جلی ہوئی کشتیوں کا سپہ سالار
میں نے چونک کے ان کی طرف دیکھا تھا۔ ”مگر کیوں یہ بینک تو یہودیوں کا نہیں ہے۔“
نہیں سوال یہودیوں کا نہیں ہے۔ میرے تو بہت سارے مریض یہودی ہیں۔ بارکلے بینک انگلش بینک ہے مگر ان لوگوں کا سارا منافع ساؤتھ افریقہ میں لگا ہوا ہے۔ ”
”مگر نوید بھائی نیلسن منڈیلا کون سا مسلمانوں کی جنگ لڑ رہا ہے۔“
”مسلمانوں کی نہیں، انصاف کی جنگ لڑ رہا ہے۔ انصاف کی ہر جنگ اسلام کی جنگ ہے۔ وہاں انصاف تو نہیں ہے نا لاکھوں کروڑوں کالوں پر مٹھی بھر لوگ صرف اس لیے حکومت کر رہے ہیں کہ ان کا رنگ سفید ہے۔ یہ انصاف تو نہیں۔ اس کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی۔“
توفیق نے کہا تھا کہ ”پھر تو ہر جگہ کچھ نہ کچھ مل جائے گا اور ہم لوگ بس یہی کرتے رہیں گے۔“
”یہی تو سارا مسئلہ ہے۔ جنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جنگ تو ہر طرح کی ہوتی ہے اگر لڑ کر نہیں تو صرف برا سمجھ کر بھی کی جاتی ہے۔ میں تو صرف یہ سوچتا ہوں کہ آج کے زمانے میں جہاں نا انصافی ہی نا انصافی ہے تو ہمارے نبی کیا کرتے۔ اگر وہ جنگ نہیں کرتے تو جنگ کرنے والوں کی مدد کرتے؟ اگر مدد نہیں کرتے تو کم از کم ظالموں سے نفرت تو کرتے۔ میں صرف یہی کر رہا ہوں۔“
رفیق نے فوراً ہی کہا تھا ”دنیا اتنی سادہ نہیں ہے نوید بھائی۔ تمام دنیا میں مسئلے ہی مسئلے ہیں۔ خاص طور پر مسلمان ملکوں اور تیسری دنیا کے غیر اسلامی ملکوں میں اور اگر صرف اتنی معمولی باتوں سے مسئلے حل ہوسکتے تو کب کے ہو جاتے۔ بہت سی طاقتیں ہیں جن سے صرف نفرت کا اظہار کر کے مسئلے نہیں حل ہوسکتے ہیں۔“
انہوں نے اپنے انداز میں ٹھہر ٹھہر کر کہا تھا کہ ”سچ سے زیادہ بڑی کیا طاقت ہو سکتی ہے توفیق۔ سچ تو ازلی اور ابدی طاقت ہے۔ تم یورپ میں اس کا کمال نہیں دیکھتے ہو، دنیا بھر کی غلاظتوں کے ساتھ شراب کے دریا بہانے کے باوجود آج یہ لوگ اخلاقی طور پر ہم سے آگے نہیں ہیں؟ کیوں آگے ہیں کبھی سوچا ہے؟ صرف اس لیے کہ یہ سچے ہیں اور ہمیشہ تو نہیں مگر ماضی قریب سے ہی صحیح سچ کے لیے ان کا اجتماعی ضمیر بے قرار ہے یہ تو ماننا ہو گا۔ اور اسی وجہ سے ہم سے برتر ہی ہیں۔“
مجھے ہنسی آ گئی تھی۔ میں نے کہا تھا ”آپ کی بات صحیح ہے۔ یہاں جھوٹا آدمی وزیر نہیں رہ سکتا، جج نہیں بن سکتا، پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھ سکتا، وہ صحافی نہیں بن سکتا مگر ان کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے۔ یہ اور لوگ ہیں اور ہم اور لوگ۔ ارے کون ہے ہماری اسلامی دنیا میں جو سچا ہو؟ کوئی بھی تو نہیں۔“ مجھے تھوڑا سا غصہ سا آ گیا تھا۔
”تمہاری بات درست ہے مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ میں تم اور ہمارے تمہارے جیسے لوگ جھوٹ بولیں۔ ہم اپنے نبی کا راستہ کیوں نہ پکڑیں۔“ میں نے محسوس کیا جیسے وہ جذباتی سے ہو گئے ہیں۔ پھر وہ رک گئے تھے اور پھر دھیرے سے بولے تھے ”میرے نبی نے ڈر کر، سونا چاندی کے لیے، مصلحت کے تحت دوست کی خاطر، ظلم سے بچنے کے لیے، عورت کے لیے نہ جھوٹ بولا تھا نہ جھوٹ کے ساتھی بنے تھے، اور یہ طاقت ایسی تھی جو ساری طاقتوں سے بھاری تھی۔“
ان کی بات میں کچھ ایسا وزن تھا کچھ ایسا اثر تھا، کچھ اس طریقے سے کہا تھا انہوں نے کہ ساری بات جیسے دل میں اتر گئی تھی۔ ہم کچھ اور نہیں کہہ سکے تھے۔
شام تک ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہی تھیں۔ انگلستان کی باتیں۔ لیبر پارٹی کا الیکشن ہارنا، مارگریٹ تھیچر کا کوئلے کی کانوں کے مزدور لیڈر آرتھر اسکارگل سے سلوک، جیفری ارچر کا مقدمہ اور لیڈی ڈائنا اور شہزادہ چارلس کی شادی کے مسئلے۔ پھر شام بھی غروب ہو گئی تھی اور ہم دونوں اپنے اسپتالوں کو لوٹ آئے تھے۔ مگر ساتھ ہی ہم دونوں نے بارکلے بینک سے اکاؤنٹ ختم کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔
چند مہینوں کے بعد ہمیں نوید بھائی کی ضرورت پڑ گئی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ توفیق، ڈیوڈرا اور ڈیبرا دونوں سے جان چھڑا کر مشیل سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ مشیل بھی ڈاکٹر تھی اور سرخ بالوں کے ساتھ دماغ کی بھی سخت تھی۔ اسے نہ جانے کیا ہوا تھا کہ توفیق نے جیسے ہی شادی کی بات کی تھی تو اس نے کہا تھا کہ وہ مسلمان ہونا چاہتی ہے۔ توفیق نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا مگر نہ جانے کیوں اب نروس سا ہو گیا تھا اور نوید بھائی سے مشورہ کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تم تینوں ہی آ جاؤ، کھانا بھی کھاؤ اور گپ شپ بھی ہوگی۔
مشیل ایک سمجھدار لڑکی تھی۔ اس نے زندگی میں ہمیشہ کٹھن راستے ہی چنے تھے۔ شادی کے لیے بھی اس نے نہ صرف یہ کہ ایک پاکستانی سے حامی بھری تھی بلکہ اب مذہب بھی بدلنا چاہ رہی تھی۔ ہماری میٹنگ بڑی دلچسپ تھی۔ نوید بھائی نے مشیل سے پوچھا تھا کہ اگر شادی کے بعد کسی وجہ سے توفیق سے طلاق ہو جائے تو وہ مذہب اسلام کا کیا کرے گی۔ اس نے فوراً ہی جواب دیا تھا کہ اگر اسلام سے زیادہ اچھا مذہب مل گیا تو اسلام بھی چھوڑ سکتی ہوں اور یہ تو بغیر طلاق کے بھی ہو سکتا ہے۔ توفیق سے ایک مطمئن شادی کے باوجود۔
نوید بھائی کے چہرے پر اطمینان تھا۔ یہ بہت معقول بات تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ شادی میں جلدی نہ کرو تھوڑا دیکھ لو سمجھ لو، یہ تو زندگی بھر کا سلسلہ ہے۔ پھر انہوں نے ہم تینوں کو اگلے ہفتے بلایا تھا کہ کیمبرج میں مقامی مسلمانوں کی ایک میٹنگ ہے۔ یہ سارے کے سارے لوگ گرینچ کے قریب ایک گاؤں میں رہتے ہیں اور سب کے سب مسلمان ہو گئے ہیں۔ بہت دلچسپ میٹنگ ہوتی ہے وہاں چلیں گے۔
ہم تینوں نوید بھائی کی ہی گاڑی میں کیمبرج پہنچے تھے۔ کیمبرج کے ٹاؤن ہال میں یہ میٹنگ تھی۔ یہ سارے انگریز نوید بھائی سے بڑے تپاک سے ملے تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد سے نوید بھائی کا ان سے مسلسل رابطہ تھا۔ ان سب کی باتیں بڑی سادہ تھیں۔ ان سب میں بڑا احترام تھا۔ مرد اور عورتیں نومسلم تھے اور سچے بھی لگتے تھے۔ مشیل ان سب میں گھل مل گئی تھی۔ نوید بھائی کے ساتھ، وہ لوگ مجھے قرون اولیٰ کے مسلمانوں جیسے لگے تھے۔ سچے اور باوقار، بارعب اور فقیر۔ ان میں ڈاکٹر بھی تھے، وکیل بھی، سائنس دان بھی تھے اور ٹیچر بھی، یہ میرے لیے بھی ایک نیا تجربہ تھا۔
واپسی پر نوید بھائی کے گھر یہ فیصلہ ہو گیا تھا۔ ایک ماہ کے بعد توفیق کے ماں باپ کی موجودگی میں نوید بھائی نے لندن کی سب سے پرانی مسجد ووکنگ میں مشیل اور توفیق کا نکاح پڑھایا تھا۔
اس واقعے کو چند ہی دن ہوئے تھے کہ ایک دن نوید بھائی کا فون آیا تھا وہ سخت پریشان تھے۔ بوسنیا میں نیا نیا جھگڑا شروع ہوا تھا۔ انہیں خبر ملی تھی کہ مسلمانوں کی کئی بستیاں سخت فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ وہ 12 بڑے جگرناٹ ٹرکوں کا ایک قافلہ لے کر بوسنیا جا رہے تھے۔ چندہ جمع کر رہے تھے اور سامان اکٹھا کر رہے تھے۔ انہوں نے اور ان کے مریضوں نے مل کر بہت کچھ جمع کیا تھا۔ میں نے بھی اپنے ڈاکٹر دوستوں کے ساتھ مل کر تقریباً سترہ سو پونڈ جمع کر کے انہیں دیے اور انہیں بتایا تھا کہ میں بھی چلوں گا۔
ہمارا سفر اسپین سے شروع ہوا تھا۔ وہاں میں انابیل سے ملا تھا۔ انابیل ایک نرس تھی، لندن میں نوید بھائی کے ہاتھوں مسلمان ہوئی تھی۔ وہ میڈرڈ میں مسلم ویمن ایسوسی ایشن کے ساتھ کام کرتی تھی۔ نوید بھائی نے سارے پیسے انابیل کو بھیج دیے تھے۔ یہاں چیزیں سستی تھیں۔ دنیا بھر کے سامان سے بھرے ہوئے بارہ ٹرک لدے پھندے تیار تھے۔
ہمارا سفر بارسلونا سے شروع ہوا تھا جہاں سے ہم لوگ مارسیلز کے راستے فرانس میں داخل ہوئے تھے۔ فرانس سے میلان کے راستے سے اٹلی پہنچے۔ اٹلی سے ٹریسٹا اور راجیکا ہوتے ہوئے بوسنیا میں سرائیوو کے مضافات میں ایک چھوٹے سے قصبے میں ہمیں پہنچنا تھا۔
یورپ کے شاندار راستے، سرسبز وادیاں، کھیتوں کے لامتناہی سلسلوں سے ہوتے ہوئے پرانے یوگوسلاویہ تک جس کی خوبصورتی سے شاید جنت کی ہی مثال دی جا سکتی ہو۔ سفر بہت خوشگوار تھا۔
نوید بھائی نے ہر ملک سے اجازت نامے لیے ہوئے تھے۔ راستے کے شہروں میں رہنے والے کسی نہ کسی مسلمان تنظیم یا فرد کا پتہ ان کے پاس تھا۔ پورا سفر بہت زیادہ منظم اور خوشگوار تھا۔ دس دن ان کے ساتھ رہا تھا اور ان کی زندگی کے نئے گوشے میرے سامنے آئے تھے۔ ان کی تمام زندگی ترقی پذیر اسلامی ملکوں میں تعلیم پھیلانے پر صرف ہو رہی تھی۔ انہیں پتہ تھا کہ فلاپن میں مسلمانوں کی آبادی میں کیا ہو رہا ہے۔ انڈونیشیا میں کن لوگوں کا ساتھ دینا ہے، بھارت میں کہاں پر ظلم ہو رہا ہے، ملائیشیا کے طالب علموں کو لندن میں کس طرح سے مدد کرنی ہے، افریقہ کے ملکوں میں قحط کی صورت میں کیسے وسائل مہیا کیے جا سکتے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کے خواب ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ان کی آمدنی اسی مد میں خرچ ہو رہی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

