میری آنکھیں نکال لو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آنکھیں عطیہ کرنے میں سب سے آگے جو ملک ہے وہ سری لنکا ہے۔

ہزاروں پاکستانیوں کو بینائی کی نعمت سے روشناس کرانے میں سری لنکا کا بہت اہم کردار ہے۔ پھر جب ہم پر ڈینگی حملہ آور ہوا تو سری لنکا سے ڈاکٹر تشریف لائے ہمارے ڈاکٹروں کی ٹریننگز کروائیں اور ہمیں اس بیماری پر کنٹرول کرنا سکھایا۔

ھم پر بہت احسان ہیں سری لنکا کے۔

جب دوسرے ممالک میں فلمیں بننا شروع ہوئیں تو کولمبو میں کئی فلمیں بنیں۔

کچھ دن سے سری لنکا بہت ڈسکس ہو رہا ہے۔ کہ ہم نے ایک فیکٹری راجکو کے سری لنکن جنرل مینیجر پریا نتھا کو توہین مذہب کے نام پر زد و کوب کیا پھر جسم کی سب ہڈیاں توڑنے کے بعد اس کو ہلاک کیا اور آگ لگا کر جلا دیا۔ وہ اپنی آنکھیں بچاتا رہا کہ شاید میری زندگی کے بعد ان کے کام آ جائیں اور کوئی بینائی پا جائے۔ اور وہاں کئی آنکھیں ایسی تھیں جن میں سری لنکا کی عطیہ کی گئی آنکھوں سے بینائی واپس آئی تھی۔ انہی آنکھوں نے بار بار اس ظلم کو ہوتے دیکھا۔ ظالموں نے اس کی آنکھیں بھی ضائع کر دیں صرف پاؤں بچے۔

یہ کیسی قوم ہے جو ان کی جان لیتا ہے اس خود کش بمبار کے سر اکٹھے کرتی ہے اور جو ان کو اپنی بینائی عطیہ کرتے ہیں، ان محسنوں کے پاؤں بچاتی ہے۔ مجھے نہیں شرم آ رہی اور نہ ہی میری آنکھیں نم ہیں۔ کہ بھلا ایسی قوم جس کے ہم پر بے شمار احسان ہیں کبھی تو ہم ان کی کرکٹ ٹیم کی حفاظت کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور کبھی ان کے یہاں آئے مہمانوں کو عبرت کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔

ھم نے پہلے ملک کو سیاحت کے لئے کھولا تو کھول ہی نہ سکے اور اب باہر سے لوگ نوکریوں کے لئے آنا شروع ہوئے تو ہم ان کو آگ لگا کر اپنی سردی کی شدت کم کر رہے ہیں۔

کچھ لوگ ہیں جو ہر قتل اور ظلم پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بناتے ہیں۔ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچاتے ہیں۔ اس طرح کے کئی دعوے کئی بار ہوچکے، بے نظیر کے قاتل، ماڈل ٹاؤن کے قتل، ساہیوال کے قتل سب کے قاتل کیفرکردار تک پہنچ چکے ہیں اب رہ گئے راجکو کمپنی کے جنرل مینیجر پریا نتھا کے قاتل یہ بھی اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں کیفرکردار تک پہنچ جائیں گے۔

انصاف ایک بنیادی سہولت جو کہ کسی بھی ملک کی پہچان بناتی ہے۔ اور الحمدللہ ہمارے انصاف فراہم کرنے والے ادارے بہت مصروف ہیں اور مصروف ہی رہیں گے پھر گرمیوں کی چھٹیاں آ جائیں گی اور انصاف چھٹی پر چلا جائے گا۔

ڈاکٹر صاحب میری بیٹی کو بتا رہے تھے بیٹا یہ جو ڈونر ہوتے ہیں نا یہ سیدھے جنت میں جاتے ہیں۔ یہ بہت حوصلے کا کام ہوتا ہے اپنا کوئی جسم کا حصہ ڈونیشن کرنا۔ میں وہاں بیٹھا تھا انہوں نے کسی مذہب کا حوالہ نہیں دیا۔

میں ایک عجیب کشمکش میں ہوں۔ کوئی تو میری راہنمائی کریں۔ ڈونر جنت میں جائیں گے یا ان کے جسم کو کرچی کرچی کر کے ہلاک کرنے کے بعد آگ میں جلانے والے جنت میں جائیں گے۔

سنا تھا کہ صفائی نصف ایمان ہے پر صفائی کی درخواست آپ کو ایمان داروں کے ہاتھوں کوئلہ بھی بنوا سکتی ہے۔ یہی قصور اس سری لنکن کا تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments