کہروڑ پکا کی نیلماں ( 4 )


اس نے گریبان میں جھانکا تو لگا جن قوموبط کا تعویذ ایکس پائر ہو گیا ہے۔ اسے ارسلان اچھا لگ گیا ہے۔ اس نے اس کے جسم کو تو چھوا نہیں مگر دل کو لیزر کی شعاعوں سے کاٹ دیا ہے۔ کیمرہ لاکٹ اتار کر اس نے پرس سے نکال کر فیروزہ کا لاکٹ پہن لیا۔ ارسلان واپس آیا تو شہد کی ایک پوری بوتل بھی بلیک کافی کے ساتھ تھی۔

نیلم نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا تو وہ کہنے لگا جتنا استعمال ہوا ٹھیک ہے ورنہ ہم میں سے جسے آج کی ملاقات اچھی لگی ہو وہ اس کو رکھ لے۔ اس کی مٹھاس زندگی میں یاد دلاتی رہے گی کہ

شہد جینے کا ملا کرتا ہے تھوڑا تھوڑا

نیلم نے یہ شعر سن رکھا تھا گلزار کی غزل تھی۔ جگجیت کو وہ بہت شوق سے سنا کرتی اس لیے خود ہی کہنے لگی

جانے والوں کو لیے دل نہیں تھوڑا کرتے۔

اسے لگا کہ کوئی لمحہ جاتا ہے کہ اس کی چشم نم ناک سے ایک قطرہ بہنے کو ہے۔ اس بے ارادہ اظہار پر اس کی آنکھ نم ہو گئی جو اس کے لیے خفت کا باعث بن سکتی تھی مگر ذہین عورت تھی کہنے لگی میری امی کو یہ غزل بہت پسند تھی۔ بیمار تھیں تو بس جگجیت کو سنا کرتی تھی اس نے جلدی سے ٹشو پیپر آنکھ پر رکھ لیا اور ہاتھ سے منہ چھپا کر کہنے لگی۔ پلیز جاری رکھیں۔ آپ مدیحہ کے مس کیرجز کا بتا رہے تھے۔

وہ کہنے لگا کہ مدیحہ کو جانے کیوں یہ شک دل میں گھر کر گیا کہ اس سے منسلک کسی عورت نے اس پر جادو کرایا ہے۔ اسی لیے وہ ٹھیک سے ماں بھی نہیں بن پا رہی۔ اس ماحول میں اس کے گھر والوں کی مداخلت بھی بڑھ گئی۔ ایک عامل صاحب بھی ان کے گھر آنے جانے لگے۔ ان کے مشورے سے ہی طلاق کا مطالبہ ہوا۔ ان کی ہدایت پراس طلاق کے بعد مدیحہ کی شادی اپنے خالہ زاد بھائی منیر لاکھانی سے ہو گئی۔ اب وہ دو بچوں کی ماں بھی ہے اور منیر نے سارا کاروبار سنبھال لیا ہے۔

اس کی دوران ملازمت صوبے کے چند طاقتور لوگوں سے الجھن ہو گئی۔ اکیڈیمی میں اس کے ایک اصلی سی ایس پی استاد اب فیڈرل سیکرٹری تھے۔ ایماندار، سمجھدار اور مردم شناس۔ ادب پرور اور فن کے دل دادہ ہونے کے ناتے یوں بھی ہر وقت عورتوں کی ناک کا کوکا اور آنکھ کا تارہ بنے رہتے تھے اس پر مزاج بھی ریشم کے لاچے جیسے کھلا کھلا اور آرام دہ تھا۔ بنگالن بیوی برطانیہ میں قیام کو ترجیح دیتی تھی۔ ارسلان سے اکیڈیمی کے زمانے سے تعلق قائم ہوا تھا وہ اب بھی جاری و ساری تھا۔ ان دنوں وہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری تھے۔ ارسلان کو وزیر اعظم سے منظوری لے کر انہوں نے وزارت زراعت میں غیر ملکی اشتراک سے چلنے والے پروجیکٹس کا انچارج ڈائریکٹر لگادیا تھا۔ وزارت کی جانب سے ایف اے او کے معاملات کو بھی وہی نمٹا کرتا تھا۔ اسی حوالے سے وہ ڈبلن سے کانفرنس سے لوٹ رہا تھا۔

