جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گا


لاش کی باقیات سری لنکا پہنچ چکی ہیں. پریانتھا کمارا اگر اپنی طبعی عمر پوری کر کے اس دنیا سے چلا جاتا تو بھی ہم مسلمان رہتے، اور یہ ملک اسلام کا پکا قلعہ رہتا جس میں ہماری روحیں اور سوچیں محبوس ہو چکی ہیں اور ہماری نیم مردہ جسموں کو نوچنے کے لئے مذہبی گِدھ قلعے کی دیواروں پر بسیرا کر چکے ہیں. اب تو بس اتنا کام رہ گیا ہے کہ اِدھر آپ نے زبان کھولی اُدھر گِدھ پہنچ کے آپ کو نوچ گئے. میں بھی اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوں. آپ بھی کرتے رہیں.
مذہبی انتہا پسند ہجوم کیا کر سکنے کی اہلیت رکھتا ہے اور کیا کچھ کر گزرتا ہے اس پر آنے والے کئی مہینوں تک لکھا جاتا رہے گا اور اُس وقت تک لکھا جاتا رہے گا جب کوئی دوسرا سانحہ نہیں ہو جاتا. مگر اب کی رُوداد یہ ہے کہ سیالکوٹ کے واقعے کو حقیقت کا روپ دینے اور وضاحت سراہت کرنے والے میدان میں اتر کر اپنی سوچوں کی تلواریں نکال چکے ہیں. مذہبی جوش میں آ جانے کا فرمان جاری ہو چکا ہے. انڈیا کی سازش بھی نظر آ رہی ہے. ٹی ایل پی کے خلاف عالمی سازش کا امکان بھی نظر آ رہا ہے. پاکستان کو فیٹیف میں پھنسائے رکھنے کی دلیل بھی آ چکی ہے. بس اب اُن حقائق کا انتظار ہے کہ ان سب ساری وضاحتوں کے جاندار ثبوت کہاں کہاں سے اور کیسے نکالے جاتے ہیں. اور اس سانحے کو حقیقت کا خلعتِ زریں کب پہنایا جاتا ہے. اُس وقت تک میں بھی انتظار کر رہا ہوں. آپ بھی کرتے رہیں.
مذہب کے نام پر ہجوم کے قتل کر دینے کا رواج ایک طرح سے شائد ٹھیک بھی ہو گا کیونکہ عوام کے پاس انٹرٹینمٹ سِرے سے ہے نہیں تو پھر ایسے واقعات کو ہی انٹرٹینمٹ سمجھا جاتا ہے. آپ شائد میری قنوطیت پسندی کو آڑے ہاتھوں لیں. مگر میرا دفاعی جملہ یہ ہے کہ آپ کے کانوں میں آواز پڑتی کہ فلاں جگہ کوئی توہین کا مرتکب ہو گیا ہے اور عوام اسے مار رہی ہے تو آپ سمجھ جائیں گے کہ کوئی بندہ یا بندے مرنے والے ہیں. آپ اس قتل میں شامل تو نہیں ہوتے مگر آپ یہ دیکھنے جاتے ہیں کہ مارا کیسے جاتا ہے. اب اس سری لنکن مرحوم کو ہی لے لیں. جب پہلا ڈنڈا اسکی کھوپڑی پر پڑا تو وہیں مر گیا تھا. پھر اسے عمارت سے نیچے لایا گیا یا اوپر سے پھینکا گیا. پھر ڈنڈوں سے اسکی ہڈیاں توڑی گئیں. پھر اسکی کچومر ہوئی لاش کو گھسیٹ کر سڑک پر لایا گیا. پھر پٹرول ڈال کر آگ لگا دی گئی پھر اُس آگ کو بڑھانے کے لئے مفلر، کپڑے اور فلیکس کے پلاسٹک کے ٹکڑے ڈالے گئے. اور ان مناظر کو دیکھنے والے کم ازکم دو، تین ہزار افراد تھے. تو ان سب کے لئے یہ انٹرٹینمٹ ہی ہے کہ چلو دو چار گھنٹے زبان بھی چل لے گی. اور کانوں کو شور سننے کی عادت بھی پوری ہو جائے گی. یہ ساری منظر کشی کرنے کا واحد مقصد یہ تھا کہ اگر میں آپ اس طرح ہجومی حملے کا شکار ہوتے ہیں تو ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ کھوپڑی پر ڈنڈا ذرا زور سے لگے تاکہ جسم اور روح کا رشتہ ٹوٹ جانے میں آسانی ہو. جب یہ منزل طے ہو گئی تو پھر مٹی کے اس بُت کی کیا اہمیت ہے اسے پر چاہے ڈنڈے چلائیں جائیں، گھسیٹا جائے یا نذرِ آتش کیا جائے. ہجوم کے ہاتھوں ہماری موت کا معاملہ آسان ہو. میں بھی دعاگو ہوں آپ بھی دعاگو رہیں.
ہم نے اس ملک میں احمدیوں کو مارا. شیعوں کے خون سے اپنے کلیجے ٹھنڈے کئے. جو جو اقلیت ملتی گئی ہم ہاتھ صاف کرتے گئے. کیا اب ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اس فسطائیت اور سفاکی کو ختم کیا جائے. مگر یہ یاد رہے کہ جب میں دل کی اس خواہش کو بیان کر رہا ہوں تو خدانخواستہ میں اپنے آرام یا آسان طبعی موت کے لئے کوئی ریلیف نہیں مانگ رہا. میرا ہجوم کے ہاتھوں تو مرنا طے ہے. میں تو اس لئے بات کر رہا ہوں کہ مستقبل قریب میرے کسی آمدہ سپہ سالار کو اپنے گھر میں میلاد کی محفلیں منعقد کر کے، اپنے والد مرحوم کی قبر کے کتبے کی تصویر شئیر کر کے اور اپنے بیٹے کی نکاح کی وڈیو بنوا کر سوشل میڈیا پر چلا کے اپنے ایمان کی گواہی دینے کی کثافتوں سے نہ گزرنا پڑے. باقی میری اور آپکی موت تو اسی طرح سے پکی ہے.
پردہء سیمیں پر مِل گبسن ایسے نابغے کی ایک فلم "Brave Heart” کے نام سے نمودار ہوتی ہے. جس میں آزادی کا متوالا ولیم والس جدوجہد کی راہ اپناتا ہے اور انگلینڈ کے شہنشاہ کے خلاف اپنے ہم وطنوں کی فوج لے کر میدان میں اترتا ہے. مگر اس فوج میں سارے اسکے کی طرح آزادی کے متوالے نہیں ہوتے، بلکہ زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں جو اپنی غلامی پر مطمئن اور شاداں ہوتے ہیں (اس سے مراد سیالکوٹ کا خاموش ہجوم مت لیجئے گا). تو یہ غلام جنگ سے بچنے کے لئے ولیم والس کے خلاف نعرے لگاتے ہیں. ولیم والس ان سے پوچھتا ہے کہ کیا تمہیں آزادی عزیز نہیں. تم آزادی کی جنگ لڑے بغیر کیسے رہ پاؤ گے. تو ہجوم نعرے لگاتا ہے کہ ہم اس میدان سے بھاگ جائیں گے اور زندہ رہیں گے. ولیم والس کہتا ہے کہ ہاں بھاگ کر تم زندہ رہ جاؤ گے. مگر اس میدان سے بھاگنے کے بعد کے لمحے سے لیکر اپنی آخری سانس لینے تک تم صرف یہ حسرت کرتے رہو گے کہ کاش تم یہاں سے بھاگنے کی بجائے، آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے مر جاتے. اور تمہیں غلامی کی موت نصیب نہ ہوتی. ولیم والس کہتا ہے کہ زندگی اُس آخری لمحے میں تمہیں خیال آئے گا کاش تم اس میدان میں اپنے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ سکتے کہ وہ تمہاری جان تو لے سکتا ہے مگر تم سے آزادی نہیں چھین سکتا.
گزشتہ 75 برس سے اس ملک میں جمہور کی آزادی کا خواب سراب ہوا ہے. آئیں اپنے ذہنوں کو ریاست کے بچھائے اس اندھی نفرت اور عقیدت اور مذہبی منافرت کے جال سے نکالنے کے لئے ہم متحد ہوں. ہمیں اس درندگی سے بھاگ کر زندگی گزارنے کی سوچ سے نکل کر میدان میں اس فسطائیت اور جنونیت کا مقابلہ کرنا ہو گا. میں دعاگو ہوں پریانتھا کمارا کے لئے. آپ بھی دعاگو رہیں.
غالب کے اس شعر نے پریانتھا کی موت کے سانحے کی گھڑی سی ایک نیا مفہوم لے کر دماغ ماؤف کر رکھا ہے… مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی کہ پریانتھا کمارا کی موت اس شعر سے کیا تعلق رکھتی ہے اگر آپ کو سمجھ آ سکے تو میری رہنمائی ضرور کیجئے گا:
جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گا
کُریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے
Facebook Comments HS