور ایک دوسری راہداری سے ان لوگوں کو دیکھنا چاہا۔ ان کی باتیں سن کر زارا کا دماغ گھوم گیا وہ کہہ رہے تھے ”یہاں ایک لڑکی کھڑی تھی، کہاں گئی۔ وہ پریشان لگ رہی تھی اور کود کر وہ شاید خودکشی کرنا چاہتی تھی۔

“ کچھ میڈمز اور سٹوڈنٹس بھی ان میں شامل تھیں اور ساتھ میں گارڈز بھی۔ زارا کو بے ساختہ ہنسی آئی اور وہ اوپر کے راستے سے گھوم کر واپس لائبریری میں آ کر بیٹھ کر پڑھنے لگی۔ آج کا دن اس کے لئے انتہائی مضحکہ خیز ثابت ہوا۔ مگر زارا جانتی تھی کہ تھوڑی دیر تک ہی یہ اثر رہے گا وہ پھر سے اسی اداسی اور تفکر کی گرفت میں آ جائے گی مگر پھر بھی وہ اس لمحے کو آج انجوائے کر رہی تھی کہ وہ سوچتے ہوئے ایسی لگتی ہے اور بہت زیادہ مسکرا رہی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words