سیالکوٹ میں پریا نتھا کا قتل: ’فیکٹری میں کچھ لوگ خاموش تماشائی بن گئے، باقی انھیں قتل کرنا چاہتے تھے‘

محمد زبیر خان - صحافی


سری لنکن شہری، قتل، سیالکوٹ

صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سری لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کو بچانے کے لیے فیکڑی کے اندر ان کے چند ایک ساتھیوں نے بھرپور کوشش کی تھی۔

فیکٹری میں موجود عینی شاہدین سے معلوم ہوا ہے کہ توہین مذہب کے الزام میں قتل ہونے والے پریا نتھا کے کم از کم چار ساتھی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس مشتعل ہجوم کے سامنے کھڑے رہے تھے۔ تاہم ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔

موقع پر موجود ایک عینی شاہد کے مطابق جب پریا نتھا کے چار ساتھی ان کو بچانے کے لیے اپنی جان پر کھیل رہے تھے تو اس وقت اگر مزید مدد فراہم ہوجاتی تو ممکنہ طور پر پریا نتھا کی جان کو بچایا جاسکتا ہے۔

اس واقعے سے متعلق جب پولیس سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ خیال رہے کہ پولیس نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ اب تک 100 سے زیادہ افراد زیرِحراست ہیں۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ ہجوم پریا نتھا کو ’مردہ حالت میں گھسیٹتے ہوئے‘ وزیر آباد روڈ پر لے گیا تھا۔ موقع پر موجود پولیس افسر نے روکنے کی کوشش کی مگر نفری کم ہونے کی بنا پر وہ انھیں روک نہ سکے۔

مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ پریا نتھا کی لاش کو سڑک پر رکھ کر آگ لگائی گئی جبکہ واقعے کے ذمہ دار ’آٹھ سے نو سو مشتعل لوگ‘ ہیں۔

موقع پر کیا ہوا تھا؟

انجینیئر پریا نتھا 2012 سے سیالکوٹ کی اس فیکٹری میں بطور ایکسپورٹ مینیجر ملازمت کر رہے تھے۔

پنجاب حکومت کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیکٹری مینیجر کے ڈسپلن اور کام لینے کی وجہ سے کچھ ملازمین فیکٹری ان سے نالاں تھے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ غیر ملکی کمپنیوں کے وفد نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا۔ سری لنکن فیکٹری مینجر نے مشینوں کی مکمل صفائی کا حکم دیتے ہوئے مشینوں سے مذہبی سٹیکرز اتارنے کا کہا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر جب فیکٹری ملازمین نے سٹیکر نہیں ہٹایا تو مینیجر نے خود ہٹا دیا۔

جمعے کو فیکٹری میں موجود عینی شاہد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ جب ہجوم مشتعل ہوگیا تو سری لنکن مینیجر کو فیکڑی کے اندر ہی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا گیا تھا۔ اس پر ان کے چار ساتھی سامنے آتے ہیں اور مشتعل ہجوم کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کرتے تھے مگر ان کی ایک نہیں سنی جاتی۔

عینی شاہد کے مطابق اس موقع پر کسی نہ کسی طرح وہ چاروں پریا نتھا کو فیکٹری میں کسی محفوظ مقام پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ چاروں کوئی ایسا مقام تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں پر وہ پریا نتھا کو محفوظ کرسکیں اور ان کی زندگی کو بچا سکیں۔ اس دوران بار بار پولیس کو فون کالیں کی جاتی ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ مدد مل جائے گئی مگر ایسا نہیں ہوتا ہے۔

’وہ پریا نتھا کو کبھی ایک دفتر اور کبھی دوسرے دفتر میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں مگر مشتعل ہجوم کے سامنے ان کی ایک نہیں چلتی اور ہر مقام پر پریا نتھا مشتعل ہجوم کی نظروں میں آتے جاتے ہیں۔‘

کچھ خاموش تماشائی بن گئے، باقی ان کو قتل کرنا چاہتے تھے

عینی شاہد کے مطابق اس دوران چاروں مشورہ کرتے ہیں کہ پریا نتھا کو کسی طرح چھت پر پہنچا دیا جائے تو شاید وہ بچ سکتے ہیں۔ وہاں پر ان کو کسی مقام پر چھپایا جاسکتا تھا۔

عینی شاہد یہ نہیں بتا سکے کہ پریا نتھا کو چھت پر کتنے ساتھی لے کر گئے تھے مگر وہ بتاتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ان کو چھت پر پہنچا دیا گیا تھا۔

لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کی اہلیہ نے پاکستان کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان سے منصفانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

مقتول لنکن شہری پریا نتھا دیاودھنہ کی اہلیہ نے پاکستان کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان سے منصفانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے

ان کے مطابق وہ چاروں یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ شاید وہ ہجوم کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مگر بدقسمتی سے صورتحال یہ تھی کہ اس وقت فیکڑی میں صرف وہ چار ہی تھے جو کہ پریا نتھا کی جان بچانا چاہتے تھے۔ ’کچھ بالکل خاموش تماشائی بن چکے تھے اور باقی ان کو قتل کرنا چاہتے تھے۔‘

پریا نتھا کا اوپر چھت پر ہونا بھی خفیہ نہ رہ سکا اور ان کے پیچھے ایک مشتعل ہجوم چھت پر بھی پہنچ گیا۔ یہاں انھیں بچانے کے لیے ایک ساتھی مشتعل ہجوم کے سامنے کھڑے بھی ہوئے اور اپنی زندگی داؤ پر لگا کر انھیں محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔

مگر مشتعل لوگ اس وقت پریا نتھا کو گھسیٹ کر لے گئے۔ عینی شاہد کے مطابق سری لنکن شہری فیکٹری کی چھت تک زندہ تھے۔

اس موقع کی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص ان کو بچانے کی کوشش کررہا ہے مگر اس کی ایک نہیں چلتی اور ویڈیو میں ایک شخص کہتا ہے کہ ’یہ ابھی بھی زندہ ہے۔‘ اور ان کو گھسیٹ کر لے جاتے ہیں۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس معاملے میں مقامی پولیس کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی اور اطلاع ملنے کے 20 منٹ کے بعد پولیس حکام جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے۔

پریا نتھا کو بچانے کے لیے آگے آنے والے چاروں افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ چاروں اس وقت منظر عام پر نہیں ہیں جبکہ ان کے اہل خانہ خطرات محسوس کررہے ہیں۔

سیالکوٹ میں پریا نتھا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

سیالکوٹ چمبر آف کامرس کے سیکرٹریٹ کے باہر پریا نتھا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک کیمپ لگایا گیا ہے۔

یہاں تاجروں، شہریوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بڑی تعداد میں پھولوں کی چادریں چڑھائی ہیں اور پریا نتھا کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔

سیالکوٹ چمبر آف کامرس کے صدر میاں اکبر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تین دسمبر شہر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ ’ملزمان انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں جن کے ساتھ کوئی بھی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔‘

میاں اکبر کے مطابق انھوں نے اپنے طور پر اس واقعے کی تحقیقات کی ہیں جس سے پتا چلا ہے کہ پریا نتھا انتہائی پیشہ ور پروڈکشن مینیجر تھے جو اپنے کام اور معیار پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ ان کی قابلیت ’کسی شک و شبہ سے بالاتر تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ پریا نتھا کے خاندان کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26846 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments