جلی ہوئی کشتیوں کا سپہ سالار


ایک دن ٹرک میں بیٹھے بیٹھے باتیں کرتے ہوئے میں پوچھ بیٹھا تھا ”نوید بھائی آپ نے دوسری شادی کیوں نہیں کی۔“

پہلے وہ ہنس دیے تھے پھر کہنے لگے تھے ”غلطی ہو گئی، کر لینی چاہیے تھی۔ اب کرلوں گا۔ تمہیں انابیل کیسی لگتی ہے؟“

میں انابیل سے ملا تھا۔ اسپنی حسن و جمال کی خوب مثال تھی۔ میں نے نہیں سوچا تھا کہ اس کا کوئی اس قسم کا رشتہ نوید بھائی سے ہو گا۔ میرے لیے یہ خبر ایک خوشگوار حیرت لے کر آئی تھی۔ میں تو اسے صرف اسپین کی ایک اسلامی تنظیم کا نمائندہ سمجھا تھا مگر نوید بھائی کے چہرے پر جھلکتی ہوئی قوس و قزح کچھ اور ہی اشارے دے رہی تھی۔

”بہت اچھی ہے نوید بھائی، بہت اچھی۔ ضرور شادی کریں اس سے۔ اس کے کام کرنے کا انداز، اس کی لگن۔ مجھے اب سوچنے سے لگتا ہے جیسے آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہوں۔“

”میں انابیل سے چار سال پہلے لندن میں ملا تھا۔ وہ مجھ سے بہانے بہانے سے ملتی رہی تھی پھر ایک دن اس نے مذہب بھی بدل لیا تھا۔ میرے دل میں اس کے لیے بے انتہا نرم گوشہ تھا لیکن میں ڈر گیا۔ نہ جانے کیوں میں یہ سمجھ بیٹھا کہ یہ صرف مجھ سے شادی کرنے کے لیے مذہب بدل رہی ہے۔ میں نے نہ چاہنے کے باوجود شادی سے انکار کر دیا تھا۔ وہ بہت روئی تھی اور میں اپنے آپ کو جھوٹی تسلیاں دیتا رہا تھا۔ پھر وہ میڈرڈ واپس چلی گئی تھی مگر مجھ سے مسلسل تعلق رہا تھا اس کا۔ ہر قدم، ہر مہم اور ہر طرح سے میری مدد کرتی رہی۔ میرا خیال غلط تھا۔ اس دفعہ ملاقات میں میں نے خود اس سے پوچھا تھا، وہ ابھی بھی مجھ سے ہی شادی کرنا چاہتی ہے۔ بوسنیا سے آنے کے بعد اس سال میں انابیل سے شادی کرلوں گا۔ شاید یہ ہم دونوں کے لیے اچھا ہو گا۔“

میرا دل چاہا تھا کہ میں ٹرک کا دروازہ کھول کر روڈ پر جمپ لگا دوں، زور سے چیخوں، ”یا ہو، یا ہو، نوید بھائی زندہ باد۔“

سرائیوو سے باہر بوسنیا کے لوگوں نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا تھا۔ نوید بھائی یہاں پہلے بھی آچکے تھے۔ جنگ و جدل اور فاقہ کشی کے باوجود لوگ زندہ تھے، مرنے اور مارنے کے لیے تیار۔ ہم لوگوں نے سارا سامان ان کے حوالے کیا تھا اور دو دن ٹھہر کر واپس لندن آ گئے تھے۔

ہم لوگوں کو بوسنیا سے آئے ہوئے تین ہفتے ہی ہوئے تھے کہ کراچی میں فسادات کی خبر ملی تھی۔ درحقیقت یہ خبر انہوں نے ہی فون کر کے دی تھی اور کہا تھا کہ کئی برس سے وہ پاکستان نہیں گئے ہیں اور اب کچھ رقم جمع کر کے وہ کراچی جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہی بتایا تھا کہ توفیق بھی ان کے ساتھ ایک ہفتے کے لیے جا رہا ہے۔

ہیتھرو ائرپورٹ سے توفیق نے فون کر کے بتایا تھا کہ ”پی آئی اے والے بکنگ سے مکر گئے ہیں۔ جھگڑے کے بعد اور ٹائمز ٹریول سے بات کرنے کے بعد پھر سیٹ ملی ہے۔ اس نے میرے گھر والوں کے لیے چاکلیٹ خرید لیے ہیں اور جلد ہی ملاقات ہوگی۔ اس نے کہا تھا کہ مشیل کو فون کرتے رہنا۔ میں نے کہا تھا ضرور۔ وہ پی آئی اے سے سخت ناراض لگتا تھا۔

دو دن بعد رات کے پچھلے پہر کراچی سے توفیق کا فون آیا تھا کہ نوید بھائی کے پیٹ میں گولی لگی تھی۔ چھ گھنٹے اسپتال میں رہ کر وہ مر گئے ہیں۔ اس نے فون پر رو رو کر سارا واقعہ سنایا تھا۔ وہ لوگ اورنگی جا رہے تھے جہاں پر کچھ متاثرہ لوگوں سے ملنا تھا مگر جیسے ہی وہ گاڑی سے اترے تھے، انجانی سمت سے آنے والی ایک گولی ان کے پیٹ میں اتر گئی تھی۔ وہاں سے بھاگ دوڑ کر عباسی شہید اسپتال آئے تھے جہاں گیارہ بوتل خون کے باوجود ان کی جان نہیں بچی تھی۔ آپریشن تھیٹر سے تو وہ باہر آ گئے تھے مگر تین گھنٹے تک ہی زندہ رہ سکے تھے۔

توفیق نے بتایا تھا کہ مرتے دم جو باتیں انہوں نے کی تھیں اس کے مطابق انہیں اسپین میں دفن کرنا تھا اور انابیل کو خبر کرنا تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ لاش لفتھانسا کے ذریعے اسپین پہنچے گی۔ میں نے پوچھا تھا کہ لفتھانسا سے ہی کیوں۔

مجھے ایسا لگا تھا جیسے فون کی دوسری طرف وہ مسکرایا ہے ”یار، انہوں نے کہا تھا مجھے حفاظت سے اسپین پہنچا دینا۔ ساتھ آجانا اگر آ سکو۔ تو میں نے وعدہ کیا تھا ساتھ چلوں گا اگر خدانخواستہ آپ کو کچھ ہو گیا تو۔ وہ تھوڑی دیر کے بعد بڑے کرب سے بولے تھے پی آئی اے سے نہ بھیجنا مجھ کو۔ پاکستان اور پی آئی اے میں تو زندوں کا کوئی خیال نہیں رکھتا ہے۔ مردوں کا کیا خیال کریں گے۔ پھر انہوں نے میرے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔ جان کے جانے کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا تھا جب ان کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے تھے۔“

میڈرڈ سے بہت آگے گراناڈا کے پرانے شہر میں جہاں الحمرا کی دیواریں ختم ہوتی ہیں جہاں پرانا شہر ختم ہوتا ہے، اس سڑک پر ایک چھوٹے سے گاؤں میں نوید بھائی کی لاش کے ساتھ میں توفیق، مشیل اور انابیل سہ پہر کے وقت پہنچے تھے۔ گاؤں کے ساتھ ہی کھیتوں کا سلسلہ تھا اور پتلی سی سڑک کے ساتھ ایک ٹوٹی پھوٹی پرانی مسجد کے آثار تھے جسے اب گرجا بنا دیا گیا تھا۔ گاؤں کے ساتھ ایک چھوٹا سا مسلمانوں کا قدیم قبرستان تھا۔ ٹوٹا پھوٹا، ماضی کے ہزاروں لاکھوں ساعتوں کا مدفن، جہاں انابیل نے ان کی قبر تیار کر الی تھی۔

موسم گرما کا سورج اپنی تمازت کھو چکا تھا اور بکھری ہوئی کمزور کرنیں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی تھیں۔ کھیتوں میں کام کرنے والے کسان مرد اور عورتیں اپنے لمبے ہوتے سایوں کے ساتھ حیرت سے ہم لوگوں کو تک رہے تھے۔ سرخی مائل آسمان پر پرندوں کے قافلے اپنی منزلوں کی جانب جا رہے تھے۔

میں نے نوید بھائی کی نماز جنازہ پڑھائی تھی اور لاش کو دھیرے دھیرے قبر میں اتارا تھا۔ مٹی ڈالنے سے قبل آخری دفعہ ان کا چہرہ دیکھا تو مجھے ان سے پہلی ملاقات یاد آ گئی تھی، جب امیتابھ بچن کی فلم روک کر رشید بھائی نے ہم لوگوں کا تعارف نوید بھائی سے کرایا تھا۔ مجھے اس وقت ایسا لگا تھا جیسے میں نے یہ صورت کہیں دیکھی ہے۔ قبر میں سرخ و سفید شکل پر پیلاہٹ کے باوجود ایک عجیب طرح کا اطمینان تھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ ابھی تک بکھری ہوئی تھی، کشادہ پیشانی پر رونق تھی اور داڑھی کے گھنے سیاہ سفید بالوں نے سینے کو ڈھانپا ہوا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ بچپن میں تاریخ پڑھاتے وقت ہمارے تاریخ کے استاد نے اسپین کی کہانی سنائی تھی تو میرے ذہن میں مسلمانوں کے سپہ سالار کی ایک شکل سی بن گئی تھی۔ بالکل ویسی ہی صورت سامنے تھی۔ طارق ابن زیاد۔ طارق ابن زیاد۔ جلی ہوئی کشتیوں کا سپہ سالار، طارق ابن زیاد۔

Latest posts by ڈاکٹر شیر شاہ سید (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر شیر شاہ سید کی دیگر تحریریں

صفحات: 1 2 3 4

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments