جناب وزیر اعظم ترکی سے سیکھیں یوتھ انگیجمنٹ

اڑسٹھ فیصد نوجوانوں پرمشتمل ہمارا ملک جس میں ہر شخص یہ مانتا ہے نوجوان پاکستان کامستقبل ہیں نوجوانوں نے ہی اس ملک کو چلانا ہے لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ ہاں بھئی چلانا ہے یہ تو ٹھیک ہے لیکن کیسے؟
ہم سب جانتے ہیں جب گھر میں کوئی بیروزگار بچہ ہو تو وہ گھر والوں کے لیے اور اپنے لیے پریشانی کی وجہ ہی بنتا ہے اب آتے ہیں اصل معاملے کی طرف جو میں آپ کو گوش گزار کرنا چاہتا ہوں نوجوانوں کی اس بڑی تعداد کو اگر تو بہتر سے لے کر چلا گیا تو یہ ہمارے حق میں وگرنا اچھا نہیں ہے ڈگریاں لے کر لاکھوں نوجوان نوکری کی لمبی قطار میں لگے ہوئے ہیں اور سرکاری نوکری والوں کے حالات میں کافی دلچسپ ہیں جہاں ایک سیٹ کے اوپر مقابلہ لاکھوں شیر کرتے ہیں اور خبروں کے مطابق پیپرز کی خرید و فروخت سے اندازہ ہوتا ہےشاید دیا جانے والا اشتہار بس ایک کارروائی کے طور پر تھا(اس طرح کا ایک واقعہ قریب سے دیکھا ہے بہت جلد تفصیل سے لکھوں گا) یوتھ انگیجمنٹ ،یوتھ امپاورمنٹ یہ دو الفاظ کہیں نا کہیں ہمیں سننے کو ملتے ہیں یوتھ انگیجمنٹ سے مراد نوجوانوں کو کیسے سسٹم میں اور معاملات میں انگیج کرنا ہے کہ وہ بھی سسٹم کا حصہ بنیں اور امپاورمنٹ یہ ہے کہ انہیں مناسب مواقع فراہم کرنا لیکن بدقسمتی سے ہم سست رو قوم ہیں گزشتہ کچھ وقت سے ہم بھی ترک ہیروز بننے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمارے وزیر اعظم کو نظامِ خلافت اور ترکی کے ڈرامے شاید کافی پسند آئے ہیں(حالانکہ ایک وقت تھا پاکستان میں خلافت کی سوچ رکھنے اور پرچار کرنے والوں کو پکڑ لیا جاتا تھا) اور ان ڈراموں کو پاکستان میں قومی ٹی وی چینل پر نشر کیا جا رہا میں بھی ترکی کی ہی ایک مثال آپ کے سامنے رکھنے جا رہا ہوں جو پاکستان میں ترک ادارے میں رائج ہے۔
میں ایک ترک تعلیمی ادارے میں کسی کام سے گیا ملاقات کے دوران ایک تیئس چوبیس سالا ترک خاتون اس دفتر سے گزر کر ساتھ ملحقہ کمرے میں داخل ہوئیں میرے استفسار پر مجھے علم ہوا کہ یہ خاتون یہاں کی ڈائریکٹر ہیں
ان کا یہ بتانا ہی تھا کہ میرے دماغ میں بہت کچھ گھومنے لگا قارئین دیکھیں کیسے وہ اپنے جوانوں کو تیار کر رہے ہیں بیس سال تجربہ رکھنے والوں کے ڈائریکٹرز انہوں نے اپنے تیئس چوبیس سالہ نوجوان رکھے ہیں تاکہ وہ تجربہ کار لوگوں کی سربراہی کے نتیجے میں مضبوط ہو سکیں اور سیکھ سکیں بس یہی ہوتا ہے ترجیحات کا فرق یہی ہوتا ہے لیڈرشپ کا فرق اور سب سے اہم ہوتا ہے سوچ کا فرق ہمارے ہاں ان تینوں چیزوں کا فقدان نظر آتا ہے کیونکہ
There are no right people for right job
ہمیں اس ملک کو اگر بہت سمت میں لے کر جانا ہے تو تمام اداروں کے لیڈران کو اپنے ہی اداروں کی بہتری پر کام کرنا ہوگا جیسے چیف جسٹس نظامِ انصاف پر ،آئی جی پولیس پولیس پر ،چیئرمین نیب نیب پر ریفارمز کے حوالے سے کام کریں تو شاید کوئی اگلی چند دہائیوں میں شاید ہم بھی کوئی بہار دیکھ پائیں خیر اب یوتھ منسٹری نے دیکھنا ہے کہ ہم نے صرف ترکی کے ڈراموں پر ہی اکتفا کرنا ہے یا عملی طور پر بھی انکی کسی پالیسی سے سیکھ کر اسے لاگو کرنا ہے ہمارے ہاں تو کسی وزیر سے مل کر کچھ پروپوزل دینا ہی مشکل کام ہے حالانکہ میں ڈاکٹر مراد راس کو مل کر سرکاری سکول کے بچوں کو لائف سکلز کی فراہمی کے لیے کوئی بندوبست کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن ہمارے ہاں یکطرفہ فیصلوں پر یقین رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے نتائج یا صفر ہیں یا اسکے قریب ہیں لیکن جب پاکستان میں فیصلے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر کیے جائیں گے نتائج بتدریج بہتر ہوں گے امید کرتا ہوں وزیرِ نوجواناں ،مشیر نوجواناں یوتھ انگیجمنٹ اور یوتھ امپاورمنٹ کے حوالے سے ترکی والی مثال سے کچھ سیکھ لیں گے۔۔
Facebook Comments HS

