چلو اس طرف کو ہوا ہو جدھر کی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”وقت ان کا ہوتا ہے جو وقت کے ہوتے ہیں۔“ دوسرے الفاظ میں ”وقت ان کا ساتھ دیتا ہے جو وقت کے ساتھ چلتے ہیں۔“ یہ مقولہ صدیوں محو گردش رہا اور ہے۔ یہ اصول اس عالم مادی میں سب اقوام میں مقبول رہا ہے کہ اگر کچھ پا لینے کی تمنا دل میں اور حاصل کرنے کے لئے قوت بازوں میں موجود ہو تو وقت کے بے کراں دریا میں بہہ کر ہی وہ تمنا تکمیل ہوتی ہے۔ وہ اقوام، فرد اور لوگ ہمیشہ ناکامی سے دو چار ہی ہوئے جنہوں نے زمانے کی رفتار کو چھوڑ کر سست روی کو اپنا شعار بنایا اور کاہلی کا دامن تھام کر مستی میں ہستی کو مگن رکھا۔

جب ان دو تجربات کو مدنظر رکھا جائے تو ہم یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کے ”تم چلو اس کے ساتھ یا نہ چلو، پاؤں رکتے نہیں زمانے کے۔“ اگر ہم تاریخ کے تناظر میں اس فلسفہ کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ وقت کی رفتار کے ساتھ چلنا کیوں ضروری ہے تو ہم با آسانی اس حقیقت کا ادراک حاصل کر لیں گے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جو ہمیں، یعنی ان لوگوں کو جو پیدائشی آزاد پیدا ہوئے ہیں، وقت کا قیدی بنا کر اس کے بہاؤ میں بہہ جانے کا درس دیتی ہیں۔

بات شروع کرتے ہیں جنگ آزادی سے کیونکہ یہ وہ جنگ ہے جس نے ہندوستان کی قسمت کا اصل فیصلہ کیا تھا۔ اس جنگ میں ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ کے پاس مادی قوت بہت زیادہ تھی کیونکہ جنگ ہندوستان میں رہ کر انگریز قوم، جو کہ ایک نئی وارد قوم تھی، کے خلاف لڑی گئی اور دوسری طرف انگریز قوم کے پاس مادی قوت گو بہادر شاہ ظفر کی نسبت کم تھی مگر اس کے پاس اس وقت کے جدید ہتھیار اور وقت کی گردش کی دھول سے سینچا ہوا دماغ تھا۔

اس وجہ سے وہ جنگ جیت گئے اور بہادر شاہ ظفر قوم سمیت ہار گیا۔ اس کی یہی وجہ تھی کہ مغل شان و شوکت کا آخری چراغ ہستی کی مستی میں کھو کر وقت کے سمندر کی ان لہروں جو عروج کی پاسباں تھیں سے پیچھے رہ گیا۔ جب ان حالات کا قتیل شفائی نے عمیق نظر سے جائزہ لیا تو یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ”ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ۔“

اگر ہم بات کریں جنگ عظیم دوم کی تو اس جنگ میں بھی وقت کے ساتھ نہ چلنے سے جو نقصان برپا ہوا اس کا نقشہ واضح نظر آتا ہے۔ جاپان جس کی فوجی قوت انتہا درجے کی مضبوط تھی مگر وہ جنگ اس وجہ سے ہار گئے کہ انہوں نے وقت کے ساتھ چلتے ہوئے اس وقت ایٹم بم بنانے پر توجہ مرکوز نہ کی جب امریکہ اس قوت کو حاصل کرنے کی کوشش میں سرگرداں تھا۔ اسی وجہ سے امریکہ نے ہاری ہوئی جنگ کو جیت میں بدل کر فتح کا تمغہ اپنے نام کر لیا کیونکہ وہ وقت کی رفتار کو بھانپتے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیے تھے۔

ان دو امثال سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اگر خواہش ہو گوہر نایاب کی تو جسم میں تیرنے کی قوت اور روح میں سمندر میں کود جانے کا جذبہ بھی ہونا چاہیے۔ اس وقت دنیا میں جتنی قومیں بھی سرخرو ہیں اگر ان کی تاریخ کی کتب کے پنوں کو پلٹا جائے تو سب سے اہم نکتہ جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہی ہو گا کہ انہوں نے وقت کی رفتار اور ضرورت کے مطابق خود کو ڈھالا اور آہستہ آہستہ پیتل سے سونے میں تبدیل ہوتی گئیں۔ ان قوموں کی ترقی کے راز کو ندا فاضلی یوں عیاں کرتی ہیں کہ ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا۔ اگر موجودہ دور میں ہم کامیاب و کامران ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں وقت کے سمندر میں چھلانگ لگاتے ہوئے ان لہروں کا تعاقب کرنا چاہیے جو ہماری منزل کی جانب رواں دواں ہوں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments