امریکہ کا بیجنگ کے سرمائی اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ چین میں انسانی حقوق کے خدشات کی وجہ سے کسی سرکاری وفد کو ان کھیلوں میں نہیں بھیجا جائے گا تاہم امریکی کھلاڑی ان مقابلوں میں شرکت کر سکتے ہیں اور انھیں حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہو گی۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ مہینے کہا تھا کہ وہ اس تقریب کے سفارتی بائیکاٹ پر غور کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب چین یہ کہہ چکا ہے کہ بائیکاٹ کی صورت میں وہ ’جوابی اقدامات‘ کرے گا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین پساکی نے پیر کے روز بائیکاٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی ایتھلیٹس کو حکومت کی ’مکمل حمایت‘ حاصل ہو گی لیکن انتظامیہ اولمپکس میں حصہ نہیں لے گی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سنہ 1980 میں امریکہ نے افغانستان پر سوویت حملے کے خلاف احتجاجاً ماسکو اولمپکس سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ اس کے بدلے میں سوویت یونین اور اس کے اتحادیوں نے لاس اینجلس میں منعقد ہونے والے 1984 کے اولمپکس کا بائیکاٹ کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین پساکی نے کہا کہ امریکی حکومت نے محسوس کیا کہ ’ان مقابلوں کے لیے تربیت حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو سزا دینا درست قدم نہیں‘ لیکن ان مقابلوں میں سرکاری امریکی وفد کو نہ بھیجنا ’واضح پیغام دے سکتا ہے۔‘
امریکہ کے سیاسی حلقوں کی جانب سے اس اقدام کا خاصا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر مٹ رومنی نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’بائیڈن انتظامیہ اولمپکس میں سفارتی موجودگی سے ’انکار کرنے کا حق رکھتی‘ ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما اور سپیکر نینسی پلوسی نے بھی انتظامیہ کے اس عہدے کو سراہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اویغوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر چین کے حکومتی اہلکاروں پر پابندیاں
’لاپتہ‘ کھلاڑی کے معاملے پر چین میں تمام عالمی ٹینس ٹورنامنٹ معطل
اولمپکس مقابلے کب شروع ہوئے اور ان میں مذہب کا کتنا عمل دخل تھا؟
واضح رہے کہ امریکہ چین پر اویغور برادری کی نسل کشی کا الزام لگاتا ہے جبکہ چین ایغوروں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات کی مستقل تردید کرتا ہے۔
چین کی جانب سے ہانگ کانگ میں سیاسی آزادی کو دبانے کی وجہ سے بھی امریکہ اور چین کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔
اس سے قبل چین واضح طور پر یہ کہہ چکا ہے کہ اگر بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تو ’جوابی اقدامات‘ کیے جائیں گے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ ’میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ سرمائی اولمپک سیاست اور ہیر پھیر کرنے کا مرحلہ نہیں۔‘
ژاؤ لیجیان نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر امریکہ اپنا راستہ اختیار کرنے پر بضد ہے تو چین ٹھوس جوابی اقدامات کرے گا۔‘
یاد رہے کہ امریکہ سمیت دنیا بھر سے اعلیٰ سطحی حکومتی نمائندے عموماً اولمپک گیمز میں موجود ہوتے ہیں۔ امریکہ کی خاتون اول جل بائیڈن اس سال کے شروع میں ٹوکیو میں ہونے والے ’سمر اولمپکس‘ میں امریکی وفد کی قیادت بھی کر چکی ہیں۔

