پاکستانی معاشرہ مذہبی تعصب اور نفرتوں کا شکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیام پاکستان کے بعد ملک میں سیکولرازم رہا۔ قائداعظم اور چند لیڈروں نے اس نظام کی افادیت کو برقرار رکھا۔ سیکولرازم کیا ہے اس کے معنی ہیں جو چیز مذہبی ہے وہ مذہب کے دائرے میں رہے اور جو چیز غیر مذہبی ہے وہ غیر مذہبی دائرے میں رہے اور ان دونوں کے درمیان کوئی اتفاق پیدا نہ ہو۔ زندگی کے دو متوازی نظاموں اور دو متوازی حصوں میں تقسیم کرنا اسی کو سیکولرازم کہتے ہیں۔ سیکولر ہونے کا مطلب مذہب سے انکار نہیں ہے جیسے جمہوریت شہریوں کے مساوی حقوق سے مشروط ہے یہ اسی وقت ممکن ہے جب معاشرے میں تمام شہریوں کو یکساں حیثیت حاصل ہوں یعنی بلا امتیاز رنگ، نسل، لسان، عقیدہ اور صنف برابری ہے جو صرف سیکولرازم ہی فراہم کرتی ہے۔

پاکستانی معاشرے میں سیکولرازم کو روشن خیالی جانا جاتا ہے۔ لیکن جنرل ضیاءالحق کے آنے سے اس نظام میں تصادم پیدا ہوا پھر ایک نظام ہی چلتا رہا یعنی مذہبی اس دور میں اسلام کے نام پر ضیاءالحق نے مذہبی تنظیموں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جس سے اسلام ترقی کی بجائے پستی کی طرف چلا گیا اور عوام کے شہری حقوق جو پاکستان کے آئین نے متعین کیے تھے۔ ان کو سال 1984 ء کے بدنام زمانہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے ذریعہ احمدیوں کی مذہبی آزادی پر حملہ کیا اور ان پر بعض پابندیاں عائد کر دیں۔

اس آرڈیننس نے مذہبی آزادی اور روح اسلام اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو یکسر فراموش کر دیا۔ قرآن کریم میں ہے ”لا اکراہ فی الدین“ یعنی دین کے معاملہ میں جبر نہیں ”دیکھا جائے تو اکراہ کا مسئلہ دین سے زیادہ سیاست سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ ایمان دلیل اور برہان سے پیدا ہوتا ہے۔ کسی قسم کے اکراہ سے پیدا نہیں ہوتا۔

غور کیا جائے تو مذہب کی آزادی کے 4 پہلو ہیں :
() 1 اس میں داخل ہونے پر جبر نہ ہو۔
() 2 اگر کوئی داخل ہونا چاہے تو اسے جبراً نہ روکا جائے۔
() 3 اگر کوئی کسی مذہب پر رہنا چاہے تو اسے زبردستی نہ نکالا جائے۔
() 4 جو مذہب میں رہنا چاہتا ہے تو اسے زبردستی روکا نہ جائے۔

علاوہ ازیں مذہب کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے جو شخص یہ حق چھینتا ہے وہ اس سے گویا اس کی انسانیت چھینتا ہے۔ مولانا مودودی صاحب نے تفہیم القرآن میں لکھا ہے کہ جہاں تک قرآن کریم کی روح کا تعلق ہے۔ دین میں کسی پہلو سے جبر جائز نہیں کیونکہ ایمان اور اعتقاد کا محل دل میں ہے اور دل اپنی ذات میں ایسی چیز ہے جس پر کوئی جبر و اکراہ ممکن ہی نہیں۔ سورة البقرہ کی آیت 176 میں بیان ہوا ہے :ترجمہ! یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب۔

مزید اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں نصیحت فرماتا ہے کہ بایں طور پر کہ جو اگلی قوموں کی برائیاں اور خوبیاں ہیں ان کا بیان کرنا تاکہ مسلمان ان برائیوں سے بچیں اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ عذابوں سے محفوظ رہیں گے جو ان برائیوں کی وجہ سے ان پر نازل ہوئے اور ان خوبیوں کو اختیار کریں جن کی برکت سے ان پر طرح طرح کے انعام ہوئے۔ ہمیں اس سے یہ سبق لینا چاہیے کہ خدا کے خلاف جنگ نہ کریں اور ہرگز ورلی زندگی کو مقدم نہ کریں ورنہ لاینصرون کی سزا موجود ہے۔

پاکستانی معاشرہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ آئے دن اسلام خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ مذہبی تنظیموں کے لیڈران کوئی نہ کوئی مذہبی مسئلہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ جس سے ایک طرف ملک میں افراتفری، انتشار اور بے چینی پیدا ہوجاتی ہے دوسری طرف بیرونی ممالک میں بدنامی کا باعث ہے۔ ایک سال سے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے لئے ڈرامہ اور ہنگامہ آرائی کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ختم نبوت اور ناموس رسالت کے نام پر تحاریک چلائی جاتی ہیں۔

جبکہ یہ اصل واقعہ کے خلاف اور جان بوجھ کر ملاؤں کی اپنی ذاتی خواہشات و مفادات ہوتے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی سیاستدانوں سے رقمیں وصول کرنے کی غرض ہوتی ہے تاکہ یہ اپنی تنظیم کے لئے فنڈ اکٹھا کر سکیں اور ان لوگوں کو دیہاڑیاں دے سکیں جن لوگوں کو ہنگامہ آرائی کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت ڈالی ہے اور فرمایا کہ زمین میں فساد پیدا نہ کرو اور اپنے معاملات خدا کے سپرد کردو۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت کی حفاظت کرنا اسی کا کام ہے ہم روزانہ برے سے برا کام کرتے ہیں اور نام لیتے ہیں۔ مقدس ناموں کی حفاظت کا اللہ خوب جانتا ہے ان کے دلوں کے بھید اور خود ان کی بہتر حفاظت اور انصاف کرے گا۔

حکومتی اداروں کا فرض ہے کہ اس کی فوری روک تھام کریں ورنہ آنے والے وقتوں میں پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ حکومت نے پہلے ایک مذہبی شدت پسند تنظیم پر پابندی عائد کی تھی پھر چند ماہ بعد اس پر سے پابندی اٹھالی دباؤ کے نتیجے میں۔ جبکہ ہائی کورٹ اسلام آباد میں اس تنظیم پر انہی وجوہات پر کیس چل رہا تھا۔

عین ممکن ہے کہ پاکستان گرے لسٹ سے نہ نکل پائے اور یہ بھی ممکن ہے آنے والے وقتوں میں عالمی سطح پر اس کو دہشت گرد قرار دے دیا جائے جیسا کہ دیگر تنظیموں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ایسی تنظیمیں ہر وقت پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ رہتی ہیں۔

تعصب، نفرت اور عصبیت زمانہ جاہلیت کی پیداوار ہیں، بلکہ یہ انتہاپسندی کا دوسرا نام ہے۔ یہ نفرت، تفرقہ، گمراہی اور بغض کو بڑھا دیتا ہے اور تعصبات حق و انصاف اور اصول پسندی کے دشمن ہیں۔ کوئی معاشرہ اس سے باہر نہیں رہ سکتا، اسی لیے ہر انسان اس کا شکار ہوجاتا ہے، تعصب کی مرئی اور غیر مرئی لاتعداد شکلیں ہیں۔ دنیا کے اکثر علاقوں اور خصوصاً پاکستان میں تعصب کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ اخبارات اور سوشل میڈیا پر آئے دن ہم پڑھتے رہتے ہیں کہ فلاں مذہبی جماعت یا فرقہ کے افراد کو روزمرہ کے معمولات ادا کرتے ہوئے بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔

نفرت اور تعصب کی بنیاد پر یکم جولائی 2020 ء کو شیخوپورہ میں ایک واقعہ پیش آیا قبریں توڑی گئیں اس کے بعد دوسرا واقعہ 13، 14 جولائی کو گوجرانوالہ کے ایک احمدیہ قبرستان میں پیش آیا۔ جس میں 20 سے زائد قبروں کی بے حرمتی کی گئی بعض تعصب اور نفرت کی آگ میں جلنے والے متشدد افراد تو انسانوں کو مرنے کے بعد بھی نہیں بخشتے۔ تعصب اور نفرت کیوں برتا جاتا ہے؟ اور اس رویہ کو تبدیل کرنا اس قدر مشکل کیوں؟

جب ہم کسی کو متعصب قرار دیتے ہیں تو دراصل ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص ایک خاص رویہ کا حامل ہے جو فلاں چیز، قوم یا فرقہ کے متعلق نفرت پر مبنی ہے اور یہ نفرت مذکورہ شخص کے اندر راسخ ہو چکی ہے۔ معنوی اعتبار سے تعصب کا مطلب ہے کسی کے متعلق فیصلہ صادر کر دینا اور غضب، غصہ، مکالمہ اور تبدیلی کا امکان ختم کر دینا ہے۔ یعنی نتیجہ نکالا جا چکا ہے۔ متبادل حقائق اور وضاحتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔

تعصب اور نفرت کی کئی شکلیں ممکن ہیں جن میں کچھ نسبتاً کم منفی ہوتی ہیں۔ ہم کسی مظلوم کے حق میں بھی متعصب ہوسکتے ہیں۔ انتہائی سطح کی حب الوطنی اپنے وطن یا قوم کے حق میں ایک طرح کا تعصب ہی ہوتی ہے۔ ”غلط یا درست ’حق پر ہے یا غلطی پر ‘ یہ میرا ملک ہے ’مجھے اس کی حمایت کرنی ہے۔“ اس فقرے سے ہم سب کی سماعتیں آشنا ہیں۔ اس رویہ کا حامل شخص اپنے ملک یا اپنی پسندیدہ حکومت کی ہر قیمت پر حمایت کرتا ہے۔ لیکن نفسیات دانوں کی اکثریت متفق ہے کہ تعصب بنیادی طور پر ایک منفی جذبہ اور سوچ ہے۔ یہ کسی گروہ کے لئے ناپسندیدگی‘ منافرت اور دشمنی کا جذبہ ہے ’محض اس لئے کہ اس گروہ کے ارکان کسی مخصوص شناخت سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا انہیں قابل نفرت تصور کر لیا گیا ہے۔

دل صاف کرنے کا طریقہ: معروف سماجی سائنس دان ہربرٹ ہلمر (1961 ء) کا کہنا تھا کہ متعصب اکثریتی گروہ میں چار جذبے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ( 1 ) وہ اقلیتی گروہ سے فطری طور پر بہتر ہیں۔ ( 2 ) اقلیتی گروہ اپنی خصوصیات میں مختلف اور اجنبی ہے ( 3 ) سہولیات ’طاقت‘ حیثیت اور وقار پر اکثریتی گروہ کا حق ہے ’اقلیتی گروہ کا نہیں ( 4 ) یہ خوف اور شک کہ اقلیتی گروہ ان کے مفادات کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ اس حوالے سے تعصب ہمیشہ ایک مجموعی موقف کی نشاندہی کرتا ہے۔

تعصب اور نفرت ہمیشہ شدید جذبات ’کٹر عقائد اور راسخ رویوں کی صورت میں اظہار پاتا ہے۔ کٹر عقائد کے حوالے سے برتے جانے والے تعصب پر غور کیجئے۔ یہ ایک مذہبی شناخت کے متعلق مجموعی طور پر ایک منفی رائے قائم کرلی جاتی ہے اور اس کے ہر فرد کو اس گروہ سے منسوب خصوصیات کا حامل تصور کر لیا جاتا ہے۔ انسانوں کے درمیان پایا جانے والا تنوع بے توقیر قرار پاتا ہے۔ اسی طرز احساس سے امتیازی سلوک جنم لیتا ہے۔ اس ہر منطبق کی جانے والی اجتماعی منفی خصوصیات ہی سے جواز پاتا ہے۔

جمعہ 11 مئی 2018 ء کو مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید نے اس ضمن میں خبردار کیا تھا کہ تعصبات اور نفرت خطرناک سماجی امراض ہیں۔ یہ انسانیت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ یہ افراد، اقوام اور معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ یہ ایسی آفت ہے جب بڑھتی اور پھولتی ہے تو انسانوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ تعصب کی ہوا چلتی ہے تو تعلیم یافتہ و غیر تعلیم یافتہ، مہذب و غیر مہذب، دیندار و غیر دیندار کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہ غرور کا سرچشمہ ہے، یہ ظلم کی تحریک ہے، یہ نفرت اور بدعنوانی کا بہت بڑا سبب ہے۔

قرآن کی تعلیم ہے کہ اگر کسی قوم سے دشمنی بھی ہو تب بھی اس کے حقوق کا خیال رکھو اور اس کے ساتھ اپنے قضیے چکاتے ہوئے انصاف کا دامن ہاتھ سے ہرگز نہ چھوڑو۔ خدا تعالیٰ نے تو ہمیں اس کی عبادت کے لئے تخلیق کیا ہے، وہ چاہتا ہے کہ بنی نوع انسان اس کی عبادت اور تعریف کریں اور انسان ایک دوسرے سے محبت کرے اور ایک دوسرے کے کام آئے انسان کی پیدائش کا تو اصل مقصد یہی ہے جس کو ہم بھول گئے ہیں۔ مثل مشہور ہے، ”جو بویا ہے وہی کاٹو گے“ یا ”جیسی کرنی ویسی بھرنی۔

“ آج ہمارا ملک پاکستان جن تعصب اور نفرتوں کا شکار ہے تاریخ گواہ ہے اس سے پہلے سیاسی اور غیرسیاسی لیڈروں نے انجام دیکھ لیا ہے۔ لہٰذا مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہوش کے ناخن لیں اب بھی وقت ہے، ان تعصبات اور نفرتوں کو ختم کریں اور اصل پیدائش کا مقصد جو کہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہے، کو سمجھیں ورنہ نہ آپ رہیں گے، نہ ملک اور نہ معاشرہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ”محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں“ کی توفیق عطا فرمائے۔

اے خدائے قادر مطلق یہ لوگ اندھے ہیں ان کو آنکھیں بخش یہ نادان ہیں ان کو سمجھ عطا کر یہ شرارتوں سے بھرے ہوئے ہیں ان کو نیکی کی توفیق دے۔ آمین


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments