وزیر دفاع پر کون سی دفعہ لگائی جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزارت دفاع کسی بھی ملک کی کلیدی اور اہم ترین وزارت ہوتی ہے اور وزیر دفاع ملک کا ایسا آئینہ ہوتا ہے جس میں دنیا اس ملک کا اصل چہرہ دیکھتی ہے۔ کسی بھی موضوع پر وزیر دفاع کی گفتگو بڑی نپی تلی، مہذب، سنجیدہ، فہمیدہ اور علمیت میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ کسی موضوع پر بات کرنے سے پہلے وہ اس موضوع کے تمام پہلووٴں پر غور کرتا ہے، دیگر ممالک اور اداروں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتا ہے، اس موضوع کے حوالے سے مکمل اور جامع معلومات حاصل کرتا اور ماہرین سے مشاورت کی ضرورت پڑے تو وہ بھی کرتا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ موضوع پر لب کشائی کرتا ہے۔ لیکن ہماری حکومت کے سربراہ یعنی وزیراعظم سمیت شاید ہی کوئی وزیر بولنے سے قبل سوچنا ضروری سمجھتا ہو۔ سب کو بولنے، بے تحاشا اور بغیر سوچے بولنے کی خطرناک بیماری لاحق ہے۔ اسی ”زبان دانی“ نے ہمارے دیرینہ ملکوں کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پیدا کیا ہے۔

جب ہمارے محبوب وزیراعظم اپنی فصاحت و بلاغت کے جوہر دکھاتے ہوئے جاپان اور جرمنی کی سرحدیں ملائیں گے، پاکستان میں بارہ موسم بتائیں گے، سمندر سے گیس اور تیل کے کنووٴں کی خوشخبری سنائیں گے، ایک غیر معروف شاعر کے شعروں کو علامہ اقبال سے منسوب کریں گے اور دانشوروں کے اقوال کو آپس میں گڈ مڈ کر دیں گے تو باقی وزرا اور کابینہ کے اراکین بھی گفتار کے غازی بن کر ہوا میں تیر چلائیں گے۔

گزشتہ برس ہمارے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے بھی اپنی جادو بیانی کے جوہر دکھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے برادر اسلامی ملک اور ہمارے دکھ سکھ کے ساتھی سعودی عرب کو اس قدر برافروختہ کر دیا تھا کہ ہمیں سعودیہ سے لیے گئے تین ارب ڈالرز قرض میں سے ایک ارب ڈالر عجلت میں چین سے مانگ کر سعودیہ کو واپس دینا پڑے تھے۔ اس بیان کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات اس قدر کشیدہ ہو گئے تھے کہ بعض اطلاعات کے مطابق اس نے قریشی صاحب کی قربانی بھی مانگ لی تھی۔ وہ تو بھلا ہو آرمی چیف کا جنہوں نے بروقت سعودی عرب کا دورہ کر کے بمشکل معاملات سلجھائے۔

حکومتی وزرا اتنی باتیں کرتے ہیں کہ اگر دنیا میں کوئی ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کر لی جائے کہ باتوں سے بھی بجلی بننے لگے تو ان وزرا کی باتوں سے بننے والی بجلی کے نتیجے میں نہ صرف ہم بجلی میں خود کفیل ہو سکتے ہیں بلکہ دوسرے ملکوں کو بھی بجلی بیچ کر زر مبادلہ کما سکتے ہیں۔ کبھی کوئی وزیر باتدبیر ہانک لگاتا ہے کہ مہنگائی کے دور میں عوام دو کے کے بجائے ایک روٹی کھانے پر اکتفا کریں، کہیں کوئی مشیر مشورہ دیتا ہے کہ چینی کمیاب ہو گئی ہے تو ہر آدمی دس دانے کم استعمال کرے۔

ڈالرز کی اونچی اڑان پر بدیسی گورنر اسٹیٹ بینک بغلیں بجاتے ہیں کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ڈالر کی اڑان اور روپے کی گراوٹ سے سمندر پار پاکستانیوں کو فائدہ ہو گا۔ کبھی کوئی وزیر ٹاک شو میں فوجی بوٹ لہراتا ہوا پہنچ جاتا ہے۔ کبھی گورنر سندھ کراچی کو شہید پاکستان لیاقت علی خان کی جائے پیدائش اور جائے شہادت قرار دے کر ہماری معلومات میں اضافہ فرماتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس طرح کی لاف زنی اور لایعنی گفتگو پر شرمندہ ہوتے ہیں نہ معافی مانگتے ہیں۔ حکومتی ٹیم کے بڑبولوں اور شیخیاں بگھارنے والوں کے تمام بیانات جمع کیے جائیں تو کئی ضخیم کتابیں مرتب ہو سکتی ہیں۔

تازہ ترین گل افشانی ہمارے وزیر دفاع نے سانحہ سیالکوٹ پر فرمائی ہے۔ سری لنکن شہری کے بہیمانہ قتل پر جہاں ہر درد مند پاکستانی خون کے آنسو رو رہا ہے اور دنیا میں ہماری رہی سہی ساکھ بھی مجروح ہو رہی ہے اور وزیراعظم پاکستان اپنی جان پر کھیل کر پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کرنے والے بہادر سپوت ملک عدنان کے لیے تمغۂ شجاعت کا اعلان کر رہے ہیں، دوسری طرف ہمارے وزیر دفاع اول فول بک رہے ہیں۔ ان کے مطابق جوانی میں جذبات کی رو میں بہہ کر ایسے واقعات سرزد ہو ہی جاتے ہیں۔ ہم نے بھی جوانی میں بہت سے ایسے کام کیے ہیں۔ مطلب کسی کی جان گئی اور وزیر دفاع کی ادا ٹھہری۔

ایک وزیر دفاع پر ہی کیا موقوف کہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی پارٹی نون لیگ کے صدر کی طرف سے بھی واشگاف الفاظ میں اس سانحے کی مذمت نہیں کی گئی۔ گیارہ جماعتی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا بیان بھی نہایت متنازعہ، غیر منطقی اور اگر مگر کی گرد میں لپٹا ہوا ہے۔ ہمارے ذمہ داران کے تمام بیانات مہذب دنیا میں دیکھے پڑھے جاتے ہیں۔ ہم پہلے ہی معاشی بد حالی کی دلدل میں بری طرح دھنس چکے ہیں اور اس طرح کے بیانات ہمیں خدانخواستہ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے بلیک لسٹ میں بھی دھکیل سکتے ہیں۔

ہم وزیراعظم پاکستان سے اپیل کریں گے کہ وہ اس جگر پاش سانحے پر ایسے طفلانہ بیانات جاری کرنے والے وزیر دفاع کو دفع دور کریں یا انہیں اس حساس اور نازک منصب سے چلتا کریں کیونکہ ایسے وزرا اور ترجمان گو ناگوں مسائل میں گھرے ہوئے پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ آج ان پاکستانیوں کو بھی شرمندہ ہونا چاہیے جنہوں نے ممتاز قادری جیسے قاتل کو ہیرو اور غازی مان کر اس کی بے مثال پذیرائی کی تھی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments