ضیاالحق کا یوم وفات: ’سی 130 کریش ہو چکا تھا۔۔۔ میں نے کپتان کو کہا سیدھے راولپنڈی چلو‘

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد

ضیا
BBC
’سامنے دھواں نظر آ رہا تھا، اگلے ہی لمحے ہمارا طیارہ اس کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ وہاں ایک ہیلی کاپٹر بھی اُتر رہا تھا، ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے رابطہ کیا تو اُس نے بتایا کہ ’پاکستان ون‘ (سی ون تھرٹی) کریش ہو گیا ہے اور کوئی نظر نہیں آ رہا۔‘

’اس قسم کے حالات میں مجھے اہم فیصلہ کرنا تھا۔ اگر میں جائے حادثہ پر پہنچ بھی جاتا، تو کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ اسی لیے میں نے پائلٹ کو کہا کہ سیدھے راولپنڈی چلو۔‘

یہ کہنا ہے جنرل اسلم بیگ کا جو اس جائے حادثہ کا فضائی معائنہ کر رہے تھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ سی ون تھرٹی طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا جس میں دیگر افراد کے ہمراہ صدر پاکستان جنرل ضیا الحق بھی سوار تھے۔

حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی سوانح حیات ’اقتدار کی مجبوریاں‘ میں جنرل اسلم بیگ نے حادثے کے روز اور اس کے پہلے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ضیاالحق کی ہلاکت کے بعد جنرل اسلم بیگ فوج کے سربراہ بنے تھے۔

جنرل اسلم بیگ اس حادثے کے وقت وائس چیف آف سٹاف تھے۔

17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب پیش آنے والے اس مبینہ فضائی حادثے میں صدر جنرل ضیا الحق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر رحمان، امریکی سفیر آرنلڈ لوئس رافل سمیت 30 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جوڑ توڑ سے الخالد ٹینک کی تیاری

الخالد

Getty Images

اسلم بیگ لکھتے ہیں کہ سنہ 1988 میں الخالد ٹینک کا پروٹو ٹائپ چین اور پاکستان کی مشترکہ کوششوں سے مکمل ہو رہا تھا جس کے ساتھ ٹرائل کے لیے امریکہ کا ’ایم ون ابراہم‘ ٹینک پاکستان لانے کی تیاریاں تھیں۔

’سینیئر افسران اور خود جنرل ضیا کو یقین نہیں تھاکہ ہم کوئی ایسا ٹینک بنا سکیں گے جو دور حاضر کے جنگی تقاضوں کے مطابق ہو۔ ایم ون ابراہم ٹینک کی لابی بڑی مضبوط تھی اور صحیح بھی تھا کہ اس وقت سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی کے حوالے سے یہ ایک بہترین ٹینک تھا۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ اسی دورانیے می انڈیا نے بھی ٹینک بنانے کی کوشش کی لیکن اُن کی ساری کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور جب ان ناکامیوں کا بغور جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ (انڈیا) ٹینک اور اس میں نصب تمام سسٹمز کو خود بنانے کی کوشش کرتے رہے تھے۔

’الخالد ٹینک سے قبل پاکستان ٹینک کے بیرونی ڈھانچے اور ٹریک وغیرہ ٹی 59 ٹیک کے پروگرام کے تحت بنا رہا تھا، باقی نظام پاکستان نے جرمنی اور یورپ سے لیے، یہ تمام ٹیکنالوجی بازار میں بکتی تھی۔ لیکن اصل کمال پاکستانی اور چینی ماہرین کا تھا جنھوں نے جوڑ توڑ کر کے ایک بہترین ٹینک تیار کیا اور اس میں وہ تمام عوامل شامل کر دیے جو ہماری ضرورت تھی۔ ہماری حکمت عملی کامیاب ہوئی الخالد ٹینک کے تین نمونے تیار ہوئے اور حتمی ٹیسٹ کے لیے الخالد اور ایم ون ٹینک ملتان پہنچ گئے۔‘

جنرل اختر کا شکوہ

الخالد اور ایم ون ٹینک کی آزمائش بہاولپور کے قریب واقع ’ٹامے والی‘ فائرنگ رینج میں رکھی گئی۔ اسلم بیگ لکھتے ہیں کہ بہاولپور جانے کے لیے جی ایچ کیو نے اہم شخصیات اور متعلقہ افسران کی دو فہرستیں تیار کیں، ایک جنرل ضیا کا گروپ تھا اور دوسرا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمان کا۔

دوسرے گروپ نے تین دن بعد ٹرائل دیکھنا تھا جبکہ پہلا ٹرائل 17 اگست کو تھا۔ ’اس سے ایک دن پہلے جنرل اختر عبدالرحمان مجھے گالف کورس میں ملےاور شکایت کی کہ انھیں پہلے گروپ میں کیوں نہیں رکھا؟ میں نے کہا اصول کے تحت سب سینیئر افسران ایک طیارے میں سفر نہیں کرتے جس پر وہ خاموش ہو گئے۔‘

جنرل اسلم بیگ پہلے سے موجود تھے

جنرل اسلم بیگ مزید لکھتے ہیں کہ 17 اگست کو جنرل ضیا الحق تقریباً صبح 11 بجے قافلے کے ساتھ اپنے خصوصی جہاز سی ون تھرٹی سے بہاولپور پہنچے۔ ضیاالحق کے بہاولپور پہنچنے سے پہلے اسلم بیگ اُن کے استقبال کے لیے بہاولپور پہنچ چکے تھے۔ جب ضیاالحق آئے تو اُن کے ساتھ جنرل اختر عبدالرحمان، امریکی سفیر، اُن کے ملٹری سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران تھے۔

ایئرپورٹ کے لاؤنج میں فریش اپ ہوئے اور دو ہیلی کاپٹروں میں مہمانان خصوصی ٹامے والی رینج کی طرف روانہ ہوئے، ٹرائل ٹیم کے سربراہ میجر جنرل محمود درانی، اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔

’ٹرائل شروع ہوا جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، الخالد ٹینک تمام آزمائشوں میں کامیاب ہوا، امریکی ابراہم ایم ون ٹینک صرف چند ایک آزمائشوں میں کامیاب ہوا، اس کے نتیجے پر سب کو حیرت ہوئی لیکن اپنی آنکھوں سے دونوں ٹینکوں کی کارکردگی دیکھنے کے بعد شک و شبے کی گنجائش نہیں رہی۔‘

اسلام آباد کنٹرول کا پاکستان ون سے رابطہ

اسلم بیگ کے مطابق آزمائشی مشق دیکھنے کے بعد وہ تقریباً ڈیڑھ بجے بہاولپور کے لیے روانہ ہوئے اور ہیڈ کوارٹر میں تمام شرکا کے لیے کھانے کا انتظام تھا۔ ظہر کی نماز پڑھی اس کے بعد وہاں موجود بہاولپور کی کچھ شخصیات کے ساتھ جنرل ضیا نے ملاقات کی اور پھر تقریباً ساڑھے چار بجے وہ بہاولپور ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔

‘میں جنرل ضیا کے ساتھ تھا اور انھیں جہاز تک چھوڑنے آیا۔ سب لوگ جہاز میں بیٹھ چکے تھے۔ جہاز میں داخل ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آپ بھی آ رہے ہیں۔۔۔ آئیے۔۔۔ مگر آپ کا تو اپنا جہاز ہے، جی ہاں میں اپنے جہاز سے آؤں گا اللہ حافظ۔‘

’ان (ضیاالحق) کا جہاز ٹیک آف ہوا اس کے بعد میں بھی روانہ ہوا۔‘

اسلم بیگ لکھتے ہیں کہ ابھی کوئی دس منٹ ہوئے تھے کہ اُن کے پائلٹ کرنل منہاج نے پریشانی کے عالم میں بتایا ’سر اسلام آباد کنٹرول کا پاکستان ون سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے، میں بھی کوشش کر رہا ہوں لیکن کوئی ریسپانس نہیں ہے، سب دعائیں پڑھنے لگے۔‘

’پائلٹ نے بتایا سامنے دھواں نظر آ رہا ہے اور دوسرے لمحے ہمارا جہاز اس کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ ایک ہیلی کاپٹر بھی اُتر رہا تھا، جو ملتان جا رہا تھا، ہمارا جہاز اوپر چکر لگاتا رہا، ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے رابطہ کیا کیا انھوں نے بتایا کہ سی 130 کریش ہو گیا ہے، آگ لگی ہوئی ہے، کوئی نظر نہیں آ رہا۔‘

ضیاالحق

Getty Images

اقتدار اپنے ہاتھ میں لینا یا دینا ہے

اسلم بیگ بتاتے ہیں کہ ’جی ایچ کیو رابطہ کیا تو وہاں حالات پُرسکون تھے۔ حکم دیا فارمیشنز کو ریڈ الرٹ کر دو اور اگلے حکم کا انتظار کرو، میرے ساتھ جہاز میں بیٹھے ہوئے آفیسرز میری طرف دیکھ رہے تھے اور میں گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ اقتدار اپنے ہاتھ میں لینا ہے یا اسے دینا ہے، جس کی امانت ہے۔‘

’ذہن میں والد کی نصیحتیں چل رہی تھی کہ حقدار کو اس کا حق دیں کیونکہ 1985 کے بعد 1988 میں بھی میں نے جنرل ضیا الحق کو مشورہ دیا تھا کہ الیکشن کرائیں اور اقتدار عوام کو سونپ دیں۔‘

’اب جب حالات نے مجھے اس مقام پر لا کر کھڑا کیا تھا اور مجھے خود فیصلہ کرنا تھا تو دیے گئے مشوروں کے برعکس فیصلہ کرنا مشکل تھا۔‘

’میں نے فیصلہ کیا کہ اقتدار عوام کی امانت ہے انہی کو دیا جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

جنرل ضیا کی واپسی

کیا انڈیا کا نیا ارجن ٹینک پاکستانی ٹینکوں پر برتر ثابت ہو سکتا ہے؟

اقوام متحدہ میں جنرل ضیا کے خطاب سے قبل تلاوت قرآن ہوئی تھی یا نہیں؟

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

جی ایچ کیو پہنچنے سے پہلے میں نے چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل سعد احمد خان اور چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل حکیم اللہ کو پیغام دیا کہ وہ فورا جی ایچ کیو پہنچیں۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل حمید گل اور جج ایڈووکیٹ جنرل بریگیڈیئر عزیز احمد خان کو بھی بلا بھیجا۔ ’آدھے گھنٹے کے اندر چاروں پہنچ گئے، میں نے ساری صورتحال انھیں بتائی اور مشورہ کا طالب ہوا۔ سبھی نے وہی مشورہ دیا جو میرے دل میں تھا۔‘

تین گھنٹوں کے اندر آئین کی بحالی

بینظیر

Getty Images

جنرل اسلم بیگ کا دعویٰ ہے کہ فوجی قیادت کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ آئین کے مطابق چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کو بلایا جائے اور اقتدار کی ذمہ داریاں ان کو سونپی جائیں، غلام اسحاق خان پہنچے تو انھیں کہا گیا کہ ضروری انتظامات کرنے کے بعد 90 دنوں کے اندر اقتدار عوام کے نمائندوں کو سونپ دیا جائے، آپ کے اس کام میں تعاون حاصل ہو گا۔

’دس بجے تک صدر غلام اسحاق خان نے قومی نشریاتی رابطے پر قوم سے خطاب کیا۔ جنرل ضیا کے انتقال کے تین گھنٹوں کے اندر آئین بحال ہو چکا تھا، انتقال اقتدار کی کاروائی کا آغاز ہوا جسے 90 دنوں میں مکمل ہونا تھا یہ افواج پاکستان کا فیصلہ تھا۔‘

کیمیکل کی نشاندہی نہیں ہوئی

جنرل اسلم بیگ لکھتے ہیں کہ ’راولپنڈی پہنچ کر سب سے پہلے میں نے لیفٹیننٹ جنرل محمد شفیق کور کمانڈر بہاولپور سے رابطہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی شناخت مشکل ہے، جنرل ضیا کی کچھ باقیات ملی ہیں جنھیں ہم جمع کر رہے ہیں تاکہ ان کی میت کو تیار کیا جائے، یہاں سی ایم ایچ کے ڈاکٹروں کی ٹیم موجود ہے جو پوسٹ مارٹم کے لیے اعضا اکٹھے کر رہی ہے۔ جنرل ضیا کی میت دوسرے دن راولپنڈی پہنچی۔‘

’دوسرے دن میں نے جنرل شفیق سے تفصیل سے بات کی، میں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے متعلق پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ سی ایم ایچ سے رپورٹ کا انتظار ہے، چند دنوں بعد رپورٹ ملی تو اس میں کسی قسم کے کیمیکل کی نشاندہی نہیں ہوئی اور چند ہفتوں بعد جب امریکہ سے رپورٹ آئی تو اس میں بھی کسی قسم کی آلائش نہیں پائی گئی، البتہ آدھے سے زیادہ جسموں کے ٹکڑے انھوں نے واپس کر دیے تھے جو امریکیوں کے نہیں تھے۔‘

اسلم بیگ کے بقول حادثے کے دوسرے دن ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس کو ہدایت دی کہ انکوائری کریں اور تجاویز پیش کریں، صدر غلام اسحاق خان سے بات کی جوائنٹ انکوائری کا حکم جاری کریں اور ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس آئی کو حکم دیا کہ وہ اپنی رپورٹ الگ تیار کریں، پاکستان ایئر فورس نے پہلے ہی اپنی انکوائری کمیٹی متحرک کر دی تھی جس نے جائے حادثہ پر پہنچ کر اپنا کام شروع کر دیا تھا۔

’ان تمام رپورٹوں کی تفصیل تین ہفتوں کے اندر حکومت کو مل چکی تھی تھی کہ اس کے بعد حکومت وقت کی ذمہ داری تھی کہ اگلے اقدامات کا حکم نامہ جاری کرتی۔‘

سی ون تھرٹی فضائیہ کی ذمہ داری

جنرل اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ سی ون تھرٹی طیارہ جو صدر مملکت کے لیے خصوصی جہاز ہوتا ہے اس کی ذمہ داری پاکستان ایئر فورس کی ہوتی ہے، اس کے نزدیک کسی اور کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی جو سامان بھی جہاز میں رکھا جاتا ہے اس کی تلاشی ہوتی ہے جو مسافروں کی لسٹ بنتی ہے وہ صدر کے آفس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

چار ہفتوں کے اندر اندر پاکستان ایئر فورس کی انکوائری اور تینوں دوسری انکوائریوں کی تحقیقات کے مطابق یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ کسی کیمیکل یا گیس کی کوئی بھی نشاندہی نہیں ہو سکی، جب جہاز ڈگمگانے لگا تو اندر سے کسی نے پائلٹ کا نام لے کر پکارا تھا کہ کیا ہو رہا ہے، لیکن پائلٹ کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا، جس سے اس بات کی تصدیق بھی ہوئی کہ غالباً کسی کریو ممبر نے یہ بات کہی ہو جسے مانیٹرنگ ڈیسک نے نہ سُنا ہو، پائلٹ نے ایس او ایس بھی نہیں مانگا، انہی باتوں سے شبہ ہوتا ہے کہ شاید اس حادثے کے پیچھے کوئی سازش تھی۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’بےنظیر بھٹو جب وزیراعظم بنیں تو میں نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ حادثے کی کرمنل انکوائری کرائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں، لیکن انھوں نے بندیال کمیشن بنایا جس کی رپورٹ یہ تھی کہ ایک ڈکٹیٹر کا یہی انجام ہوتا ہے جس نے ان کے والد کو پھانسی دی تھی۔ جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو ان سے بھی یہی درخواست کی، انھوں نے بھی جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن بنایا وہ بھی اس کے سامنے پیش ہوئے لیکن اس نے بھی اس واقعے کو حادثہ قرار دیا۔‘

اس طرح امریکہ اور سی ون تھرٹی جہاز بنانے والی والی کمپنی کے مطابق جہاز کے اندر ہر ایک تیکنیکی خرابی کے سبب یہ حادثہ پیش آیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words