بزدل جیسنڈا آرڈرن، کان کھول کر سن لو پاکستان ایک محفوظ ملک ہے


بزدل جیسنڈا آرڈرن نے عین میچ سے پہلے اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان سے واپس بلا لیا اور بہانہ بنایا کہ پاکستان میں سکیورٹی کے مسائل ہیں۔ حالانکہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ عورت یا تو جھوٹی ہے یا پھر بہت معصوم کیونکہ پاکستان دنیا کا ایک محفوظ ترین ملک ہے۔ خاص طور پر غیر ملکیوں کو یہاں ہرگز بھی سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ انہیں جان سے مارنا تو دور کی بات ہے، کوئی ان سے موبائل تک نہیں چھینتا۔ بلکہ کسی لٹیرے کو ماسک وغیرہ کی وجہ سے غیر ملکی کی پہچان کرنے میں غلطی ہو جائے تو غلط فہمی دور ہوتے ہی اپنے کھیسے سے چند لوٹے ہوئے فون نکال کر اس کی جیب میں ڈال دیتا ہے، پھر زبردستی اصرار کر کے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت پر لے جاتا ہے اور رات اپنے ساتھ رہنے پر بھرپور اصرار کرتا ہے۔ اور ایسی زبردستی کی مہمان نوازی صرف غیر ملکی خواتین کے ساتھ ہی نہیں، مردوں کے ساتھ بھی کی جاتی ہے۔

آخر کیوں نہ ہو۔ ہمارا تعلق مشرق سے ہے۔ یہاں مہمان کے تحفظ کو جان سے بڑھ کر سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر نسلی قسم کے پٹھان، بلوچ اور راجپوت گھرانوں میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ میزبان کے جیتے جی کوئی مہمان کو چھو تک نہیں سکتا خواہ وہ کسی کو قتل ہی کیوں نہ کر کے آیا ہو۔ بلکہ قبائل میں تو یہ رواج بھی ہے کہ کوئی میزبان کے گھر کا فرد بھی قتل کر اسی کے گھر میں پناہ لے لے تو اسے بھرپور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ مہمان تو خدا کی رحمت سمجھے جاتے ہیں۔ خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور ملت سے ہو۔

یہاں کے عوام مہر و وفا اور محبت و اخوت کے پتلے ہیں۔ وہ کسی بھی قسم کی جنونیت میں مبتلا نہیں۔ کسی سے بہت خفا بھی ہوں تو تحمل کا ثبوت دیتے ہیں۔ غصے کو تو وہ پھٹکنے ہی نہیں دیتے۔ کوئی بہت بڑا جرم بھی کر دے تو پولیس کو بلاتے ہیں خود اس شخص کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ ان سے زیادہ قانون پسند شہری روئے زمین پر نہیں ملیں گے۔ کوئی اپنی لیڈری چمکانے کو انہیں جنونیت یا نفرت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرے تو ناکام رہتا ہے کیونکہ پاکستانی دنیا کی دوسری ذہین ترین قوم ہیں اور ہر معاملے کا منطقی تجزیہ کر کے اپنا لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں۔ پاکستانی عوام اتنے احمق نہیں کہ کوئی نہیں کہے کہ کتا تمہارا کان لے گیا تو کان چیک کیے بغیر ہی کتے کا تعاقب شروع کر دیں۔

ہماری اعلیٰ مشرقی اقدار کا کیا ہی کہنا۔ یہ گورے تو ان چیزوں کو سمجھتے ہی نہیں۔ اسی وجہ سے جیسنڈا آرڈرن بھی نریندر مودی کی باتوں میں آ گئی کہ جیسے سری لنکا کی ٹیم پر حملہ کیا گیا تھا ویسے ہی تمہاری ٹیم پر بھی ہونے والا ہے۔ جیسنڈا آرڈرن تو نہ صرف ناسمجھ ہے، بلکہ مغرب کی معصوم سی بھولی بھاری گوری بھی ہے۔ اسے کیا پتہ ہماری درخشاں روایات کا۔ خیر اس کا بدلہ تو ہم نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے پاک نیوزی لینڈ میچ میں کیوی کھلاڑیوں کو دیکھتے ہی سکیورٹی سکیورٹی کے نعرے بلند کر کے انہیں خوب چھیڑ کر لے لیا تھا۔

دکھ تو انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا یہی سکیورٹی کا بہانہ بنا کر اپنا دورہ منسوخ کرنے کا بھی نہیں ہے۔ انگلینڈ والے تو ہیں ہی عیار۔ پہلے بھی دھوکے سے ہمارے چند غداروں کو ہمارے پیسوں سے ہی خرید کر ہم پر دو سو برس حکومت کر گئے۔ اور اس دوران تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی لگا کر ہمیں گوادر سے لے کر بمبئی اور کراچی سے لے کر سری لنکا تک ایک دوسرے کے ہاتھوں ہی مروایا۔ ورنہ اس پورے خطے کے لوگ ایک ہزار سال سے بہت محبت سے آپس میں مل جل کر رہ رہے تھے۔ خیر ناک رگڑ کر انگلینڈ نے بھی وعدہ کر لیا کہ وہ اگلے سال پاکستان کا دورہ کرے گا اور سکیورٹی کا کوئی بہانہ نہیں بنائے گا۔

بھارتی پروپیگنڈے سے متاثرہ بعض مغربی ممالک بھی اپنے شہریوں کو یہی سفری نصیحت کرتے ہیں کہ پاکستان میں انہیں سکیورٹی کا مسئلہ پیش آ سکتا ہے۔ حالانکہ انہیں ایسا مسئلہ بھلا کیوں پیش آئے گا۔ گورے کو دیکھتے ہی عام پاکستانی اسے خوش آمدید کہتا ہے اور حکومتی اہلکار تو گویا فرش پر بچھ بچھ جاتے ہیں۔ گوری کی پذیرائی اس سے بھی بڑھ کر کی جاتی ہے۔

خاص طور پر بزدل جیسنڈا آرڈرن کان کھول کر سن لے کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے۔ جیسنڈا کو شک ہو تو وہ ہمارے بہترین دوست ملک سری لنکا کے کسی بھی باشندے سے پوچھ لے کہ کیا واقعی پاکستان میں غیر ملکیوں کو جان کا خطرہ ہے یا پھر یہ محض ایک بے بنیاد بھارتی پروپیگنڈا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1505 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments