کہروڑ پکا کی نیلماں ( 4 )

اور اسی مکالمے کے دوران ہی فیصلہ ہو گیا کہ سعید نیلم کو طلاق دے دے۔ نو ہارڈ فیلنگ۔ بس Irreconcilable Differences (مزاج کی عدم مطابقت)
سعید کو یہ علم نہ تھا کہ بڑوں کے فیصلے کیا ہیں۔ وہ اس شادی کو بچانے کے لیے برلن آیا تھا مگر بڑی بہن فیروزہ نے اسے اوسلو بلا لیا۔ اس نیلم ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ وہ اسے ویمپائر اور ہیری پوٹر کی پھوپھی جیسے القاب سے یاد کرتی تھی وہ ان کشمیری اور بستی کے جالندھری برکی پٹھانوں کی عورتوں کی طرح تھی جو گھرانے کے مرد کی باہر شادی پر پوری بستی کو آگ لگا دینے کے چکر میں رہتی ہیں۔ نیلم اور سعید کا اگلا پڑا ¶ استنبول تھا۔ انہیں سیر و تفریح کے دو دن ساتھ گزارنے تھے۔ اسے لگا کہ نیلم کو بھی طلاق کی بھنک پڑ گئی ہے۔ اس لیے جان بوجھ کر لیٹ ہوئی ہے گڈی نے بھی فیری پکڑ کر ایمسٹرڈم کا رخ کیا ہوگا، کہیں بیٹھ کر دونوں چرس پی رہی ہوں گی۔
کشمیری، انگلینڈ جاکر بہت شکی مزاج ہو گئے ہیں۔ اس نے اپنی بہن کو پیغام بھی دیا کہ وہ ان کے پسندیدہ Watering Holes پر (انگریزی زبان میں مے کدے کو کہتے ہیں ) ایک جھاتی (پنجابی میں جھانک کر) مار کر آئے۔ اس خفیہ مشن کا مقصد گڈی کی برمنگھم میں موجودگی کا پتہ کرنا تھا۔ اسے بہن کی زبانی یہ سن کر مایوسی ہوئی کہ گڈی Bacchus Bar میں اکیلی بیٹھی پی رہی تھی۔ اس نے سعید کی بہن کو دعوت دی تو وہ بھی جام لنڈھانے بیٹھ گئی۔

فیروزہ نے اسے اوسلو میں کشمیری ڈش گشتابہ (گشتابہ کشمیری ڈش) کھلا کر بتایا کہ والد صاحب نے آنٹی طاہرہ سے بات کرلی ہے جینٹلمن۔ دی۔ پارٹی۔ از۔ اوور۔ وہ اسے پاکستان میں جاکر طلاق دے دے۔ انگلستان میں طلاق دے گا تو برتن بک جائیں گے۔ گڈی کا چچا وکیل ہے۔ یہاں وہ میدان میں کود پڑے گا۔ سعید کو نیلم سے خود سے کوئی شکایت نہ تھی۔ وہ نیلم کا کریڈیٹ کارڈ بھی استعمال کر لیتا تو اس سے سوال جواب نہ ہوتا تھا۔ اپنی مردانہ کمزوری کا اسے ادراک تھا۔ کہیں سے نیلم کی بے راہ روی کی شکایت نہیں ملی۔ برمنگھم میں کون سی دیسی لڑکی کس کالے، گورے کا بستر گرم کرتی ہے یہ پتہ چلانا کچھ ایسا خاص مشکل نہ تھا۔ دیسی مرد تو خاص طور پر ان اطلاعات کو عام کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے تھے کہ ان کے ہندوستان پاکستان کی کون سی لڑکی کس پارٹی پر دم گٹکو ہو کر کتنے کپڑوں میں کس کس کی بانہوں میں اوندھی پڑی تھی۔
اس کی بہنوں نے جب اس کی ہر شام پب جانے کی شکایت کی تو وہ بھی اس نے سنی ان سنی کردی۔ ماں بہنوں نے اسے انگریزی میں شراب کے حوالے سے باخبر کیا کہ One thing leads to another، Drink Today، Dance tomorrow۔ ڈانس سے آگے کی انہوں نے بات نہ کی۔ انہیں اس کے بعد کے مراحل کا تجربہ تھا کیوں کہ دونوں بہنیں ثمرین اور عنبرین اسکول کے آخری سالوں میں ایک گورے ڈرمر اور ایک امریکی کالے سے ڈیٹ مارتی رہیں تھی اور عنبرین کے تو کالے سے مراسم اس نہج تک جا پہنچے تھے کہ اسقاط حمل تک نوبت پہنچ گئی تھی۔
آئیں اسی گوشہ عافیت میں چلیں جہاں نیلم اور ارسلان آغا مدھم روشنی میں ایک دوسرے کے قریب صوفے پر بیٹھے تھے۔
Vodka Cranberry Shrubٍ جو درحقیقت کچھ کرین بیری کا جوس جو سیب کے سرکے کی ترشی اور وڈکا کی کڑواہٹ کی وجہ سے خاصا حواس باختہ کاک ٹیل تھا جب نیلم کے گلے سے اترا تو اس گوشہ ءرفاقت میں وہ عجب سرور محسوس ہوا جو گڈی کے ساتھ بیٹھ کر مے نوشی کے دوران کبھی محسوس نہ ہوا تھا۔ اس نے بہت آہستہ سے ارسلان آغا سے اپنی فرمائش دہرائی کہ So What is Your Story Mr Bureaucrat
اسی سرور کا نتیجہ تھا کہ وہ صوفے پر ایک جانب بازو رکھ کر نیم دراز انداز میں ٹخنے کولہوں کے نیچے سمیٹ کر بیٹھ گئی اب وہ لاکٹ اور ایک جانب سے سینے کا ابھار ایسا نمایاں تھا کہ سیاہ برا کی دھواں دھواں سی شفون کی نیک لائن بھی باہر جھانکنے لگی۔ یہ نیک لائن ایسی تھی جیسے لائن ڈرائینگ کے کسی ماہر مصور نے سمندر کے کو کسی خط واضح سے ایک کینوس پر کھینچا ہو۔ ایسا نہ تھا کہ تھی مگر نیلم اپنے لباس کی اس اندرونی شورش سے غافل تھی۔ یہ کوئی Wardrobe Malfunction (شو بز کی مشہور اصطلاح جو کسی مشہور خاتون کے لباس کی غیر دانستہ حادثاتی کوتاہی کی وجہ سے جسم کے پوشیدہ حصوں کا ظاہر ہوجانا) نہ تھا۔

وہ جانتی تھی کہ اب وہ سعید گیلانی کے حبالۂ نکاح سے آزاد ہو رہی ہے اور ایک مرد اسے اتفاقاً مل گیا ہے۔ آزادی کی اس نو دریافت کیفیت میں کئی عوامل شامل تھے یعنی سعید کے ٹیکسٹ میسجیز کی کڑواہٹ، اس کا اپنا احساس تفاخر، ایام نو کو گلے لگانے کا ایک چیلنج اور سامنے والے مرد کی دل چسپ شخصیت۔ یہ مرد اس کی زندگی کے اب تک کے تین اہم مردوں کرنل ظہیر، استاد وجدان اور میاں سعید گیلانی سے بہت مختلف تھا۔ وہ شانت تھا، صاحب ذوق تھا، اس میں ٹینس کی ٹپے کھاتی گیند والی لا ابالی پن کا سا اچھال تھا۔ اس باؤنس نے اسے اکسایا کہ وہ اس گیند کے عقب میں آن کر کمر کو پیچھے موڑ کر بدن کا ایک دل نشین نیم قوس بنا کر اپنی جگمگاتی سورج کو آئینہ دکھاتی بغل والا بازو بلند کر کے، ایک پیر زمین سے اٹھا کر ماریا شراپوا کی طرح کا ایک زبردست شاٹ مارے گی۔ سو میل فی گھنٹے کی رفتار والا شاٹ۔
ارسلان نے بیان شروع کیا تو نیلم کاک ٹیل کے دو گھونٹ لے چکی تھی جس کی وجہ سے Zombie Glass ایک انچ خالی ہو چکا تھا۔ مشروب کے سطح سے نیچے جانے سے اس کے لیے گلاس کے اس پار سے ارسلان کا جائزہ لینا آسان ہو گیا۔ نیلم کو خود پر یہ بہت ناز تھا کہ وہ بہت سے کام بہ یک وقت کر سکتی ہے لہذا جب اسے لگتا کہ ارسلان لاکٹ سے آگے اور برا کی نیک لائن سے نیچے جا رہا ہے تو وہ اس بیان بازی میں اسے یہ احساس دلانے کے لیے کوئی سوال داغ دیتی تھی۔ کوئی ایسا اشارہ کر دیتی جس سے دید بانی میں شدید خلل آ جاتا تھا۔
وہ بتانے لگا کہ وہ سی ایس ایس کر کے ملازمتوں میں آ گیا تھا۔ شادی ایک حادثہ تھی۔ بیگم کا دباؤ بہت تھا۔ وہ ایک تاجر گھرانے کی فرد تھیں گھر والوں کا ہوزری اور یارن کا کام تھا۔ بیگم کے ایک چھوٹے بھائی اور بہن کی وجہ سے سسر کا دباؤ تھا کہ ارسلان ان کے کاروبار میں شرکت کرے۔ وہ نہ مانا تو ازدواجی اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ ارسلان کو یہ بھی لگا کہ اس کی بیوی مدیحہ کو اپنا کزن بھی اچھا لگتا تھا۔ وہ اس کا غریب خالہ زاد بھائی تھا۔ میمن ہونے کے ناتے اس بات کے بہت قوی امکانات تھے کہ وہ اپنے خالو کا کاروبار سنبھال سکتا ہے۔ الزامات سے بہت پرے ارسلان نے اس موضوع کو یہ کہہ کر لپیٹ دیا کہ شادی پہلے چار برس میں ہی ختم ہو گئی۔ دونوں دفعہ مس کیئرج ہوا تو مدیحہ کی شخصیت نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ اس کے منفی اثرات مجھ پر بھی ہوئے۔ اسے شک تھا کہ میں دوسری عورتوں میں دل چسپی لیتا ہوں۔
’ایسا تھا‘ ؟ نیلم نے بہت آہستگی سے غیر محسوس طریقے سے میلن ڈالر کا سوال پوچھا۔ اپنی اس چالاکی پر اسے دل ہی دل میں مسرت بھی ہوئی۔

’اتنی ہی جتنی اب لے رہا ہوں۔ وہ بھی کم نہ تھا۔ وہ لڑکھڑا گئی کہ یا اللہ یہ کس فتنے سے جوڑ ڈالا ہے۔ اس نے غور سے دیکھا مگر ارسلان کے چہرے پر کوئی فاتحانہ علامات نہ تھیں۔ وہ سوچنے لگی ایک اور داؤ آزماتے ہیں۔ کیوں نہ حضرت کے ساتھ وقت گزاری کے لیے ذہنی کا تھا (کراٹے کی مشق) کی جائے۔ اس کے لیے اس نے ایک نسوانی جال لفظوں کی مدد سے بچھایا مگر اس سے پہلے اس نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کر کے انگڑائی لی اور کہا ہاؤ سویٹ۔ یو آر امیزنگ۔ آئی ایم سو امپریسڈ۔ میرا خیال ہے ایک عورت کے ناتے کے وہ آپ کی مدیحہ صاحبہ یہ سوچتی ہوں کہ آپ فطرتاً برے یا لیڈی کلر ٹائپ نہیں مگر موقع ملنے پر کسی خاتون میں ایسی دل چسپی لیتے ہوں جو آپ سے وابستہ کسی اور خاتون کو بھی بری لگ سکتی ہے۔
اجازت ہو تو میں بھی آپ کی کچھ تعریف کرلوں۔ ارسلان نے پوچھا۔
نیلم نے کہا اس سے آپ میرے سوال کو اگنور کرنے کا حربہ نہیں بنائیں گے۔
”ہر گز نہیں۔ میں کسی سچویشن کو avoid کرنے کی بجائے اسے فیس کرنا زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔
آپ جتنی دل کش دکھائی دیتی ہیں اس سے زیادہ آپ مجھے unexplored لگتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے آپ سمندر کے درمیاں ایسا جزیرہ ہیں جو صرف پورے چاند پر ابھر کے پانی کے باہر آتا ہو
وہ کھل کھلا کر ہنس دی اور کہنے لگی Call me mermaid of a distant island (مجھے کسی دور افتادہ جزیرے کی جل پری سمجھو)
”مگر میرے سوال کا جواب“ ۔ وہ مصر ہوئی
’حالات کی مجبوری کو ایک خوش گوار ملاقات میں بدلنا کوئی جرم ہے تو میرا جرم وہی ہے جو آپ کے مطابق مدیحہ نے سوچا اور آپ نے اس گوشہ انصاف میں پڑھ کر سنایا۔ ہم بات نہ کرتے تب بھی
زندگی کی یہ رات گزر ہی جاتی۔
”ایسا ہوتا تو آپ کیا کرتے؟ ’نیلم نے پوچھ ہی لیا۔
میں سوچتا یہ آپ کا بھی اتنا ہی بڑا نقصان ہے جتنا میرا۔ ’ارسلان نے وار کیا۔
نیلم کو لگا کہ اب اس گفتگو میں ایسا موڑ آ گیا ہے کہ وہ رومانٹک جارحیت جیسے ہاتھ پکڑنا، گلے لگانا، چومنا شروع کرے گا تو اس کی مدافعت کم سے کم ہے اور اس کے پاس اس کا جواز بہت زیادہ ہے۔ وہ کھڑی ہو گئی اور آہستہ سے کہنے لگی I need a time out (مجھے کچھ وقفہ درکار ہے )
ارسلان نے اس پر کہا وہ چاہے تو وہاں کافی شاپ سے اس کے اور اپنے لیے کچھ مشروب لا سکتی ہے یا وہ یہاں بیٹھنا چاہتی ہے تو وہ لے آئے گا۔
نیلم کہنے لگی نہیں I dont feel like changing the battlefield۔ You go and bring it۔
وہ اسے جاتا دیکھتی رہی۔ جانے اسے کیوں خیال آیا کہ جب وہ اس سے کسی ائرپورٹ پر جدا ہوگا تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔ یہ وہ قدم نہیں جو اسے چھوڑ کے جانے کے لیے اٹھیں۔ سامان پاس نہ ہوتا تو وہ اس کے پاس جاکر کہتی Don ’t you ever walk away from me
(مجھ سے کبھی دور جانے کا سوچنا بھی مت)
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

