قرآن کی اجمالی تصویر [دوسری قسط]


۔ قرآن نارمل صورت حال کا نہیں بلکہ ہنگامی صورت حال کا بیانیہ ہے۔ حضرت یوسفؑ کو گہرے اور اندھیرے کنویں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالے جاتے ہیں، حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ میں زندگی کے کئی دن گزارتے ہیں، حضرت موسیٰؑ شیرخوارگی کے ایام میں ہی دریا کی طغیانیوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ حضرت نوحؑ دنیا کے سب سے بڑے طوفان کی تباہ خیزیوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ حضرت لوطؑ کے ساتھ جو کچھ ان کی قوم کی طرف سے پیش آیا دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کسی اور کے ساتھ ایسا کچھ پیش آیا ہو گا؟

جب محلے کے لوگ نوخیز عمر کے خوبصورت لڑکوں کے بارے میں سن کر جو فی الحقیقت فرشتے تھے، ان کے گھرکی دیوار کود کر اندر گھس آتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ لڑکے ان کے حوالے کر دیے جائیں تاکہ وہ اپنی ہوس کی تسکین کا سامان کرسکیں۔ پیغمبر محمدﷺ اور ان کے ساتھیوں نے پوری زندگی گھوڑوں کی پیٹھ پر گزار دی، تین سال کی طویل مدت تک سماجی و معاشی بائیکاٹ کی صعوبتیں برداشت کیں اور ایک نہیں، بلکہ دو دو بار اپنے پیارے وطن مکہ مکرمہ کو چھوڑنا پڑا۔ ان کے علاوہ دیگر انبیاء کرام کے واقعات بھی اسی نوعیت کے واقعات ہیں، پھر قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں ہیں اور عبرت انگیز واقعات ہیں۔

قرآن میں مذکور یہ سب واقعات اور تفصیلات نارمل زندگی کا بیانیہ نہیں ہے، بلکہ ہنگامی، ایمرجنسی اور دھماکہ خیز صورت حال کا بیانیہ ہے۔ قرآن میں جتنے بھی کرداروں سے متعلق واقعات، حوادث اور اعمال و افعال ہیں، خاص طور پر انبیاء کرام کے واقعات و افعال اور اقوال، وہ سب کے سب خصوصی نوعیتوں اور نسبتوں کے حامل ہیں۔ ان کی زندگی میں تو لاکھوں واقعات پیش آئے ہوں گے اور ان کے لاکھوں اقوال اور اعمال ہوں گے مگر قرآن میں ان میں سے صرف چند ہی کو جگہ مل سکی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ قرآن نے چیدہ چیدہ واقعات ہی کو لیا ہے، جو اپنے آپ میں حیران کن ہیں اور اللہ کی قدرت کاملہ کا مظہر ہیں۔ اور پھر انہیں مختصر ترین لفظوں میں بیان کیا ہے۔ پھر انہیں اتنے دلکش انداز بیان اور حسن و زیبائی کے ساتھ معرض اظہار میں لایا گیا ہے کہ قرآن سے محبت کرنے والا ہر صاحب ایمان اس قرآن کو اپنی زندگی میں ہزاروں بار پڑھتا اور سنتا ہے مگر اسے کبھی بھی سیری نہیں ہوتی۔

ان تمام خصوصیات اور صفات کی بنا پر قرآن ایسا کلام بن جاتا ہے جو کبھی ملایا بوسیدہ نہیں ہوتا۔ حالانکہ الفاظ وہی ہیں جن سے دیگر تحریریں اور کتابیں ترتیب دی جاتی ہیں اور میٹر وہی ہے جو انسانوں کے ذریعہ لکھی گئی کتابوں میں پروسا، سمیٹا اور پھیلایا جاتا ہے۔

اسی طرح قرآن کا بیانیہ اکہری نوعیت کا بیانیہ بھی نہیں ہے۔ قرآن میں ہے :
ربنا ولا تحمل علینا اصراً کما حملتہ علی الذین من قبلنا
”اے ہمارے پروردگار! ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پیشتر کی امتوں پر ڈالا تھا“

یہ ایک دعا ہی ہے۔ مگر اس میں ایک تاریخی شہادت بھی آ گئی ہے۔ اس سے اس تاریخی وقوعے کا پتہ چلتا ہے کہ ماضی کی امتوں کو ایسی شریعتیں دی گئی تھیں جن پر عمل کرنا بہت مشکل تھا۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو قرآن کا بیانیہ اکہری نوعیت کا نہیں رہ جاتا، بلکہ متعدد نوعیتوں اور پہلؤوں کا حامل بیانیہ بن جاتا ہے۔ گرچہ یہ دعا پر مبنی بیانیہ ہے مگر اس سے یہ تاریخی شہادت بھی ملتی ہے کہ سابقہ امتوں کے لیے جو شریعتیں تھیں وہ آخری امت کو دی گئی شریعت سے نہ صرف یہ کہ مختلف تھیں بلکہ وہ کافی سخت اور مشکل بھی تھیں۔

نیز قرآن کا بیانیہ ایسی قطعیت والا بھی نہیں ہے جس میں استثنیات نہ ہوں۔ قرآن کے بہت سارے بیانات میں استثنیات ہیں۔ قرآن میں ہے :

ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین (آل عمران: 139 )
”دیکھو! تم ہمت نہ ہارو اور کچھ غم نہ کرو، اگر تم اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے تو تم ہی غالب رہو گے۔“

اس آیت میں اہل ایمان سے کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ صاحب ایمان رہے تو وہی سربلند رہیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ سربلندی غیر مسلم اقوام کے مقابلے میں ہوگی۔ کئی اہل علم، موجودہ حالات کے تناظر میں اس آیت کو پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یا تو ہم صحیح معنیٰ میں مسلمان نہیں ہیں یا پھر قرآن کا بیان درست نہیں۔ جبکہ قرآن نے ایمان کا پیمانہ اور کسوٹی علمی یا عسکری غلبے کو نہیں بتایا کہ غلبہ ہے تو ایمان ہے اور غلبہ نہیں ہے تو ایمان نہیں ہے۔

دراصل قرآن کا بیان بالکل سچا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اہل ایمان، ہر ایک زمانے میں اور ہر ایک مقام پر غیروں پر حاکم رہیں گے اور علمی میدانوں سے لے کر عسکری میدانوں تک ہر جگہ انہیں فوقیت حاصل ہوگی۔ بلکہ معاملہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ کسی زمانے میں اہل ایمان صحیح معنیٰ میں صاحب ایمان ہوتے ہوئے بھی سربلند نہ ہوں، بہت ممکن ہے کہ وہ اپنے وقت کی قوموں سے عسکری میدانوں میں ہار جائیں، یا کسی جگہ علمی میدان میں وہ بہت پیچھے رہ جائیں۔ اور یہ عرصہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔ اور اس سے اس آیت کی حقانیت پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ ویسے قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ میں ایک دو صدیوں کا عرصہ کوئی خاص قابل ذکر بھی نہیں ہے۔

قرآن ہی کے بیان کے مطابق شکست و فتح، عروج و زوال اور غلبہ و مغلوبیت مختلف قوموں کے درمیان دائر رہتی ہے، یہی سنت اللہ ہے۔ رسول اللہ اور اصحاب رسول ﷺ کے زمانے میں جو جنگیں ہوتی تھیں وہ بھی اہل کفر اور اہل ایمان کے درمیان دائر رہتی تھیں۔ مگر آخر کار سربلندی اہل ایمان ہی کا مقدر ہوئی۔ ایسا ہوتا ہے کہ کئی بار جھوٹ اور جعل سازی سچائی اور حقیقت پر غلبہ پا لیتی ہے اور کئی بار اس غلبے کا وقفہ طویل بھی ہوجاتا ہے، مگر آخر کار سچائی جھوٹ پر غالب آہی جاتی ہے۔ ایسے ہی حق اور باطل کا معاملہ ہے۔ قرآن میں ہے :

وقل جاء الحق وزھق الباطل ۚ ان الباطل کان زھوقاً (الاسرا: 81 )
”بے شک حق آتا ہے تو باطل ختم ہوجاتا ہے اور باطل کو تو ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہی ہے“

یہ ایسے ہی ہے جیسے روشنی آتی ہے تو اندھیرا خود بخود ختم ہوجاتا ہے، حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے تو جعل سازی اور مکر و فریب کے سارے پردے تار تار ہو جاتے ہیں۔ تاہم ایسا تو نہیں ہوتا کہ اندھیرا ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا ہو اور جھوٹ کا وجود قیامت تک کے لیے مٹ جاتا ہو۔ حق آ گیا ہے اور باطل پھر بھی موجود ہے، بلکہ آج کی دنیا میں بھی غالب اکثریت باطل ہی کی ہے، آج کی دنیا میں مسلمان محض بیس بائیس فیصد ہی ہیں۔ حضورﷺ کے زمانے میں بھی ایسا ہی تھا، حتیٰ کہ جو دور اسلام اور مسلمانوں کے عروج کا دور کہا جاتا ہے اس میں بھی ایسا ہی تھا کہ مسلمان دنیا کی غیر مسلم آبادی کے مقابل اکثریت میں نہیں تھے۔

تو اس کا مطلب یہی ہوا کہ ایسا بالکل نہیں ہے کہ کسی زمانے میں اہل ایمان کے پاس ہمہ جہت سربلندی یا غلبہ نہیں ہے تو اس سے ان کے ایمان کی نفی ہو گئی۔ ہاں ایمان اور ایمان کے تقاضوں کی کمزوری ضرور کہہ سکتے ہیں۔ دراصل غلبہ یا سربلندی حاصل کرنا بحیثیت ایک قوم اہل ایمان کے لیے ان کے ایمان کے تقاضوں میں سے ہے، اگر وہ غلبہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ انہیں ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جس جدوجہد اور جانفشانی کی ضرورت ہے وہ پوری طرح نہیں کر پا رہے ہیں۔ مغلوب ہونے سے ایمان کی نفی نہیں ہوتی البتہ کمال جدوجہد کی نفی ہوتی ہے۔

قرآن میں بعض واقعات اور چیزیں ایسی بھی مذکور ہیں جو انسانی سوچ کے بالکل برعکس ہیں، میری مراد یہاں معجزات سے نہیں ہے، بلکہ محیرالعقول واقعات سے ہے۔ انسانی ذہن تو یہی بتاتا ہے کہ کثرت قلت پر غالب آ جائے گی۔ مگر قرآن میں اس کے بالکل برعکس بات کہی گئی ہے، قرآن میں کہا گیا ہے کہ قلت بھی کبھی کبھی کثرت پر غالب آ سکتی ہے۔

دنیا تو یہی سمجھتی ہے کہ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مگر قرآن نے اس کے بالکل برعکس بات کہی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اگر تم صدقہ و خیرات کرتے ہو، کمزوروں اور ضعیفوں کا خیال رکھتے ہو تو اس سے تمہارے مال میں کمی واقع نہیں ہوگی۔ حالانکہ بظاہر تو مال کم ہی ہو گا، اگر آپ 100 میں سے 10 روپے خرچ کر دیں گے تو آپ کے پاس 80 ہی بچیں گے۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ یہ جو تم نے 10 روپے خرچ کیے ہیں اس کے بد لے میں آپ کو کئی گنا زیادہ ملیں گے، آخرت میں تو ملیں گے ہی، یہیں دنیا میں بھی مل سکتے ہیں۔ آخرت میں تو ان 10 روپیوں کا اجر اور بدلہ یا منافع اتنا زیادہ بھی مل سکتا ہے کہ دینے والا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اب ایسی باتیں قرآن کے علاوہ اور کون کہہ سکتا ہے بھلا کہ مال خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔

قصاص میں ایک آدمی کی جان جاتی ہے۔ اور دنیا تو ظاہر کو دیکھ رہی ہے، وہ یہی سمجھتی ہے کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ انصاف کے نام پر ایک اور آدمی کو قتل کر دیا جائے۔ مگر قرآن کہتا ہے :

ولکم فی القصاص حیاةٌ یا اولی الالباب لعلکم تتقون [البقرۃ:179]

”اے عقلمندو! قصاص میں تو تمہارے لیے زندگی پوشیدہ ہے۔ ( قصاص کی سزا اس لیے ہے ) تاکہ تم مزید خونریزی سے بچ سکو۔“

گرچہ سامنے سے دکھائی دے رہا ہے کہ جان جا رہی ہے مگر قرآن کہتا ہے کہ زندگی مل رہی ہے۔ اب ایسی بات بھی قرآن ہی کہہ سکتا ہے۔ اور قرآن نے ایسا اس لیے کہا ہے کہ قصاص سے مزید جانوں کی حفاظت ہوتی ہے۔ قرآن نے یہ علت خود دہی بیان بھی کردی ہے۔ اگر کسی معاشرے کے بد قماش لوگوں پر اس طرح کے سخت قوانین نافذ نہ کیے جائیں تو ان کی ہمتیں بلند ہوجائیں گی اور وہ مزید لوگوں کی جانیں لیں گے۔ جب معاشرے کے ہر آدمی کو یہ خوف دامن گیر رہے گا کہ اگر وہ اپنے مخالف سے اس طرح انتقام لے گا کہ اس کی جان ہی لے لے تو اسے بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا تو وہ اس خوف سے اپنے مخالف کو قتل کرنے سے باز رہے گا۔ اور اس طرح مزید زندگیاں بچ جائیں گی۔ اگر یہ پہلو سامنے رہے تو ”قصاص“ میں معاشرتی و قومی زندگی ہے۔ اگر یہ خوف نہ ہو تو انسان دشمنی میں اندھا ہوجاتا ہے اور معمولی معمولی باتوں پر دوسروں کی جان کے درپے ہوجاتا ہے، بطور خاص اس وقت جب سامنے والا کمزور ہو۔

قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے تجارت کو جائز قرار دیا ہے اور سود کو حرام ٹھہرایا ہے، مگر نزول قرآن کے وقت جو کفار و مشرکین تھے وہ کہتے تھے کہ دونوں میں کیا فرق ہے بھلا، دونوں تو ایک ہی چیزیں ہیں۔ [البقرۃ: 275]

وہ اس فرق کو نہیں سمجھ سکتے تھے کہ تجارت میں تو نفع و نقصان دونوں لگا ہوا ہے، بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو نفع بھی ہو سکتا ہے اور نقصان بھی مگر سود دینے والے کا تو کچھ نقصان نہیں، اس میں تو صرف لینے والے کا ہی نقصان ہو گا۔

دنیا تو اسی اصول کو مانتی ہے کہ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے اور سختی کا توڑ سختی ہی ہے، مگر قرآن میں ہے :
فبما رحمةٍ من اللہ لنت لھم ۖ [آل عمران:159]
یہ آپ پر اللہ کی خاص رحمت و مہربانی ہے کہ آپ گوں کے لیے نہایت ہی نرم خو اور حلیم و بردبار ہیں۔
تو رحم دلی اللہ کی خاص صفت ہے اور یہ زیادہ انسانوں کو عطا نہیں کی جاتی۔ حدیث شریف میں ہے :
من یحرم الرفق یحرم الخیر[ مسلم 74۔ 2593 ]
”جو شخص نرمی سے محروم رہ گیا، وہ ہر طرح کی بھلائی سے محروم رہ جائے گا۔“

قرآن اللہ کا کلام اور اللہ کی صفت ہے، قرآن دنیا میں رسول اللہﷺ کے قلب اطہر تک اللہ کے برگزیدہ فرشتے جبریل امین کے ذریعہ پہنچا یا گیا ہے ۔ پھر یہ عربی زبان میں ہے اور اس کا ذکر گزشتہ آسمانی کتابوں میں بھی آیا ہے۔ یہ سب باتیں خود قرآن نے ہی اپنے بارے میں بتائی ہیں، اس بیان کی ایک جامع آیت یہ ہے :

وانہ لتنزیل ر‌ب العالمین﴿192﴾ نزل بہ الر‌وح الامین ﴿193﴾ علىٰ قلبک لتکون من المنذر‌ین ﴿194﴾ بلسانٍ عر‌بیٍ مبینٍ ﴿195﴾ وانہ لفی زبر‌ الاولین ﴿196﴾} ( الشعراء:192۔ 196) ۔

حدیث شریف میں تصدیق کی گئی ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے کم وبیش سوا لاکھ انبیاء کرام کو دنیا میں بھیجا ہے۔ مسند احمدؒ کی روایت کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا ء کرام دنیا میں آئے ہیں، جن میں 315 صاحب کتاب تھے۔ قرآن مجید میں ہمیں صرف 25 انبیاء کرام ہی کا تذکرہ ملتا ہے۔ پھر جن کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کی زندگیوں کی بھی بس جھلکیاں ہی ہیں، یعنی ان کی زندگی کے ایسے واقعات ہی کا ذکر ہے جو ہر انسان کی زندگی کے معروف اور عام واقعات سے ذرا ہٹ کر ہیں اور جو روز مرہ کی زندگی کے عام معاملات و واقعات سے بہت مختلف ہیں۔ تو اس طرح قرآن کا بیانیہ خصوصی بیانیہ قرار پاتا ہے۔

قرآن میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ بہت کم ہے اور جو کچھ بیان نہیں ہوا وہ بہت زیادہ ہے۔ تاہم قرآن میں ایک انسان کی دنیا و آخرت کی زندگی کے لیے کامل رہنمائی موجود ہے۔ اگر دنیا کا کوئی بھی انسان اللہ کی معرفت حاصل کرنا چاہیے تو اس کے لیے اس کی اپنی عقل اور سوجھ بوجھ کے بعد قرآن اور قرآن کی وہ تشریحات جو پیغمبر محمدﷺ نے بیان کی ہیں بہت کافی ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ قرآن کے طالب علم کو قرآن کے باہر سے کچھ بھی لینے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ قرآن کے طالب علم کو قرآن کے باہر سے سب کچھ لینا چاہیے، سوائے اس کے جو قرآن کی تعلیم، منشا اور مزاج کے خلاف ہو۔ قرآن کا طالب علم قرآن کے باہر سے جتنے زیادہ علوم و فنون میں مہارتیں پیدا کرسکے گا وہ قرآن کے موضوعات کو اور اس کے ظاہر و باطن کو اتنا ہی زیادہ سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرپائے گا۔

فہم قرآن کی کئی سطحیں ہیں، ایک سطح کا تعلق ہدایت اور اللہ و رسول ﷺ کی معرفت سے ہے اور قرآن کو اس سطح پر سمجھنا تقریباً ہر صاحب عقل شخص کے بس میں ہے، خواہ اس کا علم زیادہ نہ ہو۔ دوسری سطح کا تعلق قرآن سے دینی و دنیوی مسائل کے استنباط سے ہے اور یہ ان لوگوں کا کام ہے جنہوں نے متداول اسلامی علوم میں مہارتیں پیدا کرلی ہوں۔ تیسری سطح کا تعلق آفاق وانفس میں پھیلی ہوئی ان نشانیوں اور رازہائے سربستہ سے ہے جو جدید سائنس کا موضوع ہیں اور قرآن کو اس سطح پر وہی علماء درست طور پر سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اسلامی متداول علوم کے ساتھ ساتھ جدید سائنس بھی پڑھی ہو۔ جیسے قرآن میں ہے :

اولم یر الذین کفروا ان السماوات والارض کانتا رتقاً ففتقناہما ۖ وجعلنا من الماء کل شیءٍ حیٍ [سورۃ الانبیاء: 30 ]

”کیا دین کا انکار کرنے والوں نے کبھی (خدا کی ان آیات پر ) غور نہیں کیا، کہ سب زمین و آسمان پہلے باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کیا۔ اور ہم نے ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ہے۔“

بے شک جدید سائنسی علوم کی مدد کے بغیر اس حقیقت کا کما حقہ ادراک کر پانا تقریباً ناممکن ہے کہ زندہ چیزیں پانی سے کس طرح پیدا کی گئی ہیں اور تمام زمین و آسمان کس طرح باہم ملے ہوئے تھے اور پھر کس طرح ایک دوسرے سے علیحدہ کیے گئے۔

قرآن میں انبیاء کرام کے جن واقعات، اقوال، دعائیں اور احساسات و نفسیات کا ذکر ہے اور پھر ان کی اقوام کے جو حالات، مزاج، نفسیات اور واقعات قرآن میں مذکور ہیں ان کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کرام اپنے زمانے اور قوم سے کٹے ہوئے نہیں تھے، وہ اپنے معاشروں سے الگ تھلگ پڑے ہوئے نہیں تھے، بلکہ وہ بیک وقت داعی اور ناقد تھے، وہ اپنی اپنی اقوام کے غلط عقائد، غلط اعمال اور غیرانسانی افعال پر نقد کرتے تھے، ان میں سے کئی تو اپنے وقت کی بادشاہتوں سے بھی بھڑ گئے اور ان کے بھرے دربار میں جاکر ان سے مکالمہ کیا، پھر جب ان بادشاہوں کی طرف سے انہیں ستایا گیا اور تکلیفیں دی گئیں تو انہوں نے ان کا مردانہ وار مقابلہ کیا، انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دئے مگر اپنے ایمان اور عقائد کا سودا نہیں کیا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن غریبوں، کمزوروں اور دبے کچلے لوگوں کے لیے آواز اٹھانے والی اور اس کی دعوت دینے والی کتاب ہے۔ بلکہ ان کے حقوق اور آزادی کی خاطر اہل ایمان کو لڑنے اور جنگ کرنے کی ترغیب دلانے والی کتاب ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ اگر مسلمان ہو تو آپ کے پڑوس میں، علاقے میں یا دنیا میں کہیں بھی کچھ بھی ہوتا رہے اور آپ کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہ ہو۔ کوئی بھی مسلمان خواہ وہ عام آدمی ہو یا معاشرے، قوم اور ملک کا ذمہ دار شخص ہو، اپنے اردگرد کے حالات سے بے پرواہ ہو کر اور آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھ سکتا ہے۔

مسلمانوں کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ دوسروں پر اور خود پر ہونے والی نا انصافیوں اور ظلم و زیادتیوں کے خلاف کھڑے ہوں۔ اب یہ الگ موضوع ہے کہ کھڑے کب ہوں گے، کس طرح ہوں گے اور اس کا طریقۂ کار کیا ہو گا۔ قرآن میں اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے کھڑے کیوں نہیں ہوتے جنہیں کمزور سمجھ کر دبا لیا گیا ہے اور ان پر مسلسل ظل کیا جا رہا ہے اور وہ اللہ سے فریاد کر رہے ہیں کہ اللہ ان کی مدد کے لیے کوئی مسیحا بھیج دے :

وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال والنساء والولدان الذین یقولون ربنا اخرجنا من ہٰذہ القریة الظالم اہلھا واجعل لنا من لدنک ولیاً واجعل لنا من لدنک نصیراً [سورۃ النساء: 75)

” اور تم کو کیا ہوا ہے کہ تم خدا کی راہ میں نہیں لڑتے اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو اپنے رب سے فریاد کر رہے ہیں اور گہار لگا رہے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما“

یہ ایک انقلاب انگیز کتاب ہے۔ اس کتاب کے پسندیدہ لوگ وہ ہیں جو دوسروں کے کام آتے ہیں اور بعض دفعہ خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلاتے ہیں، اپنا کام روک کر دوسروں کا کام بنا دیتے ہیں۔ اس کتاب کی پچیسویں سورہ میں ’عباد الرحمان‘ کے نام سے ایسے لوگوں کی پسندیدہ عادات اور صفات بیان کی گئی ہیں۔

[جاری ہے ]

Facebook Comments HS