میرے لئے وہی کافی رہا ورنہ؟


رات سونے کے لئے لیٹا تو نیند تو کیا آتی ذہن میں سامنے آگ کے اونچے روشن الاؤ کے نیچے سے انسانی پاؤں اور ارد گرد کھڑا انسانوں کے روپ میں وحشی بھیڑیوں کا گروہ رحمت للعالمین کے نام کے نعرے لگاتا انہی کی تعلیم کو سپرد آتش کرتے گندی گالیاں نکالتا گھوم رہا تھا۔ پھر آگ کے الاؤ میں بھسم ہوتے جسم کے سامنے فخر سے سیلفی بناتا مجاہد اول تھا۔ صبح بہیمانہ قتل اور میت کی ”عزت“ سنتے ہی منہ سے ”بیچارہ کسی جونئیر سے پھڈا کر بیٹھا ہو گا“ کے الفاظ نکلے تھے۔ اب یہ آگ میری مندی آنکھوں میں دھوئیں کی صورت اختیار کرتی سینتالیس سال پیچھے لے جا ان مرغولوں کی سکرین ایسی ہی گزری یادوں کے ”ٹوٹے“ لا رہی تھی۔ اور یاد دلا رہی تھی کہ خدا کا فضل شامل حال رہا ورنہ…

تیس مئی چوہتر کو اپنی ریل بازار پولیس چوکی فیصل آباد کے بالکل سامنے واقع دس گھنٹہ تک شعلے اگلتی دکان کے شعلے تو نہ دیکھ سکا تھا، کوئی چار کلو میٹر دور پیپلز کالونی میں اپنے گھر کی چھت سے دور دھویں کا بگولا ہی اٹھتا سامنے آ رہا تھا۔ اور دو تین روز بعد سامنے پولیس چوکی کا تھانیدار فخریہ بتا رہا تھا کہ جناب میں نے تو بلوائیوں کو بہت کہا کہ لوٹ مار کر لو، آگ نہ لگاؤ مگر وہ باز نہ آئے۔ جبکہ موقع پر موجود میرا ملازم اسی وقت مجھے بتا چکا تھا کہ چوکی کا اکثر عملہ سادہ کپڑوں میں سامنے ٹرک اڈہ پہ کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے جب کہ تین چار باوردی چوکی کی چار دیواری سے جھانک رہے تھے ورنہ چالیس پچاس شر پسندوں کو بھگانا مشکل نہ تھا۔

سین بدل چکا تھا۔ اب میری نظروں کے سامنے کسی بیرونی قصبہ سے آیا کپڑے کا دکاندار گھوم رہا تھا، جس کے کندھے پر رکھے تین چار تھان کپڑے کے ریل بازار سے پیچھے لگا بھاگتا آیا بندہ نیو کلاتھ مارکیٹ کے چند دکانداروں سے مل چھین رہے اور چند لمحے بعد سڑک کے درمیان کپڑے کے کھلے تھان آگ کے الاؤ میں تبدیل ہو چکے تھے اور اردگرد لڈی ڈال ایک ٹانگ پہ ناچتے نعرے لگاتے دکانداروں میں چار خانہ دھوتی پہنے لمبی داڑھی والا میرے گھر سے دوسرے گھر والا ہمسایہ سب سے نمایاں تھا۔ وہ دکاندار شدید بائیکاٹ اور پکٹنگ کے باوجود مراد کلاتھ مارکیٹ کے ایک احمدی دکاندار سے کپڑا خریدنے کی سزا خرید شدہ مال جلائے جانے کے ساتھ محض چند لاتیں گھونسے کھانے کے بعد کہیں بھاگ چکا تھا اور آگ بجھانے پولیس کا عملہ پانی کی بالٹیاں لا رہا تھا۔

پھر ذہن گھوما تو محض ایک دو ہفتے کے بعد اپنے اسی ہمسائے کے سکوٹر ے پھسلنے سے گر کر اسی اٹھی ٹانگ ٹوٹنے کی عیادت کرنے کا منظر یاد آ گیا۔ باقی تمام ہمسایوں نے خطرہ کے وقت اہل خانہ کو پناہ دینے اور حفاظت اور سامان خود اپنے گھروں میں رکھنے انسانی فریضہ ایک سے بڑھ ایک ادا کیا تھا۔

اب پچھتر کا وہ دن تھا جب صوبہ کے وزیر اعلی حنیف رامے کی موجودگی میں سرگودھا میں لوٹ مار اور آگ کی ہولی کھیلتے سارا دن دھوئیں کے بادلوں کا تماشا لگایا گیا تھا اور فیصل آباد میں بھی مسجدوں کے لاؤڈ سپیکر کھلنے کے ساتھ پھر ہم آگ اور خون اور لوٹ مار کا نشانہ بننے کو تیار ہو چکے تھے۔ کہ کلاس فیلو چوہدری اکرم آ گئے۔ پریشانی سن کر فوراً اٹھ گئے کوئی آدھ گھنٹہ بعد فون پر مجھے بتا رہے کہ میں اپنے یونیورسٹی کلاس فیلو ایس ایس پی اویس مظہر کے پاس ہوں ان کے الفاظ آپ کے لئے ہیں۔ ”میرا اصول ہے، پہلا واقعہ مت ہونے دو، دوسرا نہیں ہو گا۔“ آپ اطمینان رکھیں۔ اگلے ایک گھنٹے سے پہلے مسلح پولیس کے دستوں پر گاڑیاں شہر کی سڑکوں پر گشت کر رہی تھیں اور لاؤڈ سپیکر خاموش کرائے جا چکے تھے۔

اور پھر چند ماہ بعد اسی اویس مظہر کا اے سی مس سروش سلطان کو تھپڑ جڑنے کی پاداش میں برخاست کیا جانا اخباروں کی سرخی تھا۔ اندر کی کہانی کون بتائے گا۔ فرض شناس ہونا بھی تو جرم ہو سکتا ہے۔

اسی کی دہائی ہے میری بیگم گھر کے مالی کو پورا معاوضہ ملنے کے باوجود پہلے کی طرح دیانتدارانہ اور لگن سے کام نہ کرنے سخت سست کہتی اور اپنا سامان اٹھا لے جانے کو کہتی ہے اور وہ صبح صبح آ کے دھمکیاں لگاتا ہے کہ پولیس کو رپورٹ کرنے چلا ہوں کہ انہوں نے قرآنی آیات لکھے اخبار جلائے ہیں۔ فوراً دو ہمسائے بلاتا ہوں جن کے ہاں بھی وہ کام کرتا ہے اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ کر جان چھڑواتا ہوں۔

منظر بدلتا ہے۔ پولیس افسر بس سٹینڈ کے سامنے نئی بنی میری دس مرلہ دکان میں سامنے بیٹھا میرے دفتر میں لگے میری بیٹی کے سیکرڈ ہارٹ سکول کی عیسائی استانی کے زیر نگرانی سفید کیپسول سے سجائے قرآنی الفاظ والے انتہائی جاذب نظر 2 x 3 فٹ فریم کے متعلق خلاف قانون اور توہین مذہب ہونے کی رپورٹ پر تفتیش کے لئے بیٹھا ہے۔ یہی خدا مجھے ہر مصیبت سے اب تک محفوظ رکھے ان الفاظ پر یقین کے پھل سے نوازتا مجھے پینتالیس مربع فٹ کی دکان کو ایک سو اسی فٹ کی کرائے کی دکان بناتے اور پھر اس کے شعلوں کی نذر ہونے کے بارہ سال بعد بس سٹینڈ کے سامنے دس مرلہ کی تین منزلہ اس دکان پہ لا بٹھا چکا ہے۔ استانی بیٹی کو ساتھ لئے یہ طغری فخر سے سٹاف روم پورے سٹاف کو دکھا کر تعریف سمیٹ چکی ہے۔ میرے ایک بزرگ کارکن سید اعجاز حسین شاہ صاحب اس افسر کو، شاید آپ کو امام بارگاہ میں دیکھا ہوا ہے، کہہ الگ لے جاتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد انہیں چائے پلا مجھ سے پانچ سو روپیہ لے جا ان کی جیب میں ڈالتے ہیں۔ اور وہ فریم کاغذ میں لپیٹ اگلے روز میرے گھر کی زینت ہو جاتا ہے۔ اور جب چند ماہ بعد محلہ مصطفے آباد کا یہ شکایت کنندہ (ٹیڈی شاہ قسم کے نام سے معروف) آج کل کے مدرسہ و سیاست مشہور“تنظیم سازی” کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا جانے کی تصدیق ہوتی ہے تو سوچتا ہوں کہ کس طرح یہ خدا ہی میرے لئے اپنے کافی ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ ورنہ…

ذہن میں جاری فلم نیا سین سامنے لے آئی ہے۔ مستری طالب حسین جس نے میری دکان اور نئی کوٹھی 120 سی پیپلز کالونی کے لوہے کی جالیاں گیٹ شٹر وغیرہ بنائے تھے کا فون بتاتا ہے کہ پیپلز کالونی تھانہ میں محرر کے پاس بیٹھے تھے کہ کوئی شکایت لگا رہا ہے کہ لئیق صاحب کی کوٹھی کے گیٹ پر نام کی تختی کے اوپر وہی قرآنی آیت ”کیا اللہ تعالی اپنے بندے کے لئے کافی نہیں“ اپنے عربی متن میں لکھی ہمارے مذہبی جذبات کو مجروح کر رہی ہے اور شاید کوئی چیک کرنے آ جائے بہتر ہے اوپر کوئی تختی لگا دی جائے۔ لہذا درخواست کی کہ بھائی خود جاؤ چنانچہ چند منٹ بعد خدا تعالی سے مجبوری کی معافی کی دعا مانگتے اس سطر کے اوپر ٹیپ لگا کر چھپایا جا چکا تھا۔

اب وہ صبح سامنے تھی جب ہم بائیس افراد کچہری میں عدالت کے سامنے مجرم بنے بیٹھے باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ہم سب پر 1988 کی نماز عیدالفطر اور جمعۂ الوداع مسجد کے باہر سڑک پر ادا کرنے کا الزام تھا اور بروقت اطلاع ملنے پر اکثر ضمانت قبل از گرفتاری کرانے میں کامیاب رہے تھے اور تین چار جیل یاترا کر چکے تھے۔ سامنے سے سیف اللہ احرار آتے نظر پڑے۔ موصوف اور ان کے والد محترم مولانا عبید اللہ احرار (سربراہ جماعت احرار) جس زمانے میں ان کے بی ایم سی ٹرک تھے میرے اچھے گاہک واقف کار ساتھ چائے پیتے گپ کرتے ادھار مال بھی خریدتے، وقت پر ادائیگی کرنے والے شریف النفس انسان تھے۔ علیک سلیک پر بتایا کہ جماعت احرار کی سربراہی کرتے مدعی مقدمہ وہ ہیں۔ خود بتایا کہ یار میں تو کئی ہفتے امین پور بازار گیا ہی نہیں تھا، مولانا حضرات نے پھنسا دیا۔ ہر پندرہ روز بعد تاریخ بھگتتے کوئی پونے چار سال صبح سے سہ پہر چادر بچھا کر بیٹھے کاروباری نقصان کرتے۔ جج حضرات کبھی کبھار جھلک دکھاتے، مدعی اور گواہ تسلیم کر چکے تھے کہ نماز قناتوں کے اندر ہوئی تھی اور وہ ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کے بھی اندر نمازیوں کو نہ دیکھ سکتے تھے۔ سوائے دو چار بہت نزدیک سے پرانے جاننے والوں کے کسی کا نام بھی صحیح نہ بتایا تھا۔ کئی ماہ سیف اللہ نظر نہ آنے کے بعد ایک دن ملے تھے تو بہت مغموم تھے بتایا کہ ان کا جوان (شاید اکلوتا) بیٹا ٹریفک حادثہ میں وفات پا چکا تھا اور اب ان کی کسی مقدمہ میں دلچسپی نہ تھی۔ کارروائی دیر ہوئی ختم تھی مگر فیصلہ نہیں سنایا جا رہا تھا۔ آخر پیغام ملا کہ فیصلہ ہو چکا مگر مولانا حضرات کے ڈر سے سنایا نہیں جا رہا۔ موجودہ جج صاحب کی ہمشیرہ کی شادی ہے۔ چنانچہ دلہن کو سلامی بھجوائی گئی اور چپ چاپ بریت کا فیصلہ ہمارے ہاتھوں تھما دیا گیا۔

اب نوے کی دہائی ہے میری دونوں بیٹیاں ایم ایس سی اور بی ایس سی کر گھر سے چند گھر چھوڑ بیکن ہاؤس سکول میں استاد ہیں۔ پرنسپل مس مرزا دفتر بلا کر بتا رہی تھیں کہ عالمی تحریک ختم نبوت کے رہنما مولانا فقیر محمد کا فون یہ دھمکی دیتے آیا کہ ان دونوں ٹیچرز کو فوراً نوکری سے نکالا جائے ورنہ سکول کے سامنے مظاہرہ اور ٹیچرز کو نقصان ہو سکتا ہے۔ اور یہ کہ مولانا کو تو وہ ٹھنڈا کر چکی تھیں۔ آخر جمیل الدین عالی کی بیٹی ہیں مگر آپ لوگ آتے جاتے دھیان رکھیں۔ یہی مولانا فقیر محمد میری اسی کوٹھی کی تعمیر کے آخری مرحلے میں سوئی گیس کنکشن کا ڈیمانڈ نوٹ جاری ہونے پہ میرے ملازم سید اعجاز حسین شاہ کو اپنی دکان کے سامنے گزرتے پائپ فٹنگ کا تخمینہ اور کام دینے کی درخواست کر چکے تھے۔

اور اب دھوئیں کے مرغولوں کی بنی سکرین پر دو کردار اور ابھر آئے تھے۔ سول جج صبح صادق (کاش شب دیجور نام ہوتا) جن کے فراڈ پراپرٹی ڈیلرز، اور فراڈ وکیلوں کے گروہ نے کئی جائیدادیں جعلی ڈگریوں کے ذریعہ منتقل کر ڈالی تھیں اور یکم مارچ ستانوے کو شہزاد ٹاؤن میں اپنے ایک کنال کے پلاٹ پر مکان بناتا دیکھ کر میں ”نو مور ان پاکستان“ کا نعرہ لگا آیا تھا اور دوسرے لاہور کے وہ ”نیک نام“ ہول سیل آٹو پارٹس ڈیلر جو ایڈوانس رقم لینے کے باوجود محض دس بارہ ہزار مزید منافع کے لالچ میں مال بھیجنے سے انکاری ہو چکے تھے اور میری خاصی تلخ کلامی پر مجھے سٹور میں بٹھا ایمرجنسی پولیس کو مجھ پر توہین رسالت کے الزام میں دھر کر سواد چکھانے کی دھمکی دے چکے تھے مگر اپنے ملازمین کے سمجھانے پر وہ مجھے چھوڑ اور میں وہ سودا چھوڑ ملک ہی چھوڑنے کے ارادے کو حتمی کر چکا تھا۔

اور تب اواخر اکتوبر سینتالیس میں واہگہ بارڈر کراس کر پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے ایک آنے کے چھ ہرے کھٹے سنگترے خرید کر کھاتے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والا چھ سالہ لئیق احمد انیس دسمبر 2001 کی شام سب کچھ اونے پونے بیچ باچ، چھوڑ چھاڑ ایک مرتبہ پھر بیوی بچوں کے ہمراہ مہاجر بنا ٹورونٹو ائر پورٹ پر اترتے خدائے ذوالجلال کے حضور شکرانہ ادا کر رہا تھا۔

بیس برس گزر چکے اور آج آگ کے الاؤ کے کونے سے دکھائی دیتا غریب الوطن پاؤں اور ڈنڈے پڑتے ٹوٹتی بھیجا اگلتی کھوپڑی دیکھ کر مجھے قیام پاکستان کے قبل کے انتہائی بچپن میں سنے نعرے۔ پاکستان نہیں پلیدستان، پاکی استھان۔ پ بھی نہیں بننے دیں گے، کافر اعظم، قسم کے نعرے دھاڑتے پاکستان مخالف لیڈروں اسی پاکستان کی گردن پر پنجہ گاڑ چکی نظر آتی ہیں وہیں ایک مرد خدا کے فقرہ ”دو تین فیصد (اب تو تناسب شاید دس گنا ہو چکا) شرپسندوں کے ہاتھوں ستانوے فیصد شرفا یرغمال ہو جاتے ہیں۔ اور ساتھ ہی اویس مظہر کا فقرہ“ پہلا واقعہ مت ہونے دو، دوسرا نہیں ہو گا ”کی آواز گونجتی ہے۔ تب خیال آتا ہے اگر تریپن کے فرقہ وارانہ فساد کے مجرموں اور سیاسی اغراض کے لئے ان پاکستان دشمن گروہوں کو ہلا شیری کرنے سرکاری فنڈ دینے والے (جسٹس منیر انکوائری رپورٹ) کو قرار واقعی عبرتناک سزا دے دی جاتی تو آج یہ عفریت نفرت کی آگ اگلتے ملک نہ اجاڑ رہا ہوتا۔ اگر تین چار برس قبل ڈیڑھ پونے دو سو سال پرانی یاد گار مسجد شیخ حسام الدین سیال کوٹ (میں سکول دور میں یہاں نمازیں ادا کرتا رہا ہوں) کو شہید کرتے ہاتھ روکے جاتے اور نشانۂ عبرت بنا دیے جاتے تو آج مجھے آگ کے الاؤ کے آگے فخریہ سیلفی لیتا درندہ اور الاؤ کے نیچے سے باہر نکلا پاؤں نظر نہ آتا۔ اور بیرون ملک پاکستانی آنکھیں چراتے گردن جھکا چلنے پہ مجبور نہ ہوتے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments