منی کی شادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منی نے جس گھر میں جنم لیا وہ کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا کا ایک سو بیس گز کا گھر تھا، جہاں اس کے ابا اور چچا رہتے تھے، چار بہنیں اور ایک بھائی منی سب سے بڑی بہن۔ بچپن سے ہی اس نے یہ ہی سنا زیادہ بچی مت بنو، یہ سب تم سے چھوٹے ہیں۔

منی جاؤ فلاں کام کر دو، اچھا ابو کو چائے دے آؤ، چولہے پہ سالن ہے دیکھتی آنا۔ اور واپسی پہ پانی کا گلاس بھی لے اؤ، منی کی امی کے پاس کوئی مدد گار نہ تھا، اس لئے وہ مدد کے لیے منی کو بلایا کرتیں۔

گھر میں سارے چھوٹے بچے تھے جس وقت وہ اپنے اسکول کے کام کے لیے آتی کوئی نا کوئی چھوٹا بہن بھائی اس کی کاپی پینسل چھیننے آ جاتا اور جب صبح اس کا کام پورا نام ہوتا تو ٹیچر کی ڈانٹ بھی اس کا مقدر، جب وہ اپنے امی ابو سے اس بارے میں کچھ کہنے کی کوشش کرتی تو الٹا اس کا ہی قصور نکلتا۔

جب پانچویں جماعت میں تھی چچا کی شادی کا شور مچا، یہ اس کی زندگی کی پہلی شادی تھی جو اس کے گھر پہ ہی ہو رہی تھی۔ لاہور سے شادی شادی شدہ پھپھو اور چچا چچی آ گئے ساتھ ہی ٹوکرا بھر کے کزن بھی۔

نئی چاچی بڑی ہی خوش مزاج تھیں وہ جب سنور کے آتیں تو سارے بچے حیرت سے دیکھتے جیسے کوئی دوسرے سیارے کی مخلوق ہو، شادی کی تقریب کے چند دن بعد گھر دوبارہ اپنی پرانی شکل پہ جانے لگا لیکن اب چچا اور چچی الگ سے لگتے، منی سوچتی کے چچا تو وہی ہیں لیکن کچھ فرق آ گیا ہے۔

چچا چچی کو گھر میں کچھ وقت ایسا بھی ملے جس میں بچے اور شور نہیں ہو تو ابو امی بچوں کے ساتھ چھت پر بنے ہوئے شیڈ میں چلے جاتے تاکہ وہ اپنا فریڈم انجوائے کریں۔

شادی کے تھوڑے دن بعد ہی چچی خمیرہ آٹے کی طرح پھولنے لگیں، اب بچوں کو الگ تجسس کے یہ کیسا انقلاب ہے۔ چند ماہ بعد ہی منی کے گھر ایک اور بچے کا اضافہ ہو گیا۔

وہ سب خوش تھے ہمارا بھائی آیا ہے۔ منی روز بروز بڑھتی جا رہی تھی، لیکن تھی ابھی بھی چھوٹی سی معصوم بچی دن میں کئی بار اس کو چاچی یا امی بچا تھما کے کہتیں اسے سنبھالو، اب وہ باہر کھیلنے بھی نہیں جاتی تھی کیونکہ اسے اب بڑی باجی والے کام کرنے پڑتے۔

گھر میں یوں بھی جگہ کی کمی اوپر سے ہر دوسرے دن ہی کوئی نا کوئی مہمان اب جب کوئی آتا تو اس کی خاطر کی ذمہ داریاں منی کی ڈیوٹی۔ وہ بہت مشکل سے وقت نکال کر ہومورک کرتی پر اسکول کی ٹیچر بھی اس سے خوش نہیں تھی۔

یوں ہی وقت گزرا اور اب منی دسویں جماعت میں آ گئی، امتحان میں خاص نمبر نہ آئے بس محلہ کے سرکاری کالج میں جرنل گروپ میں داخلہ ہو گیا۔

منی کو اب کوئی بھی بچے کے طور پر نہیں دیکھتا تھا، گھر کی زیادہ تر ذمہ داریاں اس کے پاس آ گئی تھیں، اس کا آدھا دن یوں ہی گھر کے کاموں میں نکل جاتا۔ کبھی اس نے کسی کام سے نہ ہی انکار کیا نہ ہی سوال۔

جب سے منی جوان ہوئی اس کی خالہ، پھپھو، ممانی اور چچی نے اس کے سامنے ہر طرح کی بیہودہ گوئی بے لگام انداز میں شروع کر دی۔ جب تک وہ چھوٹی تھی اس وقت تک غیبت کے بعد اسے بھگا دیا جاتا، اب تو منی کے لئے شادی اور بچوں سے جڑی کوئی بات بھی انوکھی نہیں تھی۔ امی جب گھر میں صرف چاچی کے ساتھ ہوتیں تو وہ دونوں صرف غیبت ہی کرتی تھیں۔ لیکن باقی سب کی موجودگی میں وہ بھی ویسے ہی کرنے لگ جاتیں۔

پہلے تو اسے ان باتوں سے گھبراہٹ ہوتی، پھر وہ بھی ان باتوں کو سے تفریح لیتی، اور ایک وقت کے بعد شدید نفرت کرنے لگی۔

چھوٹی پھپھو اپنے بچوں کی پیدائش کے ایک ایک لمحہ کی تصویر کشی یوں کرتیں کے سب کچھ دیر کو ہنسنا بولنا بھول کے پھپھو کی حالت پہ اوئی ہوئی اور چچچچ کرتے۔

چھوٹی پھپھو کنواری بیاہی کی تمیز چھوڑ سب کہانی کئی بار سنا چکیں، تو کبھی ممانی کبھی چچی سب کی دکھ اور سکھ بھری باتیں اب منی نے سن کے ہضم بھی کر لیں، عورتوں کے پڑھنے لکھنے کا رواج نہ ننھیال میں نہ ہی ددھیال میں جو لڑکی پڑھنے میں اچھی ہو اور یونیورسٹی تک پہنچ جائے تو کہا جاتا شادی نہیں ہو رہی اس لیے پڑھ رہی ہے بیچاری اور کچھ کرنے ہے ہی کب، اگر کسی عورت کے نوکری کرنے کا سن لیں تو وہ آوارہ عورت ہو جاتی، ایسے میں بڑی خالہ کا یہ ہی فرمان ہوتا کے جب ماں باپ اپنی ذمہ داری نہیں اٹھائیں گے اور شادی نہیں کریں گے تو پھر ایسے ہی آوارگی کرنی پڑے گی، خیر ہم کو کیا جب جہنم میں جائے گی تو باپ، بھائی کا دامن بھی گھسیٹا جائے گا۔ خاندان کی سب ہی خواتین کا مل کے مذاق اڑانا بھی منی کے خاندان کی خواتین کی روایت تھی۔

اب خاندان میں منی کے کزنز کی شادیوں کا دور شروع ہو چکا تھا۔ جب لڑکی کی شادی ہوتی تو جہیز کو لعنت کہہ کر روک دیا جاتا، لیکن جب لڑکوں کی شادی ہوتی تو کہا جاتا اے بہن ہم نے تو کہا تھا ہمیں کسی شے کی کمی نہیں لیکن لڑکی والوں نے تو ٹرک بھر کے ہی سامان بھیج دیا۔

منی کا نام معصومہ تھا۔ اس کی کلاس کی سہیلیاں جب کبھی شادی کی باتیں کرتیں تو اس کے دماغ میں اپنی پھپھو اور ممانی کے لذت و تکلیف کی کہانیاں گھومنے لگتیں وہ سوچ میں پڑ جاتی یہ اس طرح کی بیہودہ گوئی کی خاطر شادی ہوگی یا شادی کی کوئی اور بھی وجہ ہے۔

اس کے دل میں شادی شدہ زندگی کا خوف بیٹھ گیا تھا، اب اس کی خالہ اس کو کبھی کبھی چھیڑا کرتیں کے کے بڑی چچی کے بیٹے سے تمہاری شادی کر دیں گے۔

جیسے جیسے شادی کی بات بڑھنے لگی منی نے اور بھی زیادہ دل لگا کر پڑھائی شروع کر دی تاکہ اس کے سر پہ سے شادی کا خوفناک نقشہ دور ہو۔ وہ شادی سے نہیں ڈرتی تھی، دراصل وہ شادی شدہ عورتوں سے گھبراتی تھی ان کی بے غیرت اور بیہودہ انداز سے اسے نفرت تھی۔

اب خاندان میں باقاعدہ منی کی شادی کی باتیں ہونے لگیں ممانی نے ایک روز آنکھ مار کے کہا تیار ہو جاؤ۔

منی کی روح کانپ گئی، وہ اپنے آپ کو بھی ان لوگوں کی طرح سوچنے لگی جو بھرے ہوئے کمرے میں سب کے سامنے بچے کو دودھ پلاتے وقت تھوڑا سا دوپٹہ تک نہیں پھیلاتیں کے عورت کی عورت سے کیسی شرم۔

وہ دو تین دن شدید پریشان رہی۔ یوں لگتا تھا وہ مر جائے گی۔

اب گھر کے حضرات کے سامنے بھی شادی کی بات چھڑی تو چچا نے صاف انکار کر دیا، لیکن امی اور چچی نے شور مچا دیا کے شادی تو کر کے ہی رہیں گے، اچھا رشتہ ہے۔

ابو چپ چاپ اٹھے اور چھت پہ جا کر لیٹ گئے، منی سوچ میں پڑ گئی ابو سے کیسے کہوں کے چچا کی بات مان لیں۔ بہت دیر سوچنے کے بعد منی نے سوچا کیوں نہ ابو کو خط ہی لکھ دوں، یوں تو ابو زیادہ تر خاموش ہی رہتے ہیں، کالج سے آ کے بغل میں کتاب دبا کے سو جاتے ہیں، پھر ٹیوشن سینٹر اور رات کے کھانے کے بعد چچا کے ساتھ چھت پر ہلکے ہلکے باتیں کرتے، جب کے امی اور چچی کے گلے سے سارا وقت اونچے سر ہی نکلتے، اس ماحول میں کیسے وہ ابا سے بات کرے وہ خط دیکھیں گے بھی یا نہیں، یہ بھی سمجھ نہ آئے۔

بہرحال منی نے دو تین روز کی محنت کے بعد خط لکھ ہی ڈالا، خط نہایت ہی سادہ اور معصومیت سے بھرا تھا، اس نے چند سطور میں صرف اتنا کہنے کی کوشش کی کے ابا میں آپ جیسا بننا چاہتی ہوں، کیا آپ مجھے اپنے جیسے بننے کے لئے چند سال اپنے ساتھ اپنے گھر میں رہنے دے سکتے ہیں؟

ابو نے کالج میں کسی کام سے اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالا تو ہاتھ میں خط آ گیا، خط پڑھ کے وہ اداس ہو گئے، چھٹی کے وقت سے کچھ پہلے ہی گھر کے لیے نکل گئے۔ جب کالج سے گھر آئے تو بھی اداس تھے، امی سے کہا منی آ گئی ہے؟

جی آ گئی وہ کمرے میں ہے۔
بلاؤ اسے۔
منی، منی ابو بلا رہے ہیں۔
منی دھڑکتے دل کے ساتھ ابو کے سامنے آئی، ہزاروں خوف سے لرزاں۔
جی ابو۔
بیٹا بات سنو!
جی
پریشان نہ ہو، ویسے ہی ہو گا جیسے تم چاہتی ہو۔
ہیں؟
ہاں بالکل ویسے ہی خوش؟
منی کھلکھلا کر ابو کے گلے لگ گئی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments