کابل بھی طالبان کا ہوا

کچھ دن قبل ایک تقریب مین خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے کہا کہ وہ سابق افغان بادشاہ امان اللہ کی عزت کرتے ہیں تاہم وہ بھاگ گئے تھے اور میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ اشرف غنی نے یہ الفاظ ایسے وقت میں کہے جب طالبان کے قدموں کی چاپ کابل میں سنائی دے رہی تھی مگر وہ خود کو ایک جنگجو کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ مگر ہوا کچھ یوں کہ امریکی آشیر باد سے تحت کابل پر براجمان اشرف غنی نے صدارتی محل میں بلا روک ٹوک داخل ہونے والوں سے محفوظ راستہ مانگا اور سابق افغان بادشاہ امان اللہ خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کابل کیا افغانستان ہی چھوڑ کر بذریعہ ہوائی جہاز تاجکستان پہنچے پھر وہاں سے میڈیا ذرائع کے مطابق اپنی اہلیہ زولا غنی، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب اور صدارتی آفس کے ڈائریکٹر جنرل فضل فضلی کے ہمراہ عمان چلے گئے۔ طالبان کا تمسخر اڑانے والے فیلڈ مارشل رشید دوستم بھی چوری چھپے ازبکستان پہنچنے میں کامیاب ہو گئے آج ان کے محل کے لان میں طالبان وکٹری واک کرتے پھر رہے ہیں۔

طالبان جب کابل شہر میں چار اطراف سے داخل ہوئے تو شہریوں کی جانب سے طالبان کا استقبال کیا گیا اور کہیں پر لڑائی نہیں ہوئی حتی کہ کابل فتح کی خوشی میں ہونے والی ہوائی فائرنگ کو بھی سختی سے روک دیا گیا۔ طالبان نے کابل کی پر امن فتح کے بعد ملا شیریں کو کابل کا گورنر مقرر کر دیا۔ ملا شیریں طالبان رہنما ملا عمر کے قریبی ساتھی ہونے کے علاوہ طالبان کے ملٹری کمیشن کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ طالبان رہنما ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو بتایا کہ کابل میں تمام سفارت خانوں، سفارتی مشیر، بیرونی اداروں، رہائش گاہوں اور غیر ملکی شہریوں کو طالبان کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہم انہیں تحفظ کا یقین دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کابل میں پورے اعتماد کے ساتھ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی امارت فورسز کو کابل سمیت دیگر شہروں کی سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر افغان قوم کو مبارک باد دی کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی پوری مسلم امت بالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہین۔ اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں۔ ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے۔

طالبان نے محض کابل کو فتح ہی نہیں کیا بلکہ وہ تمام ضروری کام بھی شروع کر دیے جن کو انتظامی طور پر فی الفور کرنا چاہیے تھا۔ طالبان رہنما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ وسیع تر مشاورت سے کیا جائے گا اور طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اور ان کے معاونین افغانستان میں ہیں اور کابل میں سکیورٹی انتظامات کے بعد وہ یہاں آئیں گے۔

سابق صدر اشرف غنی اور ان کے حکومتی عہدیداروں کے کابل چھوڑنے کے بعد کابل میں کوارڈینیشن کونسل قائم کی گئی جس میں سابق افغان صدر حامد کرزئی، اعلی قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار شامل ہیں۔ جبکہ میڈٰیا ذرائع کے مطابق افغانستان کے تاجک رہنما صلاح الدین ربانی، یونس قانونی، احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیا مسعود، احمد ولی مسعود، ہزارہ رہنما استاد محقق، کریم خلیلی، استاد عطا نور کے بیٹے خالد نور اور افغان قومی اسمبلی کے سپیکر رحمانی پی آئی اے کے خصوصی پرواز سے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

دنیا بھر سے طالبان کی پیش قدمی اور آسان فتح پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ تاہم بہت سے ممالک کو افغان فورسز کے اس طرح سرنڈر کرنے پر سخت تشویش لاحق ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ طالبان کو بطور افغان حکومت تسلیم نہیں کرنا چاہیے اور افغانستان کی صورتحال پر نیٹو اور اقوام متحدہ کا اجلاس بلایا جائے۔ یورپین یونین کے فارن ریلیشن کے کو چیئر کارل بلیت نے کہا کہ یہ غم اور دکھ کا دن ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے بہت سے لوگوں نے افغان عوام کی مدد اور ایک بہتر جمہوری مستقبل کے لیے سخت محنت کی۔ اس طرح بے حیائی سے نکلنا ایک رسوائی ہے

سوال یہ ہے کہ افغان فورسز کا ہتھیار ڈال دینا اور طالبان کا باآسانی افغانستان کے دیگر علاقوں سمیت کابل کو کسی خون خرابے کے بغیر فتح کرلینا طالبان کی بہترین جنگی حکمت عملی تھی، یا یہ سب کچھ کسی طے شدہ معاہدے کا حصہ ہے۔ اگر یہ طالبان کی کامیابی ہے تو کیا اس خطے میں باہم جڑے ہوئے جہادی افغانستان، انقلابی ایران اور اسلامی جمہوریہ پاکستان امریکہ اور انڈیا کو منظور ہوں گے۔ کیا امریکہ افغانستان میں چین، روس، ایران اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو قبول کر لے گا۔ کچھ تو ہے جو اس سیاسی آئس برگ کی تہہ میں چھپا ہوا ہے جو نظر نہیں آ رہا مگر وجود رکھتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وقت آنے پر کیا سامنے آتا ہے

حرف آخر یہ کہ طالبان تخت کابل پر براجمان ہوچکے ہیں اب ان کا امتحان شروع ہو گیا ہے کہ وہ خود کو کس طرح دنیا کے لیے قابل قبول بناتے ہیں۔ کس طرح ایک ایسی حکومت تشکیل دیتے ہیں جو افغانیوں کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک کو قبول اور منظور ہو۔ جو بھی ہے ایک بات تو طے ہے کہ کابل کی فتح کے بعد کم سے کم ہندوستان کے لیے مشکلات اور پریشانیوں کے دن شروع ہو گئے ہیں اور پاکستان اپنے حالیہ موقف اور جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے بہت بہتر پوزیشن میں ہے۔ بہتری کی امید کے ساتھ دیکھنا ہوگا کہ افغانستان کے حالات کس کروٹ جاتے ہیں۔ بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ طالبان شعوری طور پر پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں کہ اکیلے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words