کہروڑ پکا کی نیلماں ( 4 )

کافی والی جگہ ان کی نشست سے ذرا فاصلے پر تھی واپس آتے آتے ارسلان کو دس منٹ لگ گئے۔ ان دس منٹوں میں نیلم نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے سابقہ پروگرام پر عمل کرے گی۔ یوں بھی اس کی ٹکٹ پر اسلام آباد کی روانگی چار دن بعد کی تھی۔ ممکن ہوا تو وہ استنبول میں سعید کو ڈھونڈے گی۔ اسٹینڈ بائی یعنی متبادل انتظام کے طور پر وہ ارسلان کو ساتھ رکھے گی۔ اسے سابقہ رفاقت کے برتے پر یہ بھی گمان ہوا کہ طے شدہ پروگرام میں خلل کی وجہ سے میاں سعید گیلانی اسلام آباد لوٹ گیا ہو۔ اس کے معاملے میں وہ جلد Snap کر جاتا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ڈوڈیال چلا گیا ہو۔ وہاں اس کی ایک بہن بیاہی ہوئی تھی۔ ان کا اپنا گھر بھی تھا۔ بہت سے رشتہ دار بھی وہیں تھے۔ ایسی صورت میں وہ ان ہوٹلوں میں ارسلان کے ساتھ قیام کرے گی۔ وہ اس کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہے گی۔ کوشش کر کے ایسے ہوٹل میں ٹھہرے گی جو بہت مہنگا نہ ہوا، شہر کے وسط میں ہو گرینڈ بازار یا سلطان محمد، کے علاقے میں۔ وہاں کمرے لازماً برابر برابر ہوں مگر سیر ساتھ ساتھ ہو۔ وہ قونیا جائے گی۔ موقع ملا تو ایک دو گھمریاں عالم سرخوشی میں سماع کی محفل میں لے لی گی۔
کہنے کو تو یہ محض دس منٹ ہی تھے۔ ارسلان سے دوری کے دس منٹ۔ اپنے میاں سے وقتی دوری کا فیصلہ اس نے اس دس منٹ میں کیا۔ اپنی ذات کی مرکزیت سے ہٹ کر وہ اتنا دور کبھی نہیں جی تھی۔ اب سوچے تو شادی ان دس منٹ میں ہی ٹوٹی۔ باقی سب تو وہ تھا جسے انگریزی میں Rites of Passage یعنی محض رسومات مسافت کہتے ہیں۔ آپ سوچیں تو زندگی کے سب سے بڑے فیصلے آپ بہت کم وقت میں کرتے ہیں۔ ان فیصلوں کو کرتے وقت آپ کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ ان کے مفادات، مضمرات اور اثرات کیا ہوں گے۔
یہ تیس بتیس گھنٹے وہ تھے جس نے اس کی زندگی کو ایسے چوراہے پر جس کی علامات و نشانات وہ ٹھیک سے سمجھ اور پڑھ بھی نہ پائی اسے بالکل انجانی شاہراہ پر موڑ دیا نیلم کو بالکل نہ محسوس ہوا کہ وہ زندگی کے کچھ بڑے فیصلے کر رہی ہے۔ عجب امید و بیم کا عالم تھا جس نے دل کو گھیر رکھا تھا۔

سعید اگر استنبول میں اسے نہ ملا تو ارسلان کے ساتھ تین راتیں اور چار دن استنبول میں گزارنا چھوٹا فیصلہ نہ تھا۔ سعید گیلانی تا حال اس کا میاں تھا۔ اب تک یہ شادی جیسی بھی تھی ٹو۔ از۔ کمپنی کے سنہری اصول پر چل رہی تھی۔
استنبول، ترکی، ارسلان اور یہ پروگرام اس کے لیے قطعی غیر مانوس اور انجانے ہوں گے۔ کیا وہ یہ سب کچھ نبھا پائے گی۔ سول سرونٹس کے بارے میں اس نے اپنی تعلیم کے دوران جو کچھ سنا وہ کچھ ایسا حوصلہ بخش اور اعتماد دلانے والا نہ تھا۔
دور سے ارسلان آتا دکھائی دیا تو اس نے ایک جے آئی ٹی بڑے ملزمان سے تفتیش کے لیے بنائی جانے والی تحقیقاتی ٹیم جس میں سویلین اور خفیہ عسکری اداروں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں J۔ I۔ T= Jointبنانے کی ٹھانی۔ اس پر نیند کا غلبہ طاری تھا اور وہ جانتی تھی کہ جب مرد پر نیند غالب آ جائے تو وہ اتنا ہی سچ بولتا ہے جتنا شراب حلق سے اترنے کے بعد بولتا ہے۔ وہ مطلب پرست، مفاد آلودہ جے آئی ٹی کی مانند اسے جگائے رکھے گی۔ سونے نہیں دے گی تاکہ اپنی تسلی اور تشفی کر کے اس کے ساتھ ترکی میں قیام کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ اس کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اسے ہانکا کر کے گھیرے۔ براہ راست سوالات سے مرد بدک جاتے ہیں۔ اس کے لیے وہ اسے بدن کا دانا ڈالے گی اور اپنا سیاہ شرگ اتار کر اپنے رول آن بیگ سے ایک جامنی اسٹول نکال لیا۔ سرخ رنگ کا ڈھیلی آستینوں والا ٹاپ یوں بھی کشادہ گلے کا اور قدرے Low neck تھا۔
بے تاب مرغابیوں کو جدا کرتی سینے کی لکیر او پر فیروزے کے نئے لاکٹ کے ہلکورے۔ یہ اس کونے میں کسی جواں مرد کے اوسان دھیمے دھیمے خطا کرنے کے لیے کافی تھے۔ طے ہو گیا کہ اس تفتیشی عمل میں اس کے بدن اور اس کے یہ محدود جلوے Good Cop ہوں گے اور اس کا دماغ Bad Cop کا رول پلے کریں گے۔ رہ گیا دل تو اسے یہ یقین دلا کر کہ یہ سب کچھ بقا اور بہبود نسواں کی جنگ کے لیے لازمی حکمت حربی ہے وہ اسے مفاد ذات کے زنداں کی قید تنہائی میں دھکیل دے گی۔

ارسلان نے جونہی نشست جمائی اس نے پہلا وار کیا اپنا Vodka Cranberry Shrub کا گلاس اٹھا کر کہنے لگی کہ ہم نے اب تک ایک دوسرے کو ٹوسٹ تو کیا نہیں۔ وہ آگے جان بوجھ کر جھکی تو لاکٹ گلاس کی کناری سے ٹکرا گیا اور اسے لگا کہ ارسلان کی نگاہیں بھی ان چمکیلی اجلی ڈھلوانوں سے پھسل کر ایک مقام اختتام پر رک گئیں۔ اس کے اوپر والے لب پر پسینے کے وہ قطرے نمودار ہوئے جو وصال کی طلب کی علامت تھے۔ اسے لگا کہ اس کی جانب سے یہ شعیب اختر کا پہلا با ئونسر تھا جس سے بیٹسمن لڑکھڑا گیا ہے۔ اب زیادہ دیر وکٹ پر جم کر کھڑا نہیں ہو پائے گا۔ معاملہ اس کا الٹ ہوا۔ ارسلان نے جب یہ کہا کہ لیں ایک ساتھ تین ٹوسٹ ہو گئے۔ نہیں شاید دو ہی ہوئے کیوں کہ پیپر گلاس کا کیا ٹوسٹ۔ مجھے اندازہ نہ تھا کہ آپ کا یہ لاکٹ میرا اتنا ہمدرد نکلے گا۔ اس جملے کو سنتے ہوئی اور اس کی رسائی اور شرارت کو بھانپ کر وہ ایسے شرمائی کہ لگا کہ شعیب اختر کا باؤنسر کراتے وقت شانے کا پٹھا اکٹر گیا ہے۔ وہ جانتی تھی کہ آپ حواس خمسہ کی رو شراب پیتے وقت آپ اسے دیکھ سکتے ہیں، چکھ سکتے ہیں، سونگھ سکتے ہیں، چھو سکتے ہیں۔ صرف سن نہیں سکتے۔ سماعت کا یہی بھرم قائم کرنے کے لیے جام ٹکرائے جاتے ہیں
وہ کچھ دیر شرماتی رہی اور پھر کہنے لگی۔ آپ ترکی گئے ہیں۔ میرا وہاں جانے کا ارادہ ہے۔ میرا اپنے میاں کے ساتھ یہی پلان تھا کہ ہم یہاں سے ساتھ ترکی جائیں گے۔ بچھڑنا ہی ہے تو قریب آن کر کیوں نہ بچھڑیں۔ مصر میں عزیز مصر کے سات بالیوں بھرے خواب نہ سہی آنے والے سات خشک سالی کے برسوں کا جشن ابتدا میں ہی مل جل کر منا لیں۔ اس تذکرے پر نیلم نے محسوس کیا وہ کچھ جزبز ہوا ہے۔ یہ اسے اپنی کامیابی لگی اپنی سرخوشی کے عالم میں وہ یہ بھول گئی کہ اس میں یہ اعتراف بھی شامل ہے کہ میاں بیوی کے حوالے سے یہ پارٹی جلد ہی اوور ہو جائے گی۔ کہنے لگی یقین نہیں کہ میرے میاں وہاں آج کے Faux Pas کے بعد وہاں میرے منتظر ہوں گے۔ ان کا ذہن فوراً اس جانب چلا گیا ہوگا کہ میں فلائٹ مس ہونے کی وجہ سے ہالینڈ میں اپنی دوست گڈی کے ساتھ Hens ’Night Out (وہ رات جب لڑکیاں پارٹی کرتی ہوں ) پر نکل گئی ہوں گی۔ یہ دوسری نشانی تھی جسے ارسلان نے با آسانی نوٹ کیا کہ حالات کے دباؤ میں نیلم کچھ غیر معمولی فیصلے کر سکتی ہے۔
فرض کریں وہ اگر موجود نہ ہوں تو پھر آپ کیا کریں گی؟
Is it not a safe place for single girl۔ Single only in number؟ (کیا وہ شہر تنہا لڑکی کے لیے محفوظ نہیں۔ سنگل عدد کی حد تک) اس اکائی میں ایک دکھ تھا۔ جس پر ارسلان کا دل پسیج گیا۔
ترکی ویسا محفوظ ملک نہیں جیسا مغربی ممالک اور سنگاپور جاپان ہیں۔ زبان کا بھی بہت مسئلہ ہے۔ کم بخت تھینک یو بھی نہیں بول سکتے۔
اب میرا ارادہ مزید ائرپورٹ پر چار دن رہنے کا نہیں۔ نیلماں نے روہانسی ہو کر شکوہ کیا
ہرگز نہیں استنبول کا ائرپورٹ تو ویسے بھی پاگلوں کی سسرال ہے۔
انہیں لمحات میں دونوں کی نگاہیں اٹھیں اور ایک دوسرے پر اسی سسرالی چوکھٹ کو عبور کر کے رفاقت کے چار دن ساتھ گزارنے کی دعوت میں پہل کرنے کے لیے جم گئیں۔
پھر آپ اگر کاپو ڈوکیا اور قونیا نہیں دیکھتیں تو ترکی کا دورہ ادھورا رہ جائے گا۔
نیلم کہنے لگی کہ مجھے استنبول کے لالے پڑے ہیں اور آپ مجھے مارکو پولو بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
I can be your travel guide۔ اگر آپ کے شوہر وہاں موجود ہوں تو ان کو دیکھتے ہی آپ اجنبی بن جانا ورنہ باقی سفر ہم آپ کی سہولت سے کریں گے۔ میں استنبول تو آتے جاتے پانچ چھ دفعہ رک چکا ہوں۔ ایک دفعہ کاپو ڈوکیا اور قونیا بھی گیا تھا۔
ویزہ کا اشو نہیں ہوگا۔ میں نے لندن سے لے لیا تھا۔ آپ کیا کریں گے؟ نیلم نے پوچھ لیا
نہیں نیلے پاسپورٹ پر کئی ممالک کا ویزہ On arrival ہوتا ہے۔ ارسلان نے بتا دیا
اور چھٹی کا؟
نہیں باس کو میرے اوور اسٹے کی عادت کا بخوبی علم ہے۔ وہ بھی موقع ملتے ہی کسی نہ کسی کانفرنس میں بیرون ملک نکل جاتے ہیں۔
نیلم کو یک گونہ اطمینان ہوا مگر اس نے بے تابی کے اظہار سے بہتر سمجھا کہ گیند ایک دفعہ پھر اس کی کورٹ میں ڈال دے۔ میرے میاں شاید ہوں۔ ایسا ہو تو پھر آپ مجھے الزام نہیں دیں گے۔
نہیں۔ ممکن ہے میں بس میں بیٹھ کر بلغاریہ نکل جاؤں وہ وہاں سے تین سو میل دور ہے۔
(جاری ہے )