نیلم نے جب اس داستاں گوئی کا آغاز ہوا تو اپنی سماعت میں فلٹر لگا لیے تھے کہ جھوٹ پر کہیں دماغ میں بیپ سنائی دے تو وہ اسے سوال کر کے غیر محسوس طریقے سے سچ اگلوا لے گی۔ اب تک یہ بیپ ایک دفعہ بھی سنائی نہ دی تو وہ خود کو بہتSusceptible سمجھنے لگی۔ اسے شک ہوا کہ کہیں وہ اس کے شخصیت کے سحر میں سب کچھ بھول بھال تو نہیں گئی۔ بچاؤ اور رکھوالی کی باڑ اس کی مے نوشی اور میاں سے مخاطب کے موازنے نے گراتو نہیں دی۔ ایسا ہوا تو یہ گھاٹے کا سودا ہوگا۔ بقول گڈی کے ٹوٹل لاس۔ اس نے بہت خاموشی سے اسے نظر انداز کر کے گلاس پر نگاہ دوڑائی۔ بارہ اونس کا یہ گلاس، وہ اور گڈی عام دنوں میں ایسے دو تین گلاس گھٹکا کر گاتی، ہنستی کھیلتی، نارمل مگر قدرے خوش گوار موڈ میں گھر آتی تھیں۔ سو شراب کا کوئی قصور نہیں۔ اسے وہ بغیر بتائے اچانک کھڑی ہو گئی اور ریسٹ روم کی طرف جاتے جاتے واپس پلٹ کر آئی اور اس باؤنڈری پر کہنیاں ٹکا کر یوں جھکی کہ ارسلان کی نگاہوں کے سامنے موسم گرما کی امگی ہوئی رات کے دو پورے چاند جگمگانے لگے۔ یہ اس کی باقی ماندہ مدافعت کے پرخچے اڑانے کا عمل تھا۔ یہ گولائیاں اسے جتلا رہی تھیں۔ کہ بے بی No Running Away this time۔ اس نے اب آغا صاحب کی نگاہوں کی کھلواڑ کا بالکل برا نہیں مانا اور کہنے لگی We resume after this bathroom break یہ گڈی کی انگریزی تھی جو اس کے بقول اس نے پاکستانی اداکارہ میرا کی زبانی سنی تھی۔

ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر وہ یہ بھی سوچے گی کہ حضرت ارسلان کی آنکھ ایک دفعہ کیوں بند ہوئی تھی اور دوسرے کیا وہ استنبول ائرپورٹ سے ہی سیدھی لاہور کی فلائٹ پکڑے یا اس کے ساتھ دو تین دن ترکی میں گزارے۔ ریسٹ روم کے شفاف آئینے میں اس کی خود پر ایک نگاہ نے ہی آنکھ بند ہونے کا جواب دے دیا کہ اس کا یہ سراپا ایسا ہے کہ سامنے بیٹھے مرد کو خواب دکھا بھی سکتا ہے اور چاہے تو اس کی نیندیں اڑا بھی سکتا ہے۔ واپسی میں پورے دس منٹ لگے اور استنبول کافیصلہ وہ اس لیے بھی نہ کرپائی کہ کیا وہ طلاق کے کاغذات پر دستخط نہ ہونے تک کی وجہ سے وہ اب تک فیصلوں میں طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے شوہر سعید گیلانی کو جواب دہ ہے۔

اس نے واپسی پر بار سے پھر وہی کاک ٹیل کا چھوٹا گلاس اٹھا لیا تھا۔ آتے ہی اس کا ایک لمبا گھونٹ بھر کے ارسلان کو آرپار ہو جانے والی نگاہوں سے دیکھا۔ چہرے پر ایک صوفیانہ شانتی اور ایک معصومانہ رکھ رکھائو تھا۔ مقابلے کے امتحان اور اہم عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود چہرے اور شخصیت کا مجموعی تاثر تکبر، خود ستائی کے خاموش احساس اور اندر آنے والوں کو کنٹرول کرنے والے مکڑی کے جالوں سے اٹا ہوا نہ تھا۔ مسکراہٹ گھائل کرنے والی اور بہت فطری سی تھی۔

اسے دیکھتے ہوئے وہ بھی مسکرا دی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کم از کم ازدواجی ناآسودگی اور طلاق کے حوالے سے دونوں ایک دوسرے کی کمفرٹ زون میں تھے۔ اسے خیال آیا کہ وہ اس شادی کے بعد کسی اور عورت سے وابستگی کا پوچھ لے مگر یہ اسے خود غرضی لگی کہ اس نے اپنے بارے میں تو کچھ بتایا بھی نہیں اس موقعے پر بے چارے ارسلان کی نجی زندگی کاComputed tomography (CT) ، یعنی CAT Scan، کرڈالنا سراسر زیادتی ہو گا۔

اپنی نشست پر پھر سے براجمان ہو کر اس نے گلاس منہ سے لگایا۔ مشروب میں ذائقہ آفریں ترشی کی وجہ سے لگا کہ اس کے دماغ میں ہلکی سی پھوار یوں برسی ہے کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی سے ہوتی ہوئی ناف کے بھنور میں ہلکورے لے رہی ہے۔ اس نے جھک کر اپنی ناف کو دیکھا بھی مگر وہاں اس کی نیول رنگ لٹکی ہوئی گھنٹیاں سانس کے زیروبم سے بج رہی تھیں۔ اسی جھپ میں اس نے باقی ماندہ مشروب بھی غٹاغٹ ختم کر لیا

ایک دلبرانہ سنجیدگی جو کسی طور مخاطب کو اپنے احساس اجتناب پر براہ راست حملہ نہ محسوس ہو وہ اس سے پوچھنے لگی ’آپ واقعی نہیں پیتے؟ ہم نے لاہور میں اپنے این۔ سی۔ اے میں بہت سنا تھا کہ بیوروکریٹ تو بہت خراب ہوتے ہیں۔ ارسلان نے ہنس کہ جواب دیا ”بالکل صحیح سنا تھا آپ نے۔ میں بھی بہت خراب ہوں مگر شراب نہیں پیتا۔ آپ کا سوال یہ ہے کہ کیوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں ہمیشہ سے natural high میں ہوتا ہوں“ ۔

گفتگو میں اس کے چلے جانے سے ایک خلل سا آ گیا۔ واپسی پر اسے اپنی سابقہ لے پر لانے کے لیے نیلم نے پوچھا اسلام آباد میں رہائش ہے کہ کراچی میں۔ وہ کہنے لگا ابو کا کاروبار حیدرآباد میں ہے۔ امی اس کے بڑے بھائی اور بہن کے ساتھ کراچی رہتی ہیں۔ اس کا اپنا فلیٹ کراچی میں بھی ہے جو ابو نے سی ایس ایس کرنے پر تحفے میں دیا تھا۔ سمندر کے کنارے پر واقع ایک کثیر المنزلہ عمارت میں واقع ہے۔ اسلام آباد میں اس نے سترہ موڑ پر دو دو ہزار گز کے دو پلاٹ سستے داموں خرید لیے تھے۔ ایسے ہی دو پلاٹ اس کے باس نے بھی خریدے۔ اس نے ایک پلاٹ پر تین کمروں کی مختلف لیولز کی کاٹیج بنائی ہے۔ ایک بوڑھا جاپانی کسان جوڑا یہاں آیا تھا۔ اس نے یہ کاٹیج ڈیزائن کی تھی۔ ساتھ کے گاؤں والوں سے بنوایا۔ سب کام بہت سستا ہو گیا اور Classy بھی۔ ملک بھر میں ادھر ادھر دوروں کے درمیاں کباڑیوں سے پرانا فرنیچر لا لاکر اس نے یہ آشیاں سجایا ہے۔

پہلے وہ کراچی میں رام سوامی کے پاس ایک بلڈنگ میں رہتا تھا اپنی پھوپھو کے ساتھ۔ وہاں ایک ہندو فیملی سے ان کے دیرینہ مراسم تھے۔ وہ اب اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں رہتی ہے۔ کیوں کہ کراچی میں ان کے برے دن آ گئے تھے۔ گھرانے کا سربراہ کیشو رام جوا ہار گیا تھا۔ اسے بتایا بھی نہیں۔ ورنہ وہ اپنے انڈر ورلڈ سے تعلقات کے ذریعے اس معاملے کو خاموشی سے حل کر لیتا۔ کیشو رام نے خودکشی کرلی۔ داماد نے بھی گیراج بیچ کر بھارت کی راہ پکڑ لی۔ بلڈنگ کی کسی عورت نے اس کا ذکر کسی اخبار میں پڑھا۔ تب وہ کراچی میں ڈپٹی کمشنر تھا۔ چھوٹی موٹی خبریں اس کے نام کی بھی لگ جاتی تھیں۔ اسی نے کیشو رام کی بیٹی اوشا کو بتایا۔ بھائی نے رابطہ کیا۔ تب سے وہ انہیں ساتھ ساتھ لیے گھومتا ہے۔ ماں کھانا بناتی ہے۔ بھائی کو ایک سرکاری فارم پر اسی نے ملازم رکھوا دیا ہے۔ بہن اوشا کچھ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ وہ اس کے پرندے سنبھالتی ہے۔ اس کی لائبریری اور اس کے کمرے اور سامان کی دیکھ بھال بھی اس کا ذمہ ہے۔ پانچ سال کا ایک بیٹا بھی ہے اس کا۔ وہ اسکول جاتا ہے۔

اس کا علاج نہیں کراتے۔ نیلم نے پوچھا۔

نہیں۔ وہ خوش ہے۔ ککنگ کی کلاس سے کیک بنانا سیکھ گئی ہے۔ وہ دو تین سیل کرتی ہے پانچ ہزار روپے تک مل جاتے ہیں۔

کاک ٹیل کے ختم ہونے پر نیلم نے دل میں پھر ٹائم آؤٹ کا سوچا اور کہنے لگی کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے لیے کافی اور اس کے لیے یہی ڈرنک چھوٹا گلاس لے آئے۔ My last one for a big move؟ ”

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan