سیالکوٹ کے واقعہ پر تعجب کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیالکوٹ کے واقعہ کو میں سانحہ اس لئے نہیں کہتا کہ سانحات کبھی کبھار ہوا کرتے ہیں اور جو وا ردات معمول بن جائےتو اس کومعمول کا واقعہ یا معمولی واقعہ ہی سمجھا جائے گا۔اس ملک میں سانحہ تو گورنر سلمان تاثیر کا قتل بھی نہ تھا جس پر سب کو سانپ سونگھ گیا تھا کسی نام نہاد عالم دین کہلانے والے جانی پہچانی شخصیت کے حامل مولوی کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کے حاضر سروس گورنر کی نماز جنازہ پڑھانے کی جرات نہیں ہوئی تھی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مغفرت کی دعا کے لئے ہچکچاہٹ تو سب نے دیکھی اور صوبائی اسمبلیوں کی بات ہی کیا کریں۔ بات رکی نہیں اس کے بعد ایک وزیر کو بھی دن کے اجالے میں مار کر داد تحسین لی گئی۔

قوم کے نام پر اکھٹے ہجوم کے لئے سانحہ تو مشال کا قتل بھی نہیں تھا جس کو دن دھاڑے ہزراوں لوگوں کی موجود گی میں درجنوں جنونیوں نے سر عام لاتوں، گھونسوں، ڈنڈوں، پتھروں سے مار مار کر جی نہیں بھرا تو گولیاں مار کر یہ یقین کیا کہ اب کبھی اٹھ کر یہ سوال نہیں کرے گا کہ اس کا قصور کیا تھا۔ اس کا باپ اقبال لالا آج بھی ایک سے دوسری عدالت میں اپنے بے گناہ مارے گئے بیٹے کے لئے انصاف کا طلبگار ہے ۔ آج بھی مشال کی بہنیں یونیورسٹی جانے سے ڈرتی ہیں کہ کوئی پہچان نہ لے۔ مگر آج بھی پتھر برساتے ، گولیاں مارتے لوگ سرتن سے جدا کی گردان کرتے جس پر مرضی ہو اس کا فیصلہ جاری کرتے ہیں۔

 کس کس کا ذکر کیا جائے یہاں تو اب آرمی پبلک سکول جیسا واقعہ بھی سانحہ نہ رہا ۔ایک مسیحی جوڑے کو زندہ جلادیا گیا ان کا یا اس حافظ قران کا ذکر کیا جائےیا اس بنک کا منیجر ذکر کیا جائے جس کو اس کی حفاظت پر مامور سکیورٹی گارڈ نے گولیاں ماریں یا اس استاد کا جس کے لیکچر کو توہین مذہب کہہ کر ماردیا گیا ۔ مارنے والوں کا جرم بڑا تھا یا بائیس کروڑ کا جنھوں نے دیکھنے اور سننے کے بعد بھی زبانیں بند رکھیں ۔ ایک مولوی نے ایک غریب بچی پر توہین مذہب کا الزام لگایا جو جھوٹا ثابت ہوا مگر مولوی آج بھی سچا ہے ۔ اب پچھلے ہفتے ایک غریب مفلس بچے پر مقدس اوراق کی بے حرمتی کا الزام لگا کر ہجوم پل پڑا ۔ یہ بچہ جو پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا صرف جسم و جان کے رشتے کو قائم رکھنے کے لئے ردی بیچتا ہے کیا جانے مقدسات کیا ہیں اور تقدیس کس کو کہتے ہیں۔

اس ملک کے باسی بائیس کروڑخوفزدہ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایسے واقعات زیادہ تر بنائے جاتے ہیں کیونکہ ان کے پیچھے ذاتی یا گروہی مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ کہیں اس کے پیچھے زمین وجائیداد کے حصول کے لئے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے یا لڑکی پسند آئی تو رشتے سے انکار پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا ہے۔ کہیں پیشہ ورانہ حسد اور مقابلے سے ہٹانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مد مقابل پر توہین مذہب کا الزام لگادیا۔کہیں جعلی دوائیاں بیچنے والے ایجنٹ کا وزیٹنگ کارڈ جب کوئی ایماندار دوا فروش اٹھاکر پھینک دے تو الزام لگا دیتا ہے کہ فلاں نام والے کارڈ کو پھینکنے والا توہین مذہب کا مرتکب ہوا ہے تو کہیں کوئی ٹیچر ایمانداری سے بچوں کو پڑھانے کی عادت کی وجہ سے اپنے کام چور ہمکاروں کے عتاب کا نشانہ بن گیاہے۔

یہ روش ایک دن میں پروان نہیں چڑھی اس کے پیچھے بھی تسلسل کے ساتھ ریاستی اور غیر ریاستی کاوشیں کارفرما رہی ہیں۔ ِمحترمہ بے نظیر بھٹو پہلی بار وزیر اعظم بننے کے بعد جنوبی افریقہ گئیں تو نیلسن منڈیلا کی بیٹی کو بی بی فاطمہ ؑ سے تشبیہ دی ۔ محترمہ پر الزام لگا کہ انھوں نے کیسے ایک غیر مسلم کی خاتون جنت سے مماثلت کی گستاخی کی۔ اگر کسی نے مشہور ایرانی محقق اور ماہر عمرانیات ڈاکٹر علی شریعتی کی کتاب "فاطمہ، فاطمہ ہے” پڑھی ہو تو وہ جانتا ہے کہ انھوں نے بی بی فاطمۃ الزہرا ؑ کے کردار کو دیگر خواتین کے لئے بطور رول ماڈل یا قابل تقلید بنا کر کہا ہے کہ سچائی کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑی رہنے والی ہر عورت( مثل )فاطمہ ہوتی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے بھی علی شریعتی کی کتاب پڑھی ہوگی اور نیلسن منڈیلا کی بیٹی کو بھی اس سے تشبیہ دی تھی۔ مگر ہمارے علم، عالم اور محقق بھی دنیا سے نرالے ہیں جو شاید کسی اور کی کہی بات نہ جانتے ہیں نہ مانتے ہیں۔

اس ملک کے روشن خیال اور ترقی پسند دانشور، قلمکار اور سیاستدان روز اول سے ہی یہ کہتے آئے ہیں کہ مذہبی سیاست بالآخر منافرت کی بدترین شکل میں سامنے آتی ہے۔ ریاست کو لوگوں کے نجی معاملات بشمول مذہب اور عقائد کے بارے میں غیر جانبدار رہنا چاہیئے ۔ اس بارے میں بانی پاکستان قائد اعظم کی قانون ساز اسمبلی میں کی گئی شہرہ آفاق تقریر بھی یاد دلاتے رہے ہیں جس میں انھوں نے شہریوں کی مذہبی آزادی اور ریاست کی غیر جانبداری کا یقین دلایا تھا۔ مگر ایسے لوگوں کی بات سننے کے بجائے ہمیشہ ریاست نے ان کے خلاف تادیبی کاروائیاں جاری رکھیں ۔

ادیب، مصنف ، شاعر اورہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے جنرل سیکرٹری حارث خلیق کے مطابق پاکستان کی ریاست کا ہر منصوبہ ناکام ہوا سوائے معاشرے کو انتہا پسند بنانے کے منصوبے کے جو روز افزوں ترقی کی جانب گامزن ہے۔ حارث سے متفق ہونے کے ساتھ میرا اپنا خیال تو یہ ہے کہ پاکستان میں اس منصوبے کی کامیابی کے بعد اب نہ صرف ہندوستان کی ریاست نے بھی اس پر عمل درآمد بڑی کامیابی سے کیا ہے بلکہ سیالکوٹ کے واقعہ کے بعد سری لنکا میں بھی اس کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔

پاکستان کے غیرمسلم شہریوں کے علاوہ مسلم اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں، ان کی انجمنوں اور ان سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور کارکنان اپنے خلاف فرقہ ورانہ شدت پسند رجحانات کے علاوہ ریاستی اداروں کے خوف کا شکار رہتے ہیں جن کو وہ شدت پسندی کے پشتی بان سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جسٹس تصدق جیلانی کے فیصلے کو سرد خانے میں ڈالنے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کوئٹہ بار پر حملے کی رپورٹ کا حشر دیکھ کر اب سب نے عبرت پکڑ لی ہے اور شکوہ کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔

باچا خان یونیورسٹی مردان کے کلاس روم سے اٹھنے والا طوفان اب گلی کوچوں کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ذاتی پرخاش ، جائیداد کی لالچ ، پیشہ ورانہ رقابت کے لئے لگائے بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر کئے گئے ہجوم کے فیصلوں پر ریاست کی خاموشی اس روش کی حوصلہ افزائی کی مترادف ہے۔ خوفناک بات یہ ہے کہ اب کسی پر حد جاری کرنے کے لئے کسی مولوی یا نام نہاد قسم کے بھی عالم دین کے فتوے کے تردد کی ضرورت بھی نہیں رہی ، ایک آدمی اٹھ کر اعلان کرتا ہے کہ فلاں نے توہین کی ہےاور ایک ہجوم فیصلہ کرتا ہے "سر تن سے جدا”۔

ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے تنہائی کا شکار ملک اگر داخلی طور پر ہجوم کے رحم و کرم پر رہا تو بہت جلد بیرونی دنیا خاص طور پر غیر مسلم ممالک کے لئے ایک ناپسندیدہ (نو گو) ملک بن جائے گا اور اعلانیہ اور غیر اعلانیہ سفری پابندیوں کا شکار ہوگا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات گزشہ ایک صدی کے مذہبی تجربات کی ناکامی کے بعد ایک لبرل پالیسی کی جانب گامزن ہیں تو ایسے میں پاکستان میں مذہبی شدت پسندی اس کو بچے کھچے چند دوستوں سے بھی محروم کردے گی۔ ہم لاکھ کہہ دیں کہ باچا خان یونیورسٹی اور سیالکوٹ جیسے واقعات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی پاکستان کا یہ حقیقی چہرہ ہے مگر دنیا اسی کو اسلام اور پاکستان کا حقیقی چہرہ سمجھتی رہے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 247 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments