خدا کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے عاشق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیامت کے روز خدا نے آپ سے دو معاملات پہ حساب کرنا ہے، حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ بچپن سے ہم پڑھتے آئے کہ خدا حقوق اللہ تو معاف کر دیں گے سوائے شرک کے، مگر حقوق العباد کے لیے آپ کو اس انسان سے ہی معافی مانگنی پڑے گی جو دنیا میں آپ کی زیادتی کا شکار رہا۔ جب تک وہ معاف نہ کرے آپ بھلے جنتی قرار پائے ہوں، جنت میں داخل نہیں ہو سکتے۔

اس بات پہ مجھے اس حد تک یقین تھا کہ جب کبھی میرے ساتھ کوئی زیادتی کرتا، تو میں اس انسان کو قیامت کے دن معافی نہ دینے کا عہد کر کے مطمئن ہو جاتی۔ اور خدا سے شکایت لگا کے غصہ اتر جاتا۔ یقین ہوتا کہ میری معافی کے بغیر تو فلاں فلاں چاہے جتنی نمازیں پڑھے جنت نہیں جا پائے گا۔

اصل بات پہ لکھنے سے پہلے تمہید باندھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ جس خدا کے آپ بطور مسلمان نام لیوا ہیں۔ ایک بار اس بات پہ غور و فکر کر لیں کہ اس نے کیا فرمایا ہے۔ حقوق اللہ میں نماز، قرآن پڑھنا، حج و زکوٰۃ دینا اور اللہ اور اس کے رسول پہ ایمان رکھنا شامل ہے۔ عبادت ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔ جس کسی نے عبادت کرنی ہے اس کا معاشرے کے کسی دوسرے فرد پہ نہ تو احسان ہے نہ ہی اس کا اجر اسے کسی انسان نے دینا ہے۔ لہذا آپ کی عبادت ڈائریکٹ اللہ سے آپ کا معاملہ ہے۔ اس کا احسان دوسرے انسانوں پہ کرنا یا اپنی عبادات کو بڑھ چڑھ کے بیان کرنا اور ان پہ اترانا چہ معنی دارد۔ یہ تو اللہ کے حقوق ہیں اور وہی جانتا ہے کہ آپ کی عبادتوں میں کتنی سچائی ہے۔

اس کے بعد آپ حقوق العباد پہ آ جائیں جس کا براہ راست تعلق انسانوں اور معاشرے سے ہے۔ انسانوں کے حقوق میں سارے انسان شامل ہیں۔ صرف مسلمان ہی انسان نہیں ہیں۔ جب آپ بطور مسلمان اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ ساری کائنات اللہ نے بنائی۔ تو اس پہ بھی یقین رکھیں کہ سارے انسان بھی اسی کی مخلوق ہیں کون گمراہ ہے اور کون حق پر اس کا فیصلہ آپ نے نہیں کرنا، اللہ نے کرنا ہے۔

چند دن پہلے جو واقعہ سیالکوٹ میں ہوا اس پہ بہت سی باتیں لکھی اور کہی گئیں۔ بہت سے سوال اٹھے۔ مگر جواب کسی کے پاس نہیں یا شاید جواب کوئی دینا ہی نہیں چاہتا۔ خاموشی میں سب کو پناہ ملتی ہے۔ ہاتھ سے اور منہ سے تو برے کو برا کہنے سے ڈرتے ہیں سو دل میں کسی برائی کو برا کہہ کے خوش ہیں اور سب اسی پہ راضی بہ رضا ہیں۔ فرض ادا کیے بیٹھے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

اب چند سوالات میرے بھی ہیں۔ جن سے ہیں ان سے جواب کی کوئی امید نہیں۔ مگر کیا کریں میں منہ سے برائی کو برائی کہنے پہ یقین رکھتی ہوں۔ سو میں تو بولوں گی۔

پہلا سوال میرا ان علمائے کرام سے ہے جن کا نیشنل اور انٹرنیشنل دونوں جگہ ایک نام و مقام ہے۔ جنہوں نے دین کی سربلندی اور اس کے پھیلاؤ کا نادیدہ علم تھام رکھا ہے۔ مجھے صرف یہ بتائیں کہ ایسا غیر انسانی سلوک کسی بھی انسان کے ساتھ ہوتے دیکھ کر وہ دنیا اور لوگوں کے سامنے کس منہ سے اسلام امن کا دین ہے کی بات کریں گے؟۔

آخر اسلام کو اور نبی کی شان کو ایک اٹھانوے فیصد مسلمانوں کی آبادی کے ملک میں کس سے خطرہ ہے کہ آپ کو چوکوں کا نام ختم نبوت چوک رکھنا پڑ جائے؟، آپ کو میٹرو اسٹیشن کا نام ختم نبوت اسٹیشن کرنا پڑے، آپ کو ختم نبوت کے سرٹیفیکٹ دکھانے پڑیں اور پھر بھی آپ کو تسلی نہ ہو تو آپ کو نعرے لگانے پڑیں؟.

دوسرا سوال میرا اپنے ہینڈسم حکمران سے ہے کہ ریاست مدینہ بنانے کی بات کرنے والوں نے کیا یہ نہیں پڑھا کہا اس وقت کے حکمران نے دریائے فرات کے کنارے ایک کتے کے بھوکا مرنے پہ بھی خود کو جوابدہی کا اہل جانا تھا؟۔

آپ کو ایسا کیا خطرہ ہے کہ آپ نے نصاب میں مذہبی شدت پسندی بھر دی۔ آپ خود تو حلف لیتے وقت خاتم النبیین نہیں ادا کر پا رہے تھے مگر آپ نے چھوٹے بچوں کو اسے پڑھنے کا پابند بنا دیا۔ چاہے ان کی زبانوں پہ لکنت ہو یا وہ ٹھیک سے بول نہ پائیں۔

کیا وجہ ہے کہ آپ معاشرے میں بڑھتی شدت پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے میں پیش پیش ہیں؟۔

عدالتوں میں بیٹھے ججوں سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کا کام سکولوں میں جا کر بچوں سے قرآن سننا ہے کہ عدالت میں خجل خراب ہوتے سائلوں کے کیس سننا؟۔ کیا آپ کا کام نہیں بنتا کہ توہین مذہب یا توہین رسالت کے الزام میں لائے گئے لوگوں کا کیس ترجیح پہ سنیں اور اگر الزام جھوٹا ثابت ہو تو الزام لگانے والوں کو پکڑیں۔ مگر آپ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ آپ کو اپنی جان بچانی ہے۔

پارلیمنٹ میں قانون سازی کرنے والوں سے میرا سوال ہے کہ ایسی کیا افتاد پڑی کہ آپ کو 295 سی کا قانون بنانا پڑا۔ کس بات کے خطرے ہیں آپ کو کہ آپ نے ایسا قانون متعارف کروا دیا، جو صرف انتقامی کارروائی میں دشمن کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ کسی کی زمین پہ قبضہ کرنا ہو، کسی سے بدلہ لینا ہو یا کسی کو جیتے جی مارنا ہو، توہین مذہب لگا دو۔ کیونکہ سب جانتے ہیں اس پہ بات کرنے سے اس کی اپنی ہی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی، ایسے اندھے قانون کس لیے بنائے گئے؟۔

ایک سوال میرا اپنے اداروں اور انہیں چلانے والوں سے ہے۔ آپ کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ دشمنوں سے لڑنا ہے۔ ملک کی سرحدیں کمزور نہ ہوں، یہ خیال رکھنا ہے۔ مگر آپ کا کام یہ کیوں بن چکا ہے کہ آپ شدت پسندوں کو پیسے بانٹیں؟۔ آپ شدت پسندوں کو انارکی پھیلانے پہ شاباشیں دیں؟۔ بیرونی دشمنوں سے لڑنے کے لیے ہم آپ کی تنخواہیں اپنے ٹیکسوں سے ادا کرتے ہیں، مگر آپ انہی پیسوں سے ہم پہ اندرونی دشمن مسلط کر رہے ہیں؟۔ ہم اس ملک کے شہری ہیں محبت کرتے ہیں اس ملک سے، مگر کیا وجہ ہے کہ اس ملک کی زمین ہم پہ تنگ کی جا رہی ہے؟۔ ہم سوال کریں تو غدار ٹھہریں؟۔

اس ملک میں ہر کوئی جس عہدے پہ بیٹھا ہے وہ اپنے عہدے کے حساب سے کوئی کام نہیں کرتا۔ استاد کا کام بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت کرنا بھی ہوتا ہے۔ مگر یہاں استاد کے اپنے ہی اخلاقیات کے پیمانے ہلے ہوئے ہیں۔ مار کٹائی، ہیومیلیشن اور شاگردوں کوصرف مقررہ وقت میں کتابیں رٹوا کے ان کا فرض پورا ہو جاتا ہے۔

نصاب میں اخلاقیات نامی کوئی چیز نہیں۔ ایک صحت مند معاشرے میں فرد کا کیا کردار ہونا چاہئیے یہ کہیں نہیں ہے۔ اخلاقی تربیت کے بغیر آپ صرف ریوڑ پیدا کر رہے ہیں۔ جن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں زنگ کھا جاتی ہیں۔ کھیل کود کو شیطانی قرار دیا جاتا ہے۔ سوال کرنے پہ چپ کروایا جاتا ہے۔

بطور مسلمان جب آپ کا ایمان شروع ہی اس بات سے ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں۔ تو پھر اس بات کا اقرار جگہ جگہ اور زبردستی مسلط کیوں ہو رہا ہے؟۔

ریاست کو یہ بات طے کر لینی چاہئیے کہ مذہب ہر فرد کا انفرادی معاملہ ہے۔ ریاست کے لیے تمام شہری برابر ہونے چاہئیں۔ اگر آپ ایک جمہوری فلاحی ریاست چاہتے ہیں تو آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔ ورنہ سلمان تاثیر سے لے کر پریانتھا کمارا تک کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں۔ اور ایسی تاریخ پھر ہر کچھ عرصے بعد نئے سرے سے رقم ہوتی رہے گی جس کی زد میں ریاست خود بھی آئے گی۔

آخر میں ایسے تمام عاشقین سے میرا سوال یہ ہے کہ قیامت کے روز جب اللہ نے آپ کو مشعال خان، سلمان تاثیر، پریانتھا اور ایسے تمام لوگ جو آپ لوگوں کی جنونیت کی بھینٹ چڑھے، ان سے معافی مانگنے کو کہا تو کس منہ سے معافی مانگیں گے؟۔

آپ سمجھتے ہیں کہ ایسی جنونیت کے بعد آپ کو حوروں سے ہم بستری کا موقع ملے گا تو ایک بار اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان ڈھونڈ کے پڑھ لیجئیے کہ جس میں انہوں نے کہا کہ ایک انسانی جان کی حرمت کعبے کی حرمت سے زیادہ یے۔ انسانی جان کہا مسلمانی جان نہیں۔

جس دن آپ کو یہ سمجھ آ گیا کہ اللہ کے کرنے کے کام اللہ پہ چھوڑنے ہیں۔ اس دن آپ کا انسان بننے کا عمل شروع ہو گا۔ سیالکوٹ سانحے کے ذمہ داران کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئیے۔ اور ایسے تمام لوگوں کو شٹ اپ کہنا سیکھیں۔ جو مذہب کے نام پہ دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ جو شدت پسندی کی تعلیم دیتے ہیں۔ مولوی کو مسجد تک محدود کریں۔ منبر سے نفرت انگیز تقاریر پہ پابندی لگائیں۔ اپنے بچوں کو محبت سکھائیں۔ گردن اتارنا نہیں۔ عاشق کبھی ظالم نہیں ہوتا۔ اور عاشق کی وجہ سے کبھی محبوب بدنام نہیں ہوتا۔ اب فیصلہ آپ کر لیں کہ ان عاشقوں کا عمل کس کے سامنے پسندیدہ ہو گا؟۔

یقیناَ اللہ کے سامنے بھی نہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments