جیم عباسی کی کتاب: "زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں”


طویل آمرانہ دور میں جب نظام شریعت کے نفاذ کا غوغا ہماری زیادہ تر آبادی کے ذہنوں پر محیط تھا، سکولوں میں پڑھائی جانے والی عربی زبان کی کلاسوں میں طالب علموں پر ہونے والے دہشت ناک مظالم کا میں عینی شاہد اور غازی (سروائیور) بھی ہوں۔ بعد میں ناظرہ پڑھنے کے لیے مدرسے جانے کی روایت بھی مجھ پر بیتی ہے جہاں حافظ یا عالم بنتے ہوئے طالب علموں کی مدرسی زندگی کو نسبتاً قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ بڑے شہروں میں تو ماحول کسی قدر کروٹ لے چکا مگر حالیہ دنوں میں جب کبھی سندھ کے دیہی علاقوں میں سفر کا اتفاق ہوا تو مساجد سے آنے والی صدائیں ان علاقوں میں بہت زیادہ تبدیلی کی عدم پذیری پر شاہد تھیں۔ اس لیے مذہبی حوالے سے مدرسوں میں بسنے والی زندگی پر بات کرتے ہوئے اگر کوئی مبالغہ آرائی سے کام لے تو با آسانی اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ بات کا آغاز اس زاویے سے کرنے کی وجہ کہانیوں کی کتاب ”زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں“ بنی۔ بیان کردہ بات، اس کتاب میں موجود ”زرد ہتھیلی“ کے عنوان سے لکھی گئی کہانی کے تناظر میں لکھی گئی ہے۔ جیم عباسی جن کا اصل نام جمیل عباسی ہے، سے یہ کہانیاں پہلا تعارف نہیں تھیں۔ متذکرہ کتاب میں موجود ایک طویل کہانی ”مونچھ میں اٹکے ایک قطرے کی کہانی“ کے عنوان سے ادبی مجلے ”آج“ میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کہانی کو پڑھنے کے بعد مصنف کی مزید کہانیاں پڑھنے کی خواہش نے سر اٹھا لیا تھا۔

زیرنظر کتاب میں ”مونچھ میں اٹکے ایک قطرے کی کہانی“ کی موجودگی کی بدولت یہ کہانی دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا۔ اس دفعہ یہ کہانی زیادہ بہتر انداز میں سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ میرے لیے کہانیاں ہی مختلف معاشروں، ان میں بسنے والے انسانوں اور رہتل کے وہاں بستے انسانوں کی اندرونی دنیاؤں پر اثرات سے تعارف کا سبب بنتی ہیں۔ کہانی کار اپنی مٹی اور معاشرت کی جس گہرائی سے تصویر کشی کر سکتا ہے وہ کسی اور صنف کے جثے میں کم ہی سماتی ہے۔ میں اندرون سندھ کے علاقوں میں بہت مرتبہ سفر کر چکا ہوں۔ مگر گاڑی میں بیٹھ کر لوگوں کو اپنے جوتے سروں پر رکھ کر سڑک پر چلتے دیکھ کر یا وہاں سانس لیتی ویرانی محسوس کرتے ہوئے بس چچ چچ کے علاوہ کچھ نہیں جا سکتا۔ وہاں موجودگی کے دوران ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات میں ہمیشہ ایک دو سیاسی جماعتوں پر لعن طعن کرتے، سر جھٹکتے ہوئے واپس اپنی دنیا میں آ گیا اور سندھ کے دیہی علاقوں کی پسماندگی پر اس سے زیادہ تصویر نہ بن سکی۔ اس کے علاوہ عرصہ دراز ادھر پی ٹی وی پر چلنے والے ”ماروی“ یا اس طرح کے بہت سے ڈراموں سے وڈیروں کے مظالم کی ایک تصویر اور وہاں مستعمل زبان کا لہجہ اور ان فنکاروں کی اداکاری ذہن پر نقش تھی جو گزرتے وقت کے ساتھ کچھ مانند پڑ چکی تھی۔

”مونچھ میں اٹکے ایک قطرے کی کہانی“ کے اچھوتے عنوان سے بھی کہانی پڑھنے کی تحریک کو بڑھوتی ملی۔ جیم عباسی کے قلم نے ماما پیرل کے گاؤں کا بیان شروع کیا تو عمدہ بیانیے نے مناظر آنکھوں کے سامنے دوڑانے شروع کر دیے۔ سہل انداز سے چلتا ہوا، مقامی محاوروں پر تعمیر شدہ یہ پراثر بیانیہ جوں جوں کہانی کے اندر گھستا چلا گیا تو ہم بھی ”کلو موالی کے قول کے مطابق بھنگ پی کر جوان ہوئے جٹادار برگد“ کے گرد گھومے ہوئے چبوترے پر جا بیٹھے اور گھڑونچی پر دھرے تین مٹکوں میں ایک سے پانی پی کر ’ترخان‘ ماما پیرل کی زندگی کا مشاہدہ کرنے لگے۔ وہاں پھیلی معاشرت اپنی تاریخی گہرائیوں اور بڑے بڑے پنجوں کے ساتھ سامنے آ کر ناچنے لگی۔ پھر تقریباً اًسی صفحات میں اس رہتل میں بیتتی کہانیوں میں سے بنی ایک کہانی وقوع پذیر ہوتے ہوئے دکھائی دینے لگی۔ گاؤں، ماما پیرل کا چھپر اور اس کی تفاصیل، اس کی سائیکل، گاؤں کا باہری میدان اور اس میں کھڑا جٹادار برگد، بچوں کے ساتھ مامے کا طرزعمل، ماما پیرل کے داغے ہوئے پاد، پورا دن برگد کے نیچے لوگوں کی آمدورفت، گفتگو، ہنسی مذاق، آپسی تعلقات یعنی ظاہری طور پر اس برگد کے نیچے ایک کھلی ڈلی زندگی بستی تھی۔ یہیں سے کہانی کار نے ماما پیرل کی کہانی بنی ہے۔ اتنے سہل انداز سے عمدہ اور گہری کہانی کو بن لینا عام لکھاری کا خاصہ نہیں ہو سکتا۔ مقامی لہجے میں گاؤں کے تعارف سے آغاز کرتی ہوئی کہانی آہستہ آہستہ کرداروں کو کھولتی ہے اور متن اپنے اندر ایک تہہ داری سموئے ماما پیرل کی دوسری بیوی سے محبت بیان کرنے لگتا ہے۔ یہاں مصنف انسان کی اندرونی دنیاؤں میں گھس جاتا ہے۔ جس میں جنس مخالف سے محبت اور محبت کے اظہار سے لے کراس پر بیرونی عناصر کے اثرات کا ایک جال بنتا چلا جاتا ہے۔

بیانیے میں روزمرہ مقامی اور اس میں تسلسل ہے۔ قاری کی آسانی کے لیے ’مڑس، پنڈی، پنجاری، گتھو، وڑو، توتری، گیبات، تکڑ، لکھ تورے، زال، پوتی‘ جیسے الفاظ کے معانی حاشیے میں موجود ہیں۔ یہاں پوری کہانی کھولنا یا اس کا بیان مقصود نہیں بل کہ صرف یہ کہنا ضروری ہے کہ جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے، سندھ کی دیہی زندگی کی تصویر مزید واضح ہونے لگتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مذہبی (قسم یا واسطہ سرخ قرآن کا۔ قسم دستگیر کا وغیرہ) اور معاشرتی تصورات، معاشی صورتحال، کھانے، لباس، میل جول، شادی بیاہ کی رسومات، عورتوں کی معاشرے میں حالت، قوم قبیلے سے باہر شادی کرنے سے خاندانوں اور قبیلوں میں موجود متنوع روایات کا ٹکراو اور ان کے بھیانک نتائج، وڈیروں اور گاؤں کے سرکردہ لوگوں اور رشتہ داروں کا بالخصوص کمزور لوگوں کی ذاتی زندگیوں کی فیصلہ سازی میں اثرانداز ہونا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر طویل ناراضیاں، الزام تراشیاں اور پھر انسانیت سوز اور بھیانک اختتامیہ۔ تکنیکی طور پر کہانی کے چند واقعات کہانی کو آہستہ آہستہ آگے بڑھاتے ہیں باقی بیانیہ وہاں کی رہتل کی تفاصیل کے متعلق ہے۔ ان واقعات میں گاؤں کے جٹا دار برگد کے نیچے حیدر علی (روایات کا پرچار کرنے والا ایک بدلحاظ بزرگ) اور قادر بخش (پیرل کی بیوی کا باپ) کا جھگڑا جس کا آغاز حیدر علی کی طرف سے قادر بخش کو بیٹی کے گھر آنے پر دیے جانے والے طعنے سے ہوتا ہے۔ اس جھگڑے کے نتیجے میں قادر بخش کی ناراضی۔ قادر بخش کی بیماری اور موت جس پر پیرل کی بیوی کا اپنے میکے جانا اور پھر باپ کی موت کے بعد اس کے بیٹے کا سلیمت کو زبردستی اپنے پاس روک لینا۔ پیرل کا اس صورتحال میں میاں فضل کو درمیان میں ڈالنا۔ رئیس علن کی عدالت اور پیرل کے حق میں فیصلہ۔ بیوی کی گھر واپسی۔ اولاد کے لیے سائیں بخشٹ شاہ بادشاہ کے دربار تک کا سفر اور اولاد کا اشارہ ملنا۔ واپسی پر کشتی کا الٹنا۔ سلیمت کا ڈوبنا اور علو کا اس کو بچا لینا۔ علو اور سلیمت پر لوگوں کا شک کرنا۔ علو کا خوف زدہ ہو کر گوٹھ سے بھاگ جانا۔ حیدر علی کا پیرل کو بیوی کے خراب ہونے کا طعنہ دینا اور مجمع لگنا۔ سارے مجمعے کا پیرل پر لعن طعن کرنا اور پیرل کا لوگوں کی باتوں میں آنا اور غیرت میں آ کر بیوی کو مارکر ہیرو بن جانا۔ کہانی کا انجام ایک سطر پر ہوتا ہے ”پیرل کے دائیں بائیں چاچا علی حیدر اور میاں محمد فضل اور پیچھے پورا مجمع تھا۔ اس کی مونچھ کے بالوں میں اٹکا ایک خون کا قطرہ لرزے جا رہا تھا۔“

یہاں کہانی کے کرداروں پر بات بھی ضروری ہے کہ پیرل کے کردار کے ذریعے کہانی کار نے اندرون سندھ کی گوٹھوں میں بستے عام آدمی کی زندگی کو ہر زاویے سے بیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ دوسرا کردار سلیمت کا ہے جو پیرل کی دوسری بیوی ہے۔ اس کا تعلق دوسرے قبیلے سے ہے۔ اس کردار کے ذریعے وہاں کی گھریلو زندگی کی عکاسی خوبصورت انداز میں کی گئی ہے جو قاری کے لیے وہاں کی گھریلو عورت کے روز و شب سامنے لے کر آتی ہے۔ گوٹھ کے سب سے شرانگیز اور روایات کے جھوٹے علمبردار علی حیدر کا کردار جس سے رسم و رواج کے نام پر ہوا جھگڑا کہانی کے پہلے موڑ کا باعث بھی بنتا ہے۔ فضل محمد کا کردار جو سلیمت اور ماما پیرل کا رشتہ کرواتا ہے اور کہانی کے اختتام کے قریب پیرل کی بیوی کو واپس لانے کی کامیاب کوششوں کا حصہ ہوتا ہے۔ یہ کردار گوٹھوں میں سرکردہ مقامی لوگوں کی سیاسی اور معاشرتی حیثیت کی حقیقتوں کو سامنے لے کر آتا ہے۔ قادر بخش سلیمت کا والد، جو کہانی کے چند بڑے موڑوں کا اہم مہرہ ہے اسی کی بیماری اور موت کہانی کے دوسرے اہم موڑ کی وجہ بنتی ہے۔ یہ کردار غیر قبیلے کا ہونے کے باوجود، اس معاشرے میں بستے مختلف قبائل میں عمومی روایات کے تضادات کے باوجود ان میں موجود یکسانیت کے زاویے سامنے لانے کا باعث بنتا ہے۔ پیرل کا سالا سرور اپنے والد کے کردار کو آگے بڑھاتا ہے اور اپنی انا کو روایات کی آڑ لے کر پیرل کی بیوی کو روک لیتا ہے۔ چنگا مڑس حبیب اللہ کا کردار فضل محمد کی طرح کا ایک کردار ہے اور رئیس علن وہاں کے بااثر وڈیروں کی زندگی اور سندھ کی دیہی زندگی میں ان کے مقام کو سامنے لے کر آتا ہے۔ باقی ضمنی یا خاموش کردار ہیں جن کی غیر محسوس طریقے سے آمد و معدومیت بیانیے کی مدد کے لیے ہے۔

اب اگر ہم کتاب میں موجود باقی سات کہانیوں کو دیکھیں تو وہ تمام کہانیاں بھی اسی طرح دیہی سندھ کے پس منظر میں بنی گئی ہیں لیکن ان کے موضوع متنوع ہیں۔ کتاب کی کہانیوں میں نوری، مفتی، اس وقت تو یوں لگتا ہے، ایک غیر مختتم یکایک کے آغاز کا معما، زرد ہتھیلی، گمشدہ گلو، پانچ من گلاب کے پھول شامل ہیں۔ کتاب کا آغاز نوری سے ہوتا ہے۔ نوری کہانی کے آغاز میں کہانی کار دفتر سے واپسی پر کچرا کنڈی کے پاس ایک نظارہ دیکھتا ہے۔ جس سے اس کی محسوسات پر ضرب پڑتی ہے۔ وہ اس نظارے کو جلدی سے کاغذ پر اتارنا چاہتا ہے اور لکھتے وقت خیال اسے ماضی کی دنیا میں دھکیل دیتا ہے۔ جہاں وہ ایک افطاری میں اپنے ننھیال میں موجود ہے اور نانا نانی کی نوک جھونک، دسترخوان پر پھیلے کھانے اور نوری (ایک بکری) ہے گھر میں اس کی حیثیت پر نانا نانی کے مکالمات ہیں۔ نوری جو کہ کھانے میں بھی نانی سے اپنا حصہ پہلے وصول کرتی ہے۔ اس بکری کو باندھا نہیں جاتا ہے۔ وہ ہر وقت نانی کے آس پاس پھرتی رہتی ہے۔ کہانی کار جو لکھنے بیٹھا ہے آخری پیرے تک اس کا کوئی ذکر نہیں ہے اور پھر وہ کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے جہاں چڑیا اپنا گھونسلہ مکمل کرچکی ہے۔ آخری سطر میں وہ نظارہ بیان ہوتا ہے جہاں سے کہانی کا آغاز ہوتا ہے ”ایک لاغر بکری کچرا کنڈی پر کھڑی پلاسٹک کی تھیلی چبائے جا رہی تھی“ ۔ اور کہانی کا اختتام ہوجاتا ہے۔ اچھوتے انداز میں اتنے حساس اور بڑے موضوع کو فنکارانہ مہارت کے ساتھ، اس کی وسعت کو معدوم کیے بغیر ایک سطر میں بیان کر دینا کہانی کی کامیابی کی دلیل ہے۔

دوسری کہانی مفتی سجاد حسین کی ہے جو کہ ایک عالم دین کے اندر کے حساس انسان کے گرد گھومتی ہے۔ وہ انسان جو اپنے معاشرے میں بنے بنائے جھوٹے سچے مذہبی تصورات کے جال میں آ کر نوجوانی میں اپنا گھربار تیاگ کر دین کے نام پر زندگی وقف کر دیتا ہے۔ وہ انسانی ضروریات کو امتحان و آزمائش کا نام دے کر ان سے کنارہ کش ہوجاتا ہے۔ پھر کسی ایک دن وہ زندگی کے دام میں آ جاتا ہے۔ عورت کی زندگی میں آمد اور بعد میں ہونے والے واقعات، مساجد و مدارس کا احوال، ان کے اوپر معاشرے کے خوشحال افراد کا اثر اور پھر ایک بہت ہی حیرت انگیز اور بھیانک اختتام۔ اس بیانیہ انداز کی کہانی کا دوسرا حصہ بہت غیرمتوقع طور پر سامنے آتا ہے اور قاری کو مذہب اور انسانی تصورات و جبلت و نفسیات کی گھمن گھیریوں میں الجھا دیتا ہے۔ کہانی کا اختتام بہت اچھا اور مختلف ہے۔ اگلی کہانی بھی اسی رہتل کی کہانی ہے ”اس وقت تو یوں لگتا ہے“ اپنے اندر ایک المیہ لیے ہوئے ہے۔ بنیادی کردار جو کہ واحد متکلم ہے، کے سوالات، جو بچپن میں اس کے والدین کی زندگی اور اپنی پرورش کے حوالے سے تھے، کا جواب ایک المیے کی صورت سامنے آتا ہے۔

”ایک نامختتم یکایک کے آغاز کا معما“ اپنے اندر ایک بہت اعلیٰ موضوع سمیٹے ہوئے ہے۔ جس میں معذور موتی جو کہ ایک فقیر ہے، کا دوست نذو لنگڑا اچانک غائب ہو گیا ہے۔ وہ اس کی تلاش میں مختلف وسوسوں کا شکار ہے۔ ایک کردار آخوند صاحب کا ہے جو کہ ہندو ہیں۔ مختلف اسلوب اور غیر روایتی طریقے سے بنی گئی اس کہانی کے کردار تاریخی سندھی تہذیب میں صدیوں سے آباد ہندووں پر ایک دم سے آنے والی مصیبت کا شکار ہیں جس میں وہ اس دھرتی پر اچانک سے اجنبی ہو گئے ہیں۔ یکایک یہ کیسے ہوا یہی ایک معما ہے۔

”زرد ہتھیلی“ ایسے بچے اسداللہ کے بارے میں ہے جس کا باپ، بچے اور اس کی ماں کی خواہش کے برعکس زبردستی اس کو حفظ قرآن کے لیے مدرسے میں چھوڑ آتا ہے۔ وہاں پر معصوم بچے کو جس انسانیت سوز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ کہانی اس کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ کہانی پڑھتے ہوئے قاری جذباتیت کا شکار بھی ہوجاتا ہے۔ کہانی کار ایک لاتعلق سے انداز میں روانی کے ساتھ یہ المیہ بیان کرتا چلا جاتا ہے۔ قاری گل شیر کا کردار اور صدر مدرس مولانا عبدالوحید جیسے کردار آج بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ اسد اللہ اور اس کے ماں باپ کا آپسی تعلق بھی اس دیہی معاشرت میں عورت کی حیثیت اور اس پر ہونے والے ظلم کو بیان کرتا ہے۔ مدرسوں کے بارے میں ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں مگر ان پر بوجوہ زیادہ لکھا جانا کبھی بھی ممکن نہیں رہا اور شاید اب بھی اتنا آسان نہیں ہے۔ جیسا کہ آغاز میں میں نے خود یہ بیان کیا تھا کہ کچھ دہائیاں قبل تو یہ بات محاورے کی طرح تھی ”گوشت تمھارا اور ہڈیاں ہماری“ ۔ ماں باپ یہ کام بخوشی کیا کرتے تھے۔ یہ تو کہانی کی پہلی سطح ہے۔ بچے کی حساسیت کی سطح پر اسد اللہ کے کردار کے ذریعے اس کے اندر کے معصوم اور سہمے ہوئے بچے کے جذبات و نفسیات کو بہت احسن طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ دینی مدارس میں موجود بچوں کے جذبات کو جس بری طرح اور سفاکانہ طریقے سے تباہ کیا جاتا ہے باہر کی دنیا اس سے کلی طور پر لاعلم ہے۔ یہ سب کوئی واقف راز ہی اتنا مفصل انداز سے بیان کر سکتا ہے۔ بغاوت کا تصور اس معاشرت اور مدرسے میں کیسے مفقود ہے اس پر بھی جیم عباسی تفصیل سے لکھتے ہیں۔ کہانی کا اختتام بھی عمدہ طریقے سے کیا گیا ہے۔ اسی طرح باقی دو کہانیاں گمشدہ گلو اور پانچ من گلاب کے پھول بھی اسی رہتل میں لکھی گئی ہیں لیکن موضوعات اور تکنیک میں مختلف ہیں۔ خصوصاً گمشدہ گلو مبہم انداز میں بیان کی گئی بہت خوبصورت کہانی ہے۔ پانچ من گلاب کے پھول ایک مناسب کہانی ہے۔

”زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں“ خود میں میرے لیے ایک اوپرا پن لیے ہوئے ہیں اور یہی میرے لیے ان کو پڑھنے کا سبب بنا۔ مصنف کے مذہبی تعلیم کے حصول کے لیے مدرسوں میں گزرے وقت کی بدولت بیشتر کہانیوں میں اس ماحول کا حقیقی عکس نظر آتا ہے۔ خصوصاً ”زرد ہتھیلی“ اور ”مفتی“ تو اسی ماحول سے متعلق ہیں اور ان کی تفاصیل میں نقائص بعید از قیاس ہیں۔ سندھ مصنف کا وطن ہے تو ساری کہانیوں میں اسی مٹی کی خوشبو رچی بسی ہوئی ہے۔ ان کا انداز غیرمبہم اور آسان ہے۔ محاورہ اور روزمرہ اسی رہتل کا ہے۔ کہانیاں، کردار اور موضوعات حقیقی ہیں۔ کہانیوں میں تہہ داری ہے۔ عمومی سطح پر کہانی سہل انداز میں چلتی نظر آتی ہے مگر ہر کہانی مختلف سطحوں پر کوئی نہ کوئی بڑا المیہ بیان کرتی ہے۔ ان کے ہاں عورت مظلوم ہے اور مرد عمومی طور پر دونوں طرف مگر غالب حیثیت میں کھڑا نظر آتا ہے۔ مذہب اور سندھی دیہی معاشرت کی موجودگی کی یکسانیت کے باوجود ہر کہانی مختلف انداز سے بنی گئی ہے اور موضوع کے اعتبار سے بھی جدا اور مکمل تاثر قائم کرتی ہے۔ کہانیوں کی یہ کتاب تو بلاشبہ بہترین ہے مگر آنے والی کتابوں میں مصنف کو شاید کسی سطح پر کچھ نہ کچھ نیا کرنے کی ضرورت پڑے کہ کہیں کسی ایک سطح پر چلتی یکسانیت قاری کی توجہ کو اکتاہٹ کے حوالے نہ کر دے۔

 

Facebook Comments HS