تیسری دنیا کے باسی کا بھائی جان چوہدری کے نام ایک کھلا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترمی و مکرمی

سلام و کلام تو دور کنار ہمارا تو جی چاہتا ہے کہ آپ کا منہ چوم لیں اور پوچھیں کہ آپ نے یہ کتابی بیٹھک بنائی کیوں تھی؟ اب اس کا نام بدل کر کتابی فصیل رکھ دیں۔ دیواروں کی اس دنیا میں کیا کمی تھی کہ ایک اور کی ضرورت پیش آ گئی؟ ہم تو یہاں یہ سوچ کر آئے تھے کہ گوناگوں لوگوں سے ملاقات ہو گی انجانے دیسوں کی سیر کریں گے کچھ ان کی سنیں گے کچھ اپنی کہیں گے۔ ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹیں گے کہ حکایت دل کہنے سے محبتیں بڑھتی ہیں اور فاصلے کم ہوتے ہیں۔ بے تکلف پاؤں پسار کر بیٹھیں گے اور جلے دل کے پھپولے پھوڑیں گے بالکل ویسے ہی جیسا کہ کسی شاعر نے کہا تھا

آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل

مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ نکلا آپ تو ہائے دل کیا کرتے الٹا ہمیں پہ قدغن لگا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اس بھٹکی ہوئی ذہنی رو کو بھٹکنے ہی دیا جائے باغ میں نہ آنے دیا جائے

مگس کو باغ میں آنے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

ہم تو ہمیشہ کے پروانے تھے جلتے ہی آئے ہیں اس کے علاوہ ہم نے کچھ اور سیکھا ہی نہیں ہم تو ان کے پروردہ بھی نہیں جنہوں نے چمن دل اجاڑنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ہم نہ تین میں نہ تیرہ میں پھر بھی آپ کی چھری ہماری ہی گردن پہ گر رہی ہے، ہمیں ہی کاٹنے کو پر تول رہی ہے۔ اگر ہم مگس ہیں تو پروانے کون سے ہیں؟ وہی جو نام خدا پر سفاکی سے انسانوں کا گلا کاٹتے ہیں! چہ خوب

صاحبا اگر ابلتے ہوئے گٹر کا ڈھکن نہ اٹھایا جائے تو بدبو گیس کی شکل اختیار کر کے اس ڈھکن کو ایک جھٹکے میں اڑا دیتی ہے پھر جو گندگی پھیلتی ہے اس کو صاف کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اسی لیے وقتاً فوقتاً ڈھکن اٹھا کر گیس کا اخراج اور گٹر کی صفائی بہت ضروری ہے۔ اب ہم جیسے طفل مکتب آپ کو کیا سمجھائیں کہ آپ ٹھہرے عقل کل۔ ہماری زبان تو آپ سمجھیں گے نہیں پر سگمنڈ فرائیڈ کی زبان تو سمجھتے ہیں نا وہ تو آپ کا ہی آدمی تھا۔

اگر بھول گئے ہیں تو یاد کرا دیتے ہیں کہ اس نے کہا تھا کہ وہ جذبات جن کا اظہار نہ ہو پائے مرتے نہیں زندہ دفن ہو جاتے ہیں بعد ازاں بد صورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ اس کا تماشا ان مجبور آنکھوں نے برسوں دیکھا ہے اب تو مردہ جسم سے اتنی سڑاند اٹھ رہی ہے کہ سانس لینا دوبھر ہے۔ ہمارے جنگلوں کے بادشاہ ایسی باریکیاں نہیں سمجھتے انہیں تو گلشن کے کارو بار سے غرض ہے۔ ان کا بہی کھاتا تو ہمہ وقت کھلا ہے باقی رہی بھوکی ننگی عوام وہ تو صرف انگوٹھا چھاپنے کے لیے ہے ہر پانچ سال بعد انہیں کوئی نیا یا جھاڑ پونچھ کر کوئی پرانا خواب نیا لیبل لگا کر دکھا دیا جاتا ہے۔ ادھر پانچ سال تک راوی قسمت میں چین ہی چین لکھتا ہے اور ادھر گھر کی بوسیدہ دیواروں سے اینٹیں جھڑتی چلی جاتی ہیں۔ پر آپ درجہ اول کے لوگوں کو یہ بات کہاں سمجھ آئے گی۔ ہائے ری قسمت! اس پر ہمیں چچا غالب کا اک شعر یاد آ گیا

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

آپ اکیلے ہی بھائی جان چوہدری نہیں ہیں یہاں تو بہت سے چوہدری ہیں جو اپنی چوہدراہٹ برقرار رکھنے کو ہاتھوں میں سنگینیں تھامے ہمہ وقت کسی کمزور گردن کی تاک میں رہتے ہیں۔ آپ ہمیں نکال بھی دیں تو ہم یہ نہیں کہنے والے کہ ہمیں کیوں نکالا! اس حقیر پر تقصیر کا قصور فقط اتنا ہے کہ ہم نے یہ دکھانے کی سعی کی کہ گھر کے چراغوں سے گھر کو آگ کیسے لگتی ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ ہم گھر پھونک تماشا دیکھیں تو یہی سہی پر آپ نے کبھی سوچا کہ آگ پھیلتی جائے تو بنا سوچے سمجھے ہر کسی کو اپنے لپیٹے میں لے لیتی ہے۔ وہ آگ جو آج کسی غیر کو لگی ہے وہ کسی انجانے دیس میں زندگی کی چکی میں پسنے والے کسی اپنے کو بھی لگ سکتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں، پر کسی چوہدری کو کیا فکر کہ نئے ورلڈ آرڈر کے مطابق شطرنج کی اس بساط پر اب بادشاہ یا ملکہ نہیں صرف پیادے ہی مرتے ہیں۔

جب آپ کا گھٹنا جارج فلائڈ کی گردن پہ تھا تو آپ بھی تو بلبلائے تھے اور کئی روز تک بلبلائے تھے اب ہم کلپ رہے ہیں تو آپ کو مہذب دنیا کے اصول کیوں یاد آ رہے ہیں؟ آپ نے اپنا بدصورت چہرہ دکھایا تو ہم نے نہایت صبر سے دیکھا اب ہم اپنی بدصورتی دکھا رہے ہیں تو یہ کراہت کیوں؟ جناب من ہم جس خطے کے باسی ہیں وہ ابھی تک جنگل کے دور سے باہر نہیں نکلا۔ یہاں قدم قدم پہ درندے گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ کوئی انسان ملے تو اس کو چیر پھاڑ کر کھا جائیں۔

ہم آپ کی طرح کھلے بندوں اپنی اذیت کا اظہار نہیں کر سکتے کہ بندوق کی گولیاں بھی ہماری تاک میں ہوتی ہیں۔ ہماری دنیا کا انصاف افیون کی پنک میں سوتا رہتا ہے ہمیں چیخ چیخ کر اس کو جگانا پڑتا ہے۔ پھر بھی اس کی آنکھ چند لمحوں کے لیے ہی کھلتی ہے اور وہ دوبارہ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگتا ہے اور ہم بھی تھک ہار کر چپ ہو جاتے ہیں مگر صاحب ہماری قسمت میں آرام کہاں یہاں تو آئے روز کچھ نا کچھ ایسا ہوتا رہتا ہے جو ہمیں جگائے رکھتا ہے۔ ہمیں آپ کی مہذب دنیا کے اصول نہیں آتے کہ ہم تیسری دنیا کے تیسرے درجے کے لوگ ہیں۔

آپ کو ہماری مشکلات کا کیا اندازہ کہ ہمیں اپنے جنگل میں دبک کے بیٹھنا پڑتا ہے۔ خوف کا عفریت اتنا طاقتور ہے کہ اب تو کوئل بھی نہیں کوکتی۔ جس کی آواز سنائی پڑ جاتی ہے اس کا گلا کاٹ دیا جاتا۔ اس کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں کہ یا تو اپنی ٹیوننگ کروا لے یا کسی نامعلوم قبر میں دفن ہو جائے۔ ہمارے قبرستان ایسی بے نامی قبروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ قحط انسانی اتنا ہے کہ ماتم کرنے کو بھی اب چند ہی ہاتھ بچے ہیں باقی تو مرنے مارنے پہ تلے ہیں۔

مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق تصویری کہانی تو ہم نے ہٹا دی پر آپ کی پالیسی ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ ایک طرف تو انسانی حقوق کا رولا رپا ڈال کر رکھتے ہیں اور دوسری جانب ہماری ہی زبان پہ تالا لگاتے ہیں ہم نے یہی تو دکھایا تھا کہ حقوق تو دور کی بات کہ جہالت کے اس جنگل میں انسان ہی نہیں بچا اسے تو زندہ جلا دیا گیا! اب مجروح ہونے کو بچا ہی کیا ہے؟ آپ کے جذبات اتنے کمزور تو نہیں کہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں سے مجروح ہو جائیں۔

آسمانوں سے بجلی بھی ہمارے آستانوں پہ گرتی ہے اور آپ کا قہر بھی ہمیں ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ آپ نے اس تنبیہ کے ساتھ اس خطا کے پتلے کو اس بار بخش دیا کہ اگلی بار پاؤں پھسلا تو تڑی پار۔ آپ کی مہربانی دیوار میں بھی چن دیتے تو ہم کیا کر لیتے؟ آپ کی اور ہماری سوچ میں اتنا سا ہی تو فرق ہے کہ آپ یہ سوچ کر مہربانی کرتے ہیں کہ تم بھی کیا یاد کرو گے کہ خدا رکھتے تھے اور ہم یہ سوچ کر پابندی قبول کر لیتے ہیں کہ ہم بھی کیا یاد رکھیں گے کہ خدا رکھتے تھے۔ اس دنیا میں محبت شرطوں پر ہی ہوتی ہے صاحب اسی لیے حیرانی نہیں ہوئی کہ سر پھوڑنے والی دیوار کی پہریداری کی جائے گی سو قہر درویش بر جان درویش کے مصداق ہم نے زنجیریں پہن لی ہیں۔

اگر آپ کو یہ توقع ہے کہ اس مہربانی پہ ہم سجدہ شکر بجا لائیں گے تو ایسا ہمارا قطعی کوئی ارادہ نہیں اس لیے ہم نے کوئی اپیل بھی نہیں کی۔ اگر سر پھوڑنا ہی قسمت میں لکھا ہے تو کسی اور دیوار سے پھوڑ لیں گے۔ اتنی چالاکی ہم نے سیکھ لی ہے کہ ایک دیوار گر جائے تو کسی اور سنگ آستاں بندوبست کر لینا چاہیے۔

والسلام
تیسری دنیا کا باسی


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments